Skip to content
 

جہیز - کیا صرف اخلاقی اور سماجی برائی ہے ؟

ہمیں حیرت ان نام نہاد تنظیموں پر بھی ہوتی ہے جنہیں ہر جگہ اسلام خطرے میں نظر آتا ہے اور وہ سینکڑوں معصوم ذہن نوجوانوں کو ” جہاد “ کا نعرہ دے کر ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھا لینے پر اکساتی ہیں اور ان معصوموں کو کبھی جیل اور کبھی قبرستان پہنچا دیتی ہیں ۔ یہ تنظیمیں اگرخود مسلم معاشرے پرنظر ڈالیں تو انہیں نظر آئگا کہ امریکہ اسرائیل یا ہندو فاشسٹ گروہوں نے امت کو اتنا زیادہ نقصان نہیں پہنچایا جتنا ان جوڑا جہیز کے بھکاریوں نے ” سسٹم “ کے نام پر پہنچایا ہے۔

ہمیں حیرت ان دعوتی سماجی فلاحی اور تعلیمی تنظیموں پر بھی ہوتی ہے جن کا جمع و خرچ لاکھوں بلکہ کروڑوں میں ہے لیکن اس سے حقیقی استفادہ کرنے والوں کی تعداد چند ہزارتک پہنچتی ہے جبکہ جہیز کی لعنت سے متاثرہ افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے ان کی مدد نہ صرف امتِ اسلامیہ کو اخلاقی اور معاشی طور پر مستحکم کر سکتی ہے بلکہ غیر مسلموں کے لئے یہ ایک عظیم دعوتِ فکر بن سکتی ہے۔ جہیز کی لعنت کو مٹانے کے لئے لاکھوں یا کروڑوں کے چندوں کی بھی ضرورت نہیں صرف افراد کی ضرورت ہے جو چندے عنایت فرما کر اپنے ضمیر کی ہی تسلی نہ کر لیں بلکہ اپنا وقت ، زبان ، قلم اور توانائاں صرف کریں لیکن بد قسمتی سے آج ہماری کسی تنظیم کے ایجنڈے میں ”افراد سازی“ شامل نہیں ہے۔

ہمیں حیرت تو اس تعلیم یافتہ طبقہ پر زیادہ ہوتی ہے جسے اچھی طرح معلوم ہے کہ شادی اور جہبز پر پیش آنے والے خرچ کو کمانے میں کتنی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور ایک باپ یا بھائی اتنا کمانے کے لئے زندگی کے کتنے سال پیچھے ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ہر شخص اس خود فریبی میں مبتلا ہے کہ جو کچھ خرچ کیا جا رہا ہے وہ لڑکی والوں کی خوشی سے ہے ۔ کہنے کو ہمارا معاشرہ Male Dominated ہے لیکن یہ غلط فہمی ہے۔ عرب یا مغربی معاشرہ یقیناً Male Dominated معاشرہ ہے جہاں عورت کے حقوق سلب ہیں طلاق ایک کھیل ہے لیکن ہمارا ہند و پاک کا معاشرہ مکمل Female Dominated معاشرہ ہے مردوں کی اکثریت وہ ہے جن کی عورتوں کے مقابل ایک بھی نہیں چل سکتی ساری عمر وہ کماتے ہیں اور ساری بچت وہ ان رسوم و رواج پر خرچ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جو رسم و رواج عورتوں کے بنائے ہوئے ہیں نتیجہ یہ کہ آخری عمر میں بیٹوں اور بہوؤں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں !
یقیناً عذاب کی کئی شکلیں ہیں لیکن سب سے بری شکل یہ ہے کہ آدمی کو ساری عمر کما کر بھی بڑھاپے میں ضعیفی کی عمر میں اولاد یا بہو و داماد کا محتاج ہونا پڑے ۔ جہاں دامادوں کے ہاتھوں انہیں احسان اٹھانا پڑے اور بہوؤں کے ہاتھوں ان کی خود داری کو ٹھیس پہنچے۔

ہمیں حیرت تو اس عورت پر ہوتی ہے جو شادی تک تو پسند کئے جانے اور رد کئے جانے کے رسوا کن اور عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچانے والے سسٹم کے آگے بے بس ہوتی ہے پھر اس کے بعد جوڑے جہیز کی رشوت دے کر اسے اٹھانا پڑتا ہے۔ یہاں تک تو عورت بے حد مظلوم ، بے بس اور قابلِ رحم ہوتی ہے۔ اسے اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے ماں باپ اور بھائی اس کی شادی کے لئے کمائی کرتے کرتے کتنا ٹوٹ جاتے ہیں لیکن جب یہی مظلوم عورت کی ایک بہن یا ماں کی صورت میں اپنے ارمان یا اپنے بھائی یا بیٹے کے ارمان پورے کرنے کی باری آتی ہے تو وہ معاشرے سے پورا پورا بدلہ لیتی ہے۔
حقیقت میں عورت ہی عورت کی دشمن ہے !
حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ یہی عورت یہ عزم کرتی کہ وہ اپنی بھابی یا بہو جو دلہن بن کر آئے گی اسے اور اس کے ماں باپ کو اس ظلم سے نجات دلائےگی جس ظلم کا وہ خود شکار ہو چکی ہے۔ کئی جگہ تو یوں ہوتا ہے کہ لڑکے والے اگر سادگی بھی چاہتے ہیں تو خود لڑکی کی ماں ، شوہر کی کمائی کو بزور زبردستی پھونک ڈالتی ہے۔ اس پورے جہیز کے چلن کے پسِ پردہ یہ خوف ہوتا ہے کہ لڑکی پر شادی کے بعد کوئی انگلی نہ اٹھائے۔
کون ہے جو انگلی اٹھاتا ہے ؟
یہی عورت جو تبصروں ، طعنوں یا مشوروں کی شکل میں جہیز کے نظام کو مضبوط سے مضبوط تر کرتی چلی جارہی ہے گھر کے باہر مردانگی دکھانے والے بڑے بڑے پہلوان بھی گھر کے اندر کی اس ” نیوکلر طاقت “ کے آگے جھکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

خوشی سے دینا ایسا ہی ہے جیسے ایک باپ پولیس کے ہاتھوں غلط الزام کے نتیجے میں گرفتار ہو جانے والے بیٹے کو چھڑانے کے لئے خوشی سے رشوت دے دیتا ہے اور خوشی سے لینے والے اسے اپنا ویسا ہی حق سمجھ کر لیتے ہیں جیسے پولیس اپنا حق سمجھ کر بخوشی قبول کر لیتی ہے۔

آیئے ایک نظر ان نقصانات پر ڈالیں جو جہیز کی وجہ سے معاشرے کو پہنچ رہے ہیں۔

** خلیج یا امریکہ وغیرہ کی کمائی سے مستفید ہونے والے قارئین اس مسئلہ کی شدت کو محسوس نہیں کرتے۔
ملک کے اندر رہنے والے خوشحال افراد کے لئے چونکہ خوشی سے دینا آسان ہے اس لئے وہ افراد بھی جہیز کو ایک معمولی درجے کی اخلاقی یا سماجی برائی تصور کرتے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ ان افراد کی وجہ سے شادی کے پورے نظام کا ایک ایسا ماڈل وجود میں آچکا ہے جسے کروڑوں غریب اپنانے پر مجبور ہیں ۔ اسی ماڈل نے لڑکیوں کے دل میں حسرت و ارمان پیدا کر دیئے ہیں جسے پورا کرنے کے لئے مجبور باپ جھوٹ ، دھوکہ ، رشوت ، ڈاکہ اور قتل وغیرہ سب کچھ کرنے پر آمادہ ہیں ، پورا معاشرہ اولاد کے مستقبل کو جواز بنا کر اخلاقی تباہیوں کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

** مسلم ربزرویشن بل کی حالیہ بحث جو ہندوستانی ہائی کورٹ میں جاری ہے اس کے مطابق بیس کروڑ مسلم آبادی کا چالیس فیصد سطح غربت کے تحت ہے یعنی جس کی سالانہ آمدنی گیارہ ہزار روپے سے کم ہے اور %45 آبادی سطح غربت سے نیچے یعنی جس کی آمدنی سالانہ پانچ ہزار روپے سے کم ہے۔ غربت کے نتیجے میں بے شمار برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں جس میں لالچ ، حرص اور موقع کا فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے ۔ ایک مزدور یا رکشہ چلانے والا بھی کم سے کم پانچ ہزار روپے یا سامان کی شکل میں مانگنے لگا ہے جسے دینے کے لئے لڑکی کا باپ جو خود بھی ایک مزدور یا رکشہ چلانے والا ہی ہوتا ہے وہ باپ کن کن مشکلات سے گزرتا ہے اس کا قارئین کو شائد اندازہ ہو۔

** خاندانوں میں عام طور پر لڑکی کی شادی کے لئے چندہ خیرات زکوة وغیرہ کے مطالبے بڑھتے جا رہے ہیں جس امت کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جوتے کا ایک فیتہ بھی نہ مانگنے کا حکم دیا ہے اس امت میں عام طور پر بیٹی کی شادی کے لئے مانگنا ایک عام رواج بن گیا ہے۔

** خود دار اور شریف گھرانے زیادہ پس رہے ہیں وہ اپنے گھر ” کاروبار “ وظیفے وغیرہ بیچنے پر مجبور ہیں۔

** لاکھوں لڑکیاں پڑھائی اور کمائی پر مجبور ہیں عظمتِ نسواں نیلام ہو چکی ہے ، مرد کمانے والی بیویاں ڈھوندھ رہے ہیں۔

** مجبور لڑکیاں غیر مسلمانوں سے شادی یا فحاشی پر مجبور ہیں۔

** قوم میں ذہین اور بہترین قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والے افراد کی اگرچہ کمی نہیں لیکن بہنوں اور بیٹیوں کی شادی کے بوجھ نے انہیں قوم کی ذمہ داریوں سے دور کر دیا ہے نتیجہ یہ ہے کہ آج قوم کی اکثریت مزدور ، ڈرائور ،الیکٹریشین یا سیکریٹری کلرک وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اگر شادیوں کے بوجھ سے نجات مل جائے تو لاکھوں افرادِ قوم کو ایسے مواقع میسر آئنگے جو امتِ مسلمہ کی نشاطِ ثانیہ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

** قاضی حضرات اور وکیل حضرات کے آفس طلاق اور خلع کے کیسس سے بھرے پڑے ہیں۔

حل :

** ” انکاح من سنتی “ کے مطابق ہر شخص ویسا ہی نکاح کرے جیسے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا اور جیسے کہ حضرت علی و فاطمہ (رضی اللہ عنہم) نے نکاح کیا۔
** ان تمام شادیوں کا بائیکاٹ کیا جا ئے جن میں سنت کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔
** منگنی ، سانچق ، نکاح کے دن کا کھانا ، چوتھی و جمعگی وغیرہ قطعی ناجائز ہیں ۔ اس میں شرکت حرام کاموں کی ہمت افزائی کرنے کے مترادف ہے ۔ ایسی رسموں سے دوری اختیار کی جائے۔
** جہیز چاہے وہ خوشی سے دیا جارہا ہو ایک رشوت ہے اور رشوت حرام ہے ۔ خوشی سے لینے والے خود ہی اپنا انجام سوچ لیں۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے