Skip to content
 

بابری مسجد - تعمیر تا شہادت

6/ ڈسمبر 1992ء ہندوستان کی تاریخ کا وہ اہم ترین دن بن چکاہے جو 15 / اگست 1947 ء کی طرح ایک point of reference ہے جس طرح قبل آزادی اور بعد آزادی جیسی اصطلاحات رائج تھیں بلا شبہ ہندوستان کی آئندہ قبل شہادت بابری مسجد اور بعد شہادت بابری مسجد کے حوالے سے لکھی جائگی۔
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ بابری مسجد تعمیر تا شہادت کے موضوع پر ایک مضمون پیش کروں چونکہ اس پس منظر میں ہونے والا انقلاب پیشِ نظر ہے اس لئے میں کوشش کروں گا کہ 464 سال کی تاریخ کو پندرہ بیس منٹ میں سمیٹ سکوں میں انہی چند ایک واقعات کو دہراؤنگا جن کے تسلسل نے ہندوستان کے مسلمانوں کة تاریخ کی بد ترین ہزیمت سے دو چار کیا۔ اگر چیکہ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ اور دوسرے کئی لیڈر آئے ہیں اس واقعہ نے ساری دنیا میں ہندوستان کا سر نیچا کر دیا لیکن اس کے بالعکس نظر آتا ہے امریکہ اور یورپ سے تو ویسے بھی توقع نہیں تھی۔ 51 مسلم ممالک کے ہندوستان سے تعلقات سوائے ایک دو ممالک کے یا تو بڑھے ہیں یا معمول پر رہے خندوستانی مسلمان سوائے لفظی ہمدردیوں اور چندوں کے اور کچھ نہ حاصل کر سکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو طاقتور اور مکار دشمن کے مقابلے میں اپنے ہی دوست کے دشمن سے مل جانے پر جتنا شدید نقصان پہنچ سکتا تھا اس بھی زیادہ نقصان پہنچا۔

ان واقعات کے تناظر میں میں تمہیداً یا ضمناً یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ تاریخ کے اس سانحہ کو بجائے ہندو یا مسلمان کے پس منظر میں دیکھنے کے انتہائی غیر جانبداری اور ایمانداری کے ساتھ تاریخ کی نظر سے دیکھنا چاہئے تاریخ نہ کسی ہندو کے ساتھ ہوتی ہے نہ مسلمان کے نہ یہودی کے نہ عیسائی کے۔ تاریخ کی اپنی فطرت ہے اپنے اصول میں تاریخ بار بار دہراتی ہے ۔ روزِ اولِ آدم سے آج تک یہ بات ثابت ہے کہ طاقتور فرد ہو کہ قوم کمزور پر جب تک نہ غلبہ پائے طاقتور کہلائے جانے کے قابل نہیں ۔ طاقت کی فطرت میں غلبہ و اقتدار ہر قیمت پر حاصل کرنا ہوتا ہے ا سلئے طاقتور اور کمزور قوموں کی لڑائی میں جیت ہمیشہ طاقتور قوم کی ہوتی ہے اور نتیجتاً وہ کمزور کو نہ صرف جنگی اعتبار سے بلکہ سیاسی، تہذیبی ، تمدنی، مذہبی، تعلیمی وغیرہ ہر اعتبار سے پسپا کر دیتی ہے۔ تاریخ کا یہ اصول ہمیں بھولنا نہیں جاہئے کہ وہ کسی قوم کو نفری اکثرئت یا نسلی عظمت یا مالی یا فکری وراثت کی بنا طاقتور تسلیم نہیں کرتی بلکہ اس کے نزدیک طاقتور وہی ہوتا ہے جو اپنے مقصد سے نہ صرف اچھی طرح آگاہ ہو بلکہ جان اور مال کی زنجیروں کو توڑ کر سر کٹنے تک مقصد سے چمٹے رہنے کا عزم لے کر میدانِ عمل میں آسکتی ہو ۔ مقصد حق ہو کہ باطل تاریخ کا اس سے کوئی سروکار نہیں وہ تو صرف اسی کو غلبہ و اقتدار عطا کرتی ہے جو قوم اس جذبۂ سرشاوری و نظریئے سے بھر پور ہو اور جو قوم مقصد سے نا آشنا اور جان اور مال کی حفاظت کو مقصد بناتی ہے طاقتور کا حق ہے کہ وہ اس کمزور پر اپنی بڑائی قائم کرے ۔
تاریخ کے اسی اصول کے تحت ہندو ہو کہ مسلمان عیسائی ہو کہ یہودی سبھی مغلوب اور پسپا بھی ہو ئے ہیں اور غالب بھی۔
اسی اصول کو قرآن یوں بیان کرتا ہے کہ ” تلک الایام نداولھا بین الناس “ ( ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو پلٹتے رہتے ہیں)۔

مختصر یہ کہ بابری مسجد کے پس منظر میں جو لڑائی ہے وہ اصل میں نہ ہندو کی ہے نہ مسلمان کی بلکہ ایک طاقتور قوم تاریخ کی فطرت کے مطابق ایک لا شریک اقتدار کی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے جس کا نام اتفاق سے ہندو ہے اور ایک کمزور قوم جو اس کے راستہ میں آ رہی ہے تاریخ کی فطرت کے مطابق پسپا ہو رہی ہے جس کا نام اتفاق سے مسلمان ہے۔

بحیثیت مسلمان ہماری اپنی قوم کی شکست پر ہماری رنجیدگی و برہمی فطری بات ہے لیکن یہ یاد رہے کہ ہزیمتوں کی فریاد رسی شکست خوردگی ظلم کا بیان کرنا ذلت ہے۔ ہم یہاں اس لئے جمع نہیں ہوئے ہیں کہ اپنی مظلومیت کی داستانیں بیان کریں بلکہ تاریخ کے ان بیان کئے ہوئے اصولوں کے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ آیا ہم دوبارہ ایک طاقتور قوم بن سکتے ہیں اور اگر ایسا ہے تو اس کے تقاضے کیا ہیں۔
اور اگر ہم واقعی ایک عالمگیر و دایمی نظریۂ حق کے حامل ہیں جس کو نافذ کرنے کے مقصد سے دنیا میں بھیجے گئے ہیں تو پھر طاقت غلبہ اور اقتدار ہمارا حق ہے ناکامیوں کو بیان کرنا ہماری توہین ہے البتہ ان سے سبق لے کر آئندہ کے لئے لائحۂ عمل تیار کرنا حکمت ہے اسی مقصد سے میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھوں گا تاکہ تاریخ کا ریکارڈ صحیح رہے تاکہ کل کوئی صلاح الدین ایوبی یا نور الدین زنگی اٹھے تو اسے پتہ چلے کہ کس طرح ایک طاقتور قوم نے تمام اخلاقی ، انسانی، قانونی اور تہذیبی بلند وقار کو پامال کر کے ایک کمزور قوم کو مغلوب کیا تھا کس طرح مملکت ِ حیدرآباد جونا گڑھ کشمیر پر قبضہ کیا تھا کس طرح بھاگلپور اور سورت جیسے بے شمار گھناؤنے جرائم کی مرتکب رہی ۔
تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنا مقصود رہے اس لئے بابری مسجد تعمیر تا شہادت کچھ اہم واقعات پیش کرتا ہوں۔

تاجدارِ سلطنتِ مغلیہ بابر نے 1528 ء میں میر باقی کی نگرانی میں یہ مسجد تعمیر کروائی ۔ وہی مغل جنہوں نے ہندوستان کو تہذیب و تمدن بخشا۔ جنہوں نے دنیا میں ہندوستان کو ” سونے کی چڑیا “ کہلانے کے قابل بنایا وہ مذہبی رواداری برتی کہ ان ہی کے دور میں ہندو مت سے واقف ہوا۔ اپنیشد ویدانت کے ترجمے فارسی میں ترجمے انہوں نے کروائے کالی داس جیسے گرو کی سرپرستی کی حتی کہ اورنگ زیب عالمگیر (رحمۃ اللہ علیہ) نے جن کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ان کو مرہٹوں سے زیادہ جنگیں لڑنی پڑیں لیکن ایک بھی جنگ کسی مندر یا مسجد کی خاطر لڑی گئی ہو ۔ خود ہندو مورخین یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتے ۔

مغل جن کی مذہبی رواداری یہاں تک تھی کہ خود بابر اپنی تصنیف تزکِ بابری میں ہندو مندروں کے Archeological تفصیلات تک لکھتا ہے ۔ اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس نے مندر کو ڈھا کر مسجد تعمیر کروائی اس الزام کو محض ایک الزام ثابت کرنے کے لئے خود ہندو تاریخ کے ایک معتبر سنت کالی داس کی تصنیف رام چرتر مانس کافی ہے جو بابری مسجد کی تعمیر کی 48 سال بعد یعنی 1576 ء میں لکھی گئی اور اس میں اس نے کہیں کسی رام مندر کا ذکر تک نہیں کیا جبکہ اسی تصنیف میں بے شمار ہندو اوتار اور مندروں کا ذکر موجود ہے ۔ اس طرح تین سو پچیس سال بعد تک ہمیں تاریخ سے ایسا کو ئی واقعہ نہیں ملتا جس میں کسی ہندو نے بابری مسجد پر مندر ہونے کا گمان کیا ہو۔
پہلی بار 1853 ء میں جب مسلمان انگریز سے نبرد آزما تھا اور ہندو صدیوں کی غلامی کی نیند سے ہلکے ہلکے جاگ رہا تھا انگریزوں نے اسی سال 1853ء میں ایودھیا پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا ۔ انگریز جس طرح Divide & Rule کی پالیسی کے تحت نہ صرف ہندو مسلمان میں ہمیشہ خلیج پیدا کر نے کی مسلسل سعی و جستجو کرتا رہا بلکہ خود مسلمانوں کو قادیانی ، چکڑالوی اسماعیلی، بریلوی اور دیوبندی وغیرہ وغیرہ جیسے ٹکڑوں میں بانٹ کر ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرتا رہا۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی ہمیں پہلی بار 1853 ء میں ملتی ہے۔ جب بابری مسجد کے مندر ہونے کی افواہ پھیلائی گئی۔ خون کے آنسو رلانے والا یہ واقعہ پیش آیا جس میں انگریز نے نہ صرف مسلمان مردوں اور عورتوں کے ساتھ وہ سب کچھ کیا جو 6 / ڈسمبر کے بعد ہندوستان میں کیا گیا بلکہ علماء کو برہنہ کر کے سڑکوں پر نکالا گیا اور کئی کو دردناک سزائے موت دی گئی۔ اسی سال 1857ء میں پہلی بار ہنومان گڑھ کا ایک مہنت مسجد کے ایک کونے پر رام چبوترہ ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ مسلمان چونکہ دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے لیکن ہندوستان کی اپنی تاریخ خود ثابت کرتی ہے کہ 1885 ء میں ایک برٹش جج نے اس مقدمہ کو جھوٹا کہہ کر دعویٰ رد کر دیا۔

1934 ء تک اس کے بعد خاموشی رہی کیونکہ اس دوران ہندو اور مسلمان انگریز سے ملک کو آزاد کروانے کی جنگ میں جٹے ہوئے تھے بلکہ یہ جنگ عروج پر پہنچ چکی تھی لیکن انگریز نے پھر جو آگ بھڑکائیٴ وہ آج تک نہ بجھ سکی۔ 1934 ء میں مسجد کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا لیکن انگریز عدالت کے حکم کے تحت اس کی دوبارہ تعمیر کر دی گئی۔
1944ء میں حکومت نے گورنمنٹ گزٹ کے ذریعہ مسجد کو سنی وقف بورڈ کی تحویل میں دے دیا اس طرح 1991ء یہ وقف اسلامک ٹرسٹ کے تحت رہی۔ جب کلیان سنگھ کی بی جے پی حکومت نے یہ ساری زمین وقف سے اپنی تحویل میں لے کر رام مندر کے لئے وقف کرتی ہے۔

1944ء سے 1949ء تک مسلسل ” حملہ کرو اور بھاگ جاؤ “ کے مماثل واقعات ہوتے رہے ۔
ملک آزاد ہو کر تقسیم ہو چکا تھا دونوں قومیں زخموں سے نڈھال تھیں۔ تقسیم کا مطلب یہ لیا جاتا تھا کہ ہندوستان ہندو کا اور پاکستان مسلمان کا لہذا جہاں جہاں مسجد و مدرسہ کو ختم کیا جا سکتا تھا وہ کر دیا گیا لیکن بابری مسجد کی چونکہ تاریخی حیثیت تھی اس لئے اس کو ہضم کرنا آسان نہ تھا۔ پھر 22/ ڈسمبر 1949 ءء کی رات کو سردار پٹیل کی ایماء پر وہ واقعہ پیش آیاجس کا تعلق 6 / ڈسمبر 1992ء سے بڑا گہرا ہے۔

فیض آباد سٹی مجسٹریٹ میں جو FIR پیش کی گئی اس کے مطابق 50 تا 60 غنڈے بعد عشاء مسجد میں داخل ہوئے اور رام کے بت مسجد کے داخلے پر نصب کر کے فرار ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے یہ فیصلہ لکھا کہ ہائی کورٹ میں Title Suit کے فیصلے تک مسجد دونوں فرقوں کے لئے بند کر دی جائے ۔ اس طرح آج تک بھی Title Suit ہائی کورٹ میں باقی ہے لیکت ہر دور میں ہر کانگریس حکومت نے اس کو کارڈ کے طور پر استعمال کیا۔ جیت کا سہرا راجیو گاندھی کے سر لکھا تھا انہوں نے اپنی سرپرستی میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعہ یکم-فبروری-1986 کو یہ تالے کھلوائے گئے۔ سب کچھ اتنی سازش کے ذریعہ کیا گیا کہ ہندوستان کی عدلیہ کی تاریخ میں اس سے بڑا سازشی واقعہ نہیں ملتا !
ایسے لگتا تھا جیسے اربابِ حکومت نے عوام اور ٹی وی کیمرہ مینوں ، ریڈیو اور اخبار کے نمائندوں کو پہلے فیصلہ سنایا اور عدالت میں بعد میں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ برسہا برس کا High Court میں Pending مقدمہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعہ ایک دن میں کر دیا۔ اور فیصلہ کی چند ساعتوں کے اندر ہی لاکھوں عوام مسجد میں داخل ہو کر پوجا کرتے ہیں اور ٹی وی سارے ہندوستان میں فتح و مسرت کے منظر پیش کرتا ہے۔

6/ ڈسمبر 1992 ء کے بعد مسلمانوں کی طاقت ، عظمت ، اتحادِ فکر اور جذبۂ شہادت جیسے نعرے کھوکھلے دعوے بن کر سامنے آئے۔
انہیں دیکھ کر شائد ہندو بھی اپنے آپ پر ہنستا ہوگا کہ جو کچھ 6/ ڈسمبر 1992ء ء کو کیا یہ سب کچھ 22/ ڈسمبر 1949ء یا یکم فروری 1986ء کو ہی کر دیا جا سکتا تھا ۔ ماضی کی عظمتوں سے رنگین اس مجسمہ پر شائد انہیں اصلی مجسمہ کا دھوکا تھا یا پھر کمزور عقائد اور جب دنیا کی ضعیفی سہارنے کے لئے جو لاٹھی اس نے تھام رکھی تھی شائد اس پر دشمن کو عصائے موسی کا گمان تھا اس لئے وہ مسلمانوں کی اس مفروضہ طاقت سے مقابلہ کر نے کے لئے یکم-فبروری-1986ء سے 6/ ڈسمبر 1992ء تک اپنے آپ کو تیار کرتا رہا اور ہر وہ طریقہ استعمال کرتا رہا جسکے ذریعے اپنے کروڑوں خداؤں میں بٹی ہوئی قوم کو مسلمانوں کے خلاف متحد اور صف آراء کر کے ایک خدا کی محبت کے بجائے ایک دشمن کی نفرت پر یکجا کر دے۔

تین مرتبہ مسجد کے انہدام کی تاریخیں اعلان کر کے مہمات چلائی گئیں اور آخری مرتبہ VHP ، ہندو مہا سبھا اور کانگریس نے خود بھنڈران والا اور ٹامل کانگریس کی طرح تیار کیا تھا یہ مہم ایک ایسا جن ثابت ہوئی جو بوتل سے نکلنے کے بعد پھر بے قابو ہوگیا۔
نومبر 1982ء میں کانگریس کی لاکھ منت سماجت کے باوجود اب وہ بد مست جن تاریخ کو آگے بڑھانے راضی نہ ہوا۔مسلسل یاتراؤں پوجاؤں ، سنتوں سادھوؤں کے جلسوں جلوسوں کے ذریعے وہ اتنے عوام کو ساتھ لینے کے قابل ہو چکے تھے جو کانگریس حکومت کو بے بس کر دینے کے لئے کافی تھی ۔ اس دوران نومبر 1990ء کو رام مندر پروجیکٹ کی تعمیر شروع کی گئی جو رک رک کر 9 / جولائی کو با قاعدہ طور پر شروع ہوئی۔ 2/مارچ 1992ء کو رام کتھا پارک کی تقریباً 145 ایکڑ زمین نیاس کے حوالے کی گئی۔
اگر چیکہ یہ ساری کوششیں ایک طاقتور قوم کی غلبے کی جانب پیش قدمی کی نشانیاں ہیں جس میں ارادتاً کسی کو نقصان پہنچانا مقصود نہیں لیکن وہ واقعات جس میں سازش کے ساتھ ایک مخصوص قوم کو کمزور پاکر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی وہ بھی اہم ہیں ۔

مسلمان نام کے سکندر بخت جیسے لوگ پیدا کئے گئے جنہوں نے 23/ جنوری 1990ءء کو مسلمانوں سے مسجد کو ہندوؤں کے نام کر دینے کی اپیل کی۔
23/ مارچ 1990ء کو VHP نے ایک فتنہ انگیز بیان جاری کیا کہ شیعہ عوام مسجد کو ہندوؤں کو حوالے کر دینے تیار ہیں یہ مذموم کوشش کامیاب نہ ہو سکی بلکہ شیعہ سنی کا اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا۔ اسی دوران مشہور ہریجن لیڈر و مصنف وی ٹی راج شیکھر جس نے امبیڈکر کی مشہور انگریزی تصنیف Riddles of the Hinduism ” ہندوؤں کا معمہ “ شائع کی جس میں ہندو مقدس کتابوں ہی کے اندر موجود ان تمام باتوں کو منکشف کیا گیا جس میں رام کی محض ایک افسانوی شخصیت جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ اخلاقیت و انسانیت سے ۔ اس کتاب کے ہزاروں نسخے پریس کے ساتھ جلا دیئے گئے۔

3/ اکٹوبر 1992ء سے 8 / نومبر 1992 ء تک بابری مسجد کمیٹیوں نے VHP سے تین مرتبہ direct diologue کیا لیکن بے سود ہوا اورVHP جب کوئی دلیل پیش نہ کر سکی تو قانون کو رد کر دینے اور مندر بنانے کا اعلان کر دیا۔
اگرچیکہ ہندوستان میں گاندھی جی جیسے سیکیولر انسانیت کے علمبردار گزرے ہیں لیکن طاقت جن ہاتھوں میں رہی وہ کون تھے اس کا اندازہ ان دو واقعات سے لگایئے۔

13 / ستمبر / 1993ء کو VHP نے وزیر اعظم راؤ کو مشورہ دیا کہ وہ سردار پٹیل جیسے رہنماؤں کی تقلید کریں ۔ دوسرا واقعہ گرو گوالکر کا ہے جو کہ اس پوری سازشی تحریک کا معمار ہے اس نے اپنی کتاب The Bunch of Thought میں لکھا کہ گاندھی اور گوتم بدھ جیسوں نے ہندو مذہب کو اہنسا کے ذریعے نا مرد بنا دیا ہے۔

ان تمام واقعات میں شیلا نیاس کے واقعہ کا میں عبرت کی خاطر ضرور ذکر کروں گا ۔
30-ستمبر-1989 کو شیلا نیاس کی مہم شروع کی گئی۔ ساری دنیا سے اینٹیں جمع کرنے کا پروگرام چل پڑااور اس کے ساتھ گنگا جل کی تقسیم اور پوجا۔
راجیو گاندھی کا بذاتِ خود شیلا نیاس میں شرکت کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ کانگریس اس سازش میں کبھی VHP اور BJP سے پیچھے نہیں رہی وہ شہروں میں دندناتے رہے اور یہ قانونی فیصلوں پر کھڑی ان کی حفاظت کرتی رہی جس کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ جس 195 کمپنیوں پر مشتمل PUF کو 900 گاڑیوں اور جدید اسلحہ کے ساتھ بابری مسجد کی حفاظت کے بہانے بھیجا گیا تھا اس نے بابری مسجد کے انہدام کے بعد بننے والے رام چبوترے پر جوتے اتار کر پوجا کی۔

شیلا نیاس کے ذریعے ساری دنیا سے مٹی کے ساتھ ساتھ سونے کی اینٹیں جمع کی گئیں اگر آپ بغیر کسی حسد یا جلن کے اس واقعے پر تاریخ کے اسی اصول کو سامنے رکھ کر غور کریں تو ثابت ہوگا کہ غلبہ قربانیاں دینے والی قوموں کا حق ہوتا ہے ۔ یہی تاریخ ہمارے سامنے ایک قوم کی مثال رکھتی ہے جس میں سے کسی نے اونٹوں کی قطاریں لاکر قدموں میں رکھ دیں تو کسی نے گھر کی ایک سوئی تک بھی لاکر رکھ دی اور یہ کہہ دیا کہ میرے لئے صرف اللہ اور اللہ کا رسول کافی ہے ۔ کسی انصار نے مہاجر بھائی کی خاطر بیوی تک قربان کر دی اور کئی شہادت کی تمنا میں دوڑتے رہے۔اور دنیا نے دیکھا کہہ اس قوم نے چند سال میں آدھی دنیا پر غلبہ حاصل کیا۔
ہمارے سامنے تاریخ ہی کی دوسری مثال کہ انسانوں نے ایک مقصد کی خاطر سونے کی اینٹیں قربان کیں ، کسی نے اپنی جان و مال کو داؤ پر لگایا کسی نے ایک ایک گاؤں جا کر اینٹوں کے ساتھ ساتھ مسلمان دشمنی کا پیغام پہنچایا اور گاؤں والوں کو آگے کے گاؤں جانے کے لئے تیار کر کے لوٹے۔ تاریخ کی یہ بھی ایک مثال ہے کہ ایک قوم بہرحال باطل عقیدہ اور طریقہ رکھنے کے باوجود جذبۂ قربانی کے ذریعہ دوسری کمزور قوم کو مغلوب کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

مسلمانوں کی طرف سے بہرحال کوششیں ہوئیں وہ تمام جمہوری اور اخلاقی طریقے استعمال کئے گئے جو ہیں تو بے شمار لیکن بے اثر ثابت ہوئےRallies ، میمورنڈم دھرنے اپیلیں اور قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ تحقیقاتی میدان میں debates کی دعوت دی گئی۔میں بجائے ان کوششوں کے ان کوششوں کا ذکر کرنا چاہونگا جو بمبئی کے دھماکوں کی طرح اگر ہوجاتیں تو اپ آج شائد دل سے دعاگو ہوتے۔ لیکن یہ بھی سانحہ ہے کہ بابری مسجد کے قاتلوں میں جہاں غیر آگے آگے ہیں وہاں خود اپنے بھی شعوری اور غیر شعوری طور پر مکمل ذمہ دار ہیں مثلاً :
26 / جنوری 1987ء کے یوم جمہوریہ کی سرکاری تقاریب کے بائکا ٹ کی مہم ،
1988ء میں بابری مسجد مارچ اور وہاں با جماعت نماز اور دعا کی مہم۔
مسلمانوں کے بے حس اور بے دست و پا ہونے کے باوجود ان مہمات کی صرف اپیل نے حکومت اور دشمن کی صفوں میں ہیجان برپا کر دیا تھا لیکن دشمن نے خود مسلمان فریق پیدا کر کے ان مہمات کی جڑ کاٹ دی جس کی کامیابی کی صورت میں گہرے اثرات رونما ہو سکتے تھے۔

تابوت کی آخری کیل 6 / ڈسمبر 1992ء کو VHP نے گاڑی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کی سازش پر مسلمانوں نے اسی دن دستخط کر دئے تھے۔ جس دن بابری مسجد موومنٹ کمیٹی کو توڑ کر متوازی کمیٹی بنائی گئی اور رہی سہی مسلمان قوت کو پارہ پارہ کر دیا گیا۔ اس نا اتفاقی کے بعد حالات گواہ ہیں کہ حالات دشمن کے لئے سازگار ہوتے گئے اور مسلمانوں کی جانب سے بہرحال جو بھی مزاحمت تھی کمزور سے کمزور ہوتی گئی۔ یہ بہرحال ایک سازش تھی جو حصہ لینے والوں کے مفادات سے تعلق رکھتی تھی نہ کہ قوم کے حقیقی جذبۂ خدمت سے ۔

27/ نومبر 1992ء کو کلیان سنگھ حکومت نے مسجد کی حفاظت کا Affidavit کورٹ میں داخل کیا لیکن 6/ ڈسمبر کو 11.30 سے 5.00 بجے شام تک جو کچھ ہوا اس سے ہر شخص واقف ہے۔ جس طرح وزیر اعظم اپنی معصومیت کا ڈرامہ رچاتے رہے اور پولیس اور فوج جس طرح دیدہ دانستہ قاتلانِ بابری مسجد کے لئے خاموش حمایتی بنی رہی اس کا ذکر ضروری نہیں اس سے سب واقف ہیں البتہ 6/ ڈسمبر کے واقعہ نے خود مسلمان قیادت کی خود غرضی کو جس طرح بے نقاب کیا وہ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کے ایک جملے میں بیان کر دینا کافی ہے جو کہ انہوں نے جدہ ہی کے ایک جلسے میں کہا کہ :
” اتنے مسلمان پارلیمنٹرین، ایم ایل ایز اور وزیر ہوتے ہوئے اگرکوئی مسلمان نکلا تو بس ایک سنیل دت نکلا “۔

آخری میں ایک اہم سوال یہ ہے رہ جاتا ہے کہ مسلمان رام مندر کو کیوں تسلیم کرنا نہیں چاہتے؟
جہاں ہزاروں غیر آباد مسجدیں ہیں وہاں صرف ایک غیر آباد مسجد کی قربانی دے کر ہمیشہ کے لئے قومی یکجہتی اور امن کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے ۔
علماء کرام نے اس کے شرعی جواز پیدا کر دیئے ہیں ۔ میں صرف چند ایک منطقی دلائل پر اکتفا کروں گا ۔

1)۔رام کی place of birth کو تسلیم کرنا ایک شرک کو endorse کرنا ہے اس لئے مسلمان ایسا ہرگز نہیں کر سکتے۔

2)۔تاریخی طور پر خود ہندو تاریخ ثابت نہ کر سکی کہ رام تھے تو کب تھے؟ کسی نے کہا ایک ملین سال قبلtreta age میں۔ جبکہ رامائنا اور والمیکی کا لکھا ہوا ڈرامہ جسے ٹی وی سییرئل میں بھی پیش کیا گیا وہ رام کو 3000 BC میں upper age میں ثابت کرتا ہے۔
ویدک ریکارڈ کہتے ہیں وہ 1500 BC میں کہیں تھے۔ VHP کے پسندیدہ پروفیسر بی بی لال اور ڈاکٹر سندر راجن نے رام کو صرف 700 BC تک کھینچ لایا لیکن انہی کی تحقیق ان کے اس دعوی کو رد کرتی ہے جس میں انہوں نے لارڈ کرشنا کو 1200 BC لکھا ہے اس طرح یہ بات ہندو عقیدے کے مطابق ہی غلط ہے کہ کرشنا رام سے بھی 500 سال پہلے پیدا ہوئے۔

3)۔Archeological Survey Of India Review کے ریکارڈ صاف کہتے ہیں کہ آج تک ہندوستان کے کسی بھی مقام پر بشمول ایودھیا کوئی ایسے ثبوت نہیں ملے جن کی روشنی میں یہ کہا جا سکے کہ 300 BC تک بھی کوئی پکی سڑک یا ایک سے زائد عمارتوں کے ثبوت ملتے ہوں جبکہ VHP رامائنا کو دلیل بنا کر پیش کرتی ہے کہ رام چندر جی کے والد دسرتھ کے 8 منزل محل تھے، پختہ سڑکیں تھیں وغیرہ وغیرہ۔

4)۔سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ رامائنا یہ کہتا ہے کہ رام چندر جی گنگا کے کنارے واقع اودھ میں پیدا ہوئے جبکہ ایودھیا دریائے سوریا کے کنارے ہے۔ ایودھیا کو اودھ کیوں مان لیا گیا یہ ایک ایسا معمہ ہے جو نہ تاریخ حل کرتی ہے نہ عدالت ۔

آخری دلیل یہ ہے کہ ہندو مذہب اتنے بے شمار خداؤں میں بٹا ہوا ہے کہ ہر بھگوان کا ماننے والا کل اپنے خدا کی جائے پیدائش کے طور پر ایک ایک مسجد اور عمارت سے یہ دعویٰ کرے گا۔

کیا مسلمان ہر مسجد اور تاریخی عمارت کو حوالے کرتے جائیں گے؟

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے