Skip to content
 

شائستگی ۔ نا شائستگی

شائستگی اور نا شائستگی میں خطِ امتیاز کہاں ہے ؟
آج کا معاشرہ اس سوال سے اس قدر بے بہرہ ہے کہ کیا تعلیم یافتہ اور کیا جاہل جس سے بھی ملئے مل کر کسی "شائستہ "آدمی سے ملنے کی تمنا دل میں گھٹ کر رہ جاتی ہے۔

اس وقت میرے ذہن میں مجسمِ اخلاق ، پیکرِ شائستگی رسالت مآب محمد الرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایک تصویر ابھر رہی ہے جو اس خطِ امتیاز کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کعبہ کے صحن میں تشریف فرما ہیں ۔ مشرکینِ مکہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کی ہر طرح سے کوشش کر کے تھک چکے ہیں آپس میں مشورہ کرتے ہیں اور عتبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ منتخب کر کے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس بھیجتے ہیں تاکہ کوئی پیکیج ڈیل ہو جائے ۔ وہ ایک طویل تقریر پیش کرتا ہے جس کی تفصیل سورۂ حٓم السجدہ کے زمانۂ نزول کے باب میں تقریباً ہر تفسیر میں درج ہے۔
مختصراً یہ کہ وہ پیکیج پیش کرتا ہے کہ دولت لے کر عرب کے مالدار ترین شخص بن جاؤ یا سرداری قبول کر لو یا عرب کی حسین ترین عورت لے لو وغیرہ وغیرہ ۔ بہ الفاظِ دیگر ایک جاہل کشرک جو منصبِ رسالت کی توہین کر رہا ہے کیا عجب تھا کہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) اس نا سمجھ کے مقصد کو دو چار جملوں میں ہی بھانپ کر آج کے عالموں، قائدوں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی طرح اس کی بات وہیں کاٹ دیتے کہ
" جی میں سمجھ گیا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں " ۔۔۔۔۔
یا "قطع کلامی میں سمجھ گیا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں "۔۔۔۔
اور اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی بات شروع کر دیتے لیکن سبحان اللہ شائستگی کے تین عظیم پہلو جو آج کے معاشرے میں ناپید ہیں ملاحظہ ہوں۔

1۔ سامنے والے کی بات توجہ سے سننا چاہے وہ بکواس کر رہا ہو۔ ہم اپنے روز کے ملنے والوں پر ذرا غور کر لیں عالم غیر عالم کو ، تعلیم یافتہ کم تعلیم یافتہ کو مقرر سامعین کو اس در معمولی سمجھتا ہے کہ دو چار جملوں کو بر کے ساتھ پورے نہیں ہونے دیتا اور درمیان میں بول پڑتا ہے جیسے اس پر مخاطب کے ذہن میں کیا ہے پورا الہام ہو گیا ہو۔ ہم جیسے نظریاتی لوگ جنہیں اصل بات کہنے سے پیشتر دو چار تمہیدی جملے کہنا ناگزیر ہوتا ہے اس قطع کلامی سے اس قدر زخمی ہو جاتے ہیں کہ دل کی بات دل میں ہی لے کر مایوس لوٹتے ہیں اور موصوف تمہید کو ہی موضوع بنا کر تقریر کر ڈالتے ہیں۔

آج قطع کلامی کی بیماری اس قدر عام ہے کہ عام گفتگو میں لگتا ہے جیسے فٹبال میچ جس میں ہر کھلاڑی گیند اچکنے کے لئے بے چین ہو۔بعض اوقات تو محفل میں دو دو اور تین تین حضرات بیک وقت بولنے لگتے ہیں اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ زور زور سے ہاتھ کے جھٹکوں اور اشاروں کے ساتھ " قطع کلامی " کی معذرت بھی چاہتے ہوے بولتے رہتے ہیں اس کی پرواہ کئے بغیر کہ سامنے والے نے قطع کلامی کی اجازت بھی دی ہے یا نہیں۔

2۔ شائستگی کا دوسرا نمونہ ملاحظہ ہو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اک مشرک سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں
" ائے ابوالولید ۔۔۔۔"
عرب میں کسی کو اس کی کنیت کے ذریعئے مخاطب کرنا اس کے لئے باعثِ شرف ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ایک رسولِ بر حق (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک نجس مشرک کو اس عزت کے ساتھ مخاطب کر رہے ہیں جو اسے اس کے اپنے سرکل میں حاصل ہے۔ اس میں کسی طرح کی کمی کا سے احساس نہ ہو ورنہ وہ آپکو ہر گز وہ مقام اور عزت نہیں دے گا جس کے آپ مستحق ہیں ۔

اس اصول کو نظر انداز کرنے کے نقصانات ہمارے سامنے ہیں وہ مختلف عقائد یا مختلف دینی جماعتوٹ سے تعلق رکھنے والوں کا ایک دوسرے سے کیا رویہ ہوتا ہے گویا دوسرا کمتر درجے کا مسلمان ہے۔وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد ہوں یا مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے۔ سیاسی جماعت سے تعلق نہ بھی ہو تب بھی ایک سیاسی جماعت کو بہتر سمجھنے والا کسی دوسری جماعت کے تعلق سے نرم گوشہ رکھنے والے سے اس طرح مخاطب ہوتا ہے گویا دوسرا بے وقوف ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک مومن جو کبھی دوسرے مومن کا آئنہ ہوا کرتا تھا آج عقیدے ، مسلک ، جماعت ، عقیدے اور علاقے وغیرہ کے تحفظاتِ ذہنی کا آئنہ ہے اس لئے اسے کسی کا عکس صاف نظر نہیں آتا ۔ دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف میل ،بے اعتمادی بغض اور بیزاری بھر چکی ہے۔

3۔ شائستگی کا تیسرا نمونہ ملاحظہ ہو کہ
" ائے ابوالولید کیا تم اپنی بات کہہ چکے ؟ کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں؟"

مخاطب کو اپنی بات سنانے سے پہلے اس کے دل میں بات سننے کی آمادگی پیدا کرنا اصل شائستگی ہے ورنہ کتنی حق بات کیوں نہ ہو بات اور بات کہنے والا دونوں ناکام ہوتے ہیں۔ آج ہر شخص دوسرے کو مشورے ، تبصرے ، اور نصیحتوں سے نوازنے کے لئے بے چین رہتا ہے ۔
یہ دیکھے بغیر کہ سننے والے کے دل میں آپ کو قبول کرنے کی خواہش بھی ہیکہ نہیں سننے والے کے دل میں کہنے والے کی بات کی عزت اس وقت تک نہیں پیدا ہو سکتی جب تک پہلے دو اصول نہ پورے ہوں اور لوگ ہیں کہ اس کی پرواہ کئے بغیر سننے والا تھکا ہوا کہ تازہ، مصروف ہے کہ فارغ ذہنی تحفظ لئے ہوئے ہے کہ سادہ ذہن۔ بس اپنی بات کہنا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص امام ہے مقتدی کوئی نہیں۔

  • Share/Bookmark

ایک تبصرہ

تبصرہ کیجئے