Skip to content
 

جوائینٹ فیملی یا مشترکہ خاندان

اگر ہم یہ کالم آج سے پندرہ یا بیس سال پہلے لکھتے تو ہماری رائیے آج کی رائیے سے بالکل مختلف ہوتی ۔ جوائینٹ فیملی میں رہنے کے فوائید پر کئی صفحات لکھے جا سکتے ہیں جن میں سب سے اہم یہ کہ بزرگوں کی موجودگی پورے خاندان کیلئیے رحمت و برکت کا باعث ہوتی ہے۔ قدم قدم پر ان کی رہنمائی بے شمار مسائیل کو پیدا ہی نہیں ہونے دیتی۔ بچوں کی پرورش ماں باپ کے پورے چوبیس گھنٹے لے لیتی ہے جس کا تارکینِ وطن کو اچھی طرح تجربہ ہے لیکن جوائینٹ فیملی میں بچے کب پرورش پا جاتے ہیں پتہ نہیں چلتا۔ بزرگوں کی وجہ سے نہ صرف پرورش بلکہ ان کی اخلاقی اور دینی تربیت بھی آسان ہو جاتی ہے۔ بہوؤں اور بیٹیوں کی تربیت کے نقطہ نظر سے جوائینٹ فیملی ایک بہترین ٹریننگ سنٹر ہے جہاں وہ صلہ رحمی ، صبر عفو و درگزر جیسے بے شمار اخلاقی اوصاف سے سنور کر نکلتی ہیں۔

لیکن یہ اس دور کی باتیں ہیں جب ہر نوجوان لڑکے ایر لڑکی کے لئیے گھر کے رول ماڈل ان کے گھر کے بڑے ہوا کرتے تھے ۔ آج گھر گھر ٹی وی نے رول ماڈل بدل ڈالے ہیں یہی نہیں بلکہ بڑوں کی زبان ، کلچر، ثقافت ، اخلاقی اقدار اور لائیف اسٹائیل بدل ڈالے۔ اخبار، رسائل ، انٹرنٹ اور فلموں کی کثرت اور بالخصوص ہندوستانی چینلس کے طوفان نے پورے ہندوستان، پاکستان اۃر بنگلہ دیش کی خاندانی ثقافت کو اپنی مکمل لپیٹ میں لے لیا ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک ایسی نئی تہذیب میں غرق کر دیا ہے جو نہ اسلامی ہے ، نہ مکمل ہندو ہے اور نہ ہی اس کی کوئی عقلی اور اخلاقی حیثیت ہے۔ ستم بالائیے ستم کالج اور یونیورسٹوں کی ڈگریوں کی دوڑ نے عورت اور مرد کو شانہ بہ شانہ مقابلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب بلا ضرورت عورت کا نوکری کرنا قطعی عیب نہیں بلکہ ہنر بن گیا ہے۔ اب عورت یہ پسند نہیں کرتی کہ کوی ٔ اس کے سونے اٹھنے باہر آنے جانے یا دیگر معمولات میں دخل اندازی کرے۔ اس لئیے علیحدہ رہنے کا رجحان اس قدر تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ جہاں جوائینٹ فیملی کل تک گھرانے کی شان تھی اب وہ بکھرنے لگی ہے۔

ہماری سوسائیٹی انگریزوں کی سوسائیٹی نہیں جہاں ماں باپ ایک عمر تک بیٹوں اور بیٹیوں پر خرچ کرتے ہیں اس کے بعد خود ہی انہیں چلے جانے کہتے ہیں ۔ ہمارے ہاں والدین آخری عمر تک اپنے آپ کو اولاد پر مکمل انوسٹ invest کر ڈالتے ہیں اپنے لئیے کوئی پیسہ بچا کر نہیں رکھتے جبکہ انگریز اولاد کو اپنی بچت اپنی انشورنس اور دیگر آمدنیوں کو ہاتھ لگانے نہیں دیتے ۔ اس لئیے جب بیٹے بڑے ہوتے ہیں اور بہوئیں آتی ہیں تو ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جس فصل کو انہوں نے پوری عمر لگا کر کھڑا کیا اب مل کر کاٹیں لیکن بہوئیں اپنا آئیڈئیل ان بزرگوں میں نہیں بلکہ فلمی اور سیرئیل کی ہیروئینوں کے رکھ رکھاؤ میں ڈھونڈتی ہیں اس لئیے رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے۔ بھائیو ں میں سخت اختلافات بڑھ جاتے ہیں خوب مال اور جہیز لانے والی بہو اپنے شوہر کو بہ آسانی الگ کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس دوران نہ ساس کی عزتِ نفس باقی رہتی ہے نہ گھر کے افراد ایک دوسرے سے اختلافات بچ پاتے ہیں ۔ بچوں میں بھی بڑوں کی رقابتیں پنپنے لگتی ہیں ۔

اس طرح عہدِ حاضر میں جوائینٹ فیملی ایک عذاب ہے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے