Skip to content
 

اردو کے خدمت گزاروں کے نام ایک کھلا خط

اُن تمام ذمّہ داروں کے نام معذرت کے ساتھ جو اردو کی ترقّی کے لیے کوئی نہ کوئی انجمن اخبار ، رسالے ، ادارے ، سرکاری و غیر سرکاری اکیڈیمیز اور بورڈز کے ذریعے اپنے اپنے آپ کو تھکا رہے ہیں۔ہم اُنکی نیّت پر ہرگز شک نہیں کرسکتے اور نہ انکے خلوص اور ایمانداری پر کوئی شک ہے یہ لوگ اپنے قیمتی ترین اوقات اور صلاحتیں وقف کرتے ہیں اور اہل و عیال اور اپنے آرام کو قربان کرکے اردو کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں بات نیّت خلوص یا قربانیوں کی نہیں اُس شعور اور ادراک کی ہے جسکے بغیر آج پہلے کے مقابلے میں اردو کے لیے کہیں زیادہ کام ہونے کے باوجود اردو مسلسل روبہ زوال ہے۔ اسی کے نتیجے میں آپ دیکھتے ہیں کہ صرف ہندوستان میں ہی نہیں پورے خلیج ، امریکہ و یورپ میں بھی ہر ہر شہر میں ہمدردانِ اردو کسی نہ کسی بینر تلے مسند سجاتے ہیں مقرّرین اردو کے ساتھ ناانصافی کا پہلے رونا روتے ہیں پھر سیمینار یا مشاعرے کے اختتام پر اردو کی ترقی کے نام پر وصول ہونے والے چندوں میں سے بِل ادا کیا جاتا ہے تصویربازی اور اخبارات و رسائل میں تشہیر بازی ہوتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ اردو کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ ہر انجمن میں ایک دو ایسے سلجھے ہوئے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو موقع کا فائدہ اٹھا کر اردو کے لیے کوئی نہ کوئی چھوٹاموٹا کام ضرور انجام دیتے ہیں اُسی طرح جسطرح کہ کسی بزرگ کے عرسِ شریف میں بزرگ کے نام پر کچھ غریبوں کو کھانا کھلانا پیسہ یا ساڑیاں وغیرہ تقسیم کردینا ایک عظیم خدمت سمجھی جاتی ہے۔پھر آخری میں سامعین اور منتظمین اِس جہادِعظیم پر ایک دوسرے کو مبارکبادیاں پیش کرتے ہیں۔
آج بیشتر کام جو اردو کی ترقّی کے مغالطے میں انجام دئے جارہے ہیں ان میں عموماً یہ ہوتے ہیں :
غریب طلبا کو کتابیں ، یونیفارم ، وظائف وغیرہ کی تقسیم ، مسکین اور نادار طلبا کے لیے رہنے اور کھانے کا انتظام ، اساتذہ کا انتظام اور انکی مالی مدد ، کچھ صحافیوں اور اخبارات یا رسائل کی مدد ، شعراء و ادباء کی مدد ، مقابلے ، انعامات ، میڈلس وغیرہ
چونکہ دینی مدارس بھی اردو میڈیم ہوتے ہیں اسلیے اکژ اِن کو بھی اردو کے ہی زمرے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سارے کام ”انتہائی اہم “ ہونے کے باجود ”اردو“ یا ”دینی تعلیمی ترقّی “ کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ یہ سارے کام ”خدمتِ خلق “ کے زمرے میں آتے ہیں ۔ سادہ لوح حضرات اِس فرق کو محسوس نہیں کرتے جسکی وجہ سے اردو اور دینی تعلیم کو جو نقصان پہنچ رہا ہے وہ اسکا اندازہ نہیں کر پاتے۔ انجمنوں اور اداروں کو پہلے یہ طئے کرنا چاہیے کہ آیا وہ خدمتِ خلق کرنا چاہتے ہیں یا اردو کی ترقّی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔دونوں کام بظاہر ایک ہی لگتے ہیں لیکن ان میں زمین آسمان جیسا فرق ہے۔ اسکی مثال ایسی ہی ہے جیسے بمبئ اور مدراس کی دوری کا فرق جانتے ہوئے بھی لوگ چاہتے ہیں کہ ایک ہی ٹکٹ میں بیک وقت دونوں جگہ پہنچ جائیں ۔
خدمتِ خلق اور اردو کی ترقّی دو الگ الگ کام ہیں دونوں کے تقاضے ، منصوبہ بندیاں ، طریقہ کار ، نتائج ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔ اِس فرق کو محسوس نہیں کرنے کے نتیجے میں آج اردو اور دینی تعلیم دونوں جس کسمپرسی کی حالت میں ہیں وہ محتاجِ بیان نہیں ہے۔ اور اس سلسلے میں جتنے کام ہورہے ہیں انکی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک کینسر کے مریض کیلئے گلوکوز کا انتظام۔ کیا آج اردو تعلیم یا دینی تعلیم کے نام کے ساتھ ہی ذہن میں چند غریب مفلوک الحال طلبا اور مدارس کا تصوّر نہیں اُبھرتا؟ کیا وجہ ہیکہ کوئی صاحبِ استطاعت اپنے بچّے کو کبھی کسی اردو یا دینی اسکول میں داخل کروانے کا ہرگز نہیں سوچتا ؟ اردو کے بڑے سے بڑے نام لیوا ہوں کہ انجمنوں کے ذمہ دار ، شعرا ء و ادباء ہوں کہ مشائخین و علماء ، دینی و سماجی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان ۔ حتّیٰ کہ معمولی آٹو رکشا ڈرائور یا چپراسی بھی اس دور میں اپنے بچّوں کو اردو اسکول یا دینی مدرسے میں داخل کروانے کا تصوّر نہیں رکھتاتاوقتکہ اسکی مالی حالت واقعی پست نہ ہو۔یہ شاخسانہ ہے اُسی غلط لائحہ عمل کا جسکے ذریعہ ہم نے خدمتِ خلق کو اردو کی ترقّی سے جوڑ دیاجسکی وجہ سے اردو اور دینی تعلیم دونوں چندوں اعانتوں اور اکژ زکوٰة و خیرات پر منحصر ہو کر رہ گئے۔ ایسے تعلیم پانے والے طلبا آج کی روزگار کی دوڑ میں کہاں تک آگے بڑھتے ہیں یہ سب کی نظر میں ہے۔چند ایک مستثنات ہوں تو اسکو دلیل نہیں بنائی جا سکتی۔
اِس عرضداشت کا مطلب کوئی یہ نہ نکالے کہ خدمتِ خلق کوئی کمتر شئے ہے اور اردو ایک برتر شئے ہے۔ خدمتِ خلق ایک ایسا شعبہء انسانیت ہے جسکے بارے میں اتنا کہہ دینا کافی ہیکہ اسلام نے خدمتِ خلق کو آخرت کی کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا ہے اور تمام عبادات میں اسکو مقدّم کیا ہے درازیء عمر اور قبولیتِ دعا کا دروازہ خدمتِ خلق ہے۔احادیث میں یہاں تک وارد ہوا ہیکہ انسانوں ہی کی نہیں بلکہ جانوروں کی بھی خدمت انسان کی مغفرت کا سامان ہو سکتی ہے۔
یہاں موضوعِ گفتگو صرف یہ ہیکہ مرض کیا ہے اور مرض کی تشخیص و علاج کیا ہے۔
اردو اور دینی تعلیم کیلئے لوگ جو کچھ آج کر رہے ہیں وہ ضرور جاری رہنا چاہیے وہ ایک بہترین ”خدمتِ خلق “ ہے لیکن یہ غلط فہمی ذہن سے نکالنی ہوگی کہ اس سے اردو کی یا دینی تعلیم کی ترقّی ہوگی۔ اسکے لئے لائحہ عمل قطعی دوسرا ہے۔اردو کے لیے کیے جانے والے جتنے کاموں کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے وہ سارے اہم اور فائدہ مند ضرور ہیں اور یہ جاری رہنے چاہییں اور جو لوگ یہ کر رہے ہیں وہ قابلِ تعریف ہیں ہم جس نکتہ پر توجّہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ ہیکہ ان تمام کاموں سے اگر فائدہ اٹھانے والے بچّوں کا تناسب یا فیصد نکالا جائے تو پتہ چلے گا کہ پورے اردو طبقے کا بمشکل دو چار فیصد بھی نہیں۔زیادہ تر کام تو یوں بھی شہر کے یا شہر کے قریبی اضلاع میں ہوجاتے ہیں جنکی اخبارات میں بھی اطّلاع آجاتی ہے۔ایمانداری سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ اردو کے لیے مذکورہ بالا کاموں کا دائرہ زیادہ تر ” پرانا شہر “ ہی ہوتا ہے جسمیں عام طور پر مسلمان بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔ شہروں سے دور کے اضلاع جیسے آندھرا میں وجے واڑہ ، راجمندری ، کڑپہ ، چتّور وغیرہ ہیں اور اسی طرح کرناٹک ، اڑیسہ ، یوپی وغیرہ میں ہزرہا اضلاع ایسے ہیں جہاں اردو مادری زبان رکھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن وہ اردو سے مکمل محروم ہیں۔بالفاظِ دیگر اردو کے لیے موجودہ سرکاری و غیر سرکاری کوششوں کے نتیجے میں دو چار فیصد کو جو فائدہ ہو رہا ہے کیا وہ فائدہ اصل مقصود ہے؟باقی پچانوے فیصد کا نقصان کیا بڑا نقصان نہیں ہے؟شہر وں کے مخصوص محلّوں سے ہٹ کر کیا اردو کا مکمل خاتمہ نہیں ہو رہا ہے؟

یہ یاد رہے کہ اردو اخبارات و رسائل پڑھنے والوں کی تعداد صرف شہروں میں محدود ہوتی جارہی ہے۔جن گھروں میں اردو اخبارات خریدے جاتے ہیں وہاں سوائے بوڑھوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتااردو پڑھنے والوں کی عمر کا اوسط پچاس سال اور اس سے زیادہ ہے۔یہ تعداد بھی آئندہ پندرہ تا بیس سال میں گھٹ کر آج کی آدھی بھی نہیں رہ جائگی۔دینی مدرسوں سے نکلنے والے علماء و خطیب حضرات کی اردو نئی نسل کے سمجھ سے بالا تر ہوتی ہے اسلیے جمعہ کے خطبوں میں حاضرین کی دلچسپی کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔اہم دینی جماعتوں نے جو پچھلے دہوں تک کئی کارہائے نمایاں انجام دیے اور ایک اہم سماجی انقلاب کا ذریعہ رہے چونکہ ان تمام کا بنیادی لٹریچر اردو میں ہے اس لیے اب ان جماعتوں میں نئے شامل ہونے والے نئی نسل کے کارکنان کی تعداد اور ان کا معیار پست ہوتا چلاجارہا ہے۔آئندہ پندرہ بیس سال میں علما ، خطیبوں ، مشائخین اور دینی جماعتوں کا وہی مقام رہ جائگا جو کسی دھرم کو چلانے والے پنڈت اور پجاریوں کا اور دھرم کمیٹیوں کا ہوتا ہے۔

اگرچکہ مسلمان وکیل ، ڈاکٹر ، انجینیر ، بزنس مین ، آئی ٹی ماہرین ، میڈیا مین ، وغیرہ کی تعداد بڑھ رہی ہے عدلیہ ، انتظامیہ اور پولیس و فوج میں بھی مسلمان بڑے عہدوں پر مل جاتے ہیں ہم ان کے مسلمان ناموں کے دیکھ کر خوش بھی ہوجاتے ہیں ان میں 99 فیصد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی مادری زبان یعنے اردو سے ناواقف ہوتے ہیں ایسے حضرات کے جذبہ قومی کی وجہ سے دو چار دوسرے مسلمانوں کو کچھ نوکریاں یا کچھ اور رعایتیں مل جانا ممکن تو ہے لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کی شناخت اور اسلام کی دعوت یا کم سے کم اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کا دور ہونا ناممکن ہے۔ مادری زبان سے محروم لوگ کبھی اپنی شناخت قائم نہیں کر سکتے بلکہ وہ ایک سیکنڈ کلاس سیٹیزن یعنے دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنے کو اپنا شعار بنالیتے ہیں۔ اسکے ذمّہ دار ہم لوگ خود ہیں اگر ہم نے خدمتِ خلق کو اردو اور دینی تعلیم سے گڈمڈ نہ کیا ہوتا تو آج اردو یا دینی تعلیم کا وقار نہ گرِتا ذہین اور استطاعت رکھنے والے اردو سے دور نہ ہوتے کیونکہ کوئی بھی خود دار آدمی یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ اردو یا دینی تعلیم کی خاطر اس کا بچّہ ایسے اسکول جائے جو چندوں زکوٰة و خیرات کا محتاج ہو۔

پہلا قدم۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو کو انگلش میڈیم اسکولوں میں نافذ کروانا !

عہدِحاضر میں اردو کی بقا و ترقّی کیلئے سب سے پہلے کرنے کا کام کوئی ہے تو یہ ہیکہ اردو کو تمام انگلش میڈیم اسکولوں میں اردومادری زبان رکھنے والے بچّوں کیلئے ایک لازمی مضمون کے طور پر نافذ کروانا۔ یہ اگرچہ کہ آسان نہیں ہے لیکن مسلمانوں کی قوّتِ تعداد اور انکی ذہانت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ناممکن ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہیکہ جو کوئی اِس کام کا بیڑہ اُٹھائے گا وہ تاریخ میں اپنا نام سنہری الفاظ میں چھوڑ جائیگا۔ غور کیجیے کہ اِس ترقّی یافتہ دور میں جتنے بھی مسلمان مختلف میدانوں میں آگے بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں وہ اُن انگلش میڈیم اسکولوں سے پڑھ کر آے ہیں جہاں ہم نے ہزاروں بلکہ لاکھوں روپیہ خرچ کیا ہے اسکول مالکان کو ہم نے کروڑپتی بنا دیااور اس کے بدلے میں انہوں نے ہماری نسلوں کو اپنی مادری زبان سے محروم کر دیا۔ہم سادہ لوح یہ دیکھ کر خوش ہوتے رہے کہ ہمارے بچّے ڈاکٹر ، انجینیّر اور منیجر بن گئے اور ۔۔کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا کہ بمثل یہ بھول گئے کہ ڈاکٹر ، انجینیّر اور منیجر کے قابل بنانے والوں نے مادری زبان کو اسکول اور کالج سے دور رکھ کر ہمیں کتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے بے حمیّتی اور بے حسی بلکہ بے غیرتی کو ہمارے لئے اسقدر قابلِ فخر بنا دیا کہ مسلمانوں کی اکثریت آج یہ کہتے ہوئے قطعی نہیں شرماتی کہ ”معاف کرنا مجھے اردو نہیں آتی “ اور اگر بچپن میں کسی صباحی مدرسے میں کچھ سیکھ بھی لی تھی تو برسوں پھر اُسے پڑھنے کی توفیق نصیب نہ ہوی۔مادری زبان سے دوری دراصل دین ، تہذیب و تاریخ بلکہ خود اپنی ذات اور اپنی شناخت سے دوری ہے۔ اِس بدقسمتی پر غور کیجئے کہ ایک ہی اسکول اور کالج سے پڑھ کر نکلنے والے مسلم اور غیر مسلم بچّوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔ غیر مسلم طلبا نہ صرف دنیاوی تعلیم میں بہترین نکلتے ہیں بلکہ اپنی مادری زبان جیسے ہندی ، تلگو ، کنّڑ مرہٹّی وغیرہ سے بھی جُڑے رہتے ہیں اور اسی کے نتیجے میں وہ اپنے کلچر ، مذہب اور تاریخ سے جو کہ خرافات کے علاوہ کچھ نہیں پھر بھی وابستہ رہتے ہیں جبکہ مسلم طلبا نہ صرف مادری زبان سے بلکہ دین ، کلچر ، تاریخ سے بھی کٹ جاتے ہیں اور نتیجتاً رفتہ رفتہ احساسِ کمتری کا شکار ہو کر انحراف بلکہ ارتداد (قولی نہ سہی عملی طور پر تو یقینا) کی طرف مائل ہوجاتے ہیں جسکی بے شمار مثالیں آپ کو اپنے اطراف مل جائیں گی۔مشکل سے کسی شریف گھرانے میں ایسا بچّہ ملے گا جو اردو لکھنا پڑھنا جانتا ہو اور قرآن یا حدیث کو بآسانی پڑھ کر سنا سکتا ہو۔ یہ وہ انعام ہے جو انگلش میڈیم کے مالکان ہم سے لاکھوں روپیئے وصول کرکے ہمیں عنایت فرمارہے ہیں اور ہم ہیں کہ بچّے کی مارکس شیٹ اور انعامات دیکھ دیکھ کر اور دوسروں کو دِکھا دِکھا کر خوش ہیں۔
بِکنا ہے کس کے ہاتھ عزیزوں کو کیا خبر
حیرت کہ مطمئن ہیں چلو دام تو ملے

سوال یہ ہیکہ اردو کا نفاذ کیسے ہو؟ اسکے لئے ان لیڈروں کو آگے آنا پڑے گا جو دن رات اپنے سیاسی داو پیچ کے ذریعے حریفوں کے دانت کھٹّے کرتے رہتے ہیں۔ اسکے لئے اُن علما و مشائخین کو آگے آناپڑے گا جو مسلک کے فروعی مسائل کو لے کر ہزاروں کے مجمعوں اور فتووں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔ اُن افراد اور ان انجمنوں کو آگے آناپڑے گا جو لاکھوں روپیے کے فنڈ جمع کرتی ہیں اور یقینا خرچ بھی کرتی ہیں۔ اُن والدین کو آگے آنا پڑے گا جو اپنی اولاکو صرف ایک ڈاکٹر انجینیّر یا منیجر ہی نہیں بلکہ ایک مہذّب ، معزّز اور خودّدار ، ہندوستانی مسلمان بھی بنانا چاہتے ہوں ۔اُن تمام دینی سیاسی دعوتی ادبی اور اصلاحی تنظیموں اور جماعتوں کو آگے آنا پڑے گا جو اُمّت کی بقا و ترقّی و اقامتِ دین کے دعوے کرتی ہیں۔ اُن تمام بااثراعلیٰ عہدہ دار مسلمانوں کو بھی ہمّت و جرّات کے ساتھ آگے آنا پڑے گا جو اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد تو اُمّت کے خیرخواہ ، دانشور ، مفکّر اور مصلح بن کر جگہ جگہ تقریریں کرتے ہوئے جلسوں کی صدارتوں اور مہمانِ خصوصی کی مسندوں پر براجمان نظر آتے ہیں لیکن ریٹائرمنٹ سے پہلے مجال ہے جو اُنکی زبان یا قلم کبھی کُھلے۔

طریقۂ کار :

اردو قانوناً دوسری ریاستی زبان ہے۔اگر کوئی اسکول یا کالج اس کے پڑھانے سے انکار کرے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے نفاذ کے لیے بنیادی شرط یہی ہیکہ اولیائے طلبا یعنے والدین کی طرف سے مطالبہ ہو۔
پہلے مرحلے میں انجمنوں جماعتوں علما و مشائخین کی یہ ذمّہ داری ہیکہ وہ والدین میں حمیّتِ قومی کو جگائیں ضمیروں کو جھنجھوڑیں انہیں اسکول یا کالج جا کر اپنی زبان کو پڑھائے جانے کا مطالبہ کرنے کی ترغیب دلائیں اور اِس خوف سے انہیں باہر نکالیں کہ اسکول یا کالج کا انتظامیہ ان کے بچّوں کا دشمن ہوجائگا اور فرقہ پرستانہ برتاو کرے گااور اگر کرے بھی تو اپنے حق کیلیے ایک جمہوری ملک میں آئن کے مطابق لڑنا سِکھائیں

دوسرے مرحلے میں سیاسی و سماجی تنظیمیں آگے بڑھیں اور والدین کی کمیٹیاں تشکیل دے کر اجتماعی طور پر اپنے مطالبات منوانے کی راہ ہموار کریں چونکہ جمہوری طریقے میں لازمی ہیکہ پہلے افہام و تفہیم ہو پھر میمورنڈم پیش کیا جائے انتظامیہ پر دباو ڈالا جائے جسکی مختلف صورتیں ہیں مہاتما گاندھی کے اصول پر چلتے ہوئے اہنسا کے راستے کئ ایسے طریقے ہیں جنمیں قانون کو یا امن کو نقصان پہنچائے بغیر ایک دباو ڈالا جاسکتا ہے۔

اسکے ساتھ ساتھ صحافی اور اخبار مالکان آگے بڑھیں اور اس مہم کو بجائے تیسرے یا چوتھے صفحے کی خبر بنااردو کے کاز کو گھٹا دینے کے اور اردو کو مزید فریادی بنانے کے، ان حضرات کو چاہیے کہ پہلے یا آخری صفحے کی ”اہم خبر“ بنائیں۔اردو کے مطالبات کو کمزور کرنے میں اردو صحافیوں اور اردو اخبارات کا بھی نادانستہ طور پر بڑا ہاتھ ہے اِس مقصدِعظیم کے لیے کام کرنے والوں کے مطالبات کو وہ اندرونی صفحات پر اسطرح جگہ دیتے ہیں گویا وہ کوئی عرسِ شریف کی رپورٹ ہو یا کسی محلّے میں کچہرے کی صفائ کا مطالبہ ہو۔ ان کو چاہیے کہ اردو کے نفاذ کے لیے خبریں اسطرح پیش کریں کہ پوری قوم میں اس مسئلے کی اہمیت و نزاکت اجاگر ہو جائے اور ہمت اور تعاون ہی نہیں بلکہ قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہوجائے۔
چوتھے مرحلے میں لیڈر آگے بڑہیں اور متعلقہ وزارت اور با اثر عہدے داروں کو متوجہ کریں کہ کسطرح لاکھوں بلکہ کروڑوں طلبا کو اپنی مادری زبان سے محروم کرکے قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔سانحہ یہ ہیکہ ہماری سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین میں شعور کی بے حد کمی ہے وہ مسئلے جو وقتی ، مقامی اور ہنگامی ہوتے ہیں ان پر تو یہ اپنی ساری قوّتیں صرف کردیتے ہیں اِس کے لیے جلسے جلوس ہڑتال اور فائرنگ وغیرہ سب کچھ کرواڈالتے ہیں اورایسے کاموں میں انکی نظر اپنے ووٹ بنک کو مضبوط کرنے پرزیادہ ہوتی ہے لیکن وہ مسائل جنکا تعلّق تہذیب اور نسلوں کی بقا سے ہے ان مسائل کو فرضِ کفایہ سمجھتے ہیں حالانکہ مسلم لیڈرس دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین اور طاقتور ہیں لیکن افسوس کی بات یہی ہیکہ انہیں اپنی ذہانت اور طاقت کو کہاں استعمال کرنا چاہیے اور کسطرح استعمال کرنا چاہیے اسکا شعور و ادراک نہیں ہے اور انمیں احساس ِعدم تحفّظ اتنا ہیکہ اگر کوئی انکو توجہ دلانے کی کوشش کرے تو اس کو اپنا رقیب اور اپوزیشن سمجھ کر اسکی بات کو کنارہ کرڈالتے ہیں۔اگر یہ حضرات تھوڑے سے بھی خلوص کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں اور اردو کو اسکولوں اور کالجوں میں لازم کروانے کی کوشش کریں تو ان کا نہ صرف ووٹ بنک مضبوط ہوسکتا ہے بلکہ ان کا نام دلوں اور ذہنوں میں ہی نہیں تاریخ میں مولانا ابوالکلام آزاد اورمحمد علی جوہر کیطرح روشن ہوسکتا ہے۔ کسی بھی انقلاب کے لیے قربانیاں لازمی ہوتی ہیں جن اسکولوں اور کالجوں میں ایک مکمل سازش کے ساتھآپ کے بچّوں کو غیر مذہب اور غیر تہذیب میں ضم کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کے تحت مادری زبان سے دور کیا جارہا ہو ان کا بائکاٹ کروانا حمیّتِ قومی کا تقاضا ہے اور اس سے غفلت بے غیرتی ، خود غرضی اور خود سپردگی کی علامت ہے۔ یہ بائیکاٹ ہندوستانی قانون کی خلاف ورزی بھی نہیں بلکہ اپنا حق ہے۔

اگلا قدم یہ ہو کہ دو چار اسکول اور کالج جو اردو کو بحیثیت ایک سبجکٹ کے نافذ کریں گے انکے انتظامیہ کی خوب پذیرائی اور تشہیرکی جائے اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ چونکہ اسکول اور کالج ایک زبردست کاروبار ہیں اور کاروبار میں مقابلہ اہمیت رکھتا ہے اسلیے خودبخود دوسرے اسکول اور کالج بھی مقابلے پر مجبوراً اتر آئنگے اور جو نہیں آئنگے انکا فرقہ پرست ہونا ثابت ہوجائگا۔
یہ ممکن ہے کہ پہلے پہل خود مسلمان ساتھ نہ دیں کیونکہ ایسے کئی تلخ تجربات ہوئے ہیں کہ اسکول انتظامیہ نے کہا کہ اگر اردو بطورِ مضمون لینے والے طلبا و طالبات کی تعداد خاطر خواہ ہو تو وہ علہٰدہ کلاس اور ٹیچر کا انتظام کریں گے لیکن ایسے کئ بے حِس اور خود غرض والدین دیکھنے میں آے جنہوں نے قصداً اردو نہیں لی۔
ان کے دلائل یہ تھے کہ ”اسمیں مارکس کم ملتے ہیں جبکہ عربی ،سنسکرت ، فرنچ یا ہندی میں مارکس زیادہ اسکور کرنے کا موقع ملتا ہے “۔
کسی نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ”ہم کو بچّوں کو شاعر بنانا نہیں ہے “۔
کسی نے یہ کہا کہ ”اردو سے نوکری نہیں ملتی “۔
ایسے روٹی کے پجاری ہر قوم میں پائے جاتے ہیں لیکن مسلمانوں سے زیادہ فی زمانہ شائد کسی قوم میں نہیں کیونکہ جب دین سے دوری ہو مانباپ نے قومی و دینی حمیّت بچپن سے ذہنوں میں نہ بٹھائی ہو تو ایسی غیر تربیت یافتہ مانباپ کی غیر تربیت یافتہ اولاد کو اپنی زبان تہذیب اور قوم کے مٹنے کا زیادہ غم نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ عام طور پر فرقہ پرست انتظامیہ کا ساتھ دے کر اپنی قوم کی خودّداری اور طاقت کو کمزور کرتے ہیں تاریخ گواہ ہیکہ اس قوم کو میر صادق اور میر جعفر اور عیدروس جیسے لوگوں نے جتنا نقصان پہنچایا دوسروں نے اتنا نہیں پہنچایا۔ایسے لوگوں کا سماجی بائکاٹ اور تذلیل جتنی کی جائے کم ہے۔

  • Share/Bookmark

3 تبصرے

  1. عالی جناب قبلہ صاحب :

    علیم خان فلکی صاحب کس خواب مین ھین آپ- میری تعلیم اردو میڈیم کی ھے- میں سعودی عرب آیا اور انڈین ایمبسی اسکول مین ٹیچر ہوا-پھر اسکول کمیٹی بدلی اور نئی کمیٹی آئی - نئی کمیٹی نے سارے ریکارڈ چیک کرنے کے بعد مجھے اسکول سے صرف اس بنیاد پر نکال دیا کہ میری ابتدائی تعلیم اردو میڈیم سے ھے- بی اس سی اور بی ایڈ تو انگریزی میڈیم سے ھی ھے- ستم یہ کہ خدمت سے برطرف کرنے کا لیٹر بھی نہیں دیا گیا یہ کہا گیا کہ اپائنٹمنٹ ہی غلط تھا جو کینسل ھے- 19 مہینہ کا پڑھانے کا ریکارڈ کوئی معنی نہین - میری سروس 19 مہینہ مکمل کر چکی تھی-آپکو اس سے زیادہ تکلیف دہ بات بتائون شادی مسئلہ ھو جاتی ھے - کسی امام مسجد یا دینی مدرسہ کے چندہ وصول کرنے والے کی بیٹی سے شادی کرنے کا مشورہ دیا جاتا ھے-

    کیا آپنے اپنے بچوں کو اردو میڈیم سے پڑھوایا ھے

  2. بیحد عمدہ مضمون ہے۔ گزشتہ دنوں میں‌بھی لکھنوء میں اسی موضوع پہ رسرچ کر رہا تھا۔ حیرت انگیز بات تھی کہ ایسے مشنری اسکولولز جہاں مسلم طلبا کی تعداد 50 فیصد سے زائد ہے وہاں بھی اردو ایک مضمون کی حیثیت سے بھی نہیں پڑھای جاتی- دوسری طرف مدھیہ پردیش کے کھنڈوہ میں ہی 40 اردو میڈیم اسکول چل رہے ہیں-جبکہ یہ اردو علاقہ نہین مانا جاتا ہے- اب بھوپال کا قسصہ یہ ہے کہ اردو میڈیم اسکول تو نہیں ہیں مگر بڑے مشنری اسکولوں میں‌اردو مضمون کی حیثیت سے موجود ہے اور نہ صرف تیسری زبان بلکہ کچھ اسکولوں میں ایسی سہہولت بھی ہے کہ آپ کا میڈم انگریزی یا ھندی ہو مگر فرسٹ لینگویج اردو اسپشل اختیار کی جا سکتی ہے۔ابھی ایک سروے ہوا - یہاںصرف ریلوے اسٹیشن کے پاس کے علاقہ میں60،000 یعنی ساٹھ ہزار بچے مختلف اسکولوں مین اردو پڑھ رہے ہیں۔جان کر بڑی خوشی ہوی- مگر یہ لوور مڈل کلاس اور غربا کے علاقے ہیں-دراصل اردو گو آبادی اسکول مینجمنٹ سے اکثر مطالبہ تک نہین کرتی کہ انکے بچوں کے لے اردو ٹیچر فراہم کیا جاے-ہر جکہ کے حالات مختلف ہیں-مگر جہاں رہیں زندگی کا ثبوت دینا ہوگا-جدو جہد ضروری ہے-مسایل کا حل ہوتا ہے ذرا سی توجہ اور محنت کی ضرورت ہے-

  3. اردو کے مسائل پر غور کرتے ہوئے تو سر چکرانے لگتا ہے۔مہاراشٹر میں اردو میڈیم اسکولوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن تعلیمی معیار ہے کہ دن بدن پست ہوتا جا رہا ہے۔ ۔۔ گذشتہ سال ہم نے گھر گھر جا کر اردو اسکول مین بچوں کے داخلے کروائے تھے تب جوش میں آ کر ہمارے علاقے کی اردو اسکول کا حال دیکھتے ہوئے ایک قوم کے ہمدرد نے یہاں تک کہ دیا تھا کہ بچوں کہ اردو میڈیم اسکولوں میں داخلے کرو اکر آپ قوم کے مستقبل کو مفلوج بنا رہے ہیں۔آجکل انگریزی میڈیم کا ٹرینڈ چل رہا ہے ایسے میں اردو میڈیم اسکولوں میں بچوں کے داخلے کروانا ایک مشکل کام ہوتا ہے ۔۔ اور کوئی بمشکل رضامند بھی ہو جائے تو ہمارے تعلیمی اداروں کا حال۔۔۔ افف
    یہ ہی سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ محنت کہاں کی جائے۔۔
    گزشتہ کچھ سالوں سے ایسے انگلش میڈیم ادارے بھی وجود میں آ رہے ہیں جن میں اردو اور دینیات کے مضامین بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ادارے ابھی بڑے شہروں تک محدود ہیں ان اداروں کے قیام کے لیے ہر کسی کے پاس نہ ہی اتنا بجٹ ہوتا ہے اور نہ ہی ان کو چلانے کے لیے ہر جگہ آسانی سے با صلاحیت افراد میسر آتے ہیں۔
    قوم میں آج بھی اہل خیر حضرات موجود ہیں لیکن فکر و نظر کی کمی کی وجہ سے امت کا سرمایہ غیر ضروری پروجیکٹس میں صرف ہو جاتا ہے۔

تبصرہ کیجئے