Skip to content
 

حالاتِ حاضرہ اور ادیبوں کی ذمہ داریاں

تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر جہاں تا حدِ نظر تاریکی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ شعورِ منزل سے نا آشنا قوم لطفِ سحرگاہی سے غافل خوابِ مست سے جاگ کر جب ڈسمبر کی صبح کا سورج ہر طرف تباہی و بربادی کے ہولناک مناظر اور جلے ہوئے گھر ، تڑپتی ہوئی لاشیں اور ماؤں بہنوں کی لٹی ہوئی عصمتیں نظر آئں ۔ جھپٹ کر مقابلع کے لئے بڑھتی تو گولیوں سے سینۃ چھننی کر دئے ، تڑپ کر فریاد کی تو آواز دبا دی۔ پلٹ کر جہاں کی شب کے رہنماؤں کی طرف دیکھا تو راہزنوں کے اصلی چہرے نظر آئے جو اب بھی معصومئت کے ساتھ اپنی ساکھ باقی رکھنے کی آخری کوشش میں اس شکستہ قوم کو تک رہے ہیں کہ شائد اس کے پاس اب بھی کچھ باقی رہ گیا ہوجس کا دشمن سے سودا کیا جا سکے۔ اب جبکہ یہ قوم مال و متاع سے کہیں زیادہ اہم تر شئے خود اعتمادی کھو چکی ہے عزم و ہمت پارہ پارہ ہو چکی ہے ذلت و رسوائی کے بیچ کھڑے ایک دوسروں کی غلطیوں اور لغزشوں کا احتساب کر رہی ہے اور دوسروں کو وقت کے تقاضے یاد دلا رہی ہے یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے حمام میں دو کم سن نا سمجھ بچے ننگے ہوں دونوں ننگے ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے shame ، shame کہہ رہے ہوں ۔ آج وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ قوم کا ہر فرد اپنی کٹھن ذمہ داریاں محسوس کرے اور بالخصوص ادیب ، شاعر ، ناقد و صحافی ، واعظ و مقرر مغنی قاضی ہر وہ شخص جو اظہارِ بیان پر قدرت رکھتا ہو وہ قلم کے ذریعئے ہو کہ زبان کے ذریعئے اپنے ایسے دائرۂ اثر پر اثر انداز ہوں جس طرح ہر ایک سیارہ خود ابنے مدار کے اندر گھومتے ہوئے بھی ایک سورج کے اطراف گردش کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ نظامِ شمسی کا حصہ ہے جس کی وجہ سے کائنات کا نظام قائم ہے۔ اگر ہر سیارہ اپنی انجمن آپ سجا کر سورج ہونے کا دعوی کرے تو انجام کیا ہوگا؟ تارہ ٹوٹ کر جلتے ہوئے انگارے کی طرح لڑکھڑاتا زمین کی طرف لپکتا ہے کہ شائد اسے پناہ مل جائے لیکن ہوائیں اسے سب کی نگاہوں کے سامنے بجھا ڈالتی ہیں اور زمین پر پھر اس کا نشان بھی نہیں ملتا۔ آج یہی حشر ہر اس ذاتِ انجمن کا بھی ہوا جو اپنے فکر تخیل کو محفلوں اور کتابوں میں چمکتا ہوا دیکھ کر خود کو سورج کی طرح بے نیاز سمجھ رہی تھی ۔ سچ کہا تھا فرۃ العین حیدر نے کہ اگر بابری مسجد نہ رہی تو ہماری شناخت بھی باقی نہیں رہے گی ہم ہیں تو ترقی پسند ادب ہے ۔ آج ترقی پسندی نے ایک طویل مدت زندہ رہنے کے نتیجے میں خود کو ایک چٹان سمجھ لیا تھا ۔ ایک مٹی کے تودے سے زیادہ نہ نکلی جس کو بارش کے ایک ہی ریلے نے بہا دیا۔ ۔ قوم پرستی جمہوریت اور سیکیلرزم کے ترانے پڑھنے والے آج شرمسار ہیں ۔ فراست و حکمت سے عاری مرعوب زمانہ صحافی سوائے احتجاجی مضامین سے صفحے کالے کرنے اور فریاد رسی کے ذریعے قوم میں احساسِ بے بسی کو بڑھاوا دینے کے کام میں مصروف ہیں۔ مسلک زبان اور عصبیت کے پرچاری اپنی اصلیت بھولے ہوئے تھے۔ لیکن دشمن کو ان کی اصلیت معلوم تھی اس لئے ہزاروں کی آبادی کے بیچ بھی ٹھیک ٹھیک اسی مقام پر رہتے تھے۔پولیس اور فوج کی گولیوں نے ان کو ان کی اصلیت ٹھیک ٹھیک یاد دلائی ۔ جب ان کی گولیوں نے نہ ترقی پسندوں کا لحاظ کیا نہ مسلک و جماعت میں فرق کیا۔

ایسے وقت میں اہلِ علم و فن کی بڑی بھاری ذمہ داریاں ہیں ۔ اظہارِ بیان ایک ہتھیار ہے جس کے استعمال کے فن سے واقف افراد نے ہی ہر نئے انقلاب میں مجاہدین کا رول ادا کیا ہے۔ کارل مارکس سے علی سردار جعفری تک ، حسان بن ثابت سے علامہ اقبال تک ، والمیکی سے ارون شوری تک یہ ثبوت ہیں کہ شمشیر و سناں سے پہلے فکری و ذہنی انقلاب پہلا معرکہ ہے ۔ قلم میں وہ طاقت ہے جب چاہے قوم کو زلف و رخسار کے رومانس میں محوِ رلطف کر دے۔ کبھی ترقی پسندی کے کمزور رسیوں کے جھولے پر مزدور و کسان کو ہمالیہ پر جھلا دے اور کبھی شفاعت و فضیلت کی افیون پلا دے۔
اس وقت سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہر محبِ قلم چاہے وہ ادیب ہو کہ شاعر افسانہ نگار ہو کہ اداریہ نگار سب سے پہلے معاشرے میں اپنی اہمئت کو نہ صرف خود محسوس کریں بلکہ محسوس کر وائں ۔ معاشرے میں جہاں علم و دانش صدیوں سے مفقود ہے اپنی اہمئت اور ضرورت منوانے کے لئے فوجیوں کی طرح جان و مال کی فکر سے بالا تر ہو کر قلم کی دھاروں کو تیز کر دینا ہوگا ۔یوں تو اس قوم میں وہ شاہ ولی اللہ بھی پیدا ہوئے جس کے قلم نے احمد شاہ ابدالی کے ذریعئے دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن 1857 ء کس شکست کے اثرات آج تک سماجی، دینی، اخلاقی اور ثقافتی ہر ہر محاذ پر پسپائی، بزدلی اور سمجھوتوں کی شکل میں مسلمان بھگت رہے ہیں ۔ ان تمام اثرات میں مہلک ترین یہ ہے کہ قلم صرف روٹی ،مکان اور انقلابی نعروں کا محرک بن گیا۔ جذبۂ جہاد و شہادت کو تعلیم یافتہ طبقہ نے دشمنوں کے ہم زبان ہو کر غیرِ ادب کر دیا۔ اس طرح ایک حقیقی ترقی فکرِ انسانی جو دائمی عالمی امن کا ضامن ہو سکتی تھی حقیر انسانی ضرورتوں کی نمائندہ نام نہاد ترقی پسندی کے دبیز پردے میں چھپ گئی۔
موجودہ حالات میں جہاں قوم کی ہر محاذ پر پسپائی و اضمحال کی کیفیت ہے اس سے ادب بھی اپنے آپ کو بچائے نہ رکھ سکا۔ دورِ حاضر میں ادب صرف حالات کے خلاف ایک صدائے احتجاج بن گیا ہے حالات کی منظر کشی اور جذبات کی پیشکشی مسائل کا حل نہیں ہوتی البتہ کچھ حد تک سامع یا قاری سے دادِ فن ضرور حاصل کر جاتی ہے کیزنکہ بحرحال کسی شئے کا اظہار محض اس کے فنکارانہ اظہار سے مختلف ہوتا ہے۔ چونکہ ادب میں فن کے نظم و ضبط زبان کی چاشنی اور تخئل بھی شامل ہوتا ہے اس لئے ادب کو بھی منجملہ فنون صنعت کے ایک صنعت قرار دیا گیا ہے شائد اسی لئے میر تقی میر نے بھی اپنے کو صناع کہا ہیج جس طرح صنعت پورے ملک و قوم کی مالی ، سیاسی و اخلاقی حالات کی تابع ہے اسی طرح وطن کی بے ہنگامی نے ادب کو بھی انحطاط کا شکار کر دیا ہے۔ اس لئے اب قدرے چند ہی محبّانِ قلم و ادب کو اپنا ذریعۂ اظہارِ جذبات و احساسات بنا تے ہیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ اعلی مقاصد اور اولوالعزمی پیشہ وری کا شکار ہو جاتی ہے اس طح افراد شاعرِ محض یا ادیبِ محض بن کر رہ جاتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہو کہ نصب العین پہلے متعین ہو اس کی محبت دل و ذہن میں جا گزیں ہو اور اس کی تکمیل کے لئے ادب صرف ایک زینۂ منزل ہو نہ کہ منزلِ حقیقی۔ کیونکہ مشاہدہ یہی ہے کہ جہاں کوئی غزل ، کلام یا کوئی مضمون و کتاب شائع ہو جائے یا محفل میں خوب داد مل جائے فنکار اس قدر مطمئن بلکہ فاتح نظر آتا ہے کہ یہی اس کی کاوشوں کی آخری منزل تھی۔ اگر نصب العین کا شعور فن کی محبت سے بلند نہ ہو تو ہوش و خرد کی دعوت رخصت ہے۔ تمام تر مستی و بے خودی ، جنونِ خرد جنونِ عزیمت اور اگر نصب العین کا شعور جن سے بلند ہو تو ادیب ہر دو طبقات ِ جنونِ خرد کے بیچ نصب العین کی راہ پر دمساز و راہ نورد ہوتا ہے۔
ادب ایک ایسا سمندر ہے جس میں فلمی ، جاسوسی ، کلاسیکی ، رومانی ، نفسیاتی، تحقیقی، تنقیدی ، انشل پردازی و مزاحیہ ہر نوع کا دریا ملتا ہے ۔ یورپ کی ترقی کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ ان قوموں نے ہر قسم کے ادب کی ترویج کی۔ لیکن ہمارے ہاں ادب کے نام پر سوائے فلمی ، سیاسی ، جاسوسی ادب کی ہمت افزائی نہیں ہوئی بلکہ صحیح معنوں میں آج تک اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ۔البتہ بعد از موت کسی کو خراجِ تحسین کے ذؤیعۂ ایک تعزیتی ادب کا ادب میں فلسفہ بنایا گیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادب کو اس کا صحیح مقام کس طرح دلایا جایئے ؟ اس کے آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ شاعر جس کو اصطلاح میں عام طور پر ادیب سے الگ سمجھا جاتا ہے معنوی اعتبار سے ادیب ہی ہے۔ دورِ حاضر میں جہاں مسلمانوں کی جان و مال و عزت و ناموس تباہی کے دہانے پڑے ہیں ان تمام نقصانات سے عظیم تر بلکہ وہ آخری چوٹی جس پر پہنچ کر ذلت و بے حسی کی اتھاہ پستیوں میں گرنے کے لئے ایک ہی لمحۂ غفلت چاہئے وہ ہے مایوسی اور لاچاری کا احساس۔ ہمتوں کو یکجا کرنے عزائم کو بلند کرنے اور دلائل و حقائق کے ساتھ اپنی حقانیت کو منوانے اور ظالم کے سر کی بجائے دل جیت کر اس کو تاریخ میں اپنے ہم پلہ طاقتور رقیب بننے کے اعزاز سے ہمکنار کرنے کے لئے تلوار یا بندوق کی نہیں فکری سمت نمائی کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف ادیب کر سکتا ہے بشرطیکہ خود اس کے پاس واضح فکر اور اقدار کی درست پہچان ہو۔
وہ فکر کیا ہے ؟

