Skip to content
 

بھارت رتن یا بھارت رہن؟

ہم آج تک اس خوش فہمی میں جی رہے تھے کہ بے شمارفسادات بشمول گجرات، انہدامِ بابری مسجد، اڑیسہ میں چرچوں کے جلایئے جانے جیسے بے شمار غیر انسانی سازشوں کو آر ایس ایس پریوار بھلے اپنی زبان سے تسلیم نہ کرے لیکن اس کے لیڈروں کے ضمیر پر تو یقیناً بوجھ ہوگا لیکن ایڈوانی کی جانب سے واجپائیکے لئے بھارت رتن ایوارڈ کا مطالبہ سن کر اس قول کی صداقت سمجھ میں آئیکہ کمالِ جرم جرم کرنا نہیں بلکہ اس پر ڈھٹائی دکھانا ہے بس تھوڑی سی بے حسی اور بے ضمیری کی ضرورت ہوتی ہے اگر آدمی وہ اختیار کر لے تو جرم جرم باقی نہیں رہتابہادری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایڈوانی کا واجپائیکے حق میں بھارت رتن کا مطالبہ کرنا ڈھیٹ پن کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

کوئی ایماندار ہندوستانی کیا یہ سوچ سکتا ہے کہ جس شخص کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے ہزاروں انسان گجرات میں قتل کر دئے گئے ،، بستاں جلادی گیٔںاور سینکڑوں معصوموں کو ٹاڈا پوٹا اور انکاؤنٹر میں ختم کر دیا گیا یا ان کے مستقبل کو تاریک کر دیا گیا ہندوتوا کے نام پر ہندو دہشت گردی کو بھرپور فروغ ملا۔ عدلیہ انتظامیہ اور فوج و پولیس میں سینکڑوں فرقہ پرست کار سیوک داخل کر دئے گئےایسے شخص کا نام بھارت رتن کے لئے کیا سوچا جا سکتا ہے؟ اگر واجپائیکا نام بھارت رتن کے لئے سوچا جا سکتا ہے تو پھر گوڈسے اور داؤد ابراہیم کا نام بھی تجویز کیا جانا چاہئےکیونکہ جس طرح واجپائیجہاں ایک بڑے طبقے کی نظر میں ملک کو دھرم کی بنیاد پر نفرت اور فساد کی آ گ میں ڈھکیلنے کے مجرم ہیں وہیں ایک دوسرے طبقے کے لئے ہیرو ہیں اس طرح گوڈسے اور داؤد ابراہیم بھی ہیں جنہوں نے اپنی قوم کو بچانے کے جذبے سے وہ کام کئےجو غیر انسانی تھے جن سے ملک تو تباہ ہوا لیکن ان کی قوم کی نظر میں وہ ہیرو بن گئے۔

اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں جتنی NGOS تنظیمیں، جماعتیں اور ادارے ہیں وہ فورم کی سطح سے یا انفرادی طور پر تمام لوگ ملک کے عظیم ترین ایوارڈ بھارت رتن کی عظمت و وقارکو بچانے کے لئے آگے آیٔنگے۔ فرقہ پرستی اور دہشت پسندی کا ریکارڈ رکھنے والی جماعتوں کے افراد کے ہاتھوں اگر یہ ایوارڈ چلا جائے تو نہ صرف یہ اس با وقار ایوارڈ کی توہین ہوگی بلکہ مستقبل میں ایسے کئی افراد کے لئے اس ایوارڈ کو پانے کے لئے راستے ہموار ہو جایٔنگے جنہوں نے دھرم ، ذات یا زبان کے نام پر ملک کے وقار کو داؤ پر لگا دیا۔ بھارت رتن کے الفاظ سے ہی اس کو حاصل کرنے والے کا ایک ایسا پاک تصور ابھرتا ہے جو پورے ملک کا یکساں چاہا جانے والا شخص ہو سکے جس کے بارے میں ہر مذہب پر زبان اور ہر علاقے کا شخص یہ رائے رکھتا ہو کہ وہ ملک کا سچا وفادار ہے۔

ایک سیکولر اور جمہوری ملک میں جہاں ایڈوانی کو یہ حق حاصل ہے کہ واجپائیکے لئے بھارت رتن ایوارڈ کی تجویز پیش کرے وہیں تمام جمہوریت پسند سیکولر ذہن رکھنے والے افراد کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسی غلط تجاویز جن سے ملک کے وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہو ان کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کریں۔ لوگوں کو چاہئے کہ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ ان تمام جماعتوں اور لیڈروں تک اپنی رائے پہنچایٔںجو راے عامہ کو ہموار کرنے کے اختیارات و صلاحیت رکھتے ہو ں ورنہ کانگریس اور بی جے پی دونوں لے دے کی سیاسی شطرنج کے ماہر کھلاڑی ہیں بھارت رتن ایوارڈ کو بھی ایک مہرہ بنا کر کوئی نہ کوئیdeal کر لیں تو اس میں حیرت کی بات نہیں اور نہ اس پر حیرت ہوگی کہ کل مودی اور بال ٹھاکرے جیسے لوگ بھی بھارت رتن بن جایٔں۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے