Skip to content
 

کربِ احساس

کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ حاتم بھائی ایسی حرکت کر سکتے ہیں اور وہ بھی صرف پانچ لاکھ روپئے کی خاطر جس پر اخلاقی طور پر ان کا کوئ حق بھی نہیں تھا وہ تو ان کے سسر مرحوم سردار علی کی وراثت تھی جو ان کی بیوی کے حصے میں آنی تھی۔ ریحانہ کے والد سرکاری اسکول میں ٹیچر تھے۔ پیشے کے اعتبار سے تو محترم لیکن آمدنی کے لحاظ سے قابلِ رحم۔ کہتے ہیں استاد آدھا بادشاہ ہوتا ہے۔ لیکن کوئی جا کر اس کا گھر دیکھے تو پتہ چلے کہ باہر کی دنیا کا آدھا بادشاہ گھر بار کی دنیا میں کتنا تنگدست قلندر ہوتا ہے۔ ایک بیٹا تھا جس کا حادثے میں انتقال ہو چکا تھا۔ دوسرا بیٹا قیصربچپن سے پڑھائی میں کمزور تھا جیسے تیسے میٹرک پاس کیا اسی مکان کے ایک حصے میں کرانہ کی دکان کھول کر اپنی بیوی بچوں کا پیٹ پالنے لگا۔ پھر اچانک ایک دن سردار علی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اپنے پیچھے بس ایک دو منزلہ مکان چھوڑا جو ان کے والد کے زمانے کا بنا ہوا تھا لیکن جس علاقے میں یہ مکان تھا قسمت کی یاوری سے اس علاقے کی زمین سونے کے نہیں بلکہ ڈائمنڈ کے بھاؤ بکنے لگی تھی۔
اس مکان کے کوئی بھی پجیس تیس لاکھ یوں دے جاتا۔ قیصر کے سر پر اب دو دوگھر چلانے کی ذمہ داری آگئی ایک کرانہ کی دوکان پر دو دو گھروں کا چلنا ممکن نہیں تھا ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ گھر کو فروخت کر کے کسی سستے علاقے میں مکان خرید کر باقی رقم سے ایک بڑی جنرل اسٹور کھول لے گا۔ قیصر نے گاہک بھی ڈھونڈ لیا قیمت بھی توقع سے کہیں زیادہ آرہی تھی۔ سب بے انتہا خوش تھے رجسٹری کی تاریخ بھی طئے ہوگئی اب کرنا یہ تھاکہ سردار علی کے ورثاء جن مین قیصر ریحانہ اور سب سے چھوٹی بہن فرزانہ اور ان کی والدہ کو رجسٹرار آفس جا کر اسٹامپ پیپر پر دستخط کرنے تھے۔
ایک دن حاتم بھائی نے قیصر کو فون کر کے بلایا کہ ایک ضروری بات کرنی ہے۔ قیصر یہ سمجھ کر پہنچا کہ چونکہ حاتم بھائی تجربہ کار وکیل ہیں کچھ رجسٹری وغیرہ کے بارے میں ہدایات دیں گے یا پھر نئے کاروبار کے سلسلے میں کوئی رہنمائی کریں گے۔ قیصر کے وہم و گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ دورانِ گفتگو حاتم بھائی یہ کہیں گے کہ :
” دیکھو قیصر مرحوم ابا جان کی جو بھی وراثت ہے اس میں ریحانہ کا بھی حق ہے چاہے وہ معمولی رقم ہی کیوں نہ ہولیکن شرعی طور پر بھی اور قانونی طور پر آپ کو حساب کرنا تو لازمی ہے۔ میں نے حساب کر لیا ہے اور ریحانہ اور فرزانہ کے حصے میں پانچ پانچ لاکھ آتے ہیں ۔ آپ یہ بتایئئے کہ اس رقم کے بارے میں آپ نے کیا سوچا ہے؟“۔
قیصر کو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ حاتم بھائی ایسا کہہ سکتے ہیں وہ مبہوت ہو کر حاتم بھائی کی طرف دیکھے جا رہاتھا۔ فرزانہ کے شوہر دوبیئ کے تاجر ہیں حاتم بھائی تو حاتم بھائی ہیں بھلا ان لوگوں کو پیسے کی کمی کیا ہوگی یہ تو کبھی کسی نے سوچا نہ حساب کیا۔ قیصر مکمل گم سم حاتم بھائی کو دیکھے جا رہا تھا۔ حاتم بھائی نے خاموشی توڑی اور پوچھا
” قیصر آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا“۔
قیصر نے اپنے ہوش و حواس بحال کیئے اور پوری سعادت مندی سے کہا کہ ” بھائی جان یہ سب کچھ آپ ہی کا ہے آپ ہی تو ہمارے بڑے ہیں آپ سارا پیسہ لے لیں تب بھی ہمیں کوئی دکھ نہیں ہوگا“۔
حاتم بھائی نے کہا ” بھئی تم لوگوں کے خلوص سے واقف ہوں نہ کبھی آج تک تم سے کوئ شکائت ہے اور نہ ہو سکتی ہے لیکن میں تو ایک اصولی بات کر رہا ہوں خلوص اپنی جگہ ہے اور حساب اپنی جگہ“۔ قیصر پر ایک بے یقینی کی کیفئت طاری تھی وہ کبھی حاتم بھائی کی طرف دیکھتا اور کبھی ریحانہ کی طرف۔ وہ حاتم بھائی کی جواب طلب نظروں سے گھبرا کر بہن کی طرف پلٹا اور اپنی التجائی نظروں سے کہنے لگا
” باجی آپ ہی کہیئے یہ میری بالکل سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ بھائی جان کیا کہہ رہے ہیں“۔
ریحانہ سب کچھ سمجھ چکی تھی کاٹو تو اس کے بدن میں لہو نہیں تھا وہ ایک ایسے مجرم کی طرح خاموش تھی جو نہ انکار کر سکتا تھا اور نہ اقرار۔ حاتم بھائی نے بات کاٹتے ہوئے کہا
” بھئی اس میں سمجھ میں نہ آنے والی کیا بات ہے اگر ریحانہ راست نہیں کہہ سکتی تو اس کا مطلب یہ تھوڑ ی ہے کہ اس کو اس کے حق سے محروم کر دیا جائے ؟ گھر کے لئے انہوں نے بھی قربانیاں دی ہیں کیا اس کا کوئی صلہ نہیں؟“۔
قیصر مایوس ہو کر پھر آؤں گا کہہ کر نکل گیا ۔وہ سمجھ گیا کہ یہ سب ریحانہ باجی کا کیا دھرا ہے ورنہ حاتم بھائی کب ایسا کرنے والے؟ حاتم بھائی جنکا اصلی نام تو فیروز خان تھا بے حد دریادل تھے اسلئے گھر والے ان کومذاق سے حاتم طائی کہتے اسی لئے انکا نام ہی حاتم بھائی پڑگیا۔ قیصر دل ہی دل میں اپنی بہن کو کوستے گھر سے نکلا وہ جانتا تھا کہ عورت چاہے وہ بہن ہو کہ بیوی پیسے، جائداد اور زیور کے لیئے کسی بھی وقت بے مروت ہو سکتی ہے۔ اپنی ہر ضد پوری کرتی ہے اور بچوں کا کارڈ کھیل کر مرد کو جھکائے رکھتی ہے اور حاتم بھائی تو شروع سے بیوی جو کہے وہی کرتے آئے ہیں۔ قیصر جیسے ہی گھر سے نکلا ریحانہ بلبلاتے ہوئے حاتم کی طرف پلٹی اور کہا :
” فیروز آپ نے تو مجھے معاف بھی کر دیا تھا لیکن آپ اس طرح زندگی میں بدلہ لیں گے میں نے کبھی یہ نہ سوچا تھا“۔
فیروز نے کہا ” خدا کی قسم میں کوئ بدلہ نہیں لے رہا ہوں میں جانتا ہوں اس پیسے پر میرا کوئی حق نہیں لیکن تمہارا پیسہ مجھ سے الگ تو نہیں اور میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ تمہاری اور اپنے بچوں کی بھلائی کے لئے ہی تو کر رہا ہوں“۔
”فیروز“ وہ روہانسی ہو کر کہنے لگی ”مجھ سے بھلائی اور وہ بھی میرے خاندان والوں کو دکھ پہنچا کر ۔۔۔۔” آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اب امی اور قیصر وغیرہ میرے بارے میں کیا سوچیں گے“؟ ۔
اتنے میں فون کی گھنٹی بجی یہ فرزانہ کا فون تھا وہ بہت گھبرائی ہوئ تھی اس نے ریحانہ کے فون اٹھاتے ہی سوالات کی بوچھار کردی کہ ” باجی کیا قیصر بھیا نے جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہے ہم تو حاتم بھائی کی سسرال والوں کو مثال دیتے آئے ہیں اب اگر میرے شوہر کو یا کسی سسرالی کو یہ پتہ چل گیا کہ حاتم بھائی نے اپنے پیسے لے لیئے ہیں تو آپ جانتی ہیں کتنا ہنگامہ ہوگا؟۔ آپ تو جانتی ہیں نا کہ جب ہمارے سسر کی جائداد فروخت ہوی تھی اس وقت جب تک ہر ایک کے حصّے کی رقم ہاتھ میں نہ آئی کسی نے رجسٹری آفس میں دستخط نہیں کیئے ۔ آپ بتایئے نا کہ حاتم بھائی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ “

ریحانہ کیا بتاتی کہ اسی کی لگائی ہوئی یہ آگ آج اسی کے خاندان تک پہنچی تھی ۔ حاتم پیچھے کھڑے تھے ورنہ ریحانہ کا جی چاہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر کہہ دے کہ یہ مرد ذات باہر والوں کے لیئے کچھ اور ہوتی ہے اور گھر والوں کے لئے کچھ اور۔ یہ احسان بھی اس لیئے کرتے ہیں کہ ذلیل کرنے میں آسانی ہو ۔ ان سے سچے دل سے بھی معافی چاہو تو بات دل میں چھپا کر رکھتے ہیں اور بدلہ لیئے بغیر نہیں رہتے۔ ریحانہ نے ” اچھا میں بعد میں بات کروں گی “ کہہ کر فون رکھ دیا اور روہانسی ہوکر بولی فیروز آپ پلیز بتا دیجیئے آپ چاہتے کیا ہیں؟ مجھ سے ایسی کون سی غلطی ہوئی ہے جس کی اتنی بھیانک سزا آپ دے رہے ہیں۔ اگر میں نے آپ کو تکلیف پہنچائی تھی تو اس کی معافی بھی تو مانگی تھی اب آپ اور کیا چاہتے ہیں؟
حاتم نے کہا ” میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مکان کسی اور کو فروخت کرنے کی بجائے مجھے فروخت کر دیں میں وہاں آفس بنواؤنگا“۔ ” یہ بات تو آپ پہلے بھی بتا دیتے وہ لوگ آپ کو خوشی سے دے دیتے اس قدر تکلیف پہنچانے کی کیا ضرورت تھی“ ریحانہ نے کہا۔ فیروز نے کہا ”چلو اب کہہ رہا ہوں “ قیصر سے کہو نیا گھر تلاش کر لے اور مجھے اطلاع دے۔ ریحانہ نے ساری زندگی جس شخص کو عام شوہروں کے مقابلے میں ایک دیوتا سمجھا آج اس کا بھرم ٹوٹ گیا۔ اس کو حاتم میں اور اس کی نوکرانی کے شوہر میں کوئی فرق نہ لگا جو ہر روز بیوی پر صرف شادی کرنے کا احسان جتاتا اور مارتا۔ بھلے حاتم گالی گلوج کر لیتا یا ہاتھ اٹھا دیتا ریحانہ کو اتنا دکھ نہ ہوتا جتنا حاتم کی اس حرکت پر ہو رہا تھا۔
تیسرے دن قیصر نے اطلاع دی کہ پرانے شہر میں ایک مکان مل گیا ہے تین کمرے اور ایک کچن حمام کے ساتھ آٹھ لاکھ میں بڑی مشکل سے ملا ہے ۔ اتنی بڑی فیملی کا اتنے چھوٹے گھر میں رہنا مشکل تو ہے لیکن ذرا سا بڑا گھر دیکھیئے تو پندرہ بیس لاکھ سے کوئ کم نہیں۔ ایک ہفتہ میں ایڈوانس دینا ہے۔ ریحانہ نے حاتم کو بتا دیا۔ اگلے دن حاتم نے نوٹوں کی گڈیوں سے بھرا ایک لفافہ ریحانہ کو دیا اور کہا کہ یہ قیصر کو پہنچا دو اور مکان کے کاغذات لیتی آؤ۔ ریحانہ کو حاتم کی صورت میں اتنا اجنبی کوئ شخص نہ لگا۔ اس نے حاتم کی صورت دیکھے بغیر نڈھال ہاتھوں سے وہ لفافہ لیا اور یہ سوچتی ہوئی چلی کہ کاش میں واپس نہ آؤں کیونکہ ماں سے کاغذات لینا ماں کو گھر سے بے دخل کرنے کے برابر تھا پھر بھی اس نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اگر کوئی اور یہ مکان خرید لیتا تو کیا یہی غم ہوتا؟

وہ گھر پہنچی اور لفافہ قیصر کے ہاتھ میں تھما دیا اس نے نوٹوں کی اتنی گڈیاں زندگی میں پہلی بار دیکھی تھیں۔ وہ غم اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ نوٹ گننے لگا۔ اِدھر امی جان نے مکان کے کاغذات کا لفافہ ریحانہ کے حوالے کیا اور ایسے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں جیسے سردار علی اور انور کو مرے تو عرصہ ہوا لیکن ان کاغذات کی صورت میں ان کا جنازہ آج رخصت ہو رہا ہو۔

قیصر نے نوٹ گنے اور اچھنبے سے کہا باجی ”یہ تو بہت کم ہیں“
ریحانہ نے کہا ”ضرور انہوں نے میرا حصہ کاٹ کر دیا ہوگا تب بھی یہ بہت کم ہیں پتہ نہیں یہ ایڈوانس ہیں یا پورے کیا انہوں نے کچھ کہا نہیں؟ “ سوال کرتے ہوئے اس نے بے خیالی میں خالی لفافہ جھٹکا ۔ اندر سے ایک خط گرا جو ریحانہ کے نام تھا :
ڈیر ریحانہ! خدا کی قسم یہ ہرگز بدلہ نہیں اس کرب کی شدت کا احساس دلانے کی ایک کوشش تھی جس کو تم جانتی ہولیکن محسوس نہیں کر سکتیں ۔ کسی کے کرب تو ناپنے یا تولنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا ورنہ دنیا میں ہر انسان کسی کو تکلیف پہنچانے سے پہلے جان لیتا کہ ہ کتنی تکلیف پہنچا رہا ہے؟ میں جانتا ہوں کہ تم کو اپنی غلطی کا احساس ہے جو تم نے میرے والد کے انتقال کے بعد ان کے چھوٹے سے گھر کی وراثت کا مسلئہ اٹھاکر کی تھی۔ میری بیوہ بہن عصمہ کے حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ کہیں اور جاکر رہتی لیکن تم نے میری ماں کو نواسوں اور پوتوں کے درمیان انصاف کا واسطہ دیا۔ اس گھر پر تمہارا نہیں میرا حق تھا جس سے میں دستبردار ہو چکا تھا تم نے یہ سمجھا کہ میں راست نہیں مانگ سکتا اس لئے میری غیر موجودگی میں تم نے میرے حق کے لئے ایسی جنگ لڑی جس کی سزا میرا ضمیر ملامت کی صورت میں آج تک بھگت رہاہے۔ تم نے تمہارے عمل اور تمہارے الفاظ کی معافی مانگ لی اور بات پرانی ہو چکی۔ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تیر بن کر کس طرح ساری عمر کے زخم پہنچاتے ہیں یہ احساس تم کو ہرگز نہ ہوتا اگر حسنِ تقدیر سے تمہارے گھر کا مسئلہ آج نہ آتا۔ میں نے قیصر اور امی سے جو الفاظ کہے ہیں تم جانتی ہو کہ اس میں میرا کوئی لفظ نہیں ہے۔ یہ تمہارے ہی الفاظ تھے جو پچیس سال پہلے تم نے کہے تھے ۔ تمہیں یاد ہے جب وہ گھر مجبوراً فروخت کرنا پڑا اور تم کو تمہارا حصہ ملا اور تم نے بچوں کے نام فکسڈ ڈپازٹ کروایا تو تم کتنی خوش تھیں جیسے میں ایک ظالم باپ تھا جو اپنے بچوں پر ظلم کرنے جا رہا تھا اور تم نے عین وقت پر ان کو بچا لیا۔ آج عصمہ کے بچے بڑے ہوچکے اور شاندار زندگی گزار رہے ہیں ماضی کی ہر بات سب بھلا چکے ہیں لیکن کیا تم اس کرب کو محسوس کرتی ہو جب میں ابا کے اس مکان کے سامنے سے گزرتا ہوں۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ میری روح اس مکان میں قید ہے آج بھی اس مکان کو کرب کے ساتھ ٹکٹکی باندھے دیکھتے گزرتا ہوں ۔ آج بھی اُن سیڑھیوں کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ امی یا ابو اندر سے آواز دینگے کہ ” بیٹا بہت دیر کھیل لیا اب اندر آجاؤ اور منہ دھولو۔ کیوں ہوتا ہے اپنے باپ کے گھر سے اتنا پیار یہ اپنی والدہ سے پوچھو شائد تمہیں میرے کرب کا احساس ہو جائے ۔ جس کرب سے میں گزرا ہوں میں کیسے گوارا کر سکتا ہوں کہ انور اور قیصر کے بچے اس کرب سے گزریں؟۔
اس لئے یہ پیسے قیصر کو دینا کہ وہ جلد سے جلد اپنا جنرل اسٹور کھول لے اور ایک کاغذ پر سب سے یہ عہد لکھوا کر لانا کہ
” جس گھر میں اپنے ماں باپ کی یادیں چھپی ہوں اس گھر کو کبھی نہ بیچنا“۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے