Skip to content
 

جماعتوں کو درپیش مشکلات

داخلی مشکلات :

1)۔مقصد کا تعین
جماعتوں کے اپنے مقصد کے حصول میں اگر سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے تو اس کی اپنی ہئیت ِ ترکیبی Infrastructure میں چھپی ہوئی وہ کمزوری جس کا تعلق پہلے فکر سے ہے بعد میں عمل سے۔چونگہ ہر عمل کا چشمہ یا منبع اس کی فکر ہوتی ہے لہذا سب سے پہلے مقصد کا تعین یا نصب العین کا شعور ہی جماعتوں کے عملی وجود کی پہلی اینٹ ہوتا ہے۔
وضاحت :
جماعتوں کے مقاصد کا تنقیدی جائزہ لینا میرا موضوع نہیں ہے بلکہ صرف ان کے مقاصد میں حصول کی رکاوٹوں سے بحث کرتا ہے اور چونکہ میری نظر میں نفیس مقصدخود پوری جماعت کی بنیاد بنتا ہے ۔ مستقبل میں اس کی بقا و کامرانی کا انحصاراسی پر ہوتا ہے اس لئے خالص منطقی بنیادوں پر خود مقصد کے تعین کرنے والے شعور پر گفتگو کروں گا۔ ظاہر ہے کہ ایک شخص جس نے منزل کے صحیح تعین و ادراک کے بغیر سفر شروع کیا ہو اگر اس کے راستہ کی ساری رکاوٹیں ہٹا بھی دی جائیں اور وہ کوئی قابلِ قدر مقام پر پہنچ بھی جائے تو اس کو منزل کے حصول سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا بقول رومی :
خشت ِ اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
کسی جماعت کا نقصد یعنی Aims & Objectives جو کسی بھی جماعت کے دستور یا منشور کی پہلی سطر میں لکھا جاتا ہے جو خون کی طرح ہوتا ہے جو جسم کے تمام اعضاء میں یکسانیت کے ساتھ دوڑتا ہے اسی طرح کسی جماعت کا مقصد اس کے تمام شعبوں یعنی لائحۂ عمل ، طریقۂ کار ، تنظیم ، تربیت اور اقدام وغیرہ کے رخ کومتعین کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہزار ہا جماعتیں بظاہر ایک ہی مقصد کو لے کر کام کرتی ہیں لیکن فی الواقع مقصد کے تعین میں چند الفاظ کا فرق بھی تمام کو ایک دوسرے سے طریقۂ کار میں مختلف کرتا ہے۔

آج ساری دنیا میں مقصد کے اعتبار سے دو قسم کی جماعتیں پائی جاتی ہیں۔
(1۔قومی
2)۔مذہبی

دونوں طرح کی جماعتیں جو قدرِ مشترک common interest ہے وہ اس مخصوص قوم یا گروہ کے لئے غلبہ حاصل کرنے کا مقصد ہوتا ہے۔
قومی مقاصد کے لئے اٹھنے والی جماعتوں کی مجبوری یہ ہے کہ ان کا مقصد اپنی قوم کی تعلیمی ترقی ، لسانی ، سماجی و معاشی بہتری قانوں و قدح سے زیادہ سے زیادہ مراعات تحفظات و منافع حاصل کرنا ہوتا ہے اور ان خطوط پر بڑی سے بڑی جماعت جو ملک گیر پیمانے پر کیوں نہ قائم کی گئی ہوں اسی مخصوص طریقے یا زبان یا علاقے کے لئے زیادہ مستعدی کے ساتھ کام کر سکتی ہے جس کے افراد کار اس کو زیادہ تعداد میں میسر آئیں۔
(میں نے بہت غور کرنے کے بعد لفظ مذہبی جماعتوں کا استعمال کیا ہے نہ کہ دینی جماعتوں کا ۔ اس لطیف فیصلہ کے فرق کی تفصیل آگے آئے گی۔)
اتنی طویل تمہیدمیں ابھی تک یہ اشارہ سامنے نہیں آیا کہ مقصد ِ جماعت کا تعین مقصد کے حصول میں رکاوٹ کیسے بنتا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟ آیئے اس پر غور کرتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ایک سوال اٹھانا لازمی ہے کہ جہاں خالقِ کائنات نے انسان کی فطرت میں مل کر کام کرنے کی اہمئت کو ودیعت کیا ہے کیا اس نے کوئی مقصد طریقۂ کار اور نظام ِ تربیت بھی دیا ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں تو اس کا خدا ہونا معتبر ہے اور نہ اس کے نام پر چلنے والا مذہب یا دھرم معتبر ہے اور اگر اس نے تخلیقِ کائنات کے ساتھ جس میں ایک مکمل نظمِ اجتماعیت ہے جیسے پوری نظامِ شمسی کی لمحہ بہ لمحہ ایک ایک گردش ایک ایک تغیر ایک دوسرے کے پابند ہیں ۔ لہروں کے اجتماعوں کے بغیر طوفان کا ظہور نا ممکن ہے۔ انسانی خصلتیں اور ان کی ساخت یکساں ہے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی مقام پر آدمی کے خون کا رنگ سُرخ ہو تو کوئی دوسرے مقام پر کوئی دوسرا۔ غیر جانداروں کی ساخت و پرداخت تک ای ہے ۔ کہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ آگ ایک مقام پر جلانے کی خاصیت رکھتی ہو اور کسی دوسرے مقام پر یہ کسی دوسری خاصیت کی حامل ہو۔ جب یہ نا ممکن ہے کہ ایک مقام پر انسان ناک سے سانس لے تو دوسرے کسی مقام پر کان سے ۔ ایک مقام پر شیر گوشت کھائے تو دوسرے کسی مقام پر گھاس کھائے۔ مختصر یہ کہ جس خالقِ کائنات نے اپنی پوری کائنات کا اور اس میں بسنے والے تمام حیوانات ، نباتات و جمادات کا نظام مکمل اور منظم اور یکساں بنایااس پر لازم آتا ہے کہ وہ انسانی زندگی جو کہ پوری عظیم کائنات کا ایک جُز ہے مگر پوری کائنات کی وارث و خلیفہ بھی اس کو زندگی گزارنے کا پورا نظام دے۔ اس کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل کا حل دے ۔ اس نظام سے صحیح واقفیت اور وابستگی ہی نہ صرف فرد کو بلکہ جماعت کو اپنے مقصد کے شعور سے روشناس کروا سکتی ہے۔ اور اسی شعور کے نتیجے میں نہ صرف جماعتیں بلکہ اس سے بہت آگے بڑھ کر کہنے کی جسارت کروں گا کہ مذاہب اپنے راستے میں خود مسائل کھڑا کر لیتے ہیں اور اپنے مقصدِ وجود سے کوسوں دور نکل جاتے ہیں۔وہ زبانی نظام نہ تو کسی خاص قوم یا علاقے کے لئے مخصوص ہوتا ہے نہ کسی خاص رنگ و نسل کے لئے ۔ نہ کسی خاص وقت کے لئے نہ مصلحت کے لئے لہذا جو بھی جماعت قائم ہوگی اس کا پہلا مقصد یا پہلی سطر Aims & Objections میں تھا کہ عالمی نظام کے تلاش کرنے ، حاصل کرنے اور فرداً اور معاشرے کے تمام معاملاتِ زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرے جیسے سیاست ، معیشت ، ثقافت ، سماج، خدمتِ خلق تعلیم وغیرہ وغیرہ۔ جس خالقِ نظام نے خیر پیدا کیا ہے اسی نے شر بھی پیدا کیا ہے تاکہ خیر اور اہلِ خیر ممیز ہوں اگر واقعی دنیا میں ظلم کا وجود نہ ہوتا ، نا انصافی، قتل و خون ، جھوٹ و مکاری خود غرضی و بد دیانتی وغیرہ کا وجود نہ ہوتا ۔ ہر انسان خود فرشتہ ہوتا کسی جماعت کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ہابیل کے مقابل قابیل کی اپوزیشن روزِ اول سے بر سرِپیکار ہے ۔ نہ نمرود نہ فرعون کے ظلم نئے ہیں نہ یہودیوں ، نصرانیوں یا تاتاریوں کے ۔ پھر آج امریکہ یورپ یا ہندو کی ریشہ دوانیاں کونسی نئی بات ہے۔ اگر معیشت کے میدان میں غور کیا جائے تو فراعنہ مصر کا بنی اسائل کی محنت کا استحصال نیا ہے نہ یہودیوں کی عربوں سے سود خوری نئی ہے۔ غلبہ ثقافت میں روم و ایران کی تہذیبوں کا عروج نیا ہے نہ غربت و افلاس کی تاریخ میں اہلِ صفہ نئے ہیں ۔ فاقہ کشی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بد ترین اخلا ق کے مظاہر میں نہ لوطیت نئی ہے نہ بے حیائی ۔ برادرانِ یوسف کی طرح خود غرضی نئی ہے نہ آلِ ثمود کی طرح بد دیانتی وغیرہ۔
آج تمام افراد اور جماعتیں جن جن مسائل کا رونا لے کر اپنے مقصد کی داغ بیل ڈالتی ہیں وہ اگر صحیح تاریخ کا مطالعہ کریں تو انہیں پتہ چلے گا کہ آج کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جو تاریخِ انسانی میں پیش نہ آچکا ہے لیکن کیا کریں فطرتِ انسانی کو کہ وہ اپنے مسائل اور اپنے حالات کو بے نظیر سمجھتی ہے ۔ معمولی پیٹ میں درد اسے بوسنیا اور کشمیر سے بڑا مسئلہ لگتا ہے اور جس طرح بچہ ABCD سیکہ کر خود کو باپ سے زیادہ قابل سمجھتا ہے اسی طرح جماعتوں کے مقاصد کے تعین میں اربابِ حاضر ماضی کو یکسر نظر انداز کر کے مصلحت ِ ربانی اور اس کے نظام سے بے نیاز ہو کر مقاصد کی ترجیحات priorities کو الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں ۔اس ڈرائور کو جو تیزر سے ائگے بڑھنے کی جستجو میں پیچھے دکھنے والے شیشے کی طرح دیکھنا ہی نہ چاہے جہاں آج کے مسائل روزِ اول سے موجود ہیں ان کا حل بھی روزِ اول سے موجود ہے اور وہ حل اس صورت میں ہے کہ اسی خالقِ نظام کا کوئی نہ کوئی بندہ اٹھتا ہے اور کرئی جماعت قائم کرتا ہے ۔ ہر جماعت ابتدأ میں اقلیت minority میں ہوتی ہے پھر صحیح مقصد کا تعین اس کی ہر رکاوٹ کو دور کرتا ہے اور یہی Minority عومی تحریک میں بدلتی ہے اگر اس کو کوئی محض ایک پیغمبرانہ معجزہ قرار دینے پر مصر ہو تو ایسے شخص سے صحیح مقصد کے تعین کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔مقصد کے تعین میں کمزوری ایسی Built in پیدائشی مشکل ہوتی ہے جو بعد میں مقصد کے حصول کے تمام خارجی عوامل External Factors پر اثر انداز ہوتی ہے مثال کے طور پر اگر ہم انہی قومی اور مذہبی جماعتوں کو لیں گے۔ آج بے شمار مسلمان جماعتیں مسلمان قوم کی فلاح و بہبود کے مقصد سے اٹھی ہیں بظاہر ایک اصولی اور داعی تحریک لگتی ہیں لیکن فی الحقیقت قومیت Nationalism ہی بنیاد پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور وہی مشکلات سدِ راہ ہو جاتی ہیں جو محض قومی مقاصد ہی کے لئے سدِ راہ ہوا کرتی ہیں۔ ایک قوم یا فرقے کی ترقی سے دوسری قوم یا فرقے کو بھلا کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ اگر ایک فرقے کے طلبا کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کا مقصد کسی جماعت کا مقصدِ اولین بن جائے تو یہ جذبہ تو ہر فرقے میں ہوگا لہذا بجائے تعاون و خیر سگالی کے جذبے کے سبقت حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے ۔ وسائلِ قومی محدود ہوتے ہیں جو تقسیم در تقسیم ہونے لگتے ہیں۔
مختصر یہ کہ وہ کونسا مقصد یا طریقہ ، کار ہو سکتا ہے جس کے ذریعہ ایک ایک جماعت نہ صرف اپنی قوم یا فرقے کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ تمام مذاہب فرقے اور قومیں اس میں شریک ہوں بحیثیتِ انسان ہر ایک کو ترقی، خوش حالی حاصل کرنے کا اتنا ہی حق ملنا چاہئے جتنا ایک ہندو کو یا مسلمان کو۔ لیکن آج جماعتوں کی پہلی مشکل یہ ہے کہ وہ نہ نہ ایسے مقصد کا شعور رکھتے ہیں نہ منصوبہ۔

LACKING OF LONGTERM GOALS

جماعتوں کے مقاصد کے حصول میں دوسری سب سے بڑی رکاوٹ longterm plans کا فقدان ہے پوری قوم آزادی کے بعد جن ہنگانی حالات سے مسلسل دوچار ہے ان حالات میں جماعتوں کے پاس وہ افراد میسر نہیں ہیں جو دور اندیشی سے کام لیتے ہوئےمنصوبہ بندی کر سکیں نہ عوام ان منصوبوں کا ساتھ دیتی ہے مثال کے طور پر بابری مسجد کو بچانے کا منصوبہ اور مہم تقریباًہر جماعت نے چلائی لیکن کسی جماعت نے پہلے سے ایسی کوئی تدبیر پیش نہیں کی کہ اگر مسجد منہدم کر دی جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟ جن جماعتوں نے اعلی تعلیمی جیسے میڈیسن و انجینیرنگ وغیرہ وغیرہ ادارے قائم کئے اور بے شمار طلبا ہر سال وہاں سے ڈگریاں لے کر نکل جاتے ہیں۔ چونکہ ان جماعتوں کا قیام سے پہلے چندوں کی اپیلیں کرتے ہوئے یہ دعوی ہوتا ہے کہ قوم کے نوجوانوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کریں گے تاکہ یہ نوجوان کل مسلمانوں کو تعلیم یافتہ قیادت دے سکیں یا کم از کم قوم کی خدمت کر سکیں ۔ نہ عوام کو یہ بوچھنے کا شعور ہے کہ وہ کیا پلاننگ ہے جس کے ذریعہ فارغ ہونے والے طلبا ایک مقصد کے تحت مربوط بھی رہیں گے اور کیا خدمات انجام دیں گے نہ ہی جماعتوں کے پاس حقیقتا ً ایسا کوئی long term منصوبہ ہے جو قوم کے کے بے پناہ سرمایہ کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے والے یہ طلبا پھر کوئی مقصد سے جڑ سکیں۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی بھی انہی دعوؤں پر قائم کی گئی تھی کہ وہاں سے نکلنے والا ہر طالبِ علم ایک ہاتھ میں تعلیم کی ڈگری اور دوسرے ہاتھ میں قرآن لے کر نکلے گا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ علیگڑھ یونیورسٹی کی تعمیر ان دعوؤں کی بنیاد پر ہوئی گویا اس کی تعمیر کی تکمیل کے ساتھ ہی اسٹریچی ہال کی چھت پر آیت نازل ہوئی۔ ” الیوم اکملت لکم دینکم و رضیت لکم الاسلام دینا “ ۔ آج ہزاہا ڈاکٹر، انجینئر ، صحافی ، سائنسداں ، وغیرہ نکلے جو سیکیلرزم ، سوشلزم و ہندوستانی جمہوریت کے بہترین اوزار تو بنے لیکن علیگڑھ امت کے حق میں بنجر زمین ثابت ہوا۔ مسئلہ بنیادی طور پر وہی تھا کہ صحیح مقصد کا شعور میسر نہ تھا جس کی وجہ سے لائحہ عمل نہ بن سکا۔ اس کا شاخسانہ یہی تھا کہ اس کی مسلم شناخت ختم ہو گئی اس لئے اس سے نہ توقع کی جا سکتی ہے نہ شکائت۔ البتہ یہ درسِ عبرت کا بہترین موقع ہے ان جماعتوں کے لئےجو دوسری ریاستوں میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے منصوبے لے کر اٹھے ہیں ۔ مجلس اتحاد المسلمین کی کامیاب کوششوں کے نتیجے میں تعلیم مکمل کر لینے والے ڈاکٹروں کی تعداد تقریباً 400 ہے جس میں تقریباً 350 مسلمان ہیں لیکن وہ کہاں ہیں ؟ کیا کر رہے ہیں ؟ اس کی جماعت کو کوئی خبر نہیں کیونکہ یہ چیز اس کے پیشِ نظر تھی نہ ہے۔ یہی حال کرناٹک اور کیرالا کا ہے جہاں مسلمان جماعتوں نے تعلیمی میدان میں قوم کے بے شمار افراد کو برسرِ روزگار کروایا پر شعورِ مقصد نہ دے سکے ۔یہ بہترین اذہان آ ج دنیا کی بھیڑ میں اسی طرح اپنی معاشی سدھار میں مصروف ہیں جس طرح بنارس ہندو یونیورسٹی وغیرہ کے فارغ لوگ۔ وہ بھی اپنی کمائی سے جذبۂ تشکر کے طور پر رام مندر کو دان دے دیتے ہیں اور یہ بھی مسلمان جماعتوں یا افراد کے کارِ خیر کے لئے کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں۔البتہ مسلمانوں کی اس تعلیمی ترقی سے جوڑے جہیز تلک وغیرہ کی رسوم میں خاص طور پر پچھلے ایک دہے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ نہ خود مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی مثال ہے نہ غیر مسلم قوموں میں۔ یہ مشکل صرف ان جماعتوں کی نہیں جو دنیوی تعلیمی ترقی کے لئے کام کرتی ہیں بلکہ دیوبند جس کو ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد، مکمل اور سب سے قدیم جماعت ہونے کا زعم ہے اس کے پاس بھی آج تک وہ long term goals مرتب نہ ہو سکے جس کے ذریعہ ہندوستان بھر لاکھوں بیشتر علماء و فضلاء مدارس کے قیام تدریس امامت وغیرہ کے علاوہ اور کام کے لئے متحد ہوں ۔ پرسنل لا جیسے مسائل پر خطبوں یا وعظوں کے ذریعہ جذبات کو اپیل کرنا الگ بات ہے لیکن امت کی دفاع میں ادبی ، سیاسی و معاشی اور سائنسی جملوں کا مقابلہ کرنا میرے اس نصاب یا مقصد میں شامل ہی نہیں جس کا دعوی روزِ اول کیا گیا۔

تربیت ِ کارکنان

اسلام چونکہ محض مذہب نہیں بلکہ ایک اصولی دین ہے یعنی ” الدین نظام “ یعنی ایک مکمل ڈسپلن یا system کا نام ہے اور ہر مسلمان چاہے وہ جس جماعت سے تعلق رکھتا ہو حتی کہ کانگریس یا تلگو دیشم سے بھی ۔اس کے لاشعور میں کسی نہ کسی stage پر امت کے لئے فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔اس لئے اسے اس دین کے اصولی علم کے ساتھ ساتھ اس کی تربیت سے گزرنا لازمی ہے جس کی خاطر وہ کام کرنا چاہتے ہیں ورنہ ایسے افراد کسی بھی اصولی جماعت کے کسی طرح بھی کار آمد نہیں ہو سکتے ۔ آج جماعتوں کی سب سے بڑی رکاوٹ جہاں خارجی طور پر جس کی تفصیل آگے آئگی وہ یہ کہ افراد کی قلت ہے وہیں داخلی مشکل یہ ہے کہ ایسا نظامِ تربیت موجود نہیں ہے جس کے ذریعئے اس مخصوص جماعت کے نئے cadres کواس مقصد کے سانچے میں ڈھالا جا سکے۔
مسلما ن اور غیر مسلمان جماعتوں میں ایک واضح فرق یہ ہے کہ غیر مسلم جماعتوں میں کارکنان پر مقصد کی پا بجائی کے علاوہ کسی دوسری شئے کا مواخذہ نہیں ہوتا اگر سیاسی جماعتیں ہیں تو کارکنان اس جماعت کو ہر طریقے سے اقتدار میں لانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کے بدلے میں ان کو پیسہ ، زمین ، قبضے اور لائسنس وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ اگر کوئ سماجی یا فلاحی جماعت ہے تو کارکنان چندے دینے کے تو پابند ہیں لیکن ان کی ذاتی کردار کی جواب دہی جماعت پر لازم نہیں۔اسی طرح تعلیمی ترقی کے لئے بھی ان کے پاس بے شمار جماعتیں ہیں جو طلبا ٴ ڈگری حاصل ہو جانے کے بعد مخصوص ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اس طرح سے کہ اگر وہ پولیس ، فوج یا انتظامیہ عدلیہ صحافت وغیرہ جہاں بھی جائیں جماعت کے مفادات کے لئے کام کریں ذاتی زندگی میں وہ کیا کرتے ہیں اس کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں اس کے بالعکس مسلمان جماعتوں کی مشکل یہ ہے کہ مسلسل اخلاقی و تعلیمی انحطاط کی وجہ سے ان کا صحیح مطمعِ نظر بھی اسی طرح ہو گیا ہے ۔ سیاسی جماعتیں بھی وہی سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنا چاہتی ہیں جو Shiv Sena ,R. S. S. کرتی ہیں۔ عوام سے ان کا ووٹوں اور سیٹوں کے علاوہ اگر کچھ ربط ہے تو چند ملازمتیں و سفارشیں دلانے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ اسی طرح تعلیمی میدان میں کام کرنے والی جماعتیں ڈگریاں و اسناد ِ فضیلت و دستار بندی عطا کرنے اور رخصت کرنے کے علاوہ اپنی اور کو ئ ذمہ داری نہیں سمجھتیں فلاحی انجمنوں و کارکنان سے ربط چندے کے علاوہ کچھ نہیں وہ اس طرح جمع کرتے ہیں اور کتنی ایمانداری سے مستحقین پر خرچ کرتے ہیں یہی ان کی جماعت سے وابستگی کی کسوٹی ہے اس کے علاوہ ذاتی زندگی میں نیا کردار ادا کر رہے ہیں اس کا کوئی احتساب نہیں ہو سکتا ہے۔ آپکو یہ نکتہ جماعتوں کی خامی یا کمزوری کس شکل میں نظر آئے لیکن میری نظر میں یہی جماعتوں کی مشکل ہے جو انہوں نے خود پیدا کر لی ہے۔
جماعتوں کی یہ مشکل ہے ان کے پاس تربیتِ افراد کا وہ انتظام نہیں جس کے ذریعئے افراد پہلے اپنے مقصدِ وجود کا شعور حاصل کریں پھر جماعت کے مقصد کو حاصل کرنے لوگوں کے پاس جائیں۔ سیاسی جماعتیں تربیت کا پہلے نظام بنائیں کہ غیر مسلم یہ جان لیں کہ مسلمان سیاست دان ، M. L. A. & M. P, اگر ہوگا تو اس کے پاس عدل، رعایا پروری اور خدمتِ خلق کا یہ منصوبہ ہوگا خود اپنے آپ پر اور اپنے معاشرے میں برتے گا۔ اس طرح ہر شعبۂ زندگی میں کام کرنے والی جماعتیں وہ تربیتی نظام مرتب کریں جس سے کار کن شعورِ مقصد حاصل کریں اور اس کی دعوت کا آغاز کریں خام افراد سے خام جماعتیں ہی وجود میں آتی ہیں اور بیس تیس سال میں ختم ہو جاتی ہیں۔
افراد کی تربیت جماعتوں کی سب سے بڑی مشکل ہے جو وہ حل کرنے میں ناکام رہی ہیں مسلمانوں میں لاشعوری کی انتہا یہ ہے کہ یہ تعوذ و تسمیہ سے تقریر شروع کرنے والے پر یہ نشاة ثانیہ کے ضامن ہونے کا گمان کرنے لگتے ہیں اور وہ مسلمان ان کی جماعت کی تائد میں کھڑا ہو جاتا ہے جو شرابی بھی ہے جھوٹا ھی اور بدمعاش بھی اور شریف بھی جوے باز بھی اور تقوے باز بھی یہ تو تیسرے درجہ کے وہ لوگ ہیں جو اکثریت میں ہیں لیکن بہر حال مسلمان کہلانے پر زعم کرتے ہیں ۔ خود سجدوں میں وہابی ، بریلوی کے نام پر لوگوں کو قتل کرتے ھریں لیکن کوئی دوسرا انہیں قتل نہ کرے بھلے جوڑے جہیز کے ڈاکو بن کر مسلمان جوانیوں کو بوڑھا ہو جانے یا فاحشہ بن جانے پر مجبور کر دیں لیکن اگر کوئی ہندو لڑکا مسلمان لڑکی سے شادی اگر فلم یا ڈرامے میں بھی کرے تو تھیٹر جلا دیں کیونکہ یہ مسلمان ہیں جو ایک روپیہ دے کر کسی بھی جماعت کے کارکن بن جاتے ہیں اس کے آگے دوسرے درجہ پر وہ مسلمان ہیں جو کلمہ کی ادائگی پر یقین رکھتے ہیں مطالبات پر نہیں ان کے نزدیک اسلام گھر کے اندر تو ٹھیک ہے لیکن باہر نہیں ۔ ہر نظریہ ترقی کرے اور ملک پر چھانے کی کوشش کرے یہ انہیں منظور ہے۔ یہ سب ان کے نزدیک ملکی معاملات تو ہیں لیکن انہی میں کا کوئی ہم مذہب اسلام کو بھی بحیثیتِ نظریہ اور system پیش کرنے کی عملی کوشش کرے یہ ان کے نزدیک نہ صرف with due respect چودہ سو سال پہلے کی باتیں ہیں بلکہ ملک دشمنی و فنڈمنٹلزم fundamentalism وغیرہ ہے ہر وہ سود سزائیں ، شرعی عدالتیں ، دینیات و اخلاقیات وغیرہ وغیرہ سے اس قدر بیر کہ ان کی خوبیوں پر چاہے ایک لفظ بھی نہ پڑھا ہو کمزوریوں پر تقریر ضرورکر سکتے ہیں۔یہ وہ دوسرے درجے کے مسلمان ہیں جو عام اصطلاح میں Educated ، Social یا Moderates ہیں لیکن ہیں مسلمان پہلے درجے میں وہ مسلمان بھی ہیں جو دینی فکر و تعلیم سے بھی آراستہ ہیں اور دنیوی بھی۔ ان میں intellectuals بھی ہیں اور علما بھی پروفیسر بھی ہیں induatrialist بھی ۔ تقریریں ایسی کہ آسمان سے تارے ٹوٹ کر زمین پر بکھر جائیں تحریریں ایسی کہ پڑھ کر امامِ غزالی اور شاہ ولی اللہ بھی دنگ رہ جائیں۔ منصوبے اتنے شاندار کہ نشاة ثانیہ کا پورا نقشہ جیب میں رکھتے ہیں لیکن ہر شخص امام ہے اپنا قائد خود ہے۔ دراصل بعض وقت شخصیتیں اتنی اونچی ہو جاتی ہیں کہ جماعت کا جامہ ان کے لئے بہت چھوٹا پڑ جاتا ہے اس لئے یہ برہنہ فکری کو وطیرہ بنا کر دانشوری الگ الاپتے ہیں۔
بہرحال یہ تین قسم کے مسلمان ہیں جو بکثرت پائے جاتے ہیں اور بھی بہت سارے اچھے معقول مسلمان ہوتے ہیں لیکن آٹے میں نمک کی طرح ۔ جماعتوں کی مشکل یہ ہے کہ انہی اقسام کے مسلمان ان سرمایہ ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ہر جماعت کا اپنے مقاصد میں حصول کے لئے کام کرنے والا ہر طبقہ بغیر تربیت کے خام مال ہے چاہے وہ بہلے درجے کا مسلمان ہو یا تیسرے درجے کا۔ یا تو جماعتیں ان سے چھوٹا موٹا کام لیں چندہ یا مشورہ کر لیں اور چلتا کریں یا پھر ان کے اپنے دائرے میں لے کر ایک مقصد پر متفق کریں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی تربیت کریں جس میں انفرادی کردار سازی سے لے کر اجتماعی تحریک برپا کرنے تک تمام اہم مراحل ہوں۔
اسی تربیت کا دوسرا حصہ سمع و طاعت کی تربیت کمیونسٹ regimes میں ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ جو کچھ سلوک ہوتا تھا وہ سب جانتے ہیں اس کے علاوہ ارجن سنگھ ، سنیل دت امان اللہ خان اور اوپیندرا وغیرہ وغیرہ اس دور کی ساری ایسی مثالیں ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ سمع و طاعت کی خلاف ورزی کوئی جماعت برداشت نہیں کر سکتی جس کے نتیجے میں باغی افراد کا قتل ہو جاتا کنارہ کش ہو جاتا یا پھر الگ سے جماعت بنانا لازمی مظہر ہوتا ہے۔ نہ پورے ملک کے پیمانے میں کوئی ایسی جماعت ہے نہ معمولی سطح پر کوئی تنظیم کہ وہ پانچ دس سال چلے اور افراد ذرا سی ناگواری کی بنا علیحدہ ہو کر نئی تنظیم نہ قائم کئے ہوں۔ اسلام کی نظرمیں سمع و طاعت بیانِ حجت کے لئے کافی ہے لیکن میں عام مثالوں کا سہارا لے کر اسلام کے اصولوں کی ہر دور میں افادیت کا احساس دلانا اہم سمجھتا ہوں۔ اگر ملٹری کا سمع و طاعت کا نظام اور اس کی تربیت کا جائزہ لیا جائے تو بتہ چلتا ہے کہ مقصد سے محبت اور اس کا حصول اپنے سے بڑے کا حکم مانے بغیر فابلِ اعتبار نہیں ۔ عام حالات میں تو سمع و طاعت کی خلاف ورزی کرنے والے کو شائد برطرف کیا جائے لیکن جب دشمن سامنے ہو مشورے اور میٹنگ کے لئے گھنٹے تو کیا منٹ بھی میسر نہ ہو ایسے وقت میں کمانڈر کا فیصلہ سن کر سوال بعد میں اور عمل پہلے لازمی ہے ورنہ گولی مار دی جاتی ہے۔
آج مسلمان جماعتوں کی مشکل یہ ہے کہ ان کو وہ افراد زیادہ میسر آتے ہیں جن کی اقسام ابھی گنوائی گئی ہیں ۔ ہر شخص مشورے ، منصوبے اور اور حکم دینے کا اہل ملتا ہے لیکن سننے والے کم۔ ان کی خیر خواہی اور معاونت ان کے مشورے قبول کئے جانے کی پابند ہوتی ہیں۔ یہی وہ خامی ہے جو جماعتوں کو نہ صرف ٹکڑے کرتی ہیں بلکہ ”بنیان ّ مرصوص “ کی صفت سے روزِ اول سے محروم رکھتی ہیں اس کا حل یہی ہے کہ مقصد سے محبت کی تربیت کے ساتھ ساتھ اس سے بالا تر شئے جو مضمون کے آغاز میں بیان کی گئی ہیں ۔ خالقِ نظام کی رضا کی خاطر اپنی مرضی اور انا کو قربان کرنے کی تربیت کا نظام مرتب کیا جائے اور ہر کارکن چاہے وہ اس جماعت کا صدر ہو کہ معمولی کارکن مقرر ہو کہ انتظام کار سب ان اصولوں کی تربیت کے کورس کو پورا کریں ۔
یہاں ملی کونسل کے تجربے کا ذکر بھی اہم ہے کارکنان میں سمع و طاعت جہاں جماعتوں میں ہی مسئلہ ہے وہاں جماعتوں کے فیڈریشن کے لئے اور بھی بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ایسی فیڈریشن کا ہر فیصلہ ممبرز کے لئے قابلِ قبول اسی وقت ہوگا جب کہ اس کی اپنی جماعت کے لئے قابلِ قبول ہو ۔ اگر قابلِ قبول ہو تو پھر اس کے فیصلے کے نفاذ کی عملی کوشش میں حصہ لینے کی شرط یہ ہوگی کہ وہ فیصلہ اس کی اپنی جماعت کے مقاصد اس کے علاج اس کے مسلک وغیرہ سے تعلق بھی رکھتا ہو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فیصلوں کے انبار تو لگ جاتے ہیں لیکن نافذ کرنے والے کارکنان نہیں ملتے ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مجلس مشاورت کا سا انجام ایک فطری نتیجہ ہے جو مستقبل میں نظر آرہا ہے ایسے وقت میں وہی افراد کچھ کام کر جائنگے جو ادارے یا projects بنا کر اپنے جزوی مقاصد شروع کر چکے ہیں۔

تنظیم:۔
جہاں کارکنان کی تربیت شعور اور سمع اور طاعت کے لئے لازم ہے وہیں اس کے انتظامیہ کو چلانے کی تربیت بھی لازم ہے ۔ جماعتوں یا انجمنوں کی مشکل یہ ہے کہ اس کو اپنے انتظام کے لئے اعلی سطح پر ان نامور شخصیات کو شامل کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جو اپنے مالی شہرت ، حیثیت یا seniority کی وجہ سے نظر انداز نہیں کئے جا سکتے پھر لا محالہ انہیں کوئی نہ کوئیعہدہ دیا جانا لازمی ہے۔ مثال کے طور پر کسی صاحب کو نشر و اشاعت کا ذمہ دار بنا دیا گیا اب انہیں کرنا کیا ہے انہیں علم ہی نہیں ۔ نشر و اشاعت ہے تو بہت آسان سا لفظ لیکن اس شعبے کے ذریعے ، جماعت کے مقاصد کا حصول اس کا طریقِ کار دوسری جماعتوں سے قطعی مختلف ہوگاکیونکہ مقاصد مختلف ہیں میدان مختلف ہیں اس لئے جب تک جماعت خود اس تربیت کا خاکہ مرتب نہ کرے یا کم از کم ان صاحب سے اگر ان کے ذہن میں کوئی خاکہ موجود ہو تو اچھی طرح سمجھ لے اس وقت تک مروتاً یا مجبوراً بھرتی نہ کرے اور مزید نئے نئے افراد پر محنت کر کے اس وقت کا انتظار کرے جب تک کوئی صحیح کارآمد شخص نہیں مل جاتا کیونکہ کسی کو ایک عہدے پر فائز کرنے کے بعد پھر بٹانا جماعتوں کے لئے دوسرا مشکل کام ہو جاتا ہے ورنہ سمع و طاعت کی تربیت کی کمی اپنا اثر دکھا جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ ہر شعبہ finance کا ہو یا نشر و اشاعت کا تعلیم کا ہو کہ ادب کا ہر شعبہ پہلے طریقۂ کار کو مرتب کرے پھر تربیت کرے ورنہ یہی ہوتا ہے کہ بے چارے صدر اور سیکریٹری صاحب پوسٹر لگانے سے لے کر تقریر فرمانے تک ہر کام میں مسلسل مصروف نظر آتے ہیں اور باقی حضرات ٹائی سوٹ میں دولہا کے بھائی کی طرح مسکراتے چہچہاتے اِدھر اُدھر باراتیوں سے خوش گپّیاں کرتے نظر آتے ہیں۔

شورائیت و امارت :۔
اگرچیکہ جماعتوں کی اکثریت آج جمہوری طرزِ انتظامیہ کی قائل ہیں لیکن جہاں تک امارت کا تعلق ہے وہ سلسلہٴ طریقت کی طرح نسل اور وراثت کی پابند ہے مستثنی چند ایک کے اکثریت کا یہ حال ہے کہ ایک امیر یا صدر کے بعد لایقِ صدارت بیٹا، داماد ، بھانجہ بھتیجہ ہی گردانا جاتا ہے۔ یہاں طارق غازی صاحب کی ایک بات سے استفادہ کروں گا کہ شیعہ کو ہم ناپسند اس لئے قرار دیتے ہیں کہ وہ خلافت کے لئے صرف خاندانی وراثت کو حقدار سمجھتے ہیں لیکن جہاں تک ہماری جماعت یا مدرسہ یا سلسلہ کا تعلق ہے امارت کے کوئی لائق ہے تو بس ہمارا بیٹا یا قریبی رشتہ دار ۔ وہ کانگریس ہو کہ مجلس دیوبند ہو کہ تبلیغی جماعت۔ عام طور پر صدارتیں یا امارتیں منصبِ متولی کی طرح اپنے اپنوں میں منتقل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے قابل کارکنان محروم رہ جاتے ہیں اور جماعتوں کے مقاصد کا حصول سالوں کی بجائے دہوں میں بھی حاصل ہوتے نظر نہیں آتا۔
اس سلسلہ کی دوسری مشکل ہے ہے شورائت ۔ شہر یا ڈسٹرکٹ کی سطح سے لے کر مرکزی سطح تک عام طور پر عمر رسیدہ افراد زیادہ نظر آئٴٴنگے جن کے ہاتھوں میں جماعتوں کی باگ ڈور اور فیصلے ہوتے ہیں انہی کی تجویز پر ہاتھ اٹھانے والے افراد چونکہ جماعتوں کے زیادہ وفادار سمجھے جاتے ہیں اسی لئے قابل افراد خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ آج اگر تمام جماعتوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ قیادت کے منصب پر اکثریت میں وہ افراد کا مجموعہ ہے جو اپنی عمروں کے بچاس پچاس ساٹھ ساٹھ سال پورے کر چکے ہیں اپنی سالہل سال کی محنت اور ایثار کی قیمت کے بدلے اب وہ قیادت کی کرسی پر جما ہوا ہے۔ ہر سطح پر وہی مانوس چہرے بیس بیس پچیس پجیس سال سے براجمان ہیں جس کی وجہ سے generation gap اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ نئ انجمنوں یا جماعتوں میں بالخصوص جو بابری مسجد کے بعد وجود میں آئی ہیں نا تجربہ کار مگر حوصلہ مند ambitious نوجوانوں کی کثرت ہے جماعتوں کو امریکہ و انگلینڈ جیسی جمہوریت سے یہ نکتہ لینا ضروری ہے کہ ہر سطح پر ذمہ داروں کے انتخاب کے ساتھ ہی ان کی معیاد مقرر کردی جائے امریکہ کا صدر دو بار سے زیادہ منتخب نہیں ہو سکتا۔اگر چیکہ سابقہ صدور جیسے ریگن کارٹر فورڈ وغیرہ موجود ہوتے ہیں جن کے تجربے حب الوطنی وغیرہ ثابت ہیں لیکن ان کے باوجود ایک کم عمر کم تجربہ کار کلنٹن جیسا شخص منتخب ہو جاتا ہے ہو سکتا ہے نیا آنے والا پہلے آنے والوں سے بہتر ثابت نہ بھی ہو لیکن وہ قومیں اس کمزوری کو ترجیحاً قبول کر لیتی ہیں اس لئے جب قوموں کی قیادت میں ایک بار generation gap پیدا ہو جائے تو قوم بھی بوڑھی ہو جاتی ہے۔ نوجوان کا اگر قیادت پر سے اعتماد اٹھ جائے تو بد دلی سرکشی بغاوت اور سمع و طاعت کی خلاف ورزی جیسے نتائج پیدا ہونے لگتے ہیں جو آج ہم ہندوستان کی تقریباً ساری مسلم جماعتوں میں دیکھتے ہیں۔
علامہ الہند مولانا معین الدین اجمیری (رحمۃ اللہ) کہتے ہیں : ایاز قدر خود شناس
Modern Business Management کے اصولوں میں ایک اہم اصول یہ ہے کہ کامیاب مینیجر اسے ہی تصور کیا جاتا ہے جو اپنا ایک بہترین deputy ایسا تیار کرے جو کسی بھی وقت اس کی جگہ لے سکے۔یورپ نے اس کی وجہ سے ترقی کی اور ہماری جماعتوں نے اسے نظر انداز کیا اور نہ صرف جماعتوں نے بلکہ انفرادی طور پر شاعر و ادیب ، مقرر و مصنف ، علما و لیڈر ، وکیل و ڈاکٹر وغیرہ سبھی اس جرم کے مرتکب ہیں ان کا جرم یہ ہے کہ نہ صرف انہوں نے اپنے جانشین کو ڈھونڈھ کر اس کی تربیت پر محنت نہیں کی بلکہ اگر کوئی نظر بھی آیا تو اس سے رقابت برتی۔
اس practice کو آپ چاہیں تو قیادت سازی کا عمل یعنی leadership formation کہہ سکتے ہیں۔ ہر جماعت کے پاس ایک مکمل خاکہ اور منصوبہ ہونا چاہئے ۔ ملی کوس نے نوجوانوں میں سے قیادت پیدا کر نے کے طریقوں پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ ایسا ہی ہر کام ہر جماعت میں ہونا لازمی ہے۔

طریقۂ کار :
اصولی طور پر کسی جماعت کے مقصد کے تعین اور اس کے طریقۂ کار میں جسم اور روح کا رشتہ ہے مقصدِ اولین اگر سیاسی ہوگا تو اس کا طریقۂ کار ووٹرس کو پیدا کرنا ہوگا اگر وہ فلاحی تنظیم ہوگی تو طریقۂ کار میں ترجیحِ اول مالیات کی فراہمی اور صحیح تقسیم ہوگی اسی طرح نظریاتی جماعتوں کے لئے مختلف ذریعؤں سے زیادہ سے زیادہ افراد تک اس نظریہ کو پہنچانا ہوگا۔ اس طرح طریقۂ کار مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے مقصد چاہے جو بھی ہو طریقۂ کار کارکنان سے پورا وقت اور صلاحیتیں مانگتا ہے ایک تنظیم جو غریب لڑکیوں کی شادیاں کرواتی ہے یا ایک ایسی جماعت جو دینی دعون یا سیاسی قوت کے لئے کام کرتی ہے ان تمام جماعتوں میں کارکنان کم یا زیادہ تو ہو سکتے ہیں لیکن جتنے بھی ہیں وہ سارے اپنے تمام اوقات ، صلاحیتیں اور مال لگاتے ہیں جتنے ان کو میسر ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ یب ہی مساوی محنت کر رہے ہیں ۔ روز بروز جماعتوں ، تنظیموں اور ان تمام کے out put میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے باوجود قوم کی بہتری کا گراف بجائے اوپر کے مسلسل نیچے ہی جا رہا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقصد کا تعین غلط ہے ذہن میں نشاة ثانیہ اور مسلمانوں کی ترقی اقامت ِ دین کے ادارے کھولنا تو کہیں شادیاں کروانا ، کہیں اسمبلی و پارلیمنٹ کس سیٹیں جیتنا ہے تو کہیں کچھ اور ہے ۔ پروگرام target کے مطابق نتائج بھی دے رہے ہیں ۔ اس کے باوجود ذہنوں میں چھپے ہوئے مقاصد حاصل نہیں ہوتے لہذا طریقۂ کار کو بدانا ضروری ہے اس کے لئے پہلی سطر کو بدلنا لازمی ہے۔ شادیاں ، سیٹیں ، مدرسے تعلیمی ادارے ، نمازیں زکوة وغیرہ وغیرہ طریقۂ کار کے حصے ہیں ۔ ایک عظیم مقصد کے اجزاء ہیں اگر یہ مقصدِ کل بن جائیں تو طریقۂ کار چاہے کتنا ہی عصری اور وسائل سے بھرپور مقصد ہے جو حاصل ہوگا وہ جزوی ہوگا گُلّی نہیں۔
ان تمام کاموں کو ایک مقصدِ کل لے کر چلنے والی جماعت میں مختلف شعبوں کی حیثیت میں ہونا چاہئے بد قسمتی سے یہ شعبے علیحدہ علیحدہ جماعتیں بن کر وجود میں آ جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ فلاحی انجمنیں ہیں تو سیاسی و دینی بصیرت سے خالی ، دانشور ہیں تو عملی میدانوں سے بے نیاز۔ سیاسی جماعتیں ہیں تو معاشرتی مسائل سے کوری۔ ایک دوسری مشکل یہ ہے کہ شائد ہی کسی جماعت کے پاس کوئی ایسا طریقۂ کار موجود ہے جس کے ذریعہ وہ کم از کم ہر سال ایک کمیٹی بنائیں جو حالات کا از سرِ نو جائزہ لے کر بتائے کہ اس ایک سال میں حالات ایسے بدلے ہیں تقاضے یوں بدلے ہیں لہذا جماعت کے طئے شدہ پروگراموں میں یوں تبدیلی ہونی چاہئے ۔ برسہا برس کے بعد بھی نہ رویئے بدلتے ہیں نہ منصوبے انہدام سے پہلة مسجد بچاؤ تحریک پر مبنی تھے اور بعد انہدام مسجد بناؤ تحریک۔

کسی جماعت کی بقا اور ترقی کے لئے یہ لازمی ہے کہ اس کے پاس مہمات کا سلسلہ رہے جیسے BJP نے بابری مسجد کے انہدام کے بعد اب تک کم از کم پچیس مہمات کر ڈالیں۔ کچھ حاصل ہوا یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن جماعت میں حرکت او رزندگی باقی رکھنے کا رکنان کو مسلسل نئے کام دیتے رہنا تاکہ وہ ایک ہر routine سے اکتا نہ جائیں ۔ کبھی GATT کا شبہ تو کبھی نئے نئے انتخابات کا۔ کبھی ہبلی کی عید گاہ کا تو کبھی parellel budget کا اس طرح ان کے پاس ہر روز نئی مہم ہے لیکن ہماری جماعتیں یا تو reaction کے طور پر کوئی جوابی مہم چلاتی ہیں یا پھر برسہا برس سے جو مشن چل رہا ہے بس وہی چل رہا ہے جب کہ زمانہ اور حالات مکمل بدل چکے ہیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ سے لے کر شیخ الہند تک شائد غلبۂ اسلام کا یہی طریقہ مناسب تھا کہ علمِ دین ، قرآن، حدیث ، فقہ، و صرف و نحو پر محنت اور اسی کی تبلیغ کی جائے ۔ سیاست ، خدمتِ خلق ، اعلی تعلیم معاشیات وغیرہ وغیرہ اس دور میں میسر نہیں تھے لیکن اگر آج بھی اسی طریقہ کار کو کوئی مناسب سمجھتا ہے تو اسے دو سو سال قبل پیدا ہونا چاہئے تھا۔اسی طرح صوفیت اور سلسلے ایک زمانے کی ضرورت تھے ان حالات میں وہ طریقہ شائد صحیح تھا لیکن دورِ حاضر میں اس طریقۂ کار کے ذریعہ ملک کا نظام بدلنا تو دور کی بات ہے خود گھر کا نظام نہیں بدل سکتا۔ اگر ایک کار کمپنی کوئی نئی کار design کرنا چاہے تو 1995 کا پڑھا ہوا انجینئر جتنی بہتر اور Advanced کار design کر سکتا ہے وہ 1965 کا انجینئر نہیں کر سکتا۔

اگر جماعتیں کہیں عصری مسائل کو لے کر اٹھتی بھی ہیں تو صرف صحافتی اور تقریری حدود تک صحیح مسئلہ کو لے کر اٹھنا کارکنان کو عوام میں جا کر Motivate کرنے کی تربیت دینا یہ ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔ بعض بلکہ اکثر مہمات اگر شروع ہوتی بھی ہیں تو reaction کے طور پر کبھی فلم بمبئی کا reaction ہے تو کبھی ہبلی کی عید گاہ پر حملے کا۔ ہزارہا ایسے مسائل ہیں جنکو مہم کے طور پر جماعتیں ہر سال اٹھا سکتی ہیں اور کچھ کر کے دکھا سکتی ہیں لیکن بد قسمتی سے وہ مہمات ان کے ہاتھ آتی ہیں جس کے نتیجے میں سوائے خواری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا مثال کے طور پر حیدرآباد کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ رمیزہ بی کو کبھی issue بنا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا جو کہ ایک طوائف تھی کبھی چاند پہلوان کو جو ایک بدنام زمانہ شخص رہا ہے۔ پولیس نے نوجوان مصطفے علی خان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سراسر ظلم ، تشدد اور تعصب تھا جس کے خلاف یقیناً متحد ہو کر احتجاج کرنا لازمی تھا لیکن حالیہ تاریخ میں ہی ایسے کئی مصطفے علی خان شہید ہو چکے ہیں جس کی ہماری جماعتوں کو خبرہوئی بھی تو ایک دو بیانات دینے پر اکتفا کر لیا گیا۔ آج ان کئی مصطفے علی خان کے غمزدہ باپ کیا یہ نہ سوچتے ہونگے کہ کاش ہم بھی چاند پہلوان ہوتے ۔ ہمارے بھی جوے کے اڈّے چلتے ہیں ہمیں بھی سیندھی خانوں کا بھتہ ملتا ہم بھی زمینات پر قبضے کرتے حتی کہ مندروں کے لئے زمین گھیرنے میں مدد کرتے تب شائد جماعتیں اور عوام بھی ہماری داد رسی کو دوڑ کر آئیں اور شہر میں توڑ پھوڑ مچائیں ۔یہ ہماری جماعتوں کے مہمات کے انتخاب کی ایک مثال ہے ۔
بہرحال مختصر یہ کہ صحیح مقصد کا تعین اگر ہو تو طریقۂ کار تعمیری اور مقصد کے حصول کا صحیح ذریعہ ہو سکتا ہے ورنہ کارکنان کی محنتیں اللہ قبول کر لے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں و گرنہ اس دور میں اکثر جماعتوں کا طریقۂ کار اب outdated ہو چکا ہے جس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔

خارجی مشکلات

عوامی غفلت : جماعتوں کی سب سے بڑی رکاوٹ عوام کا اجتماعیت یا جماعت سے فرار کا رویہ ہے جس میں جاہل اور تعلیم یافتہ ، دیندار اور دین سے بے بہرہ ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔ میں اس مقام پر ابوالکلام آزاد کے الفاظ نقل کروں گاجو انہوں نے لزومِِ جماعت کے بارے میں کہے ہیں ” قرآن و سنت میں جا بجا اجتماعِ وحدت پر زور دیا گیا ہے کفر و شرک کے بعد کسی بد عملی سے بھی اس قدر اصرار و تاکید کے ساتھ نہیں روکا گیا جیسا کہ تفرقہ و تشت سے یہی وجہ ہے کہ اسلام کے تمام احکام و اعمال میں اجتماعیت محور و مرکز ہے ۔ اسی بنا پر نظمِ جماعت پر زور دیا گیا کہ علیکم بالجماعة و السمع والطا عة کہ ” تم کو میں جماعت کا حکم دیتا ہوں اور سمع و طاعت کا “ آگے فرماتے ہیں ” کیا محض ایک بھیڑ اور انبوہ لے کر ہم وہ فرائض انجام دے سکتے ہیں جس کی اولین شرط غفلاِ و شرعا ً ایک منظم جماعت ہے۔ چھوڑ دیجئے اصطلاحاتِ شرعیہ کو اگر ان سے ہمیں اس قدر بعد ہو گیا ہے کہ ساری باتوں کے لئے تیار ہیں مگر قرآن و سنت کے نظامِ قوام کے الفاظ سن کر یکایک مضطرب الحال ہو جاتے ہیں تو صرف انہی اصول و قواعد کو سامنے لایئے جن پر آج تمام اقوامِ عالم عامل ہیں میں پوچھتا ہوں کہ کیا بغیر اگر لیڈر یا قائد کے کوئی جماعت قائم رہ سکتی ہے؟ پھر وہی حقیقت تو اسلام نے لفظِ امیر یا امام میں مضمر رکھی ہے یہ کیا مصیبت ہے کہ اگر لیڈر یا قائد کا لفظ کہا جائے تو آپ اس کا استقبال کریں اس کے حضور حاضری کو شرفِ عزت سمجھیں اور اگر امیر و امام کا لفظ آجائے تو نفرت و استکراہ سے بھر جائیں ۔ ہم جماعت کی ضرورت تو محسوس کرتے ہیں مگر یورپ کے اجتماعی طریقوں کی نقالی کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ آخر اسلام نے بھی حیاتِ اجتماعی کے لئے ہمیں کوئی نظم دیا ہے جس کو ہم نے خود فراموش کر دیا ہے۔ ہم غیروں کی دریوزہ گری سے پہلے خوداپنی کھوئی ہوئی چیز کیوں نہ واپس لے لیں اور اسلام کا مقررہ جماعتی نظام کیوں نہ قائم کریں؟
یہاں تمام اہلِ فکر اہلِ نظر اور معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والوں سبھی کے لئے یہ سوال ہے کہ اگر اسلام کو دینِ کامل تصور کرتے ہیں تو مردہ جسن نیٹ روح کی سی اہمیت رکھنے والے نظام یعنی نظامِ جماعت کو قرآن و سنت میں تلاش کریں اور موجودہ حالات میں ہر سمت سے مقابلہ کرنے کے لئے سوچیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں جماعت کی تعریف definition کیا ہو سکتی ہے؟ اس کا ڈھانچہ اس کا طریقۂ کار اس کا تربیتی نظام کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ 70 کروڑ غیر مسلموں کے لئے کس طرح فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

افراد کی جماعتوں سے بے رغبتی اور خود جماعتوں کا افراد سازی کی کوشش سے لاپرواہی یہی دو اسباب ہیں جو آج ہم اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہوئے سمندر کے جھاگ سے زیادہ نہیں۔ اگر بال ٹھاکرے کہتا ہے کہ ” مجھے ہاتھ بھی لگایا تو پورے فرقے کو بھون ڈالوں گا “ اس کے بیان پر پورے ہندوستان میں ایسے کھلبلی مچتی ہے جیسے واقعی وہ بھون ڈالے گا جبکہ کوئی مسلمان لیڈر جواب دیتا ہے تو نہ دور درشن قریب سے سنتا ہے اور نہ کوئی لیڈر سوائے اس کے کہ "سیاست" اور "نشیمن" میں ایک سرخی چھپ جاتی ہے جس کا کوئی نوٹس بھی نہیں لیتا اگلے دن خود لیڈر لوگوں سے پوچھتا ہے ” میرا بیان چھپا ، کیسا لگا “؟

عوام میں جماعتی نظام قائم کرنے کی جستجو پیدا کرنا اس وقت وقت کی ضرورت ہے جس طرح جسم کے سارے نظام بہترین صحت مند ہوں لیکن reproductory system ہی کام نہ کرے تو وہ صحت مند جسم potent ہو کر نہ صرف معیوب بلکہ نابود ہو جاتا ہے۔ اس یطرح جماعتیں اگر مسلسل افراد کے اضافے سے محروم رہیں تو ان وجود بھی potent ہو جاتا ہے اور آج پورے ہندوستان میں کوئی جماعت ایسی نہیں جس میں داخل ہونے والوں کی تعداد ایک سال میں دو چار سو سے زیادہ ہو ۔یہ دور جماعتوں کا دو رہے جماعتیں strength کی بنیاد پر تسلیم کی جاتی ہیں اسی بنیاد پر انہیں سیاسی قوتِ مطالبہ اور negotiation کا حق ملتا ہے ایک کال پر دو لاکھ کار سیوک سر پر کفن باندھ کر آجاتے ہیں تو پولیس فوج سب بے بس ہو جاتے ہیں لیکن کوئی جماعت ِ مسلم ایسی نہیں کہ جسکی ایک کال پر ایک ہزار بھی سر پر کفن باندھ کر جمع ہوں ۔
اس سلسلہ میں ملی کونسل و پرسنل لا بورڈ کی کوششیں بہرحال غنیمت ہیں کہ فکری طور پر اور کسی حد تک محدود عملی طور پر بڑی تعداد میں عوام کو قریب لانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن بہرحال ان کے مقاصد کا حصول افراد کے ذریعئے نہیں کارکنان کے ذریعہ ممکن ہے جن کو ینانے کے لئے ایک طویل مدت اور ایک مکمل منصوبہ درکار ہے۔ جماعتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت کسی حد تک اس میدان میں آگے ہیں لیکن رفتار کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
جماعتوں کے راستے کی دوسری خارجی مشکل یہ ہے کہ عسکریت پسند ذہنوں کی تعداد مسلسل اضافہ پذیر ہے نوجوان ایک امیر کی طرف سے جہاد کا اعلانِ عام ہونے کی اسلامی شرط کو بھول جاتے ہیں جس کے پیچھے پہلے منظم اجتماعیت پیدا کرنے کا حکم مضمر ہے اور جہاد کی باتیں کرتے ہیں۔
تیسری خارجی رکاوٹ یہ ہے کہ جماعتوں کو ایک منظم سازش کے ذریعئے الزامات اور کیسس کے ذریعئے مصروف کر دیا جاتا ہے بھٹو کی مشہور پالیسی یہ تھی اپوزیشن پر الزامات کی بوچھار کر دو وہ چور نہیں بھی ہیں تو چوری کا الزام لگا دو ۔ وہ صفائاں پیش کرنے میں مصروف ہو جائنگے ۔ یہی ہماری کامیابی ہے۔ آج نہ صرف جماعتوں پر الزامات لگا کر انہیں مصروف کر دیا جاتا ہے ۔ اس مشکل کا حل صرف یہ ہے کہ جماعتیں اور کارکنان الزامات پر نہ کان دھریں نہ تبصرہ و جواب میں وقت ضائع کریں اور صرف مقصد پر نظر رکھیں جس طرح کہ مولانا مودودی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

میں آخری جس رکاوٹ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ جماعتوں کی سب سے بڑی مشکل چھوٹی چھوٹی جماعتوں اور انجمنوں کا قیام ہے ۔ قوم ایک جسم کی طرح ہے اور عقائد عبادات رسم و رواج سیاست معیشت سماج ادب ثقافت تہذیب خدمتِ خلق وغیرہ وغیرہ اس جسم کے اعضا ہیں بقول مولانا آزاد کے کہ :
جسم کے مختلف النوع اور مختلف الفصل اعضاء مل کر ہی جسم کو ایک عمل کے قابل بناتے ہیں۔اگر یہ عضو دوسرے عضو سے بے نیاز ہوجاے تو اس جسم کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔

اسی طرح چھوٹے چھوٹے جزوی مقاصد کو لے کر اٹھنے والی تنظیمیں و جماعتیں قوم کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچاتی ہیں یہ اس لئے جلدی قائم ہو جاتی ہیں کہ علاقے زبان مسلک وغیرہ کی بنیاد پر یہ محدود دائرۂ کار میں زیادہ تیزی سے کام کر سکتی ہیں۔ نتائج جلد سامنے آتے ہیں لوگوں میں اپنے فیصلوں کو خود کرنے اور روبۂ کار لانے کا فطری جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان پر انانیت کا الزام تو نہیں لگایا جا سکتا لیکن بڑ ے اور ہمہ گیر مقاصد کا ساتھ چھوڑ کر چھوٹے مقاصد کو خود پورے کرنے کے لئے لوگوں سے مال اور وقت اور توانائیاں حاصل کر لینا دراصل ایک بڑے مقصد کے راستہ میں کاوٹ بننا ہے۔ آج دشمن یہی چاہتا ہے کہ حیدرآبادی حیدرآبادیوں میں کام کریں اور لکھنوی لکھنویوں میں ۔ اردو والے اردو کے لئے تحریک چلائیں ، مشاعرے کریں، یونیورسٹی بنائیں تاکہ آسامیوں ، گجراتیوں اور ملیالی مسلمانوں سے خود ہی ان کی دلچسپی ختم ہو ۔ تبلیغ والے تبلیغ کرتے رہیں تاکہ سیاست کا میدان ان کے ہاتھ میں رہے۔بنکوں اور بنکوں کی نوکریوں پر فتوے لگانے والے یہی کام کرتے رہیں تاکہ بنک کاری ہمارے ہاتھ میں رہے بہرحال یہ بھی ایک ایسی رکاوٹ ہے کہ قوم کے بہترین ذہن اور ہاتھ بجائے پوری ملت کے لئے ہمہ گیر مقاصد لے کر اٹھنے کی بجائے اپنے اپنے سوچے ہوئے مقاصد کی تکمیل میں لگ جائیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام چھوٹی چھوٹی جماعتیں اور تنظیمیں بالکل ایک فرد ہی کی طرح ان جماعتوں سے وابستہ ہو جائیں اور اپنے کاموں کا credit ان جماعتوں کے لئے وقف کریں جن کی بنیاد پر پورے ملک میں اس کی کار کردگی کا image مضبوط ہو اسی کے ذریعئے ممکن ہے کہ پوری قوم میں ایک ایسی جماعت ووجود میں آئگی جس کی strength ہوگی دھاک ہوگی ۔ اگر کشمیر میں کچھ ہوتا ہے تو حیدرآباد کے ایک مسلمان کا بیان پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی آواز سمجھی جائگی۔ میرٹھ میں گولی چلے تو کیرالہ سے آواز اٹھے گی۔ایسی جماعت کو یا تو تلاش کیا جائے یا ؟پھر نئے سرے سے بنایا جائے اس کے علاوہ کوئی تیسرا حل نہیں ہے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے