Skip to content
 

سید مودودی ۔ ایک مصلحِ قوم

تاریخ میں ایسی کئی شخصیتیں گزری ہیں جنہوں نے فکری یا سیاسی ، دینی ، صحافتی ، سماجی ، معاشی ، اخلاقی یا علمی کسی نہ کسی ایک میدان میں امت کی بے لوث رہنمائی کی ہے لیکن تاریخ میں چند ہی شخصیتیں ایسی گزری ہیں جنہیں اللہ تعالی نے ہر میدان میں قیادت کی سعادت نصیب فرمائی۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی میں سے ایک ہیں۔کوئی محاذ ایسا نظر نہیں آتا جہاں مولانا نے اپنے قلم اور تحریک کے ذریعے ڈٹ کر مقابلہ نہ کیا ہو۔پوری صدی میں اتنی عجیب و غریب متحرک شخصیت کہیں اور مشکل سے نظر آتی ہے۔ دینی میدان میں گہرائی فکر و عمل کا یہ مقام تھا کہ اپنے وقت کے کئی نامور علماء نے دین جیسے امین احسن اصلاحی ابو اللیث ، ابوالحسن علی ندوی نے اپنا قائدتسلیم کیا۔ اگر چہ تنظیمی امور میں اختلاف کی بنا بعد میں کچھ نے بعد میں علیحدگی اختیار کی۔ لیکن مولانا کے دینی جذبے پر کسی نے کبھی انگلی نہیں اٹھائی ۔ رسائل و مسائل ، دین کی بنیادی اساس سنت کی آئینی حیثیت وغیرہ جیسی بے شمار کتابوں کے ساتھ ساتھ تفہیم القران کی جلدیں ہر گھر کی الماریوں میں موجود ہیں جو عظمتِ مودودی کی گواہی دیتی ہیں۔ تاریخ میں پہلی شخصیت ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی تھی جن کو حاکمِ وقت نے سزا کے طور پر کنویں میں الٹا لٹکادیا تھا۔ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حالت میں بھی اپنے شاگردوں کو املا کروا کر اپنی تصانیف مکمل کروائی تھیں ۔ علم کا خزانہ ان کے ساتھ ہی کہیں دفن نہ ہو جائے ۔ دوسری شخصیت مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی تھی جن کو جیل کی تنگ کوٹھری میں سزائے موت کا سامنا ہوتے ہوئےبھی موت کی فکر نہ تھی بلکہ تفہیم القران کو مکمل کرنے کی فکر تھی۔

سیاسی میداں میں مولانا کی تحریریں کہیں برگِ گل کی طرح نرم تو کہیں شمشیر و سناں جیسی تیز۔ ۔۔۔ وہ تنہا ایک طرف کانگریس اور ہندو مہا سبھا جیسی جماعتوں کے مقابل تھے۔خود دوسری طرف " مسلم لیگ " کو حقیقت میں " مسلم " بننے کے لئے اپنا زورِ قلم صرف کرتے تھے۔سیاسی کشمکش کی تینوں جلدیں پڑھنے والوں کو آج بھی مولانا کی بصیرت کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ سیاسی کھیل کے میدان میں پویلن کے کمینٹری باکس میں بیٹھے وہ نہ صرف حالاتِ حاضرہ کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ بلکہ آئندہ پچاس سال میں پیش آنے والے عوامل و نتائٴج کی پیشگوئی کر رہے ہیں جو کہ پچاس سال کے گزرنے کے بعد سبھی سچ ثابت ہو رہی ہیں۔

سقوطِ حیدرآباد سے ایک سال قبل حالات کی پیشگوئی کرتے ہوئے انہوں نے قاسم رضوی کو اس کے تدارک کی تدبیریں پیش کی تھیں لیکن عاقبت نا اندیشی مجلس کی تاریخی روائت رہی ہے ۔ قاسم رضوی نے غصے سے اس خط کو پھاڑ دیا اور خط پہنچانے والوں پر بندوق اٹھالی گئی۔ اس تاریخی واقعے کے چشمِ دید گواہ پاکستان نامور صحافی عبد الکریم عابد صاحب آج بھی زندہ ہیں جنہوں نے اس واقعے کو اس خط کی کاپی کے ساتھ اپنی تازہ ترین تصنیف آدھی صدی کا سفر میں شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ جناب مشتاق احمد خان جو ریاستِ حیدرآباد کے پہلے سفیر برائے پاکستان رہ چکے ہیں انہوں نے بھی اپنی کتاب زوالِ حیدرآباد کی داستان میں اس واقعہ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
صحافتی میدان میں مولانا نے یہ ثابت کیا کہ ایماندارانہ صحافت کے ذریعے بڑے سے بڑا انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ وہی جماعت جس نے بعد میں مولانا کے عالم نہ ہونے کا سب سے زیادہ پروپگنڈہ کیا اس نے مولانا کی ابتدائی عمر میں بنی اپنے ترجمان " مسلم " اور بعد میں " الجمیعت " کی ادارت سونپی۔ شعلے اگلتی ہوئی اس وقت کی مولانا کی تحریروں نے ہندوستان میں علما کی آواز و مقام کو بلند کر دیا۔ الجمیعت کے تمام اداریے " جلوہ ٴ نور " " آفتابِ تازہ " " بانگِ سحر " اور " رستاخیز " کے نام سے پاکستان سے شائع ہو چکے ہیں۔

ترجمان کے وہ تمام اداریے جو بعد میں سیاسی کشمکش کے نام سے شائع ہوئے ہیں " وہ قومی نظریے " کے پھیلانے میں سب سے اہم ذریعہ ٴ بنے۔ مسلم لیگ نے لاکھوں کاپیاں تقسیم کر کے عوام کو پاکستان کے حق میں یکجا کیا۔ تاریخ میں دو قومی نظریہ اگرچہ نیا نہیں ہے۔سر سید سے لے کر علامہ اقبال نے اسے لوحِ وقت پر لکھ دیا تھا لیکن مولانا مودودی نے ایک نا بلد قوم کو اس کے ہجے کر کے سمجھایا جس کے نتیجے میں خواص کا ایک عظیم تعلیم یافتہ طبقہ شعور سے آشنا ہوا۔ " الہلال " " البلاغ " اور " صدقِ جدید " وغیرہ نے ترجمان میں نیا جنم لیا۔ عامر عثمانی ، سید سلیمان ندوی ، محمد صلاح الدین ، چودھری غلام جیلانی وغیرہ جیسے اہلِ قلم صحافی مولانا پر فدا ہو گئے اور ان کے قلم مولانا کے پیغام کا ذریعہ بن گئے۔

علمی میدان میں مولانا کی بے شمار کتابوں اداریے، خطوط ، مضامین اور تقاریر کو جمع کیا جائے اور ان کی تعدادِ صفحات کو ان کی تعدادِ ایامِ عمر پر تقسیم کیا جا ئے تو روزانہ کم سے کم دس صفحات ہوگا ۔ تفہیمات ، تنقیحات ، پردہ ، سود ، خلافت و ملوکیت، مسئلہ ٴ قومیت اور بے شمار کتابچوں کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اتنی علمی، ، منطقی اور مدلل تحریروں کے معیار کے برابر لکھنے کے لئے جہاں کسی دانشور کو بھی کم سے کم ایک صفحہ لکھنے کے لئے ایک ہفتہ درکار ہوتا ہیوہاں مولانا ایک دن میں بے شمار دوسری مصروفیات رکھنے کے باوجود دس دس صفحات لکھ جاتے ہیں ان کا زورِ قلم اللہ تعالی کی طرف سے نصرت اور استعانت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ تاریخی ناولوں کے عظیم مصنف نسیم حجازی مولانا کی تاریخ پر قلم کاریوں کے آگے اپنا قلم ڈال دیتے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیں کہ "علامہ اقبال کے بعد مولانا ہی کی تحریروں کی برکت تھی کہ میں نے اپنی ناول نگاری کو اسلام کے لئے وقف کر دیا۔ ( ایک شخص ایک کاروان ۔ مرتبہ مجیب الرحمن شامی ) " لالہ ٴ صحرائی " یوں کہتا ہے کہاپنی ذات کی پروجکشن سے نفرت نفئی ذات اور اثباتِ حق خالصتاً صوفیانہ سلوک ہے۔ مولانا مودودی مروجہ معنوں میں ہرگز صوفی نہ تھے۔ لیکن یہ صوفیانہ وصف ان میں بہ کمال موجود تھا۔

جہاد صرف ان کا نعرہ نہیں تھا جہاں انہوں نے جہاد فی الاسلام کے ذریعے اپنے قلمی جہاد کا ثبوت دیا وہیں عملی طور پر تقسیمِ ہند کے اندوہنام فسادات کے موقع پر اسلام پورہ کی حفاظت کے لئے ڈنڈا ہاتھ میں لئے رات رات بھر جاگ کر نوجوانوں کی تربیت کی ۔ زنداں و دار و رسن کے لوگ صرف نغمے الاپتے رہے لیکن مولانا پھانسی کے پھندے کو بھی چُھو آئے۔ ان کی اس ہمت و شجاعت نے عالمِ اسلام میں ہلچل برپا کر دی اور حاکمانِ وقت اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو گئے۔
شاہ سعود و شاہ فیصل ہوں کہ آیت اللہ خمینی ۔ حسن البنا و سید قطب ہوں کہ بے شمار تحریکات ِ اسلامی کے علمبردار سبھی نے مولانا کی ذہانت و خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ ادب میں مولانا نے فکر ہی نہیں زبان و بیان ، فصاحت و بلاغت ، تنقید و انشایہ ٴ ہر اسلوب میں لکھا ۔ یہ اور بات ہے کہ ادب معتقدین سے خارج ہو گیا۔ اور ہر صنفِ ادب میں بے مقصدیت کے علمبردار چھاگئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جو بھی ادیب یا شاعر اپنے ادب کو مقصدیت کا جامہ پہنائےگا اسے مولانا کی تحریروں میں ہر صنفِ ادب میں ایک شاہکار نظر آئےگا۔

اقامتِ دین مولانا کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد رہا۔صدر ایوب نے انہیں اس راستہ سے ہٹانے کے لئے بے شمار چالیں چلیں حتی کہ آخری مرتبہ 2 کروڑ روپئے کے صرفہ سے ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کی پیشکش کی لیکن مولانا کا جواب یہی تھا کہ " اگر آپ صرف اسلامی نظام قائم کردیں تو مجھے مملکتِ پاکستان میں ایک چپراسی کا عہدہ بھی قبول ہے اس کے بغیر اگر آپ مجھے نائب صدر پاکستان کا عہدہ بھی نوازیں تو قبول نہیں " ۔ (" ایک شخص ایک کاروان " مرتبہ مجیب الرحمن شامی ) اس راہ میں مولانا نے نہ صرف کفر و الحاد سے بلکہ شرک و بدعات سے قدم قدم پر مقابلہ کیا اور لاکھوں ذہنوں کو توحید سے منور کیا۔مولانا کی بے شمار کتابوں کے بنگلہ ، ہند و پاک اور دیگر ممالک کی بے شمار زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں ۔ راقم الحروف کی طرح لاکھوں متلاشیانِ حق ایسے ہیں جنہیں مولانا کی تحریروں نے یکسوئی ، مقصدیت اور خود اعتمادی بخشی۔

مولانا مودودی حقیقت میں علامہ اقبال کے تصور ِ نوجوان کا جیتا جاگتا پیکر تھے۔ وہ ایک مصلح قوم تھے۔ ایک مصلح قوم کبھی اپنے مخالفین کی نہ ذاتی کردار کشی کرتا ہے نہ کوئی کردار کشی ، جھوٹ اور بہتان پر اتر آئے تو جواب دیتا ہے۔ مولانا مودودی کا یہ بھی عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے ایسے مخالفین کا جواب نہیں دیا او رنہ اپنے کسی عقیدت مند کو ان کی ذات کے بارے میں کسی کو جواب دینے کی اجازت دی۔اگر مقصد اپنی ذات سے بلند ہو جائے فکر ، قول اور عمل سب مقصد کے نیچے ترجمان بن جائیں تو علامہ اقبال کی پیشگوئی سچ ثابت ہوتی ہے جو کہ مولانا مودودی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے:

جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے