Skip to content
 

خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میں

Khutba-Hajjatul-wida

In the light of Khutba-Hajjatul-wida

خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میں

سنّی و شیعہ ، علما، جماعتوں، مسلکوں ، سلسلوں اور عام مسلمانوں کے رویّے کا ایک جائزہ

بسم الله الرحمٰن الرحيم

کیا یہ ممکن ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کو پڑھ لینے کے بعد کوئی مسلمان فرد، جماعت، عالم یا مشائخ کسی دوسرے کلمہ گو کے تحقیر یا تکفیر کرے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن کو دستورِ حیات ماننے والے اپنے مقدمات بجائے اپنے علما و مفتیان کے پاس لے جانے کے کسی اور کی عدالتوں میں لے جائیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ مسلمان وکیل، ڈاکٹر، لیڈر، صحافی، تاجروغیرہ جھوٹ اور فریب کے ذریعے حرام مال کو ھاتھ لگائیں اور ساتھ میں نماز ، روزہ، زکوٰۃ اور حج و عمرہ بھی ادا کرتے رہیں؟ کیا یہ ممکن ہے عورت کے حقوق کی پامالی ہو؟ کیا یہ ممکن ہیکہ ایک عام مسلمان بُرائی کو دیکھے اور خاموش رہے؟
ہرگز نہیں۔ یہ نا ممکن ہے۔ یہ ناممکن ہیکہ خطبہ حجۃ الوداع کو پڑھ لینے کے بعد عام مسلمانوں ، جماعتوں، علما و مشائخین میں مسلکوں، عقیدوں اور انا کی جنگ باقی رہے۔ یہ خطبہ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے امن و انصاف کی ضمانت ہے۔ یہ ایک ایسا اخلاقی ہتہیار ہے جس کے ذریعے ہم ہر قسم کی دہشت گردی، نیوکلیر ٹکنالوجی اور منفی میڈیا کا مقابلہ انشااللہ بآسانی کرسکتے ہیں۔ یہ چارٹرنشاۃ ثانیہ کی ایک بشارت ہے۔ آیئے اس خطبے پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

حج یا عمرہ کیسے کیا جائے؟نماز کیسے پڑھی جائے؟زکوٰۃ کسیے ادا کی جائے؟ روزے کے احکام کیا ہیں؟ فاتحہ،سلام، میلاد اور عرس وغیرہ کا کیا مقام ہے؟ معرفت، طریقت، شریعت، سنّیت، شیعیت، بریلویت، دیوبندیت اور سلفیت کیا ہے؟ کون سے امام کہاں تک صحیح ہیں؟ ہم ہر سال ایسے بے شمار سوالات ،فتاویٰ، بحث و مباحثے ، تقاریر و مضامین سنتے اور پڑھتے ہیں اور سالہا سال سے یہی کرتے آرہے ہیں۔اور انہی کی روشنی میں ہماری عبادات جاری ہیں۔
انسانی نفسیات ہے کہ کسی عبادت میں جسمانی طور پر خود کو خوب تھکانے میں ہمیں اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ ہم کچھ لمحوں کے لیے اپنے دل ، دماغ اور ضمیرسے یہ سوال کرنا نہیں چاہتے کہ یہ سب عبادتیں ہم کیوں کریں؟ ایک فوجی کو اگر یہی پتہ نہ ہو کہ اسے اتنی سخت پریڈ اور ٹریننگ کیوں دی جا رہی ہے اور اگر اسی ٹریننگ کو وہ نوکری کا اصل مقصد سمجھ کر محنت کیے جا رہا ہو اور پروموشن کی آس لگائے بیٹھاہو تو اس فوجی کو کیا کہا جائے گا؟

رسول اللہ ( ﷺ) نے فرمایا ہے کہ ــ" ان الرجل ليكون من اهل الصلوة والصوم والزكوٰة والحج والعمرة حتي ذكر سهام الخير كلها وما يجزي يوم القيامه اِلا بقدر عقله۔ (مشکوٰۃ ۔ باب الحذر 422)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہیکہ رسول اللہ ﷺ نے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج و عمرہ اور دوسری تمام نیکیوں کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا ـ"انسان یہ سب کچھ کرتا ہے مگر قیامت کے دن اسکا اجر اسکی عقل و فہم کے مطابق ہی ملے گا"
ہر سال بکرے ذبح ہوتے ہیں۔ ڈنکے کی چوٹ پر گلی گلی گائیں کاٹ کر جہاد کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ پھر اس قربانی کے بھونے ہوئے گوشت کے ناشتے میں عبادت کا صحیح لطف بھی آتا ہے۔ ایسے وقت میں یہ آیت یاد دلانا لقمے میں ایک کنکر ڈالنے کے برابر ہیکہ ـ" لَن يَنَالَ اللَّهَ لْحْومْهَا وَلاَ دِمَاؤْهَا وَلَكِن يَنَالْهْ التَّقوَي۔۔۔"اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے "
تمام حجاج کرام اور تمام قربانی کرنے والے اگر زندگی میں صرف ایک بار "خطبہ حجۃ الوداع" کو پڑھ لیں ، سمجھ لیں اور دنیا کے سامنے پیش کر دیں تو ایک عظیم انقلاب آ سکتا ہے ورنہ کروڑوں بکرے ، گائیں اور اونٹوں کے کٹنے سے انشااللہ ایک واجب کے ادا ہونے کا اجر تو پورا پورا ملے گا لیکن اس سے دنیا میں کوئی انقلاب آئے یا دنیا کو اسلام کا کوئی پیغام پہنچے یہ ناممکن ہے۔
انسانیت کے فروغ کے لیے جب بھی دنیا نے ہیومین رائیٹس ، ویمنس رائیٹس ، اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل وغیرہ کے چارٹر پیش کیے ، ہمارے علماء ، خطباء ، واعظین ، مشائخین اور مصنفین نے بڑے فخر اور رعب سے انہیں نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ :"ہمارے پاس تو یہ چارٹر 1400 سال پہلے سے موجود ہے جو ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ہمیں دے دیا تھا"۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک یہ چارٹر کہاں چھپا ہوا تھا؟ اگر اس چارٹر میں پوری انسانیت کی بقا اور فروغ پوشیدہ تھی تو ہمیں اس چارٹر کی آج تک کیوں کر ضرورت پیش نہیں آئی؟ کیوں ہمارے ممبر اور اسٹیج کافروں کو مسلمان بنانے کے بجائے مسلمانوں کو ہی کافر قرار دینے میں لگے رہے؟
شاید اس سبب کہ ۔۔۔ انسانیت سے زیادہ اہم ہمارے لیے فاتحہ درور ، قصیدہ بردہ شریف ، میلاد اور کرامات کے مسائل تھے ۔ حقوق انسانی یا حقوق نسواں یا بلاسودی نظامِ معیشت ، مساوات ، انصاف ، تعلیم ، حتیٰ کہ خود قرآن سے زیادہ اہم ہمارے لیے حنفیت یا شافعیت کا قیام تھا۔ مقلد و غیرمقلد کی جنگ تھی ، تحقیر وتکفیر کا مقابلہ تھا ، ڈاڑھی کی مقدار ، آمین بالجہر ، محفل سماع ، وسیلے کی بحثیں تھیں ۔۔۔
محمدالرسول اللہ ( ﷺ) دنیا کے تمام انسانوں اور سربراہوں میں سب سے بہترین مثالی انسان اور سربراہ کس طرح تھے ؟ یہ اہم نہیں تھا بلکہ وہ نور تھے بشر تھے ، وہ مشکل کشا یا عالم الغیب تھے یا نہیں تھے ۔۔۔ ہمارے لیے چونکہ اس قسم کے مباحث پچھلے 1400 سال میں خطبہ حجۃ الوداع سے زیادہ اہم تھے لہذا یہ چارٹر ہمارے لیے غیر اہم تھا۔ دنیا اگر اسی چارٹر کی بنیاد پر بھلے کئی بین الاقوامی چارٹر بنا لے مگر ہم نے طے کر لیا تھا کہ ہم اس خطبہ کے چارٹر کو پڑھیں گے ، شائع کر کے بانٹیں گے لیکن نہ کبھی اس پر غور کریں گے اور نہ عمل کریں گے ۔
عزیزان محترم۔ خطبہ حجۃ الوداع انسانیت کی بقا کے لیے ایک عظیم چارٹر ہے لیکن مسلمانانِ عالم کے لیے یہ ایک چارٹر نہیں بلکہ چارج شیٹ ہے ۔ آج بھی اگر ہم اس چارٹر پر عمل کر لیں تو دنیا کی قیادت ہمارے ہاتھوں میں ہوگی۔ یہ قیادت ہمارا منصب ہے ۔ہم امّت ابراہیمی ہیں۔ دنیا کی امامت پر ہمارا حق ہے۔ اگر ہم یہ قیادت نہ سنبھال سکے تو کوئی اور قوم ہے نہ امت جو یہ منصب سنبھال سکے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ پوری انسانیت قتل و غارتگری ، ظلم و استحصال میں گھر جائے گی اور آج من و عن یہی صورتحال ہے ۔
آئیے ایک بار غور کرتے ہیں کہ خطبہ حجۃ الوداع کی صورت میں کتنا عظیم ہتھیار ہمارے پاس موجود ہے جس کے ذریعے ایک قطرہ خون بہائے بغیر اس امن کی پیاسی دنیا کو ہم انسانیت سے سیراب کر سکتے ہیں۔

خطبه حجة الوداع :
یہ خطبہ 23 سال کی پوری تعلیمات کا نچوڑ ہے ۔ اس میں نبوت کا اصل پیغام ، "دعوت" کی تعریف ، جس کام کی دعوت دی جانی ہو اس کی واضح نشاندہی اوراس دین کو قائم کرنے کے طریق کار کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے ۔ہم یہاں صرف چند نکات ہی پیش کرینگے جو ایک انقلاب برپا کرنے کیلئے کافی ہیں۔

خطبہ حجۃ الوداع کا پہلا اہم نکتہ : کیا یہ دین واقعی آپﷺ پر مکمل ہوا یا۔۔۔۔؟
ايها الناس ! اسمعوا مني ما ابين لكم ، فاني لاادري لعلي لاالقاكم بعد عامي هذا في موقفي هذا .(ترجمہ) اے لوگو! مجھے بغور سن لو ، ہو سکتا ہے اس سال کے بعد مجھے اس مقام پر تم دوبارہ نہ پاؤ۔(المعجم الکبیر 7647، مسند احمد 21230، ترمذی 559)
اس نکتہ کی تشریح قرآن کی اس آیت میں ملتی ہے "اليوم اكملت لكم دينكم" آج تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا گیا "۔ اس پر تمام صحابہ کا اجماع ہوگیا اور تمام نے گواہی دی کہ آپ ﷺ نے یہ دین پورا پورا کا قیامت تک کے انسانوں کیلئے پہنچادیا۔ پھر آپ ﷺ نے تمام سے عہد لیا کہ جو موجود نہیں ہے ان تک دین کو پہنچا دینگے۔
لیکن آج بے شمار جماعتیں، عقیدے، مسلک، گروہ اور سلسلے اپنے حق ہونے کے اعلان اور دوسروں کی تکفیر و تضحیک و تحقیر کے ذریعے بین السطور یہ اعلان کررہے ہیںکہ یہ دین رسول اللہﷺ پر مکمل نہیں ہوا تھا کئی چیزیں باقی رہ گئی تھیں جنکواب یہ لوگ پورا کررہے ہیں۔ لہذا دین اللہ کے رسول ﷺ پر نہیں بلکہ اِن پر مکمل ہوا ہے۔
خطبہ حجۃ الوداع کا دوسرا اہم نکتہ : : ایک دوسرے کی جان، مال اور عزت تم پرحرام ہے۔
فان الله حرم عليكم دماء كم واموالكم واعراضكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا (صحيح البخاري ، كتاب الحج ، باب الخطبة ايام منًي)
"تمہارا خون ، تمہارا مال اور تمہاری عزت و آبرو (تاقیامت) اسی طرح محترم ہیں جس طرح یہ دن (یوم عرفہ) ، جس طرح یہ مہینہ (ذی الحجہ) اور یہ شہر (مکۃ المکرمہ)۔
دنیا کے تمام منشورات (چارٹرز) اسی دفعہ کی تشریحات میں ہیں۔ یہ یاد رہے کہ اس خطبے میں آپ (ﷺ) نے جہاں بھی خطاب کیا ہے "یا ایھا الناس" سے کیا ہے نہ کہ خصوصی طور پر مسلمانوں سے۔
کسی کی جان، مال یا عزت پر ہاتھ ڈالنا ، اِس مہینے ، اِس دن اور اِس شہر کی بے حرمتی کرنا ہے ۔ آپ (ﷺ) کا خطاب ہر سنّی اور شیعہ سے ، ہر بریلوی اور دیوبندی سے ، ہر اہل حدیث اور تبلیغی سے ، ہر پرویزی اور جماعت المسلمین سے ، ہر جماعت اسلامی کے رکن اور ہر جہادی ، فلاحی، اصلاحی ، سیاسی اور علمی کارکن سے ہے جو امت مسلمہ کی ترقی کے لیے کوشاں ہے ۔ ان تمام کو اس خطبہ میں حکم دیاگیا ہیکہ "الا المسلم اخوا المسلم" (خبردار ؛ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے )۔
مسلک ، جماعت ، عقیدے یا سیاسی ، سماجی و معاشی نظریے میں کوئی آپ سے چاہے لاکھ اختلاف الرائے رکھتا ہو لیکن کسی بھی شخص کو آپ ( ﷺ) نے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ دوسرے پر ہاتھ اٹھائے یا کسی کی تحقیر یا تکفیر کرے یا کسی کا مال ہڑپ کرے ۔ کل قیامت میں امریکی یا صیہونی یا زعفرانی مجرموں سے زیادہ بدترین مجرم وہ ہوں گے جنہوں نے محمد الرسول اللہﷺ سے محبت کا دعویٰ تو کیا لیکن اپنے پیشواؤں کے حکم پر چلتے ہوئے قانونِ محمدی کو روند ڈالا ۔۔۔ کسی کو وہابی کہہ کر مارا تو کسی کو بریلوی کہہ کر تکفیر کی ، کسی کو اہل حدیث کہہ کر تحقیر کی تو کسی کو تبلیغی یا جماعتیہ کہہ کر تضحیک کی ، کسی کو شیعہ کہہ کر قتل کیا تو کسی کو سنّی کہہ کر تبرا کیا ۔۔۔ اختلاف کرنے والے کسی بھی فرد کو بی۔جے ۔پی یا یہودی ایجنٹ کہہ دینا ، قادیانی یا اہل خوارج کہہ دینا ، تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا فتویٰ دے ڈالا ، کافر ، مشرک ، بدعتی ، فاسق فاجر اور جہنمی کہہ دینے کو اپنا تکیہ کلام بنالیا ۔۔ کبر و غرور کی انتہا یہ کی کہ اپنے مسلک اور اپنے بزرگ سے جو بھی اختلاف کرے اس کو یا تو خارج از اسلام یا کمترِ اسلام تصور کیا۔علمائِ حق کی تعریف یہ متعین کی کہ جو اپنے مسلک سے ہو یا کم از کم اپنے مسلک کی تائید نہ سہی تو مخالفت بھی نہ کرتا ہو۔ باقی جتنے علماء ہیں ، ان تمام کو علماء سو تصور کیا ۔حالانکہ ایک حدیث میں آپ ( ﷺ) نے اس امت کے علماء کے درجے کو بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے برابر فرمایا (جس کا مطلب یہ ہے کہ علماء کو برا بھلا کہنا پیغمبروں کو برا بھلا کہنے کے برابر ہے ) ۔۔۔ لیکن اس نے یہ کیا کہ اپنے مسلک کو نہ ماننے والے کسی بھی عالم پر تنقید کرنے اور اس پر سب و شتم کو جائز قرار دے لیا۔
انا الحق کے نشے میں چور ، اپنے علم اور عقیدے پر مغرور، ضدی اور ہٹ دھرم مولویوں اور شدت پسند بلکہ دہشت پسند ملاؤں نے دین کی اپنی خودساختہ تعبیریں اختیار کیں۔ اور ان معصوم ، کم عقل ، کم پڑھے لکھے اور جذباتی لوگوں کو ورغلایا اور ان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی کہ "جو بھی عالم دین ان کے مسلک سے اتفاق نہ کرے ، اس پر نہ صرف تنقید کی جا سکتی ہے بلک اس پر اور اس کے تمام ماننے والوں پر لعنت بھی کی جاسکتی ہے۔ بلکہ ان کے خلاف ہتیار بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔
اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ بے شمار سادہ دل لوگ بالخصوص نوجوان انہی شدت پسند مولویوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان بیچاروں کو نہ عربی آتی ہے ، نہ سلیقے کی اردو اور جو قرآن و حدیث بھی بمشکل پڑھ سکتے ہیں۔ اگر پڑھتے بھی ہیں تو کبھی اس کا ترجمہ نہیں پڑھتے ۔ یا پھر ترجمہ پڑھتے ہیں تو احکامات کی اصل حکمت و تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انہوں نے خطبہ حجۃ الوداع کوبھی کئی بار پڑھا ہوگا لیکن اس کا نفاذ کب ، کیسے ، کہاں اور کس پر ہوتا ہے ، انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا ہوگا لیکن چونکہ یہ جذبہ ایمانی سے سرشار ہوتے ہیں لہذا ان پڑھ ملاؤں کی صحبت میں چند مخصوص آیات ، احادیث ، بے سند قصے کہانیاں اور غیرمنطقی دلائل رٹ لیتے ہیں اور اسلام کی اصل تعلیمات کی تبلیغ کرنے کے بجائے اپنے مسلک اور اپنے علماء کے سیلزمین یا ایڈوکیٹ بن کر ان کی تبلیغ و تشہیر کرنے نکل جاتے ہیں۔ہر بات میں سند لانے کی رٹ لگاتے ہیں۔ سند پیش کی جائے تو تاوقتکہ وہ اِن کے پسندیدہ علما کی سند نہ ہو قبول نہیں کرتے اور بحث پر اڑ جاتے ہیں۔ ان کے امیروں، مرشدوں اور استاذوں نے ان کے ذہنوں کو لاک کردیا ہوتا ہے جس میں کوئی اور بات داخل ہی نہیں ہوسکتی۔
کوئی صاحب مسلسل "احناف احناف" کا ذکر کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ) کا نام لیے بغیر احناف میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔ ان سادہ لوحوں کو بڑی چالاکی سے یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ ان کے جو علماء و کتب ہیں وہ "وحی" کی طرح "من اللہ" ہیں اور "صحیح احادیث" صرف اور صرف انہی کے پاس ہیں۔ ان کا طریق ہی بطریق وحی ربانی اور علی اسوہ رسول ( ﷺ) ہے ، باقی جتنے ہیں وہ سارے مقلد ہیں جو راست اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ) کی اتباع نہیں کرتے بلکہ اماموں کی اتباع کرتے ہیں۔ ان کی جسارت کی انتہا یہ ہے کہ ۔۔۔ "امام ابو حنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ) یا امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) نے فلاں جگہ غلطی کی ہے اور امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ) یا امام مالک (رحمۃ اللہ علیہ) نے فلاں جگہ غلطی کی ہے " کہہ دینے میں ذرا بھی نہیں جھجھکتے ۔ ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے ان عظیم ائمّہ کرام کے خلاف "بغض و عناد" علانیہ محسوس کیا جا سکتا ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ رویہ غیر مقلدین کا مقلدین کے خلاف ہے ۔ خود مقلدین اور غیر مقلدین کے اندر بھی بے شمار مسلک در مسلک ، جماعت در جماعت اور سلسلے در سلسلے ہیں جو ایک دوسرے سے وہی رویہ رکھتے ہیں جو مقلدین غیر مقلدین کے ساتھ یا غیر مقلدین ، مقلدین کے خلاف روا رکھتے ہیں۔
کوئی صاحب گیارہویں ، جھنڈے ، کنڈے یا چِلّوں کو نہیں مانتے ۔ ماننا یا نہ ماننا ایک ذاتی فعل ہے لیکن وہ راست حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ اور خواجہ معین الدین چشتی ؒ جیسے عظیم بزرگوں کی اہانت کرنے اور اور ان سے علاقہ رکھنے والے ہر شخص پر لعن طعن کرنے ، ان کو بدعتی اور کافر و مشرک کہنے اور ان کے خلاف منظم سازشیں، جلسے جلوس ،ای میل یا فیس بُک پر مضامین، تقاریر اور فتوے صادر کرنے پر اتر آتے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ میلاد ، عرس ، چراغاں ، قوالی ، تعویذ ، عملیات وغیرہ کے نام پر آج جتنی بدعات ، مشرک قوم کی ہو بہو نقل ، اسراف اور لوٹ مار ہو رہی ہے ، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ جو شخص بھی اسلام کے بارے میں کلمے کے علاوہ کچھ اور نہیں جانتا وہ بھی ان چیزوں کو دیکھ کر کہہ اٹھتا ہے کہ بخدا یہ اسلام نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلام ایک دین فطرت ہے اور یہ تمام چیزیں فطرت اور اخلاق کے خلاف ہیں۔
لیکن یہ سوچئے کہ ان تمام چیزوں کا ان بزرگوں سے کیا تعلق ہے جنہوں نے نہ کبھی ان چیزوں کی تعلیم دی ، نہ انہیں پروان چڑھایا۔ وہ لوگ تو توحید کے پرستار اور شمع محمدی کے جانثار تھے ۔ اْس وقت کے حالات میں دعوت و تبلیغ کے لیے انہوں نے جو بھی حکمتیں اپنائی ہونگی وہ ایک اجتہادی عمل ہوگا جس کا انہیں کم از کم اجر تو انشااللہ مل کر رہے گا۔ اگر بعد کے لوگوں نے ان کے طریقوں کو مذہب بنا لیا تو اس میںان بزرگوں کا نہیں بلکہ ان بدعتی جانشینوں کا قصور ہے جو اپنے کاروبار چمکانے کیلئے وسیلے اور شفاعتوں کی دوکانیں کھول کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کی نئی نئی ترکیبیں ایجاد کرنے لگے۔
یہود نے بھی اپنے نبیوں کو ان کے بعد خدا بنا لیا اور پوجنے لگے ۔ یہی فطرتِ انسانی ہے ۔ سارے بازار میں یہی ہوتا ہے کہ اصلی مال کا سائن بورڈ لگا کر نقلی مال فروخت کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کمائی اندھا دھند ہوتی ہے ۔ اسی طرح دین کے نام پر بھی عرس، چراغاں، پنکھے، صندل، محافلِ سماع، تعویذ وغیرہ کے ذریعے آج جتنی دھندے بازی ہو رہی ہے وہ شرمناک ہے ۔ لیکن جس طرح چند مسلمانوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بنا اسلام پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا اسی طرح چند جہلاء اگر جبے و دستار پہن کر بے دینی پھیلا رہے ہوں تو ان کی وجہ سے ان عظیم ہستیوں پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی جن کی وجہ سے ہمارے آباواجداد نے ہندوستان میں اسلام قبول کیا۔ اگر آج تمام غوثی، چشتی، قادری ، نقشبندی، سہروردی وغیرہ سلسلوں سے تعلق رکھنے والے سجّادے، خلفا و معتقدین بجائے قبروں اور درگاہوں کو مرکز بنانے کے اگر قرآن کی دعوت، حقوق العباد اور حقوق اللہ کی اہمیت، حلال کمائی کی تمام عبادات پر فضیلت اور اسلام میں دیئے گئے حقوقِ انسانی اور حقوقِ نسواں کی تبلیغ اسیطرح شروع کردیں جسطرح اُن تمام بزرگوں نے ہندوستان میں کی تھی تو آج پورا ہندوستان اسلام کے قدموں میں آسکتاہے۔
ان عظیم ہستیوں کے تاریخی کارناموں سے واقف ہونے اور واقف کروانے کی آج سخت ضرورت ہے ۔ صلاح الدین ایوبی ، نورالدین زنگی کے ا شاگردتھے ا اور نورالدین زنگی حضرت سید عبدالقادر جیلانی ؒ کے شاگردوں میں تھے ۔ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ جب ہلاکو خان نے بغداد کو تباہ و تاراج کردیا وہ جنگلوں میں نکل گئے۔ کئی سال کے مراقبوں اور ریاضت کے بعد اپنے بیٹوں، دامادوں، بھانجوں اور بھتیجوں کی ایک ایسی فوج تیار کی جس نے گاوں گاوں شہر شہر جا کر وعظ و تبلیغ کے ذریعے اصل دین کی شمع کو دوبارہ روشن کیا اور اسی سے نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی جیسے مجاہدین پیدا ہوئے۔ اسکے بعد کی نسلوں میں ایسے ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ کے اصل کارناموں پر پردہ ڈالا اور غوثِ اعظم جیسے فرضی خطابات سے نواز کر من گھڑت قصّے گھڑے اور ان کے نام کی ایجنسیاں قائم کرکے ہندوستان پاکستان میں اپنی اپنی دوکانیں کھول کر بیٹھ گئے۔ اور ایسا تاثّر دینا شروع کیا کہ ان کی مخالفت گویا حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی مخالفت تصوّر کی جائے۔
حضرت معین الدین چشتی کا کلکتہ تا اجمیر کا سفر پڑھئے ۔ پتا چلے گا کہ کس طرح وہ تنہا نکلے تھے اور مشرکوں کے ہاتھوں بدترین مظالم سہتے ہوئے جب اجمیر پہنچے تو ان کے ساتھ دس ہزار سے زیادہ انسان تھے جنہوں نے توحید کو گلے لگایا تھا اور آج انہی کی نسلوں سے لاکھوں مسلمان ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں حلقہ اسلام میں ہیں۔ آج ان کے جانشینوں نے یقینا ان بزرگوں کی قبروں کو کاشی اور متھرا میں تبدیل کردیا۔ بجائے ان کی چلائی ہوئی توحید کی دعوت کو لے کر آگے بڑھتے، اُن کی کرامات اور وسیلوں کے قصے سنا کر ان کی قبروں پر چٹّھیاں لکھ کر، ڈوریاں باندھ کر لوگوں کے عقیدے خراب کرنے لگے۔ لیکن اس کا مطلب یہ کہاں نکلتا ہے کہ معین الدین چشتی ؒ یا ایسے بزرگوں پر انگلی اٹھانا جائز ہے ؟۔ کیا ان بزرگوں پر تنقید کرنا احسان فراموشی، تاریخ سے روگردانی اور اسلاف کی توہین نہیں ہے؟
حضرت نظام الدین اولیا اور امیر خسرو وہی ہیں جن کی وجہ سے دہلی نہ صرف مسلمان ہوا بلکہ مسلم تاریخ کا ہمیشہ مرکز رہا۔آج بھی لاکھوں ہندووں کے دل میں اسلام سے جو عقیدت ہے وہ ان کے آباواجداد کی ان محبت کا نتیجہ ہے جو ایسے بزرگوں کیلئے ان کے دلوں میں تھی۔
یہ بزرگ نہ کبھی آستانوں کے اسیر رہے ، نہ خانقاہوں کے ، نہ چلوں پر براجمان ہوئے اور نہ کبھی کجکلاہی اختیار کی۔ یہ گھروں سے نکلے ، تکلیفیں اٹھائیں اور دشمنوں کو دوست بنایا۔ ان اسلاف کی سیرت میں ایسی کوئی بات یا فتویٰ نہیں ملتا جس میں انہوں نے کسی مسلمان کو کافر ، کسی کو وہابی ، کسی کو خارجی یا کسی کو زندیقی کہا ہو۔اب اگر ان کے ماننے والے اس روش پر چلتے ہیں تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان بزرگوں کے نام پر یہ لوگ ڈھونگ کر رہے ہیں اور نہ صرف ان بزرگوں کے نام کو رسوا کر رہے بلکہ حجۃ الوداع کے حکم کی کھلی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں۔
ایک صاحب ہیں جو تبلیغی جماعت کے کسی بھی رکن کو دیکھتے ہیں تو آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صاحب ہیں جو جماعت اسلامی کے افراد کی کردارکشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ کسی صاحب کا ہاضمہ اس وقت تک کام نہیں کرتا تاجب تک کے وہ اہل حدیث یا سلفی حضرات پر کوئی تلخ جملہ نہ کس دیں ۔ ایک صاحب ہیں جو بخاری اور مسلم کی ہر حدیث پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن کے نازل ہونے کے بعد حدیث کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ الغرض ایک ایک شخص کے پاس اسلام کی الگ الگ تعبیر ہے ۔ وہ اسی تعبیر کی کسوٹی پر کسی بھی مسلمان کو پرکھ کر اس کی بے عزتی کر سکتا ہے اور جان بھی لے سکتا ہے ۔
اس میں ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں۔ یہ تو وہ معصوم لوگ ہیں جو اپنے اندر علم کی تڑپ اور پیاس رکھتے ہیں۔ اب اسے اتفاق کہیے یا ان کی بدقسمتی کہ انہیں جو بھی قریب ترین مدرسے یا حلقے ملے یا کسی مولوی یا جماعت سے ان کا سابقہ پڑا تو اسی کے عقیدے یا طریقے پر یہ لوگ چل پڑے ۔ چونکہ خود سے مطالعہ کرنے اور اس پر تدبر کرنے کی ان میں استطاعت نہیں ہوتی ہے لہذا جو بھی سنتے ہیں اس پر عمل کرنے لگتے ہیں اور پھر ان سنی سنائی باتوں کی تبلیغ میں بھی جٹ جاتے ہیں۔ ان میں کالج اور یونیورسٹیوں کے افراد بھی ہوتے ہیں اور ان پڑھ بھی۔ دنیاوی علوم و فنون یا کاروبار پر تو خوب دسترس رکھتے ہیں لیکن دین کا معاملہ پورا کا پورا انہی پیشواؤں پر چھوڑ دیتے ہیں جنہوں نے علم دین حاصل تو کیا لیکن اپنے مزاجوں ، اپنے استاذوں کے اقوال اور اپنے مسلک کو دین کی اصل حکمتوں پر غالب رکھا۔ اگر یہ لوگ ساری عمر علم حاصل نہ کر کے صرف "حجۃ الوداع" کے پیغام کو ہی سمجھ لیتے اور اس پر عمل کرتے تو آج تابہ خاک کا شعر اسلام اور مسلمان ایک ہوتے ۔ اگر ان کے نزدیک شہر مکہ ، شہر ذی الحج اور یومِ عرفہ کی کوئی اہمیت ہوتی تو اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے بارے میں ایک لفظ بھی برا کہنے سے پہلے انہیں حیا آتی۔
یہی وہ لوگ ہیں جو آج لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہی اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹا اور ایک دوسرے کا خون ، مال اور بے عزتی جائزکرلی ۔ ورنہ اس طرح کی تعلیمات کوئی متقی عالم نہیں دے سکتا۔ جیسا کہ ہم نے بریلوی مکتب فکر کی ایک معروف کتاب میں پڑھا کہ : "اگر کوئی دیوبندی مر جائے تو اسے کفن میں لپیٹ کر دفنا دو ، اس پر نمازِ جنازہ جائز نہیں"۔دوسری طرف دیوبندی فکر کے ایک ترجمان کی کتاب میں مرقوم ہے کہ : "فاتحہ کا کھانا جائز نہیں اور فاتحہ پڑھنے والے امام کے پیچھے نماز بھی جائز نہیںــ"۔فیس بک اور یوٹیوب پر چھائے اہل حدیث یا سلفی حضرات کی ہر تقریر و تحریر میں بریلویوں کو مشرک ، جماعت دیوبندی ، جماعت اسلامی اور جماعت تبلیغی کے حاملین کو مقلد کافر ، اہل تشیع کو قادیانیوں کی طرح خارج از اسلام اور قابل گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے ۔جماعت المسلمین کے لٹریچر میں رقم ہے کہ ان کے طریقہ نماز سے ہٹ کر جو بھی طریقہ نماز ہے وہ باطل ہے ۔شافعی مسلک کی ایک کتاب میں امام شافعی القرشیؒ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ : "ابو حنیفہ پہلے ایک مسئلہ گھڑتے تھے پھر ساری کتاب کو اس پر قیاس کرتے تھے "۔ پرویزیوں کو عام طور پر منکرِ حدیث کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بخاری و مسلم اور دیگر کئی اہم اکابرین امت پر شیعہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور نماز کا انکار کرتے ہیں۔ اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ بخاری و مسلم کے ساتھ دیگر تمام محدثین و مورخین کی کردار کشی کو بھی وقتاً فوقتاً کتابوں اور انٹرنیٹ مضامین کے ذریعے نشر کرتے رہتے ہیں۔اور اسکے نتیجے میں مسلمانوں کی اکثریت پرویزئیت کے ماننے والوں کو مخاطب کرکے جو زبان اور اسلوب اختیار کرتی ہے وہ بھی نبیﷺ کے طریقہ دعوت کے خلاف ہے۔
الغرض ہر مسلک کی مسجد الگ ، امام الگ اور ایک مسجد کا مصلی دوسری مسجد کے امام کے پیچھے نماز کو جائز نہیں سمجھتا۔ فرض نماز کے بعد کسی مسجد میں دیر سے آنے والے دوسری جماعت بنائیں تو سختی سے روک دیا جاتا ہے تو کسی اور مسجد میں سلام پھیرنے کے بعد فاتحہ کے پڑھے جانے یا نہ پڑھے جانے پر مار پیٹ ہو جاتی ہے ۔ایک مسجد میں اسی مسئلے پر جھگڑا ہوا ، لوگ لہو لہان ہوئے اور معاملہ پولیس اسٹیشن تک جا پہنچا جہاں عبرت ناک منظر یہ تھا کہ درمیان میں ایک ہندو انسپکٹر ریڈی بیٹھا تھا اور دونوں طرف فریقین اپنا اپنا موقف بیان کر رہے تھے ۔ اسی طرح ایک مسجد میں ایک بزرگ مقرر نے دورانِ تقریر کہا کہ "جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا ۔۔۔۔" تو ایک نوجوان نے تقریر کے بیچ میں آواز اٹھائی اور کہا "انتقال نہیں ، پردہ فرما گئے کہیے "۔ اسی بات پر خوب ہاتھا پائی ہوئی اور کئی لوگ زخمی ہوئے ۔
دوسری طرف کراچی میں میلاد النبی کے موقع پر دو مخالف گلیوں سے الگ الگ جلوس بیک وقت نکلے اور اس بات پر تکرار ہو گئی کہ مرکزی سڑک پر پیش قدمی پہلے کون کرے گا؟ کلاشنکوف چل گئے اور چھ افراد جاں بحق ہو گئے ۔ اگر ہندو مسلم فسادات میں ایک طرف کچھ مسلمان مارے جاتے ہیں تو دوسری طرف بھی شیعہ سنی فسادات میں پاکستان ، ایران اور افغانستان میں خاصے مسلمان شہید کر دئے جاتے ہیں۔مقلد اور غیر مقلد کے بہانے ایک دوسرے کی جتنی مخبری اور ہراسانی ہوتی ہے اتنی تو دہشت گردی کے خلاف نہیں ہوتی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ ، جو کہ ہندوستان کا ایسا واحد ادارہ ہے جہاں مسالک و مذاہب کی یکجہتی کا امکان ہے وہاں بھی ایک اجلاس میں ایک رکن نے شرکت کے لیے یہ شرط رکھ دی کہ فلاں مسلک کے افراد اسٹیج پر نہ بیٹھیں۔ مسلم سیاسی جماعتوں کا تو عالم یہ ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کے حکم کی جس قدر پامالی کرتے ہیں اسے دیکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آر۔ایس۔ایس یا یہود کی ریشہ دوانیاں بھی کم محسوس ہونے لگتی ہیں۔خطبے میں تو فرمایا گیا تھا کہ کسی مسلمان کی عزت پر انگلی اٹھانا مکہ ، یوم عرفہ اور ذی الحجہ کی توہین کے مترادف ہے لیکن ان لوگوں کو مکہ ، یوم عرفہ یا ذی الحجہ کی بے حرمتی کرتے ہوئے ذرا بھی جھجھک نہیں ہوتی۔ ایک دوسرے کی ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ماؤں ، بہنوں اور آبا و اجداد کی تک دیوان خانوں اور جلسوں میں بے عزّتی کرتے پھرتے ہیں۔ اور پھر اس سے زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے سارے قابل اعتراض کام ٹوپیاں ، شیروانیاں ، جبے اور دستار پہن کر ، درود و سلام پڑھ کر ، امت مسلمہ کے اتحاد ، فروغ اور غلبے کی دہائی دیتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔
آج حجۃ الوداع کے خطبے کی جو بھی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ہماری تاریخ ایسے ہی افسوسناک واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ تاریخ کے ہر دور میں دشمنانِ اسلام سے زیادہ خود مسلمانوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ہے ۔ شہادتِ عثمانؓ سے لے کر کربلا تک اور کربلا سے لے کر آج تک شیعہ سنی دشمنی میں دونوں ایک دوسرے کے گلے کاٹتے آ رہے ہیں۔ شافعی حنفی کے اختلافات میں بغداد کی مسجدیں لہو سے رنگین ہوئی ہیں۔ معتزلہ اور خوارج کے فتنوں نے ہزاروں کی جانیں لی ہیں۔ ابوالکلام آزاد نے اپنے والد کی سوانح حیات میں تفصیل سے لکھا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کے ایک طبقے نے اہل حدیث طبقے پر زندگی تنگ کی اور جب یہ لوگ مکہ جاتے توشریف مکہ کے توسط سے کس طرح اہل حدیث افراد کو قید کروا کر بغاوت کے الزام میں انگریزوں کے حوالے کیاجاتاتھا۔ اور اس کے بعدکی حالیہ تاریخ میں ہم سب واقف ہیں کہ سعودی عرب میں جب وہابیوں نے غلبہ حاصل کیا تو کس طرح ان لوگوں نے بھی اپنے مخالفین سے گن گن کر بدلے لیے ۔
اگر یہ دین حقیقت میں انسانیت کے لیے آیا تھا ، اگر محمد رسول اللہ ﷺ نبی آخرالزماں ہیں اور قیامت تک کے انسانوں کے لیے رحمۃ للعالمین ہیں تو خود اس امت کے افراد ایک دوسرے کے لیے رحمت کیوں نہیں ہیں؟
اس مسئلے کا پہلا اصلی سبب یہ ہے کہ لوگوں کو قرآن کو راست پڑھنا اور اس پر غور و تدبر کرنا چھوڑ دیا اور اپنے اپنے احبار و رہبان کی پیروی کرنے لگے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ مولویوں اور ملاؤں نے عوام کی غفلت ، جہالت اور اندھی عقیدت کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اپنے اپنے مزاج پر دین کا اسٹامپ لگایا اور اپنے اطراف جم غفیر جمع کرنے کے لیے ، دین کو غالب کرنے والے موضوعات کو نظرانداز کر کے ایسے موضوعات پر علمی موشگافیاں کرنے لگے جن سے زیادہ سے زیادہ انتشار پیدا ہو سکتا ہے ۔
ان لوگوں نے امت کو پہلے شیعہ اور سنی میں تقسیم کیا۔ پھر سنیوں کو مقلد اور غیرمقلد میں تقسیم کیا۔ پھر مقلدین کو دیوبندی بریلوی میں تقسیم کیا۔غیر مقلدین کو سلفی، وہابی، جماعت المسلمین اور پرویزی وغیرہ میں تقسیم کیا۔ علم تو فی الاصل ایک ہی تھا جس کی بنیاد وحی ربانی تھی۔ اسی سے بیشمار سائینسداں اور ریاضیات ، فلکیات ، الجبرا اور طب کے ماہرین نکلے ۔ اسی سے ایران و روم فتح کرنے والے جنگجو کمانڈر بھی نکلے ۔ لیکن پھر لوگوں نے علم کو دینی و دنیاوی علم میں تقسیم کر دیا۔ گویا چرچ اور اسٹیٹ کے درمیان دیوار کھڑی کی۔ تفسیر ، حدیث ، فقہ ، تصوف ، علم الکلام گو کہ مختلف و متنوع موضوعات تھے مگر ہر خانے سے ہزار خانے نکالے گئے ۔ حدیث کا سرچشمہ بخاری و مسلم اور سنن اربع ہونے کے باوجود ایک فریق نے دوسرے فریق کی پیش کردہ سند کو کمزور ، ضعیف یا موضوع قرار دینا شروع کیا۔ یا اور یوں لوگوں کے دلوں سے حدیث کا مقام و مرتبہ گِرادیا۔ اگر تمام مسالک کی جانب سے ضعیف و کمزور قرار دی جانے والی روایات، ذخیرہ حدیث سے منہا کر دی جائیں تو شاید احادیث کی تعداد آدھی سے بھی کم رہ جائے ۔
دین میں ترجیحات پہلے قرآن ، پھر حدیث اور پھر فقہ کی ہے ۔ لیکن ان لوگوں نے یہ ترتیب بالکل الٹ دی اور فقہ کو اولین ترجیح بنا دیا۔ جس کی وجہ سے کسی کا نماز ترک کرنا اتنا بڑا عیب نہ رہا جتنا کہ آمین بالجہر کہنا نہ کہنا یا فاتحہ و سلام کا پڑھنا یانہ پڑھنا ہو گیا۔ شاید یہی سبب ہے کہ محلے کے بمشکل 5 تا 10 فیصد لوگ مسجد آتے ہیں باقی سارے مسجد سے دور ہو چکے ہیں۔ان کے دور جانے کا اہم سبب یہی فقہی اختلافات ہیں جنکی بنیاد پر ہر محلّے میں کئی کئی گروہ بن جاتے ہیں۔
قرآن و حدیث میں تو زیادہ تر ایسے احکام ہیں جن کا تعلق حقوق العباد اور مکارم اخلاق و کردارسے ہے مثلاً ماں باپ ، رشتہ دار اور پڑوسی کے حقوق ، ناپ تول میں کمی ، امانت و خیانت ، غیبت و چغل خوری ، عہد کی پاسداری ، جھوٹ اور سچ ، اخوت ، انفاق ، خدمت خلق وغیرہ ۔۔۔ ان موضوعات پر جتنی آیات و احادیث ہیں ، ان پر تمام مسالک و جماعتوں کا اتفاق ہے ۔ ایسا کہیں نہیں ہے کہ کسی مسلک میں ناپ تول کی کمی کی پوری یا کسی حد تک اجازت ہے اور کسی مسلک میں غیبت یا جھوٹ یا بدعہدی کی دس بیس فیصد تک اجازت ہے ۔ سارے مذاہب و مسالک اس بات پر متفق ہیں کہ حقوق العباد اورمکارمِ اخلاق و کردار، اسلام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کاش ایسا ہوتا کہ کوئی جماعت "جماعت امانت دار" کہلاتی اور کوئی جماعت "اہل سچ" کہلاتی۔ کسی جماعت کے ارکان کی پہچان ایماندار تاجروں سے ہوتی تو کوئی "اہل تقویٰ" ہوتی۔ امانت یا عہد کی پابندی کا ذکر ہوتا تو لوگ کہتے کہ فلاں جماعت اس وصف کی حامل ہے ۔ آج ایسا کہیں بھی سننے میں نہیں آتا کہ فلاں عقیدے کے لوگ عورتوں پر کبھی ظلم نہیں کرتے اور نہ ان سے نکاح کے موقع پر جوڑا جہیز یا طعام وصول کرتے ہیں۔ یا فلاں جماعت کے لوگ بالکل غیبت نہیں کرتے اور انصاف قائم کرنے میں مثالی ہیں۔ اوصاف حمیدہ ، حقوق العباد یا کردار آج کسی جماعت کا تشخص نہیں رہا بلکہ اکثریت کا تشخص فقہی ، صوفی ، سلفی ، شدتی ، دہشتی ، نیم دینی ، نیم سیاسی بن گیا ہے ۔ مسجدوں کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اپنے اپنے طریقہ واردات کو اجاگر کرنے کے مخصوص نعرے منتخب کر لیے ہیں جیسے ۔۔۔ "توحید" ، ـ"عقیدہ" ، "دعوتِ حق" ، "دین کی محنت " ، "اقامتِ دین" ، ــ"نظامِ ربوبیت" ، "سپاہ علی" ، "سپاہ صحابہ" ، "سپاہ اولیا" ، غلامانِ فلاں اور غلامانِ فلاں وغیرہ وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ سے یا کسی صحابیؓ سے کسی مخصوص رنگ یا اسٹائیل کے لباس، ٹوپیاں یا عمامے ثابت نہیں ہیں لیکن ان لوگوں نے خود مسلمانوں کے اندر ہی اپنی اپنی الگ شناخت قائم کرکے امت میں امتیازات پیدا کئے۔
عوام کے سامنے جیسے ہی یہ نعرے یا عنوانات آتے ہیں انہیں علم ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ نہ تو ہیومین رائیٹس قائم کرنے والے ہیں اور نہ ہی ویمنس رائیٹس۔ ان کے پاس سوائے موشگافیوں کے ، نہ اصلاح معاشرہ کا کوئی صحیح ایجنڈا ہے اور نہ اصلاح ِمعیشت کا۔ ان کے پاس یا تو چندہ بازی ہوگی یا تفرقہ بازی یا پھرامت کی فلاح کے بارے میں ان کے پاس ایسی ایسی تقریریں اور وعظ ہونگے جنکا انہیں خود نہ کوئی شعور ہے نہ ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی منصوبہ بندی۔ خود جماعتوں، سلسلوں اور عالموں میں اندرونی طور پر ایک دوسرے سے بغض و عناداور، اپنی ہی جماعت کے دوسرے ذمہ داروں پر سبقت لے جانے کی درپردہ کوشیشیں، کون کتنے سامعین کو جمع کرسکتا ہے اسکے مظاہرے ہوتے ہیں۔
ان تمام فرقوں ، گروہوں ، مسلکوں ، جماعتوں اور سلسلوں سے ایک ہی سوال یہ ہے کہ : ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے حقوق والی ان آیات اور احادیث کا مقام کیا ہے ؟ یہ احادیث اور آیات آیا صرف تقریر کیلئے ہیں؟ کیاصرف قوم کو سنانے کیلئے ہیں یا خود اپنی ذات پر پہلے نافذ کرنے کیلئے ہیں؟جیسے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلاَ نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلاَ تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُون
اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے ، اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔
2) جس شخص نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیا اس کا قتل نہیں کیا جا سکتا۔
صحيح مسلم ، كتاب الايمان ، باب تحريم قتل الكافر بعد ان قال : لا اله الا الله
3) اگر روز قیامت لا الہ الا اللہ تمہارا دامن پکڑ لے تو تم کیا کرو گے ؟
صحيح مسلم ، كتاب الايمان ، باب تحريم قتل الكافر بعد ان قال : لا اله الا الله
4) کسی مسلمان کا شر ثابت ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی تحقیر کرے
ابو داؤد ، كتاب الادب ، باب في الغيبة
5) کسی مسلمان کو اپنے سے کمتر سمجھنا ہی کبر ہے اور کبر اللہ کی چادر ہے
ابن ماجه ، كتاب الزهد ، باب البراة من الكبر و التواضع
آیا یہ احکامات فرض ہیں ، واجب ہیں ، مستحب ہیں ، مباح ہیں ، فرض کفایہ ہیں یا پھر کیا ہیں؟ کیا ان کا مقام مسلکی اور علمی اختلافات کے مقابل کالعدم ہو جاتا ہے ؟ جن اختلافات کو آپ "عقیدے " سے یوں تعبیر کرتے ہیں کہ گویا وہ اسلام اور کفر کے درمیان حد فاصل ہیں ، کیا وہ اتنے ہی اہم ہیں کہ ان کے آگے ہم کسی بھی کلمہ گو کو کافر، مشرک ، بدعتی ، فاسق ، فاجر ، جہنمی، ایجنٹ وغیرہ قرار دے سکتے ہیں؟
کیا کسی فرد، جماعت، مرشد یا عالم یا مفتی کو یہ حق حاصل ہے کہ اختلاف الرائے رکھنے والے کے ایمان کی پیمائش کرے اور اس کے خلاف فیصلہ سنائے ؟ کیا ایسے فیصلے دینے کی کوئی دلیل قرآن ، حدیث یا سیرت مبارکہ یا سیرتِ صحابہ ؓسے مل سکتی ہے ؟
آپ ﷺ کو 12 منافقین کے نام بتلا دیے گئے تھے لیکن آپ ﷺ نے سوائے حضرت حذیفہؓ کے ، کسی کو یہ نام نہیں بتائے اور حضرت حذیفہ ؓ نے بھی ایسی ہی احتیاط کی پیروی کی۔(بعض روایات میں ہیکہ آپ ﷺ نے یہ نام حضرت عمرؓ کو بتائے تھے ) کتنے ہی ایسے مشرکین تھے جو آپﷺکے دشمن تھے لیکن بدر سے واپسی کے موقع پر آپ نے کئی قیدیوں کو معاف کردیا سوائے نضر بن حارثہ اور عقبی بن معیث کے ۔کیا ہم سے علمی یا فقہی اختلاف رکھنے والے نضر بن حارثہ اور عقبی بن معیث سے بھی زیادہ بُرے ہیں؟
آئے دن دیکھا جاتا ہے کہ اہلِ علم ا اور ان کے معتقدین کسی نہ کسی پر لعنت و ملامت کیے جاتے ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا ان احادیث کی ان اہلِ علم اور معتقدین کے نزدیک کوئی اہمیت و حیثیت نہیں ہے ؟
بعض فرقوں نے تو مسلمانوں کی تکفیر کو جائز کرنے کے لیے "تکفیر معین" اور "تکفیر غیر معین" جیسی اصطلاحات کی غیر معیاری اور متشدد شرح و تفہیم کے ذریعے کسی کی تکفیر کا عام اختیار بندوں کو بھی دے دیا ہے جبکہ وہ صرف اللہ کا اختیار ہے ۔ یہ لوگ جب کسی مسلمان کو ایسا کام کرتے دیکھتے ہیںجس کو اللہ تعالیٰ نے کفر کہا ہے جیسے :" ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون جو بھی اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی کافر ہیں" ، تو اس کے مرتکب مسلمان کو بھی کافر قرار دے دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یقیناً اس آیت کے ذریعے یہ فیصلہ تو دے دیا کہ کافر کون ہیں لیکن بندوں کو یہ اختیار کہاں دیا کہ وہ کسی کی تکفیر کریں؟کیا یہ خطبہ حجۃ الوداع کی کھلی خلاف ورزی نہیں ہیکہ اللہ کے اختیار کو اپنے ہاتھ میں لینا اور دوسروں کو کافر اور مشرک قراد دے ڈالنا؟
خوارج یہی کرتے تھے کہ اپنے سوا ہر مسلمان کی تکفیر ، ان کے قتل اور ان کی عورتوں کو لونڈی بنانا جائز سمجھتے تھے ۔ یہ شدت پسندی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شروع ہو چکی تھی۔ خوارج کے بعد تکفیر کے مظہر کا باضابطہ پھیلاؤ متکلمین کے ذریعے ہوا۔ معتزلہ ، جہمیہ اور قدریہ وغیرہ نے کفر و ایمان اور اسلام کے بنیادی اعتقادات کی تعریف و تشریح میں نت نئے عقلی نکتے پیدا کیے ، ان پر اصرار کیا اور اپنے مخالفین کی تکفیر کی۔ اعتزال کے مقابلے میں اشاعرہ سامنے آئے ، انہوں نے معتزلہ کی اور معتزلہ نے ان کی تکفیر کی۔ چوتھی صدی کی آمد تک شیعہ، سنّی، صوفی ،فقہی اور دیگرمسالک کے سارے مکاتب شدت اختیار کر گئے اور تکفیر بازی ہر مسجد اور ہر اجتماع میں ایک عام سی بات ہو گئی۔ اور یہ سلسلہ صدیوں سے آج تک چلا آ رہا ہے ۔
آج حکومتوں کو امریکی و یہودی ایجنٹ قرار دے کر ان کی تکفیر کرنااور بغاوت کرنا جائز کر لیا گیا ہے ۔ ان حکومتوں کے خلاف خودکش بم دھماکوں ، دہشت گردی اور مساجد میں قتل و غارت گری کو خوارج ہی کی طرح جائز قرار دینے والے مذہبی پیشوا پیدا ہو گئے ہیں جن کی اکثریت ایجنٹوں ہی کی ہے ۔ان کے اپنے اپنے مفاد ہوتے ہیں جنکے حصول کیلئے وہ معصوم نوجوانوں کے ذہنوں کو مکمل ورغلادیتے ہیں اور انہیں جہاد کے فلسفے پڑھاکر جنّت کے باغ دکھاکر گھروں سے نکال لے جاتے ہیں اور ان کے سر کٹوادیتے ہیں۔ ان کے لیڈر زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے زندگی میں نہ کامرس پڑھی نہ سائنس، ٹکنالوجی جانتے ہیں نہ سیاسیات۔ جماعت، جہاد اور قتال کے الفاظ استعمال تو کرتے ہیں لیکن ان کو نافذ کرنے کے اسلامی اصول اور اسکی حکمتوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔
دوسری طرف ائمہ کی تقلید کرنے والوں کو کافر قرار دینا یا درگاہوں پر حاضری دینے والے مسلمانوں کی تکفیر کرنے کو جائز کر لیا گیا ہے ۔ اور ان کے مخالف طبقے نے اسلاف اور ائمہ کی شرح و اقوال کو نہ ماننے والوں کی تکفیر کو جائز کر لیا ہے ۔ عجیب لطیفہ یہ ہے کہ یہ سارے اہل تکفیر بھرے مجمع میں انتہائی وسیع القلبی سے اتحادِ امت کی اہمیت پر تقریریں کرتے ہیں۔ لیکن جب اپنے مخصوص حلقہ احباب میں ہوتے ہیں تو دوسرے مسلکوں اور جماعتوں کا نہ صرف مذاق اڑاتے ہیں بلکہ ان کی تکفیر کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ اگر ان تمام تکفیروں کا اعتبار کر لیا جائے تو روئے زمین پر آج گویا ایک بھی مسلمان باقی نہیں ہے ۔ کیونکہ شیعوں کے مطابق تمام سنی داخلِ جہنم ہونے والے ہیں اور بریلویوں کے مطابق تمام اہل حدیث اسلام سے خارج ہیں ، دیوبندیوں کے مطابق تمام بریلوی شرک و کفر کے مرتکب ہیں اور اہل حدیث کے نزدیک تمام شیعہ اور مقلدین کفر پر ہیں۔تو پھر آخر میں بچتا کون ہے ؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ طہارت کے ڈھیلے سے لے کر جہاد و قتال تک کے مسائل کا استنباط و استخراج کیا جاتا ہے ۔ چند ایک ہم مسلک علماء کے ساتھ قیاس و اجماع سے بھی کام لیا جاتا ہے اور ایسے مسائل اخذ کرلئے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر مسلک کھڑے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جب مسائل کے استنباط کے لیے کمزور ، ضعیف یا غیر معروف احادیث پر بھی اجماع ہو جاتا ہے تو پھر ان معروف آیات و احادیث پر جو اوپر بیان کی گئی ہیں مسلکوں اور فرقوں کے اصول کیوں قائم نہیں ہوتے ؟جیسے مسلمانوں کے حقوق ،کسی مسلمان پر لعنت بھیجنے یا اسکو قتل کرنے وغیرہ کے بارے میں جو احکامات آئے ہیں یا جیسے حجۃ الوداع کا حکم نامہ ہے ۔۔۔ یہ احکامات تمام مسالک کے اصولِ فقہ میں سب سے اولین اور نمایاں مقام پر کیوں کر جگہ نہیں پا سکے ہیں؟
خطبہحجۃ الوداع کا تیسرا اہم نکتہ : شیطان کی عبادت جاری رہے گی مگر کس طرح؟؟
الا ان الشيطان قد ايس من ان يعبد في بلادكم هذه ولكن ستكون له طاعة في ماتحقرون من اعمالكم فيسرضي به و في التحريش بينهم: شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ کبھی اس کی عبادت کی جائے گی لیکن دو باتوں میں دھوکہ دے گا ، ایک یہ کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے کام جن کو تم حقیر سمجھتے ہو وہ تم سے کروا لے گااور اس پر خوش رہے گا (ترمذی 8502) اور وہ تم کو آپس میں ایک دوسرے سے لڑائے گا(مسند احمد19994)
کسی کے کلمہ پڑھ لینے کے بعد شیطان مایوس ہو جاتا ہے کہ اب اسکی عبادت کی جائیگی۔ لیکن شیطان اپنی عبادت کروانے کے دوسرے طریقے ڈھونڈ لے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ نماز ، روزہ یا زکوٰۃ چھوڑ دیں گے ۔ ان سب کی برابر ادائیگی ہوگی ، حج اور عمرے بھی ادا کیے جائیں گے بلکہ بار بار ادا ہوں گے ۔ مسجدیں بھری رہیں گی۔ شب برات اور شب قدر میں مسجدوں کو بقعِ نور بنا دیا جائے گا۔ مدرسوں ، حفاظ اور قراء کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا جائے گا ، ساتھ ہی ان پر انفاق کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جائے گی۔ جماعتیں دعوت اور اصلاحِ معاشرہ کے اجتماعات زیادہ سے زیادہ کریں گی۔ اگر کوئی توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو لوگ سر پر کفن باندھ کر گھروں سے نکل پڑیں گے ۔ گنپتی اور بونال کے جلوسوں کو مرعوب کرنے کے لیے میلاد النبی ، صندل اور پنکھوں کے جلوس نظروں کو خیرہ کر دیں گے ۔ جھنڈے، عَلَم، تازیانے ، ماتم ، محافلِ حمد و نعت ، سلام ، محفلِ قصیدہ بردہ شریف پہلے سے بھی زیادہ سجتے رہیں گے ۔رفع یدین اور آمین بالجہر کی خوب تبلیغ ہوتی رہیگی۔ دینی کتب و رسائل کی اشاعت میں اضافہ ہوگا۔ ڈاڑھیوں ، ٹوپیوں اور برقعوں کو لوگ سختی سے اپناتے جائیں گے ۔ ہر شخص فیس بک ، ایمیل گروپس ، فورم اور ویب سائیٹس پر خوب سے خوب تر اسلامی معلومات پیش کرے گا۔ مگر ۔۔۔ ان سب کے باوجود قوم کی اخلاقی ، سیاسی ، تعلیمی ، سماجی اور معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جائے گی۔ کیوں ؟
کیونکہ جیسا کہ خطبہ حجۃ الوداع میں پیشین گوئی کر دی گئی ہے کہ ہر شخص صرف ایک ایک غلط کام کو معمولی یا حقیر سمجھ کر اور "مجبوری یا مصلحت کی خاطر یا اکثریت کر رہی ہے یا خاندانی رواج کہہ کر اپنے لیے جائز کر لے گا۔ اور یہ سوچ کر اپنے آپ کو فریب دے لے گا کہ اگر میں ایک غلط کام کر رہا ہوں تو کیا ہوا باقی سارے نیک کام تو کر رہا ہوں۔
کسی نے جہیز اور اسراف سے پْر تقریبات کو "رواج" کہہ کر جائز کر لیا ہے اور باقی نماز روزہ وغیرہ سب ہی جاری و ساری ہیں۔ کوئی صاحب ان چیزوں کو حرام تو جانتے ہیں لیکن ان تقریبات میں شرکت کو "اخلاقی فریضہ" کہہ کر جائز کر لیتے ہیں۔ کسی صاحب کے نزدیک رشوت دینا بصورت مجبوری جائز ہے اس لیے وہ ایسی مجبوری کی صورتیں اسی طرح بار بار پیدا کرتے رہتے ہیں جس طرح کوئی خنزیر کے گوشت کھانے کو جائز کرنے کے لیے تین دن بھوکا رہے ۔ اور کوئی صاحب رشوت کو ہدیہ کہہ کر اس لیے قبول کر لیتے ہیں کہ "ہم نہیں لیں گے تو کوئی اور لے لے گا"۔ کوئی صاحب، استطاعت رکھنے کے باوجود قرض واپس کرنا اہم نہیں سمجھتے اور ایسے ہی چند برے لوگوں کے تجربات کے سبب کوئی صاحب مستحق کو قرض دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔
کسی کے بچوں کو مادری زبان اور عربی نہیں آتی اور وہ ڈھٹائی سے شرمندگی کا اظہار بھی کرتے ہیں مگر اسکول کی دیگر زبانوں کی تعلیم کو اردو اور عربی پر ترجیح دیتے ہیں۔ کوئی صاحب بیوی کی اجازت کے بغیر نہ اپنے ماں باپ سے ملتے ہیں اور نہ رشتے داروں کی مدد کرتے ہیں۔ کوئی صاحب گھر سے باہر والوں کے ساتھ انتہائی بااخلاق ہوتے ہیں لیکن اپنے اہل خانہ کے تئیں نہایت جہالت برتتے ہیں۔
کیا معاشرے میں ایک بھی ایسا شخص ہے جو یہ کہہ سکے کہ وہ "جھوٹ اور غیبت" سے پاک ہے ؟ جھوٹ اور غیبت آکسیجن کی طرح ناگزیر ہے لیکن ہر شخص کا یہ خیال ہے کہ جس قسم کا جھوٹ وہ بولتا اور جو غیبت وہ کرتا ہے وہ تو ایک مجبوری ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا لیکن جو دوسرے مرتکب ہو رہے ہیں وہ بالکل غلط ہے ۔
بقر عید کے موقع پر پوری امت ابراہیمی جس جوش و خروش سے جانوروں کی قربانی پیش کرتی ہے اور پھر اس کے بعد جو گندگی گلیوں میں پھینکی جاتی ہے وہ ہمارے نزدیک جیسے ایک "معمولی" سی بات ہے ۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا "پاکی آدھا ایمان ہے "۔ لیکن ہمارے مولوی طبقے کی بڑی اکثریت تو قربانی کے سارے احکامات کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل تو ضرور بتاتی ہے لیکن صفائی اور ماحولیات کے متعلق نبوی احکامات کو یکسر نظرانداز کر جاتی ہے ۔ حتیٰ کہ مذبوح جانور کے گلے سے بہنے والے خون پر ثواب کی تفصیل بھی بتائی جاتی ہے لیکن گلی میں اس خون کی صفائی کیسے کی جائے ، کیسے ماحولیاتی صفائی ستھرائی کے معیار کو قائم و برقرار رکھا جائے ، ان سب معلومات کی فراہمی سے گریز کیا جاتا ہے ۔ ان حرکتوں کی وجہ سے جب فرقہ پرست تنظیمیں ذبیحہ کے جانوروں کو شہر میں لانے پر ہنگامے کرتی ہیں یا پھر گندگی کے ڈھیروں کی بلدیہ والے صفائی نہیں کرتے اور نتیجتاً بیماریاں پھیلتی ہیں تب مسلمان احتجاج ضرور کرتے ہیں۔
اسی طرح ہر شخص ایک بہترین مسلمان ہوتے ہوئے صرف ایک ایک کام میں رعایت لینا اپنے لیے جائز کر لیتا ہے ۔ کل تک سائیکل پر زندگی گزارنے والوں کی اولادیں آج کار نشین ہو کر برتھ ڈے ، آؤٹنگ یا کسی اور بہانے کئی ہزار روپے کا اسراف کرنے سے نہیں جھجھکتیں۔ اللہ کے راستے میں ڈھائی فیصد اور غیر اللہ کے راستے میں بے دریغ بلا فیصد ان کا شیوہ ہے ۔
ان تمام برائیوں کو آدمی چھوٹی اور حقیر سمجھ کر اس لیے اپناتا ہے کہ " یہ تو سبھی کر رہے ہیں"۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان اخلاقی اور سماجی طور پر غیر قوموں بلکہ مشرکوں سے کہیں مختلف نہیں ہیں۔
ذرا غور کیجیے کہ اگر ہر شخص اپنے مزاج اور مفاد کو بھانے والی ہر اس چھوٹی اور حقیر برائی کو ، جو کہ خطبہ حجۃ الوداع کے کے حکم کے مطابق ، رسول اللہ ﷺ کو پسند نہ ہو ، ختم کر دے تو آج ایک ایسا مثالی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جس کے قدموں کو دنیا کی ساری قومیں چومنے پر مجبور ہو جائیں گی۔
خطبہحجۃ الوداع کا چوتھا اہم نکتہ : جاہلیت کے دور کے تمام رسم و رواج ناجائز
الا كل شئي من امر جاهلية تحت قدمي موضوع۔
خبردار! جاہلیت کے تمام دستور میرے دونوں پاؤں کے نیچے ہیں۔ (مسلم 1237)
قرآن کی رو سے جتنی قومیں ہلاک ہوئیں ان کے جرائم میں سے ایک جرم یہ بھی تھا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ نبی کی اتباع کرو تو وہ کہتے : "ہم تو اسی کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے "۔ آج مسلمانوں میں بھی بے شمار ایسے مذہبی ، تہذیبی اور کاروباری طریقے مروج ہیں جن کی شریعت میں کوئی بنیاد نہیں لیکن وہ ان پر اس لیے جمے ہوئے ہوتے ہیں کہ "یہ ان کے آباء و اجداد سے چلا آ رہا ہے ۔"
خطبہ حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے واضح طور سے فرما دیا کہ آج تک باپ دادا کے جاہلانہ رسوم و رواج یا نظریات کیلئے مروتاً جو بھی چھوٹ تھی ، آج کے بعد "اليوم اكملت لكم دينكم ۔۔۔" کی بنیاد پر صرف اور صرف وہی چیز روا ہوگی جو قرآن اور سنت میں ہوگی ورنہ وہ پاؤں کے نیچے یعنی دفن کر دی جائے گی۔
شیعہ حضرات پر سنیوں کے جو اعتراضات ہیں ان میں سرفہرست یہ ہے کہ شیعہ مذہب میں خلافت یا امامت کو نسب سے مشروط کرتے ہیں اسی لیے وہ ابوبکرؓ ، عمرؓ و عثمانؓ کی خلافت کو نہیں مانتے ۔ اس بات پر تو کئی سنی حضرات شیعہ کو کافر قرار دیتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اپنے سلسلے ، مدرسے ، جماعت یا اقتدار کی جانشینی کا مرحلہ آتا ہے تو ہر سنی شیعہ اصول پر چلتا ہے اور اپنی گدی اپنے بیٹے یا پھر داماد یا بھائی بھتیجے کے سوا کسی اور کو نہیں سونپتا۔ وہاں "ان اكرمكم عندالله اتقاكم (یعنی : تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو تقویٰ میں بہتر ہو)" والا اصول فراموش کر دیا جاتا ہے ۔ جہاں تک کاروبار یا سیاست کا تعلق ہے ، سیاست خود ایک کاروبار ہے اور اس کی وراثت جتنا بہتر بیٹا سنبھال سکتا ہے ، اتنا کوئی اور نہیں سنبھال سکتا۔ لیکن مذہبی یا روحانی قیادت کا معاملہ الگ ہے ۔
خلافتِ راشدہ کا قیام زمانہ جاہلیت کی اسی رسم کے خاتمے کا ایک مظہر تھا کہ دینی و روحانی قیادت کے لیے بیٹا یا رشتہ دار ہی جانشین ہو ، یہ ضروری نہیں۔ علم و تقویٰ میں جو بھی زیادہ ہوگا وہی خلیفہ یا جانشین ہوگا۔ حجۃ الوداع کی اس عظیم ہدایت کو ہم نے ٹھکرایا اور زمانہ جاہلیت کے اصولوں کو اپنایا اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری دینی قیادت پر مکمل جمود طاری ہے ۔ بڑے بڑے پائے کے عالم ، ولی صفت بزرگ ، مفکر و مصلح پیدا ہوتے ہیں اور دین کی شاندار تبلیغ فرماتے ہیں لیکن ان کے گزرنے کے ساتھ ہی ان کے عظیم کام کے ورثے کو صحیح اور متحرک جانشین کے حوالے کرنے کے بجائے اس کو کسی جائداد کی وراثت کی طرح خاندان میں محصور کر دیا جاتا ہے ۔ برصغیر ہند و پاک سے ایسی ہی بے شمار جماعتوں کی مثال دی جا سکتی ہے جن کے بانی یا امیر کے انتقال کے ساتھ ہی اقربا و رشتہ داروں میں جانشینی کے لیے رسہ کشی شروع ہو گئی۔اگر قابل ترین لوگ موجود ہوتے ہوئے جانشینی بغیر کسی رسہ کشی کے بیٹے یا بھانجے بھتیجے کے حق میں چلی گئی تو اس مشن کا خود بخود چند سالوں میں خاتمہ ہوگیا۔
زمانہ جاہلیت کے مزید نجانے کتنی رسومات ہیں جنہیں ہم آج بھی عزیز رکھتے ہیں۔ بہنوں کو جہیز دے کر وراثت سے محروم رکھنا تو عام بات ہے جس پر آگے گفتگو ہوگی۔ ویسے بھی جہیز خود زمانہ جاہلیت کی ایک ایسی رسم ہے جو ہندوستان کے مشرک سماج میں رائج تھی۔ پھر عورت کو وراثت سے محروم رکھنا بھی ہندو اور عرب سوسائیٹی میں عام تھا۔ آج حجۃ الوداع کا خطبہ ہر مسلمان سے متقاضی ہے کہ زمانہ جہالت کی اس رسمِ جہیز اور عورت کو وراثت سے بے دخل کرنے کی مشرکانہ روایت کو ختم کر دیا جائے ۔
لوگ ایک طرف تو لاکھوں کا جہیز ڈٹ کر وصول کرتے ہیں لیکن مہر کے بارے میں اڑ جاتے ہیں کہ ہمارے آبا و اجداد نے کبھی زیادہ مہر نہیں باندھا اور نہ کبھی نقد ادا کیا۔ جبکہ مہر کے معاملے میں سخت احکام یہ ہیں کہ عورت کا مہر خوشدلی کے ساتھ دو اور نقد ادائیگی کرو (سورہ النساء )۔مشرکین شادی کی رسموں کو ایک ایک ہفتہ مناتے تھے۔ آپ ﷺ نے نکاح کئے اور "النکاح من سنتی" کہہ کر یہ بتادیا کہ اب آپﷺ کو ماننے والے ہر شخص پر یہ واجب ہیکہ جس طریقے پر آپ ﷺ نے نکاح کیا وہی نکاح سنت ہے۔ اسطرح بارات، منگنی، سانچق، جہیز، تلک، جمعگی، پاوں میس، دلہن کی وداعی کے دن لڑکی کے والدین کے خرچے پر کھانے کی دعوتیں وغیرہ وغیرہ یہ دورِ جاہلیت کی وہ رسمیں ہیں۔ جنہیں بدقسمتی سے کئی لوگ نہ صرف جائز کرتے ہیں بلکہ ان کو ایسے مولوی بھی مل جاتے ہیں جو ان کو جائز کا فتوٰی بھی دے دیتے ہیں۔
شہروں سے باہر نکل کر دیکھیے تو اندازہ ہوگا کہ مسلمانوں میں جاہلیت کی کیسی کیسی رسمیں موجود ہیں جاکر یقین نہیں آتا کہ ہم مسلمانوں کی کسی بستی میں داخل ہو گئے ہیں۔ جیسے بچے کی پیدائش پر زنخوں سے دعا کروانا ، ہر نئے کام کے لیے فال نکلوانا ، نئی دلہنوں کا اولادِ نیک کے لیے ڈبکی لگانا ، چاند گرہن یا سورج گرہن کے موقع پر نمازوں کے بجائے آسن لگوانا ، ہندوؤں کی طرح گلے یا ہاتھوں میں رنگین ڈوریاں یا تعویذ باندھنا ، بیوہ کی شادی کو عیب سمجھنا ، تقریبات میں کسی بیوہ یا یتیم لڑکیوں کا دلہن کے قریب آنے کو بدشگونی سمجھنا ، شگون نکلوانا وغیرہ ۔ اس قسم کی ایسی بے شمار رسمیں ہیں جو قدیم ہندوؤں کے ذریعے چلی آ رہی ہیں اور مسلمان معاشرے میں بھی رچ بس گئی ہیں۔ اسی وجہ سے سفلی عمل اور چمتکار دکھانے والے باباؤں کا زور بڑھتا جا رہا ہے ۔مختصر یہ کہ ہر شخص اپنے گھر میں جاہلانہ دور کی کسی نہ کسی رسم کو باقی رکھے ہوئے ہے ۔ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم اپنے گھر کی پہلے خبر لیں پھر زمانے پر تنقید کریں۔
ماتم،عَلَم ، نوحے، مرثیے وغیرہ بھی دورِ جاہلیت کے وہ اوامر ہیں جن سے رسول اللہﷺ نے سختی سے منع فرمایاتھا۔ اگرچہ کہ حضرت عمرؓ، عثمانؓ و علیؓ بھی شہید کردیئے گئے۔ ان کے لئے ماتم یا نوحے منائے جانے کی ہمیں کوئی روایت نہٰں ملتی۔ لیکن واقعہ کربلا کے کئی سال بعد یہ جو ماتم اور نوحوں کی رسم ایجاد ہوئی اس نے دورِ جاہلیت کو دوبارہ لوٹا دیا۔ کربلا کا واقعہ تاریخِ اسلامی کا ایک بدترین واقعہ ہے۔ لیکن یہ تاریخ میں کوئی نیا واقعہ بھی نہیںہے۔ اقتدار کے حصول کیلئے مخالف کو تہہ تیغ کردینا، مخالفین کو دردناک سزائیں دینا، ان کی لاشوں کی بے حرمتی کرنا اور ان کے خاندانوں کو تباہ و تاراج کرنا یہ تاریخ میں ہمشیہ سے ہوتا آیا ہے۔ لیکن اس واقعہ کا غم منانے کو ایک مکمل مذہب کی شکل دے دینا بالکل غلط ہے۔ سڑکوں پر ماتم اور واویلا کے مظاہروں سے دین کی دعوت کا کام ہرگز نہیں ہوتا۔ کیا ان مظاہروں کو دیکھ کر کوئی غیرمسلم صرف اسلئے ایمان لے آئے گا کہ ان کے اماموں کے ساتھ ظلم ہوا تھا لہذا ایمان لانا چاہئے؟الٹا یہ پیغام لے گا کہ ایک ایسا مذہب جسمیں صرف قتل و غارتگری کی داستانیں ہیں، نبی کے انتقال کے چند سال کے اندر ہی مسلمان اپنے خلفا اور آل نبی کا قتل کرڈالتے ہیں اور اس کی بنیاد پر مذہب و شریعت الگ ہوجاتی ہیں اس مذہب پر کیسے ایمان لایا جاسکتاہے۔ حالانکہ شیعہ برادری میں عظیم ادبا،دانشور اور لیڈر موجود ہیں وہ لوگ بھی کیا سائنٹفک بنیادوں پر یہ نہیں سوچتے کہ کسطرح کربلا کے واقعہ کو ایک افسانوی رنگ دے کر ایک مذہب کی شکل دی جاسکتی ہے۔ جسطرح رامائین وغیرہ میں عجیب عجیب دیومالائی قصے گھڑے گئے ہیں۔ اسیطرح ذاکروں اور میر انیس اور دبیر جیسے شاعروں نے کربلا کے واقعات کو ہری کتھا اور رام کتھا کے طرز پر گھڑا ہے۔ کہیں گھوڑا بات کررہا ہے، کہیں کم سِن بچہ بول رہا ہے، کہیں زمین سے آواز آرہی ہے تو کہیں آسمان سے آواز آرہی ہے۔ ان پڑھ عوام کے سامنے ایسے ایسے جذباتی سین بیان کئیے جارہے ہیں جنہیں سن کر ہر کمزور دل کا انسان دھاڑیں مار مار کر رونے اور سینہ پیٹنے پر مجبور ہوجائے۔ ایسے ہی سین پیدا کرکے مجمع کو ہائے ہائے کے نعرے لگوانے پر شیعہ ذاکرین اور سنّی واعظین کے ریٹ مقرّر ہوتے ہیں اور ہزاروں بلکہ لاکھوں روپیہ اجرت میں دئے جاتے ہیں۔ معصوم عوام یہ نہیں جانتے کہ یہ کربلا کے قصے سنا کر اصل دین سے گمراہ کرنے والوں کو اجرت کتنی ملتی ہے۔
شہادتِ حسین ؓ سے قبل شہادتِ حمزہؓ ہوچکی ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے کسطرح سوگ یا ماتم منایا یہ بھی تذکرہ سیرت میں موجود ہے۔ جس دردناک طریقے سے حضرت حمزہؓ کو شہید کیاگیا اور آپﷺ کو اُن سے جس قدر محبت تھی یہ بھی ہمیں معلوم ہے۔ اب امام حسینؓ کا غم منانے والے خود ہی سوچ لیں کہ وہ کسی کی شہادت کا سوگ منانے کا طریقہ رسول اللہﷺ کے طریقے پر پر ہے یا دورِ جاہلیت کے طریقے پر۔ اس کربلا کے واقعے کے ذریعے صدیوں سے شیعہ حضرات اور سنت الجماعت بالخصوص بریلوی حضرات نئی نسلوں میں مسلمانوں میں آپس میں محبت کا جذبہ پیدا کرنے کے شیعہ اور سنّی میں نفرت، عصبیت اور اصل دین سے مکمل گمراہی پیدا کررہے ہیں۔ دین کے اصل پیغام کے بجائے من گھڑت حدیثیں، قصے اور داستانیں سناکر ہر ہر مسلمان کو ایک دوسرے کیلئے مشتبہ بنادیا گیا۔
خطبہحجۃ الوداع کا پانچواں اہم نکتہ : کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت ہے نہ فوقیت
الا لا فضل لعربي علي عجمي ولا العجمي علي العربي، ولا لا احمرعلي اسود ولا اسود علي احمر اِالّا بالتقوي ان اكرمكم عندالله اتقاكم۔ (بیہقی، شعب الایمان 5137، عسقلانی، فتح الباری، مسند احمد 22391)
سن لو: کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر ، اور سن لو کسی گورے کو کسی کالے پر یا کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں ، سوائے تقوی کے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔
ہر ملک کا قانون اگرچہ یہی کہتا ہے لیکن ہر جگہ کہیں نہ کہیں تحفظات [reservations] ہیں۔ آپ ﷺ کا یہ حکم محض مسجد یا امامت کے لیے یا روزِ قیامت کے لیے مخصوص نہیں بلکہ آپ ( ﷺ ) نے اسے ملکی سیاست میں بھی برت کر دکھا دیا۔ غلام کے بیٹے کو کہیں سپہ سالاری عطا کر دی تو کہیں سیاہ حبشی بلال (رضی اللہ عنہ) کو موذن بنا دیا۔ اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہ) کے نکاح میں اپنی چچا زاد بہن دے دی تو ایک مرتبہ یہ بھی فرما دیا کہ "اگر بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) پر بھی چوری کا الزام ثابت ہو تو ان کے بھی ہاتھ کاٹے جائیں گے "۔
حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانیاں بنگالیوں پر، مہاجر پنجابیوںپر، حیدرآبادی ملیالیوں پر، یوپی والے بہاریوں پر ، سعودی تمام غیر سعودیوں پر، عربی عجمیوں پر، الغرض ہر شخص لسانی، علاقائی اور قومی یاتہذیبی بنیادوں پر ایک دوسرے پر فوقیت اور اکڑ دکھاتا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی عصبیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ "ان تازہ خدوں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا وہ مذہب کا کفن ہے "
سعودی عرب میں آج بھی ایسے بے شمار علاقے ہیں جہاں اگر کوئی غیر سعودی شخص امامت کیلئے آگے بڑھ جائے تو سعودی اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ امیر عرب ممالک کا قانون ہیکہ ان کا مرد شہری کسی بھی دوسرے ملک کی عورت سے نکاح، مسیار یا متعہ کرسکتا ہے لیکن عورت کسی دوسرے ملک کے شہری سے نہ شادی کرسکتی ہے نہ بچے پیدا کرسکتی ہے۔ اگر کسی نے یہ غلطی کی تو اس عورت کو شہریت اور وراثت دونوں سے خارج کردیاجاتاہے۔ اس کے مقابلے میں اہلِ مغرب کے ہاں حجۃ الوداع کے اس خطبہ کا یہ اصول ناٖفذ ہیکہ وہ کسی کالے گورے کا فرق نہیں دیکھتے اور ہر شخص کو پورے پورے انسانی حقوق دیتے ہیں۔ امیر عرب ممالک جہاں اس خطبہ کا ایک ایک نکتہ بنیادی قانوں کی حیثیت میں ہونا چاہئے تھا بدقسمتی سے وہاں اسلام خود ایک بغیر اقامے کے غیر قانونی بنگلہ دیشی کی طرح رہتاہے۔ اسطرح آج جن مسلمانوں کو عرب و عجم، کالے گورے کے ہر فرق کو مٹانے کے منصب پر قائم کیاگیا تھا وہی آج انسانی حقوق کی پامالی میں سب سے آگے ہیں۔

خطبہحجۃ الوداع کا چھٹا اہم نکتہ : آج کے بعد سود جائز نہیں۔
الا و ان كل ربا كان في الجاهلية موضوع لكم رئوس اموالكم :
جاہلیت کے تمام سود بھی باطل کر دئے گئے ہیں تم صرف اپنے اصلی مال کے حقدار ہو۔ (ترمذی 1416، مسلم 2137)
عہدِ حاضر کو عہدِ اقتصادیات Era of Economics & Commerce کہا جا سکتا ہے ۔ بنکوں کے نظام کے بغیر آج زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ بنک سے اجتناب کر کے یا بنک کی سودی رقم کو انفاق کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سودی نظام سے محفوظ ہیں وہ گویا احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ایک طرف سودی کاروبار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ سے جنگ کرنے والوں کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور یہاں تک تنبیہ ہے کہ سود کھانا ماں سے زنا کرنے کے برابر ہے تو دوسری طرف سودی نظام پوری دنیا پر اس قدر غلبہ پا چکا ہے کہ گویا خون بن کر ہر جسم میں دوڑ رہا ہے ۔
ہم کو یہاں اپنی شکست تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم دنیا کو بے شمار مذہبی ، فقہی ، روحانی ، صوفیانہ اور جہاد و قتال کے نظریات تو ضرور دے سکے لیکن صحیح نظامِ معیشت نہ دے سکے ۔ مدرسے نے جب علم کی دینی اور دنیاوی خانوں میں تقسیم کی ، اس وقت ان تمام مضامین کو خارج از مدرسہ کر دیا جو آج انسانی تہذیب و بقا کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے سائینس ، ریاضی ، نفسیات ، ادب ، فلکیات وغیرہ۔ انہی میں اکنامکس اور کامرس بھی شامل ہیں۔ پھر 1857ء کے جہاد نے بھی وہ اثرات ڈالے جو اس وقت تو فائدہ مند تھے لیکن اس کے بعد سے آج تک ہم کو نقصانات پہنچ رہے ہیں۔ اس وقت انگریزوں کے مکمل بائیکاٹ کی مہم نے قوم میں جوشِ آزادی کے ساتھ ساتھ دلیری ، شجاعت اور خود اعتمادی تو زبردست پیدا کر دی لیکن انگریزوں کے بائیکاٹ کی جو اسٹریٹیجی اُس وقت اپنائی گئی تھی جو کہ بہترین حکمتِ عملی تھی بدقسمتی سے ہم نے وقت کے گزرجانے کے باوجود اسکو آج تک اٹھائے رکھا۔ اس روش نے بہت نقصان پہنچایا۔ انگریزوں نے بنکنگ ، انشورنس ، انگریزی تعلیم ، تعلیمِ نسواں ، فیملی پلاننگ وغیرہ متعارف کروائے اور ہمارے علماء نے ان تمام چیزوں کو حرام قرار دینے پر پوری طاقت صرف کر دی۔اُس وقت عوام کے ذہنوں کو انگریز کے خلاف تیار کرنا تھا۔ موسم سازگار تھا ، زمین زرخیز تھی لہذا عوام کے ذہنوں میں یہ بات آسانی سے بیٹھ گئی۔ انگریز چلا گیا لیکن وہ باتیں آج تک ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ چونکہ ہمارے مدرسے میں نہ اکنامکس کا مضمون ہے ، نہ کامرس کا ، نہ بنکنگ کا اور نہ عالمی اقتصادیات کا۔ اس لیے آج کے مسائل کا استخراج بھی عموماً انہی مسائل سے کیا جاتا ہے جن کو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے بارہ سو سال پہلے قلمبند کیے تھے یا پھر فتاویٰ عالمگیری یا فتاویٰ شامی وغیرہ جن کو تین چار سو سال گزر چکے ہیں۔ ان مسائل کے استخراج کی بنیاد بھی وہی ہے کہ چاول کے بدلے سیب اور کھجور کے بدلے گیہوں کی تجارت و لین دین کس حد تک جائز ہے اور کس حد تک جائز نہیں؟ اس لیے احمد بن عبدالعزیز بن باز سابق مفتی اعظم سعودی عرب نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ایک جسارت آمیز حقیقت بیان کی کہ "اسلامی معاشیات کے مضمون پر امت مسلمہ نے آج تک کاپی پیسٹ کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔" ورنہ آج کے بنکاری نظام پر تنقیدیں کرنے والے بہت پہلے دنیا کو ایک متبادل نظام دے چکے ہوتے ۔ سوال یہ نہیں ہے کہ موجودہ معاشی نظام سود سے کتنا آلودہ ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اسے باطل قرار دینے والوں نے دنیا کو متبادل نظام کیا دیا ہے
متبادل نظام تو شاید اس وقت دیا جا سکتا جب عصر حاضر میں اسلام کو قائم کرنے والے مضامین بھی مدرسے کے نصاب میں شامل ہوتے ۔ اسلامی نظامِ معیشت کے قیام کا اگرچہ ایران ، پاکستان اور سعودی عرب نے دعویٰ تو کیا ہے لیکن اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ کسی شہر کا دو چار سو افراد کے زر تعاون سے قائم ہونے والا بلاسودی بیت المال ہو کہ سرکاری سطح پر قائم ہونے والا کوئی سعودی یا ایرانی بنک۔ ہر جگہ نظام وہی ہے صرف نام اسلامی ہے ۔ سود کا عنصر ناگزیر ہے ۔ مصلحتاً کہیں اسے سروس چارج کہا جاتا ہے ، کہیں کمیشن [commission] ، کہیں سبسکرپشن فیس تو کہیں کنٹری بیوشن [contribution]۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ : سود کی آیات عہد نبوت کے آخری دور میں نازل ہوئیں ، اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ ان کی تشریح کرتے آپ کا انتقال ہو چکا تھا۔
ایسا ہرگز نہیں کہ امت میں باصلاحیت اذہان کی کمی ہے ۔ لیکن ایسے لوگ جو بنکوں اور انشورنس کا متبادل نظام دے سکتے ہیں ان کو اس کے قریب آتے ہی "بنک حرام ، انشورنس حرام ، اللہ سے جنگ ، ماں سے زنا" وغیرہ وغیرہ کی وارننگ سے ایسا ڈرا دیا جاتا ہے کہ وہ یا تو کوئی دوسری لائن اختیار کر لیتے ہیں یا پھر ایک کنفیوزڈ ذہن لے کر بنکوں کے نظام میں ہی کام کرتے ہیں اور اسے مضبوط کرتے ہیں۔ (اس موضوع پر تفصیلی گفتگو سوشیو ریفارمز سوسائیٹی کی ویب سائیٹ لائف انشورنس اینڈ مسلمس پر ملاحظہ فرمائیں۔)
البتہ یہ تلخ حقیقت بیان کرنا ضروری ہے کہ آج کی دعوتی تحریکوں اور طاقت اور وسائل رکھنے والی مسلم سیاسی جماعتوں پر یہ ذمہ داری لاگو ہوتی ہے کہ وہ ان مسلمان غنڈوں اور تاجروں کا خلع قمع کریں جو مسلمان بستیوں میں پورے ظلم اور جبر کے ساتھ سود کا کاروبار کر رہے ہیں۔ بلکہ یہ غیر سماجی عناصر تو مسلم سیاسی جماعتوں کو فنڈ بھی دے رہے ہیں۔
دوسری طرف عام کاروبار کرنے والے غریبوں کی مدد کے لیے حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے جو بے شمار فنڈز سادہ لوح عوام کے علم میں نہیں آتے ، انہیں عام آدمی کے علم میں لانے کے ہماری سیاسی پارٹیا ں اُس وقت تک دلچسپی نہیں لیتیں جب تک کہ ان کا خود کوئی مفاد اس میں شامل نہ ہو۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں جہیز اور گھر کی دیگر ضروریات کے لیے سود پر خریدنا عام ہوتا جا رہا ہے جو کہ "شدید ضرورت" کی تعریف میں داخل نہیں۔ سود کے اس کاروبار کو تقویت پہنچانے میں مسلمان بھی آگے آگے ہیں بالخصوص جہیز اور شادی کے اسراف وغیرہ کے لیے ۔ ہماری سماجی اور دعوتی تحریکوں کو ایک علیحدہ ایجنڈا بنا کر سود کے اس لین دین کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنا چاہیے ۔

خطبہحجۃ الوداع کا ساتواں اہم نکتہ: عورتوں کے حقوق صحیح ادا کرو
فاتقوالله في انساء كم فانكم اخذتموهن بامان الله ۔پس عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی ایک امانت کے طور پر حاصل کیا ہے ۔(مسلم 2137، مسند احمد 19774)
رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف حجۃ الوداع کے موقع پر بلکہ اپنی آخری وصیت میں بھی عورتوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔گوگل سرچ پر مختلف ملکوں میں عورت کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں ، گھریلو تشدد ، عصمت ریزی و قتل کی اگر شماریات دیکھی جائے تو پتا چلے گا کہ عورتوں پر ہاتھ اٹھانے کا اوسط 34 فیصد ہے ۔ یعنی ہر تیسری عورت کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ گھر کے باہر انتہائی بااخلاق نظر آنے والے مرد گھر کے اندرکتنے جاہل ہوتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے ۔ بیوی کی تنخواہ یا ترکے پر قبضہ کرنے والوں کی شرح 60 فیصد ہے ۔ 27 فیصد لوگ بیوی کے جہیز اور اس کی کمائی پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ عورت اگر علیحدگی چاہے تو انتقاماً اسے لٹکا کر رکھنے والے مردوں کی تعداد 84لاکھوں میں ہے ۔ جبکہ جہیز ہراسانی کیس میں مرد کو ملوث کر کے عدالتی مقدمات میں اسے پھنسانے والی عورتوں کی تعداد 62 فیصد ہے ۔
رسول اللہ ﷺ کی اہم ترین سنتوں میں سے ایک سنت کونسلنگ کی بھی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا : کیا میں تمہیں ایک ایسی بات نہ بتاؤں جو درجے میں نماز روزہ زکوٰۃ حج اور کئی نیکیوں سے افضل ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ضرور بتائیے یا رسول اللہ ( ﷺ )!" تب آپ ﷺ نے فرمایا : "لوگوں کے درمیان اختلافات کو دور کرنا ، اس سے دین مونڈھ جاتا ہے ۔" (ابو داوٗد، ابن حبان)۔ لیکن اس سنت کو مکمل نظرانداز کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے دوسری قوموں کی طرح مسلم معاشرے میں عورت کی حیثیت مذہبی ، علمی اور سماجی طور پر مکمل حاشیائی ہے ۔اسلام نے عورت کو آزادی دی ، مرد کے برابر حقوق عطا کیے ۔ اگر ہم عورت کے حقوق کو صحیح طور پر ادا کریں تو ویمنس رائیٹس چارٹر کی دنیا کو شاید ضرورت نہ پڑے ۔(مزید تفصیلات راقم الحروف کی تصانیف "جہیز ۔ حقوقِ انسانی اور حقوقِ نسواں کی ایک کھلی خلاف ورزی " اور "مسلم سوسائٹی میں عورت کی حاشیائی حیثیت "پڑھی جاسکتی ہیں)

خطبہحجۃ الوداع کا آٹھواں اہم نکتہ : اگر قرآن کو پڑہتے رہوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ "و قدتركت فيكم مالن تضلوا بعده اعتصم به كتاب الله ۔ میں تم میں ایک چیز چھوڑ جاتا ہوں ، اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوں گے ۔ وہ چیز ہے کتاب اللہ۔ (مسلم 2137، عبداللہ بن عمر مسند روایانی 1416)
یہ بات ہر شخص کی زبان پر ہے اور ہر خطیب ، واعظ اور مقرر کا تکیہ کلام ہے کہ "اگر ہم قرآن کو مضبوطی سے تھام لیں گے تو کبھی گمراہ نہ ہوں گے "۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سب کا قرآن ایک ہے اور سبھی یہی پڑھتے ہیں ، پھر بھی چاروں طرف اتنی بے دینی ، بے حسی اور اختلافات کیوں ہیں؟ اس کی نفسیاتی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن پڑھتے تو ہیں لیکن یہ سوچے بغیر پڑھتے ہیں کہ ہم چاہتے کیا ہیں؟ قرآن میں تاریخ ، فلسفہ ، سائینس ، اخلاقیات ، معاشیات وغیرہ کے بے شمار موضوعات ہیں۔ قرآن ایک ایسا مینول [Manual] ہے جو ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق رہنمائی کرتا ہے ۔ جس طرح ایک طالب علم اپنے نصاب کی تمام موٹی موٹی کتابوں کو شروع سے آخر تک پڑھتا نہیں بیٹھتا بلکہ انہی صفحات پر محنت کرتا ہے جو امتحان میں پوچھے جائیں گے ۔۔۔ اسی طرز پر قرآن پڑھنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو قرآن میں وہ چیز تو تلاش نہیں کرتے جو ان پر واجب العمل ہے بلکہ وہ چیزیں پڑھتے ہیں جو ان کے علم میں خوب اضافہ کرتی ہیں۔ بحث ، تقریر ، درس و تدریس میں مدد کرتی ہیں۔ شخصیت کو نمایاں کرنے اور رعب دار گفتگو کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ یا پھر ان کے عقیدے کے بزرگوں نے جن سورتوں کے فضائل بتا دیے کہ فلاں سورت پڑھنے سے نوکری لگ جاتی ہے اور فلاں سورت کی تلاوت سے اولاد نرینہ پیدا ہوتی ہے ۔ لوگ اس لیے بھی قرآن کثرت سے پڑھتے ہیں کہ مرحوم ابا جان اور امی جان کی بخشش ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے والدین کی مغفرت فرمائے کہ اولاد کے قرآن پڑھنے سے مرحوم والدین کو بے شک اس کا اجر پہنچتا ہے ، لیکن یہ بہرحال ایک علیحدہ موضوع ہے ۔ گمراہیوں سے بچنے کے لیے قرآن کو پڑھنے کا جہاں تک تعلق ہے تو سب سے پہلے یہ طے کرنا پڑے گا کہ ہم قرآن سے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ قرآن نہ تراویح میں سہ شبی یا پنچ شبی شبینہ سننے اور سنانے کے لیے آیا ہے اور نہ تجوید اور قرات کے مقابلوں کے لیے نازل ہوا ہے ۔ قرآن بیک وقت نہ غارِ حرا میں نازل ہوا ، نہ کسی خانقاہ میں ، نہ گھر اور نہ کسی جلسے میں۔
قم فانذر کے ساتھ ہی یہ طے ہو گیا کہ یہ ایک دعوتی پیغام ہے جسے لے کر گھر ، خاندان ، محلہ ، بازار ، دوست ، دشمن ، جنگ اور امن ، ہر جگہ اسے ساتھ لے کر جانا ہے قرآن کو گھر یا مدرسہ یا درس و اجتماع میں بیٹھ کر سنا جا سکتا ہے ، پڑھا جا سکتا ہے ۔۔ لیکن اس کو مضبوطی سے تھامنے کے معنی اسی وقت سمجھ میں آتے ہیں جب ہم اسکے ایک ایک آیت کو لیں اور غور کریںکہ یہ آیت مجھ سے کیا چاہتی ہے۔
ترے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزولِ کتاب گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف
لوگ قرآن کو اپنی ہدایت کے لیے نہیں بلکہ اپنے شوق اور مزاج کی تکمیل کے لیے پڑھنا چاہتے ہیں۔ ایک صاحب کاروبار میں مستقل جھوٹ اور چکمہ بازی سے کام لیتے ہیں لیکن ان کو قرآن کے حروف مقطعات سے بڑی دلچسپی ہے ۔ ہر محفل میں ان کے معنی و مطالب پر بحث کرتے ہیں۔ ایک صاحب جو اپنے بیٹوں کی شادی میں پورا پورا جہیز وصول کر چکے ہیں ، وہ قرآن میں وراثت ، طلاق اور تعدد ازواج کے مسائل کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں۔ چندہ وصول کرنے والوں کو قرآن میں موجود انفاق والی آیات مقدسہ سے دلچسپی ہوتی ہے ۔ معصوم نوجوانوں کو جہاد کے نام پر قتل و غارت گری کی جانب ورغلانے والوں کو جہاد و قتال کی آیات پسند ہیں۔ درس و تقریر کرنے والوں کو حد جاری کرنے والی وہ ساری آیات ازبر ہیںجو دوسروں پر نافذ کی جاسکتی ہیں۔ مگر ایسی آیتیں تو انہیں نظر ہی نہیں آتیں جن کی رو سے وہ خود اپنے اوپر بھی حد جاری کر سکیں۔ الغرض لوگوں نے قرآن کو مضبوطی سے تھاما تو ہے لیکن افسوس کہ اس کے ذریعے اپنی گمراہیوں اور خامیوں کو دور کرنے کی نیت ان کے پیش نظر نہیںہوتی بلکہ دوسروں کی گمراہیوں اور خامیوں کی نشاندھی کیلئے کام آتی ہیں۔
قرآن کو مضبوطی سے تھامنے کا تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے اندر سے شرک و بدعات کو مٹانا چاہتے ہیں، وہ پہلے "ادعوا ال سبيل ربك بالحكمة والموعظة" کے معنی و مطالب سمجھیں۔ کسی بھی کلمہ گو فرد کو مشرک ، کافر ، فاسق اور بدعتی وغیرہ جیسے القابات سے سرفراز کرنے سے قبل قرآن میں یہ تلاش کریں کہ "ایسا کہنے کی قرآن انہیں کہاں اجازت دیتا ہے ؟" بے شک اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں کئی جگہ تکفیر اور لعنت سے کام لیا ہے لیکن اپنا یہ اختیار اس نے کسی جگہ بندوں کے حوالے نہیں کیا۔
دولت مند اور سرمایہ کار قرآن میں حلال کمائی ، خرچ اور بچت والی آیتوں کو پڑھ کر سمجھیں۔ غریب صبر و شکر کی آیات پر غور کریں۔ ہر مسلمان پہلے ان آیات پر تدبر کرے جن میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق ہیں۔ ہر شوہر پہلے عورتوں کے حقوق والی آیات کو پڑھے ۔ مختصر یہ کہ ہر فرد پہلے ان فرائض کے بارے میں مطالعہ کرے جو اس پر گھر ، خاندان ، کاروبار ، نوکری اور دیگر سماجی معاملات کے سلسلے میں اس پر واجب ہیں۔ اگر صرف پڑھنے اور رٹنے کی بات ہوتی تو یہ چند منٹوں میں ممکن تھا لیکن ان آیات بینات پر غور و فکر کرنے ، تدبر کرنے ، عمل کرنے اور پھیلانے کے لیے تو ساری عمر بھی ناکافی ہے ۔
ہر مسلمان اگر اپنی زندگی سے متعلق احکامات والی آیات کو اچھی طرح سمجھ لے ، بھلے ہی اس نے تجوید یا عربی نہ سیکھی ہو ، فلسفہ یا تاریخ ِ اسلامی نہ پڑھی ہو ، بھلے ہی وہ توحید کی گتھیاں سلجھا نہ سکا ہو ، بھلے ہی اس نے جنت و دوزخ کے طول و عرض نہ ناپے ہوں ، بھلے ہی وہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں کمزور رہا ہو ۔۔ لیکن اگر اس نے حقوق العباد اور اپنے معاملاتِ زندگی سے متعلق آیات کو مضبوطی سے تھام لیا ہے تو ان شائ￿ اللہ یہ کافی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف کر دے ۔کیونکہ پورا اسلام، قرآن اور عقیدہٗ آخرت دو ہی چیزوں پر قائم ہے۔ ایک حلال رزق کی طلب اور حصول دوسرے حقوق العباد۔ حلال رزق کے تعلق سے امام غزالی نے احیاالعلوم میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ "عبادات کے دس جز ہیں اور نو جز رزقِ حلال کی طلب اور حصول کے ہیں " اور حقوق العباد کے تعلق سے کئی احادیث موجود ہیں جیسے "قیامت کے روز ہر شخص کے تین اعمال نامے پیش ہوں گے۔ ایک شرک سے متعلق ہوگا، دوسرے حقوق العباد اور تیسرے حقوق اللہ" اگر اس نے کلمہ کا دل سے اقرا ر کیا ہے اور حقوق العباد کے اعمال نامے میں کامیاب رہے تو اللہ تعالیٰ اپنے حقوق کے بارے میں چاہے تو حساب لے چاہے تو معاف کردے لیکن حقوق العباد کے معاملے اسکی معافی نہیں ہوگی"۔ کیونکہ قرآن کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایک مثالی انسان ، مثالی بیوی یا شوہر ، مثالی باپ اور اولاد ، مثالی تاجرو خریدار، مثالی مالک و ماتحت ، مثالی حاکم و رعایا ، مثالی امیرو غریب وغیرہ پیدا کرنا چاہتا ہے نہ کہ محض نام کے نمازی یا روزہ دار یا حاجی جو کہ گلی گلی پائے جاتے ہیں۔

خطبہحجۃ الوداع کا نواں اہم نکتہ : کوئی ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھائے۔
اسمعوا مني تعيشوا الا لاتظلموا الا تظلموا الا لا تظلموا انه لا يحل مال مال امريء الا بطيب نفس منه (مسند احمد 19774) الا ان المسلم اخوا المسلم ولا يحل لاحد من مال اخيه الا ما طابت به نفسه۔ (مسلم 2137 و مستدرک حاکم 318)
میری بات غور سنو؛ زندگی پاجاوگے۔ سنو ظلم نہ کرو، سنو ظلم نہ کرو، سنو ظلم نہ کرو کسی شخص کا مال اسکے دل کی خوشی کے بغیر لینا حلال نہیں ۔(خبردار!) یاد رکھو مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ کسی مسلمان کی کوئی بھی چیز دوسرے مسلمان کے لیے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ خود (خوشی سے ) حلال نہ کرے ۔ جس نے اپنے بھائی کا مال جھوٹی قسم سے ہتھیا لیا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
ایک دوسرے کے مال کو مال کو حرام طریقے سے کھانے کی سب سے بڑی مثال اس دور میں جہیز ہے۔ وہ لوگ بدترین مجرم ہیں جو استطاعت رکھنے کی وجہ سے ایسی ایس مثالیں قائم کردیتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ میں رسم چل پڑتی ہے پھر ہر شخص جھوٹ، چوری اور رشوت وغیرہ کے ذریعے اپنی بیٹیوں کی شادیوں پر جہیز دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ جو لوگ جہیز کو "خوشی سے" دئیے جانے والی چیز یا تحفہ یا ہدیہ کہتے ہیں وہ بخدا بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں۔ یہ رسم و رواج کے نام پر ایک دوسرے کو مشقّت میں ڈالنا ہے۔ یہ ایک بلیک میل ہے کہ لڑکی کے والدین سے بیٹی کی شادی کیلئے مال وصول کیا جائے۔ (مزید تفصیلات کیلئے ملاحظہ ہو کتاب "مرد بھی بکتے ہیں ۔۔۔ جہیز کیلئے " جو ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ )
اگر ہمارے عالم ، ہمارے مفتی ، ہمارے لیڈر اور ہمارے عوام کو صرف "المسلم اخوا المسلم" کے تقاضے سمجھ میں آ جائیں تو نہ خود مسلمانوں میں فرقہ بندیاں باقی رہینگی اور نہ دنیا میں کوئی غیرمسلم باقی ن رہیگا ۔ کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ مسلمان ایک دوسرے کے رائیٹس کی جتنی حفاظت کرتے ہیں ، وہ دنیا کا کوئی چارٹر نہیں کر سکتا تو فطری طور پر ان کے دل میں مسلمانوں میں شامل ہونے کی خواہش پیدا ہو جائے گی۔ آج بدقسمتی سے "المسلکی اخوا المسلکی" اور "الجماعتی اخوا الجماعتی" تو ضرور ہے "المسلم اخوا المسلم" کہیں نہیں ہے ۔ ایک بھائی سے گھر کے اندر چاہے جتنا بڑا اختلاف ہو لیکن کیا وہ گھر سے باہر اپنے اس بھائی کو ذلیل کر سکتا ہے ؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ اس فوج کا انجام کیا ہوتا ہے جس کے دشمن تو سامنے ہوں اور فوجی اپنے دشمن پر گولی چلانے کے بجائے خود ایک دوسرے پر گولیاں چلانے میں مصروف ہوں؟ ایک دوسرے کے بھائی ہونے کی مثال کسی فوج کے سپاہیوں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ ہر فوجی الگ زبان، الگ صوبے ، الگ رنگ اور الگ ذات و نسل کا ہونے کے باوجود قانون کے دفاع اور ملک کی حفاظت کے لیے ڈٹ جاتا ہے ۔
بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا کہ علماء یا جماعتیں یا مسالک اس نیک کام کے لیے آگے بڑھے ہوں کیونکہ یہ معاملہ انا کا ہے ۔ نفسیاتی طور پر ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ پہلے دوسرا ان کو بڑے بھائی کا درجہ دے اور چھوٹے بھائی کی طرح ان کے پیچھے چلے تب وہ ضرور المسلم اخوا المسلم پر عمل کرنا شروع کردینگے ۔ دوسرا مسئلہ ایک یہ ہے کہ اگر یہ اپنے ِ مخالف سے بھائی کی طرح سلوک کرنا شروع کردینگے تو پھر ان کے اپنے ماننے والے خود ان پر پل پڑیں گے کہ کل تک تو آپ کے کہنے پر ہم نے جن لوگوں کو مشرک ، کافر ، بدعتی وغیرہ کہہ کر جھگڑے مول لیے تھے ، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمارے بھائی ہیں تو پہلے اپنی غلطی تسلیم کیجیے ۔لوگ اگر دوسروںکے مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر دشمنی ترک کردیں تو ا ن کی عزت، پوزیشن اور دوکانیں بند ہوسکتی ہیں۔
بھائی ہونے سے مراد وہی ہے کہ جوخطبہ حجۃ الوداع کے دوسرے نکتے میں تفصیل سے بیان ہوچکی ہے۔ کہ : آپ کا ہاتھ اور آپ کی زبان آج کے بعد سے "لا اله الا الله محمد الرسول الله" کا اقرار کرنے والے کسی بھی مسلمان کی جان ، مال اور عزت کے خلاف ہرگز نہیں اٹھیں گے ۔ ہم کسی کو اپنے سے کمتر ، حقیر اور قابل تنقید نہیں سمجھیں گے ۔ اس کام کو سب سے پہلے علماء یا جماعتوں یا مسالک پر ہرگز نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ یہ کام تو سب سے پہلے ہر قاری ، ہر فرد کے ذمے ہے کہ وہ اللہ کے حضور سچے دل سے عہد کر لے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر آج سے ذاتی طور پر عمل کرے گا۔ ہر مسلمان سے اپنے سگے بھائی کی طرح سلوک کرے گا۔ جو لوگ اس اخوتِ اسلامی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کریں گے ، ان کے پیچھے نہیںچلے گا بلکہ انہیں سمجھانے کی کوشش کرے گا۔ اسطرح ان مولویوں کا خود بخود قلع قمع ہوجائیگا جو اپنی سرداری باقی رکھنے کیلئے دوسرے مسلمانوں سے لڑاتے ہیں۔
اس نکتہ میں ایک اور اہم فرمان یہ ہے کہ "کوئی ایک دوسرے کا مال حلال نہیں کرے گا تاوقتیکہ وہ شخص خود خوشی سے حلال نہ کرے ۔ آج سارے لوگ ایک حمام کے ننگے ہیں۔ شرم حیا ، انسانیت کی پاسداری ، مروت ، رحم سب کچھ ہم نے دفن کر دیا ہے ۔ ہر شخص مال کی لوٹ میں آخرت سے غافل ہو چکا ہے ۔ دوسرے بھائیوں کی جیب کو کاٹنا اس بنیاد پر حلال کر لیا گیا ہے کہ "یہ تو سب کر رہے ہیں ، میں نہیں کروں گا تو کوئی دوسرا کرے گا"۔ اور انہی کی وجہ سے پوری قوم آج چوری ، جھوٹ اور حرام ذرائع آمدنی کو اختیار کرنے پر مجبور ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں میں بیروزگاری کے نتیجے میں ہر شخص تعمیراتی کام میںیا رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں اترنے لگا ہے کیونکہ اس میدان میں اخراجات دکھائے کچھ اور جاتے ہیں اور لگایا کچھ اور جاتا ہے ۔ پولیس والوں ، سرکاری افسروں ، عدلیہ والوں اور وکیلوں کا تو ذکر ہی کیا؟ یہ لوگ تو بس وہی لیتے ہیں جو مسلمان بھائی "خوشی سے " دے دے ۔ اور اگر کوئی بھائی ان کو "خوشی سے " نہ دے سکے تو اس کا جو حشر ہوتا ہے یہ سب ہی کو معلوم ہے ۔ آج ہر فرد ایک "طوائف" کی طرح ہو چکا ہے کہ جہاں اسے پتہ چل جائے کہ دوسرا اس کا محتاج ہے تو وہ اپنی قیمت بڑھا دیتا ہے اور یوں دوسرے بھائی کی ضرورت کا مکمل استحصال کرتا ہے ۔
مسلمانوں کے دو طبقات خود مسلمانوں کو جس قدر لوٹ رہے ہیں شائد دشمنانِ اسلام بھی اتنا نہیں لوٹ سکتے۔ ایک سیاستدانوں کا طبقہ دوسرا وکیلوں کا۔ ان کے جھوٹ، فریب اور چالبازیوں سے ہر مسلمان بھائی پریشان ہے۔ ان میں یقینا کچھ لوگ اچھے ہونگے لیکن اکثریت نے پورے معاشرے کو برباد کردیا ہے۔ وکیل حضرات جب طلاق، خلع ، وراثت یا جرائم کے مقدمات لڑتے ہیں تو مقدمہ جیتنے کیلئے جو جو الزامات گھڑ کر فرقِ ثانی کو جو اگرچہ کہ ان کا ہی مسلمان بھائی ہوتا ہے، اسکو ہر طرح ہرانے کی کوشش کرتے ہیں دوسرا کتنا ذلیل ہوجائے۔ اسکے علاوہ ڈاکٹروں کا طبقہ بھی ہے جو غیر قوموں کی طرح اپنی قوم کے ہی لوگوں کو بے رحمی سے لوٹ رہاہے۔
خطبہحجۃ الوداع کا دسواں اہم نکتہ : وراثت کے احکام اللہ کے حدود ہیں
ان اللہ قد اعطی لکل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث۔ (ترمذی 2046) اے لوگو! اللہ نے میراث میں ہر وارث کا حصہ مقرر کر دیا ہے ۔ اور وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔
آج عدالتوں میں جتنے مقدمات خاندانی قضیات سے متعلق ہیں ، ان میں سب سے زیادہ حقِ وراثت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر مسلمان صرف حقِ وراثت کے قانون کو صرف اپنے اپنے گھر سختی سے نافذ کر دیں تو ساری عدلیہ ان کے قدموں میں ہوگی۔ اگرچہ نمار ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور جہاد جیسے اہم ترین فرائض قرآن میں بیان ہوئے ہیں لیکن کہیں کسی حکم کے ضمن میں "تلک حدود اللہ" کے الفاظ سے تنبیہ نہیں کی گئی لیکن وراثت کے ضمن میں یہ تنبیہ آئی ہے۔ وراثت کے حکم کی خلاف ورزی اللہ کے لائن آف کنٹرول [LoC] کو تجاوز کرنے کے مترادف ہے ۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان پاکستان یا فلسطین اسرائیل کی سرحد کے اندر ایک قدم بھی رکھ دینے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟وراثت کے احکام کی خلاف ورزی کا صرف ایک بدترین نتیجہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
غریب و متوسط طبقے میں آج ایسے لاکھوں نوجوان ہیں جن کے والد کی کوئی نہ کوئی جائداد تھی جو آج بھی اگر موجود ہوتی تو اس کی مالیت لاکھوں میں ہوتی مگر بیٹیوں یا بہنوں کے جہیز اور ان کی "معیاری شادی" کے نام پر اسے فروخت کرنا پڑا اور یوں آج ان کی نوجوان اولادیں معمولی نوکریوں پر مجبور ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے تجارت کرنے والوں کے لیے رزق کے 9 دروازوں کی بشارت دی ہے لیکن یہ بچارے نوجوان اپنی ساری زندگی قرض اور سود چکانے میں گزار دیتے ہیں اور اپنی خود کی اولاد کو معمولی اسکولوں اور کالجوں یا مدرسوں میں پڑھانے پر مجبور ہیں۔ سارا سرمایہ تو ان کے داماد یا بہنوئی کھا چکے ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک باپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، باپ کا کل سرمایہ ہی آٹھ دس لاکھ کا ہے ۔ اب وہ یہ سرمایہ بیٹوں کو تجارت کے لیے دینے کے بجائے بیٹیوں کے جہیز پر خرچ کر دیتا ہے ۔ اگر وہ بیٹوں کو دینا بھی چاہے تو عام طور پر ہوتا یہی ہے کہ اس کی بیوی اپنے بیٹوں کو نظرانداز کر کے اپنی بیٹیوں کے لیے سب کچھ خرچ کروا دیتی ہے ۔ بیٹے بچارے ٹیکسی ، آٹو یا رکشہ چلانے یا پھر الکٹریشن ، پلمبر ، سیکریٹری یا کلرک جیسی معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے باپ ہی کی طرح سدا مفلوک الحال بنے رہتے ہیں۔باپ کے انتقال پر جب مکان کی وراثت کی بات نکلتی ہے تو بیٹیاں اپنے شوہروں کے ساتھ حصہ مانگنے کے لیے آ دھمکتی ہیں۔ ایسے نفسا نفسی کے وقت میں بیٹے اپنی ہی بہنوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک تو وہ جہیز کی شکل میں اپنا حصہ وصول کر چکی ہوتی ہیں۔
جہیز ہندو مت میں وراثت کی ایک شکل ہے اس لیے ان کے ہاں عورت کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ لیکن اسلام میں جہیز حرام ہے کیونکہ یہ ایک رشوت، بھیک، اسراف، تبذیر، مشرک قوم کی تقلید، فتنہ، سوشیل بلیک میل اور فخر و ریا سے پُر ہے ۔ دوسری طرف لڑکیوں کو وراثت کے حق سے محروم رکھنا بھی دوسرا حرام کام ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جہیز دینے کے بعد عورت کا میراث میں حصہ شرعاً ختم کیا جا سکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ ناممکن ہے ۔ ہاں جہیز کو ضرور ختم کیا جا سکتا ہے ۔ ہر وہ شخص جس نے جہیز وصول کیا ہے یا کرنے والا ہے وہ اچھی طرح جان لے کہ وہ جہیز کی صورت میں کسی غریب بھائی یعنی لڑکی کے بھائی کی وراثت پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ وہ اسکو تجارت کرنے کے حق سے روک کر نوکری کی غلامی اختیار کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ اور قیامت میں اللہ کی حدود تجاوز کرنے کے جرم میں اس کی ضرور پکڑ ہوگی۔

خطبہ حجۃ الوداع کا گیارہواں اہم نکتہ : اپنے نوکروں کا خیال رکھو
ارقائكم ارقائكم ارقائكم غلاموں کا خیال رکھو ، غلاموں کا خیال رکھوغلاموں کا خیال رکھو (مسند احمد 15813)
دنیا کا کوئی چارٹر ایسا نہیں جس میں نوکروں ، ماتحتوں یا غلاموں کے حقوقِ انسانی کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہو۔ مزدوروں کے حقوق پر تو کئی چارٹر بنے ہیں لیکن مالکوں کو کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر نوکروں کے ساتھ ناانصافی کی گئی تو یومِ آخرت اس کی بھی پوچھ ہوگی۔ آج غلاموں کا دور نہیں رہا لیکن غربت و افلاس نے انسانوں کو ان غلاموں سے بدتر بنا دیا ہے جو عہد قدیم میں ہوا کرتے تھے ۔
ہم اگر تفصیل میں گئے بغیر اپنا اپنا جائزہ لیں تو سمجھ میں آ جائے گا کہ اس حکم کا خود ہم پر کیا تقاضا ہے ؟ بہتر ہوگا پہلے ہم اپنے اپنے گھر کی خادماؤں کا انٹرویو کریں، ہر نوکرانی کی ایک ہی کہانی ہے ۔ شادی ہوئی مگر شوہر شرابی اورکاہل نکلا۔ جہیز اور زیور بیچ کر بھاگ گیا ، بے چاری تین چار چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ شہر آ گئی۔ وہ بچے اور بچیاں نہ کبھی اسکول گئے اور نہ مدرسہ۔ بچیاں بڑی ہوتی گئیں اور دوسرے گھروں میں نوکر بن گئیں اور بچے دکانوں اور کارخانوں میں لگ گئے ۔لاکھوںکی تعداد میں مسلمان بچیاں آج ہندو گھروں اور کارخانوں میں نچلے کاموں پر نوکری کررہی ہیں اور دوسرے مذاہب میں اگر ضم ہورہی ہیں۔ اگر نہیں بھی ہورہی ہیں تب بھی اسلام اور مسلمانوں کیلئے باعثِ شرم ہیں۔ اور یہ تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے ۔ آئیندہ دس تا پندرہ سالوں میں ان پڑھوں کی یہ تعداد جو بڑھے گی تو وہ لاکھوں میں ہوگی۔ ان کی اکثریت کی وجہ سے یہ پوری قوم کی شناخت یا علامت بن جائیں گے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص ان نوکرانیوں ، یا ڈرائیور یا ملازمین کے صرف ایک بچے کی مکمل تعلیم کا ذمہ لے لے اور اس کو اسی معیار پر تعلیم دلائے جس معیار کی تعلیم اپنے بچے کو دلا رہا ہے ۔ تب یہ بات سامنے آئے گی کہ کسی امیر کا بچہ محنت سے پڑھ کر اتنی ترقی نہیں کرے گا جتنا کہ ایک غریب نوکرانی کا بچہ کچھ بن کر دکھائے گا۔ قوم میں تعلیم کو عام کرنے کی یہ بھی ایک معقول صورت ہے ۔

خطبہ حجۃ الوداع کا بارہواں اہم نکتہ: میرے بعد ایک دوسرے کے گردنیں نہ مارنا:
فلا ترجعوا بعدي ضلا لا يضرب بعضكم رقاب بعض: میرے بعد جاہلیت پر نہ پلٹ جانا اور نہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنا۔( بخاری 4045، مسند احمد 19447)
کوئی شخص یہ نہیں کہے گا وہ جاہلیت پر پلٹ گیا ہے۔ کون کتنی جاہلیت پر ہے یہ جاننے کے لیے بہتر ہوگا اگر ہم ایک مرتبہ پھر ابولہب یا ابوجہل کی تاریخ پڑھیں۔ ۔ ابولہب کی کوئی بات جب مانی نہ جاتی اور اس سے کوئی اختلاف کرتا تو وہ غضبناک ہو جاتا اور اس کا چہرہ شعلے کی طرح لال ہو جاتا ۔ لوگ اسی لیے اس کو "ابولہب" یعنی شعلے والا کہتے جس پر وہ بڑا ہی نازاں ہوتا۔ اور ابوجہل کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک طرف معاملات میں بدعہدی کرتا ، لوگوں کا مال دبا لیتا اور کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ کوئی اس سے وہ مال وصول کرے۔ لیکن خدا پر اس کے یقین کا یہ عالم تھا کہ جب جنگِ بدر کیلئے نکل رہا تھا تو کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر اس نے دعابھی کی تھی کہ اے خدا جو حق پر نہیں ہے تو اسک ہلاک کردے۔
دنیاوی معاملات ہوں یا دینی ، آج اگر ہم اپنے اطراف نظر دوڑائیں تو محسوس ہوگا کہ ہر جانب ابولہب اور ابوجہل بھرے پڑے ہیں۔ہماری جاہلیت کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔
جہالت کی سب سے بڑی نشانی غصّہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہؓ نے فرمایا تھا "شریف آدمی کو غصّے کے وقت اور رذیل کوخوشی کے وقت آزماو" ۔ تعلیم یافتہ ہوں کہ ان پڑھ، عالم ہوں کہ جاہل ان تمام کو جب غصّہ آتا ہے تو ان کے متعلقین سے پوچھئے کہ یہ لوگ کیاکیا حرکتیں کرتے ہیں۔ اور اسیطرح جب کوئی خوشی کا موقع آتا ہے تو اسراف و تبذیر کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ ہر بدعت اور ہر ناجائز کو کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ "اللہ اور اسکے رسول ﷺ کا صدقہ ہے"۔
جہالت کی دوسری نشانی یہ ہیکہ اتّخذوا اھبارھم و رہبانہم ارباباً من دون اللہ ۔(بقرہ)کے مصداق اپنے لیڈر یا مرشد یا امیر کہہ دیں اسی کو حق مان لینا اور اس پر اڑ جانا۔ شخصیت پرستی ، قبیلہ پرستی، جماعت پرستی میںاس قدر ڈوب جانا کہ جو بھی اس سے اختلاف کرے اس کے ساتھ ہر قسم کی ناانصافی اور بدسلوکی، بحث، حجّت و تکرار، مارپیٹ، تحقیر و تکفیر کو جائز سمجھنا۔ ان کے بزرگ جس کو حلال کہہ دیں اسی کو حلال کرلینا اور وہ جس کو حرام کہہ دیں اس کو حرام کرلینا۔ ان کی تحریروں کے علاوہ کسی کی تحریر یا تقریر کو نہ سننا، نہ سمجھنا نہ قابلِ اعتنا سمجھنا۔ یہ بیماری ہر جماعت میں ہیکہ اپنی کتابوں کے علاوہ نہ کسی اور کتاب کو ہاتھ لگاتے ہیں نہ کسی اور کام میں کسی قسم کا تعاون کرتے ہیں۔
جہالت کی تیسری نشانی یہ ہیکہ خوشی یا غم کے موقعوں پر بجائے اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کے اپنے باپ
دادا ، امّاں، نانی اور دادی کے طریقوں پر چلنا۔
جہالت کی ایک اور نشانی جو تعلیم یافتہ اور سمجھدار نظر آنے والے طبقے میں زیادہ پائی جاتی ہے وہ یہ اختلاف رائے کرنے والوں کے خلاف طیش میں آجانا، قطع کلامی کرنا۔ ہر کام میں اپنے نام کی شہرت تلاش کرنا۔ گفتگو میں "میں، میں" مسلسل استعمال کرنا، اپنے باپ دادااور خاندان کی شان بگھارنا، سوسائٹی کے نامور لوگوں کی دوستی اور ان کے طور طریق اختیار کرنا، دوسروں کی عورت پر نظر رکھنا اور اپنی عورتوں کو سات پردوں میں چھپانا، طاقتور کے آگے جھکنا اور کمزور کو دبانا، ناچ گانے لہو و لعب اور آرٹ اور کلچر کے نام پر مجمع اکھٹا کرنا اور فضول خرچی و ریاکاری کو کلچر بنالینا،
بعینہ یہی وہ جاہلیت تھی جس کا ابولہب اور ابوجہل کی خصوصیات میں شمار تھا۔ جس طرح ہر شخص چاہتا تھا کہ کعبہ پر اس کا پسندیدہ بت ایستادہ رہے ، اس لیے وقت واحد میں 360 بت کعبے پر موجود ہوا کرتے تھے اسی طرح مساجد میں بھی سیاسی جماعتوں جیسی دو دو تین تین انتظامی کمیٹیاں متوازی سطح پر چلتی ہیں۔اماموں اور خطیبوں کے گروپ بن جاتے ہیں۔ ایک ہی عقیدے ، مسلک اور جماعت کے اندر بھی کئی کئی گروپس بن جاتے ہیں۔ بڑی شان سے انجمنیں بنتی ہیں اور دو چار سال میں ہی کئی انجمنوں میں تقسیم بھی ہو جاتی ہیں۔یہ تمام مظاہر در اصل اسی دورِ جہالت کی غمّاز ہیں جو "انانیت" کی وجہ سے دورِ جہالت میں عام تھے۔

حجۃ الوداع کا تیرہواں اہم نکتہ : قرض لے کر وقت پر واپس کیا کرو
العارية موداة المنحة مردودة والدين مقضي الزعيم غارم (ترمذی 2046)
ادھار لی ہوئی چیز واپس کی جائے۔ دودھ پینے کیلئے جو جانور کسی نے دیا ہو اسے لوٹایا جائے۔ لیا ہوا قرض ادا کردیا جائے۔ جو شخص قرض کی ضمانت لے گا وہ ذمہ دار ہوگا وہ ذمہ داری نبھائے۔
آج مستحق آدمی کو کوئی قرض نہیں دیتا جس کی وجہ سے بے چاروں کو سود پر پیسہ لینا پڑتا ہے۔ اس کے ذمہ دار مالدار لوگ نہیں بلکہ وہ پیٹ بھرے لوگ ہیں جو قرض لے کر وعدے کے مطابق واپس نہیں کرتے اور دینے والے کو مجبور کرتے ہیں کہ آئندہ اگر کوئی ان سے مانگنے آئے تو انکار کردیں۔ ایسے بے شمار لوگ جو حج اور عمرے بھی کرتے ہیں۔ قرض لے کر کبھی وقت پر واپس نہیں کرتے اگرچہ کہ ان کی استطاعت ہوتی ہے۔ ایک تو یہ ایمان سے محروم ہوجاتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا ایمان لہ لمن لا عہد لہ۔ جس نے عہد کی پابندی نہیں کی اسکا کوئی ایمان نہیں۔لیتے وقت پوری عاجزی کے ساتھ التجا کرنا اور لوٹانے کی تاریخ طئے کرنا اسکے بعد تاوقتکہ دینے والا بار بار یاد نہ دلائے اسکو لٹکائے رکھنا۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو زمین خریدنے پیسہ لیتے ہیں اور مکان تعمیر کرکے کرایے آنے تک قرض ادا نہیں کرتے۔ کئی لوگ پہلے بچے کی زچگی کے وقت پیسے لیتے ہیں اور اسکی شادی تک بھی ادا نہیں کرتے۔ کئی لوگ بڑے بھائیوں، سالوں اور بہنوائیوں کے پیسے پر ویزے خرید کر آجاتے ہیں اور نوکریا ں ملنے کے بعد بھی پیسوں کی ادائیگی نہیں کرتے ۔ ایسے بے شمار لوگ ہمارے اطراف نظر آتے ہیں جو قرض کے معاملے میں قطعی ناقابلِ اعتبار ہیں۔ یہ لوگ معاشرے کو نقصان پہنچانے والے لوگ ہیں۔ ایسے ہی لوگوںکے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو قرض لے اور وقت پر ادائیگی نہ کرے اگرچہ کہ استطاعت رکھتا ہو تو ایسے شخص کو سب کے سامنے ذلیل کرو۔ تاکہ دینے قرض دینے والوں کے پاس اگر کوئی مستحق آئے تو انہیں ایسے قرض لے کر ستانے والوں کے تجربے کی وجہ سے انکار نہ کرنا پڑے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو واقعی لاچار ہیں اور ادا نہیں کرسکتے ایسے لوگوں کو قرض دے کر مہلت دینے والے اور معاف کردینے والے کے لئے بخشش کی بشارت ہے۔
خطبہ حجۃ الوداع کے مزید اور بھی نکات ہیں جو ایک طاقتور اخلاقی معاشرے کی بنیاد ہیں جن پر انشااللہ آئندہ کبھی تفصیل سے گفتگو ہوگی ۔ جیسے
14۔ کسی مسلمان کو دھکّا دینا بھی حرام ہے۔
و حتي دفعة دفعها مسلم مسلما يريد به سوء احراما (مسند البزار 3752)
اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اذیت پہنچانے کے ارادے سے دھکّا بھی دیتا ہے تو یہ بھی حرام ہے۔
15۔ کسی بھی مسلمان کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔
مسلمان کی حرمت مسلمان کیلئے اسی طرح ہے جیسے آج کے دن کی۔ ایک مسلمان کیلئے دوسرے مسلمان کی غیبت کرنا، بے عزتی کرنا، تھپڑ مارنا، اسکا خون بہانا، اسکا ظلم سے مال لے لینا، اسکو اذیت پہنچانا اور حتی کہ اسکو دھکّا دینا تک حرام ہے۔ (طبرانی، مسند الشامیین 1667)
16۔ پڑوسی کے حقوق بہت سخت ہیں۔
عن ابو امامه اوصيكم بالجار فاكثر حتي قلت انه سيورثه
"میں تمہیں پڑوسی کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتا ہوں (کہ اس کے خیال رکھو)۔ ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے یہ بات اتنی مرتبہ کہی کہ مجھے گمان ہوال کہ آپ پڑوسی کو وراثت کا حقدار قرار نہ دے دیں۔ (طبرانی، مسند اشامیین 823)
17۔ مومن، مسلم، مجاہد اور مہاجر کی تعریف
الا اخبركم بالمومن من امنه الناس علي اموالهم انفسهم المسلم من سلم الناس من لسانه و ديده والمجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله المهاجر من هجر الخطايا والذنوب (مسند احمد 22833 ، طبرانی ، مسندالشامیین1667)
سنو؛ کیا میں تمہیں بتاوں کہ مومن کون ہے؟ وہ جس سے لوگ اپنے مالوں اور جانوں کو محفوظ سمجھیں۔ اور مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔ اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو گناہوں اور خطاوں کو ترک کردے۔
18۔ اپنے مانباپ اور پھر رشتہ داروں پر خرچ کرو
يد المعطي العليا امك و اباك ا ختك و اخاك ثم ادناك فادناك دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتاہے۔ پہلے اپنے مانباپ پر اور بہن بھائیوں پر خرچ کرو پھر درجہ بدرجہ اپنے قریبی رشتے داروں پر۔ (مسند احمد 16018، المعجم الکبیر 484)
19۔ عورتیں زیادہ سے زیادہ صدقہ کریں کیونکہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہونگی۔
تصدقن ولو من حليكن فانكن اكثر اهل النار (المعجم الکبیر 24۔210)
اے خواتین؛ زیادہ سے زیادہ صدقہ کرو چاہے اپنے زیورات ہی نکال کر دے دو کیونکہ اہل جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہے۔
20۔ باپ کی زیادتی کا بدلہ بیٹے سے یا بیٹے کا بدلہ باپ سے نہیں لیا جاسکتا۔
الا لا يجني جان الا علي نفسه الا لا يجني والد علي ولده ولا ولد علي والده
خبردار ؛ کوئی بھی زیادتی کرنے والا اسکا خمیازہ خود ہی بھگتے گا۔ سنو؛ نہ باپ کی زیادتی کا بدلہ اسکے بیٹے سے لیا جاے اور نہ بیٹے کی زیادتی کا بدلہ اس کے باپ سے۔ (ترمذی 3012)
21۔ خدا کی قسم۔۔ اللہ کی قسم۔۔۔ رب کعبہ کی قسم۔۔۔ ایسی قسمیں کھانے والوں سے
لاتالوا علي الله فانه من تالي علي الله اكذبه الله (المعجم الکبیر 7898)
قسم کھاکر اللہ پر کوئی بات لازم نہ کرو کیونکہ جو ایسا کرے گا اللہ اسکوو جھوٹا کر دکھائے گا۔
22۔ رسول اللہ ﷺ قیامت کے روز ہر ایک شفاعت کرینگے لیکن۔۔۔۔۔
الا ان كل نبي قد مضت دعوته الا دعوتي فاني قد ادخرتها عند ربي الي يوم القيامة ۔(طبرانی ، المعجم الکبیر 7632) رايت النبي ﷺ في حجة الوداع فسمعته يقول اعطيت الشفاعة (ابن حجر، الاصابه 1136) الا و اني فرطكم علي الحوض انظركم و اني مكاثر بكم الامم فلا تسودوا وجهي الا و قد رايتموني و سمعتم مني و ستسالون عني فمن كذب علي فليتوبوا مقعده من النار الا و اني مستنقذ رجالا او اناثا و مستنقذ مني آخرون فاقول يا رب اصحابي فيقال انك لا تدري ما احدثوا بعدك (مسند احمد 22399، نسائي السنن الكبري 4099، ابن ماجه 3048)يا معشر القريش لا تجيئوني بالدنيا تحملونها علي اعناقكم و يجئي الناس بالآخرة فاني لا اغني عنكم من الله شيئا۔ (المعجم الكبير 18۔12، رقم 16)
سنو؛ ہر نبی نے اپنی مخصوص دعا (دنیا میں ہی ) مانگ لی ہے۔ جبکہ میں نے اپنی خاص دعا مانگنے کا حق قیامت کے دن تک کیلئے اپنے رب کے پاس محفوظ رکھا ہوا ہے۔ (طبرانی) مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔ (ابن حجر) اور غور سے سنو: میں تم سب سے پہلے حوض پر پہنچ کر تمہارا منتظر ہوں گا۔ اور میں تمہاری کثرت کو ا دوسری امتوں پر ظاہر کرونگا۔ اسلئے مجھے رسوا نہ کرنا۔ سنو؛ تم نے مجھے دیکھا، مجھے سنا، تم سے میرے بارے میں پوچھا جائیگا۔ پس جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اس نے اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالیا۔ سنو؛ (قیامت کے دن) میں کچھ لوگوں کو بچالوں گا۔ لیکن کچھ لوگوں کو مجھ سے چھین لیا جائیگا۔ میں کہوں گا کہ یا اللہ یہ میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائیگا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیسی کیسی بد اعمالیاں انجام دی ہیں۔ (مسند احمد) اے گروہ قریش ایسا نہ ہو کہ (قیامت کے دن) تم اپنی گردنوں پر دنیا کو اٹھائے ہوئے آو اور دوسرے لوگ آخرت کا سامان لے کر آئیں۔ کیونکہ میں اللہ کی پکڑ کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام نہ آوں گا۔
23۔ میری باتوں کو دوسروں تک پہنچادو، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوں گے
الا ليبلغ شاهدكم غائبكم لا نبي بعدي ولا امة بعدكم
تم میں سے جو موجود ہیں وہ یہ باتیں ان تک پہنچادیں جو موجود نہیں ہیں۔ نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی اور امت۔ (مسند الرویانی 1416)
24۔ اللہ اس پر رحمت کرے جو میری باتیںیادکرے اور دوسروں تک پہنچائے۔
ايهاالناس اني والله لا ادري لعلي لا القاكم بعد يومي هذا بمكاني هذا فرحم الله من سمع مقالتي اليوم فوعاها فرب حامل فقه ولا فقه له و رب حامل فقه الي من هو فقه منه (دارمی 229، مستدرک حاکم 294)
اے لوگو؛ بخدا مجھے معلوم نہیں کہ آج کے بعد میں اس جگہ تم سے دوبارہ مل سکوں گا یا نہیں۔ پس اللہ اس شخص پر رحمت کرے جس نے آج کے دن میری باتیں سنی اور انہیں یاد کیا۔کیونکہ کئی ایسے ہوتے ہیں جنہیں سمجھ داری کی باتیں یاد ہوتی ہیں لیکن انہیں ان کی سمجھ نہیں ہوتی۔ اور بہت سے لوگ سمجھ داری کی باتوں کو یاد کرکے ایسے لوگوں تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں۔

ان کے علاوہ بھی اس خطبہ میں اور اہم نکات ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری تمام سنّی، شیعہ علما، جماعتوں، مسلکوں اور سلسلوں سے درخواست ہیکہ اب شیعہ، سنّی، بریلوی، دیوبندی، سلفی، اہلِ حدیث، پرویزی اور جماعت المسلمین وغیرہ جیسے فرقوںکی بحث سے باہر آئیں اور اس امت کی نشاۃ ثانیہ کی خاطر ان عنوانات پر کام کریں جو اصل دین ہیں۔ جن سے اسلام اس دنیا میں قائم ہوسکتا ہے۔ آج دنیا کو آپ کے حُلیوں کی ،رنگوں کی، عقیدوں کی بحثوں کی، ماتم کے جلوسوں کی، جلسوں اور مناظروں کی ضرورت نہیں۔ دنیا آپ کے مذہب میں انسانیت، انسانی خون کے احترام، عورتوں کے حقوق کی حفاظت، عدل و مساوات، حلال کمائی، نظامِ معیشت، نظامِ سیاست اور نظام معاشرت دیکھنا چاہتی ہے۔ دنیا اسکی پیاسی ہے۔ اگر ہم تمام مل کر اس خطبہ حجۃ الوداع کے چارٹر کو لے کر اٹھیں تو کیا عجب ہیکہ دنیا کو پھر کسی چارٹر کی ضرورت نہ پڑے اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا شروع ہوجائیں انشااللہ۔

و آخر دعونا عن الحمد للله رب العٰلمين۔

  • Share/Bookmark

3 تبصرے

  1. Shahid khan :

    لا جواب ھے

  2. Hasan :

    اپنے نام کے بر عکس سمجھ سے بالا تر ہے کہ جناب لکھنا کیا چاہتے ہیں ۔ اپنے ذاتی نظریات سے ہٹ‌کر لکھنا تھا جناب لیکن آپ نے اپنے ذاتی نظریے کو ہئ جگہ جگہ ٹھونسا ہے۔ جیسے ٹائٹل میں‌ آپ نے شیعہ حضرات کا بھی لکھا لیکن مضمون میں‌ان کے نقظہ نظر سے ایک لفظ بھی نہیں‌بلکہ الٹا واقعہ کربلا جو کہ نا صرف اہل تشیع بلکہ اہل اسلام کے لیے ایک انتہائی حساس موضوع ہے اس کو جس طرح بھونڈے ترین انداز میں‌ تحریر کیا ہے اس سے آپکی یزید سے قربت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یاں پھر آپ نے سعودیہ رہنے کا حق ادا کیا ہے۔

  3. Abdul Rahman Baig :

    لا جواب ھے

تبصرہ کیجئے