دورِ حاضر کے ادب میں یہ بات نمایاں ہے کہ فکر کی تبلیغ و نشو و نما کا سب سے بہتر ذریعۂ ادب ہے جیسے سیکیولرزم اشتراکیت ، انقلاب ، سرمایہ داری فرد یا گروہ کی بالا دستی مذہب کے نام پر دیو مالائی خرافات وغیرہ۔ یہی وہ افکار ہیں جو ادیب کے ذریعئے کامیابی کے ساتھ قوم کو مجتمع کر سکتے ہیں۔ اور ان میدان میں ادیبوں نے بہر حالاپنی صلاحیتیں وقف کی ہیں جب تک ادیب کے پاس فکر متعین نہ ہو ، نصب العین مقرر نہ ہو ، نہ وہ خود اپنی ذات میں کوئی انقلاب لا سکتا ہے اور نہ قوم کے بکھرے ہوئے افراد کو یکجا اور یک رخ کر سکتا ہے ۔ بہادر شاہ ظفر کے دربار میں ادب نہ صرف پیدا ہوا بلکہ وانی میں پہنچا غالب و داغ کا کوئی بھی ثانی نہ ہوتے ہوئے بھی صرف فکر اور تحریک کا وجود نہ ہونے کی وجہ سے نہ ظفر رہے نہ میر و غالب کی وہ زبان نہ وہ ثقافت ۔
بر خلاف اس کے ادب کو نظریۂبنا کر تحریک اور اجتماعیت کی طرف انسانوں کے دھارے کو موڑنے کی مثال ٹالسٹائے سے لے کر وکٹر کیرئن ، الگزینڈر ، شروف رسول ہمزہ ، لومبا ماورکارنو ، فیض و فراز ، ساحر و خواجہ احمد عباس نے مثال قائم کی۔
یہ اور بات کہ وہ نظریہ نا کام تھا نہ اس نظریۂ کی دعوت دینے والے ادب کو ادب تسلیم کیا گیا لیکن اصل بات یہ ہے کہ ادیب ایک نظریۂ اور مقصد سے جُڑ کر اپنے وقت کے لاکھوں انسانوں کی نسل کو ساتھ لے لیا۔ جب تک ادب کے ساتھ ایک نظریہ اور مقصد شامل نہ ہو انسانی کردار کی تعمیر اور ایک وحدتِ قوم کا تصور ِ حقیقی نا ممکن ہے۔اس کی بھی دو متضاد مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب بے تکی بنا ردیف اور قافیئے کی غزلیں اور مضامین ہم لکھتے تھے تو اپنوں سے ہمیشہ ہمت شکن تبصرے ملتے تھے بر خلاف اس کے راج بہادرگوڑ و سرینواس لاہوٹی جیسے لوگ نہ صرف خوش ہوتے بلکہ ریڈیو اسٹیشن ، اخبار و رسالوں کے نام تعارفی خطوط دیتے کہ جائیں اور پیش کریں ۔
آغازِ شعور کے اس دور میں مجھ جیسے اور ہزاروں اس حسنِ کرم کے نہ صرف ممنون ہو جاتے ہیں بلکہ جذبۂ تشکر کے ساتھ حق ادا کرنے پھر اسی محسنین کے نظریہ اور ترغیب پر ان کی محفلوں اور جلسے جلوسوں میں شریک ہو کر مزید ہمت افزائی پاتے ہیں۔ اس طرح جس طرح لوگوں کو ایک نظریہ اور ایک تحریک کی طرف موڑا جاتا ہے اس کی یہ ایک مثال ہے۔ اس کی دوسری طرف عدالت ِ خفیفہ میں نوکری کر کے مست و ملنگ زندگی گزارنے والے ماہر القادری ابوالاعلی مودودوی کے پاس آئے اور صرف ان کا قلم منگ لیا۔ ایک عظیم شاعر ایک عظیم مفکر کے سامنے آیا۔ یہ اس امت کاعجیب سانحہ ہے کہ ادب کو ازل سے دنیوی لغویات لہوالحدیث کا نام دے کر خارج از اسلام قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں ادیبوں کو جا ئے پناہ ملی بھی تو اسی بت کے کاشانے پر جو آج پاش پاش ہو کر برلن کی دیوار کی اینٹوں کی طرح بکھر گیا ہے کیونکہ اہلِ دین نے ادیبوں کے لئے وہ فصیل کھڑی کر دی تھی جس کو پھاندنے کی وہ جرأت نہیں کر سکتے تھے لیکن اس حصار کو توڑنے کی ایک اور مثال ابوالاعلی مودودی نے ہی نے قائم کی کہ ایک افسانہ نگار و ناول نویس غلام محمد جیلانی جب اپنے ادبی پیشے پر شرمندہ آئے اور کہا کہ میں تو ایک اور ادیب ہوں اور آپ کے کہاں کام آ سکتا ہوں تو مودودی صاحب نے فرمایا کہ آپ کو یہ غلط گمانی کیوں ہے کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے آپ اپنے قلم اور مزاج سے اسلام کی بہترین خدمت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ٹالسٹائے وغیرہ کی مثالیں دیتے ہوئے ہدائت کی کہ ان کی کتابیں پڑھیئے اور غور کیجیئے کہ کس طرح ادیب اپنے نظریۂ کو نظم اور کہانی کے روپ میں ذہنوں میں راسخ کرتے ہیں ۔ آپ بھی اسی طرح ایک نظریہ اور تحریک کو ادب کے راستے جاری و ساری کر سکتے ہیں اس کے بعد یہی غلام جیلانی ایشیأ جیسے کثیر الاشاعت رسالے کو جاری کر کے قوم کے بہترین رہنما بنے۔ اسی طرح مثال دی جا سکتی ہے مشہور کامریڈ زمانہ ماجد دریابادی جن کو اشرف علی تھانوی جیسے انسانوں نے یکسر بدل دیااور تفسیرِ ماجدی کے مصنف بن گئےاور ذہنوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔

یہاں میں ایک بات کہنے کی ضرور جسارت کروںگا کہ ماجد دریابادی صاحب چونکہ کوئی تحریک نہیں رکھتے تھے اس لئے ان کاسفر تفسیرِ ماجدی پر ختم ہو گیا لیکن ماہر القادری اور غلام محمد جیلانی کا سفر جاری ہے جو کبھی افغانستان و کشمیر میں دکھائی دیتا ہے تو کبھی طلبأ و نوجوانوں میں ساری دنیا میں گونجتا ہے۔

مختصر کرتے ہوئے میں ادیبوں کی یہ سب سے اہم ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے ادب کو ایک نظریہ اور ایک مرکزیت پر مرکوز کریں ۔ وقت کا تقاضہ صرف اجتماعیت ہے ۔ جس طرح دنیا کے کونے کونے سے ترقی پسند ادب نے ماسکو اور کمیونسٹ پارٹی کی بنیادیں مضبوط کیں حتی کہ ماسکو کا سفر دنیا کے ہر کونے کے ادیب کے لئےطوافِ کعبہ کی طرح با عظمت بن گیا۔ اسی طرح آج وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہزاروں خواندہ و نا خواندہ بوڑھے و جوانطلبا و طالبات جو ہندوستان کے کونے کونے میں ایک آواز ایک ایک قیادت اور ایک جماعت کے متمنی ہیں ادیب ہی وہ واحد ذریعۂ ہیں جو اپنے قلم کے ذریعئے یہ روشنی دکھا سکتے ہیں۔

میں اپنی بات اس پر ختم کروں گا کہ اجتماعیت ہی ایک ایسا سورج ہے جس کے سامنے چاند جیسا پتھر اور مٹی کا تودہ سورج کا عکس پاکر زمین کے سامنے چمک اٹھتا ہے اور راتوں کو پر بہار کر دیتا ہے ۔ شب کے بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا ہے ۔ اگر سورج سے علیحدہ ہے تو یہ صرف ایک مٹی کی چٹان ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ جو پیغام ادیب اپنے الفاظ سے دیتے ہیں وہ ایک ایسی توانائی ہے جس کو پانے والا اگر یہی سوچتا رہے کہ کیسے اور کہاں استعمال کروں تو وہ توانائی بے کار ہے ۔ اگر ایک ادیب ایک نظریہ اور دعوتِ اجتماعئت خود بھی اپنے اندر رکھتا ہو تو پھر یہ توانائی پانے والا نہ صرف اپنے گھر کو بقعہ نور بنائے گا بلکہ زمانے کے لئے روشنی کا مینار بن کر ہر خاص و عام کو ایک سمت میں چلنے کے لئے مشعلِ راہ بن جائےگا۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے