Skip to content
 

خلیج میں مقیم دردمند اہلِ حیدرآباد کی اپنے قائدین کے نام ایک قرارداد

( مارچ 2008ء میں تحریر کیا گیا ایک خط )

عالیجناب سلطان صلاح الدین اویسی صاحب و فرزندان
عالیجناب ذاھد علی خانصاحب
عالیجناب خان لطیف خانصاحب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

باشندگانِ حیدرآباد نے ہمیشہ آپ حضرات کے لئے اپنی محبتوں ، حمایتوں اور دعاوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اور آپ نے بھی کئی بُرے وقتوں میں قوم کی رہنمائی کی ہے۔ ہم آپ تمام کی خدمات اور جذبہ ملّی کو سلام کرتے ہیں۔ اور انتہائی ادب و احترام سے یہ عرض کرنے کی اجازت چاہتے ہیں کہ جسطرح علما و مدارس نے اختلافِ مسالک کے ذریعے قوم کو پہلے ہی بے شمار فرقوں میں بانٹ دیا تھا اب آپ حضرات کے آپسی اختلافات نے قوم کو مزید منتشر کردیاہے۔ شائد آپ کو علم نہ ہو کہ اپنے اپنے اخبارات میں ایک دوسرے کی کردار کشی جو کی جارہی ہے اِس سے تعلیم یافتہ سمجھدار طبقے کا کسی ایک قائدپر سے نہیں بلکہ پوری قیادت پر سے اعتماد اُٹھ رہا ہے۔ کتنی حیرت اور افسوس کی بات ہیکہ حیدرآباد شہرِفرخندہ بنیاد جو اپنی تہذیب، شرافت، مروّت اور جود و سخا کی وجہ سے ساری دنیا میں ایک ممتا ز مقام رکھتا تھا آج اپنے ہی فرزندان کے ہاتھوں رُسوا ہورہاہے۔ جسطرح پولیس کے ہاتھوں معصوم نوجوانوں کا انکاونٹر ہورہا ہے اُسیطرح آج ہمارے اپنے قائدین عفو، درگزر ، اعلیٰ ظرفی ، وسیع القلبی ، خلوص و للّٰہیت جیسے مقدّس الفاظ کا اپنے رویے کے ذریعے اِنکاونٹر کررہے ہیں۔

ہم آپ حضرات کی خدماتِ ملّی اور جذبہ ایثار و قربانی کے معترف ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ مرحوم جناب عبدالواحد اویسی صاحب ہوں کہ جناب سلطان صلاح الدین اویسی صاحب، مرحوم جناب عابد علیخان صاحب ہوں کہ جناب ذاھد علیخان صاحب آپ تمام ہمیشہ اپنی پُر عزم قیادت اور غیرجانبدارانہ صحافت کے ذریعے ہمارے لیئے مشعلِ راہ بنے ہیں ۔ جناب خان لطیف خانصاحب نے بھی young turkکا رول نبھایا اور صحافت ہی نہیں بے شمار علمی، ادبی و خدمتِ خلق کے کاموں میں ایک ماڈل قائم کیا۔ آپ تمام کے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہمارے پاس ہے لیکن آپ حضرات کے درمیان موجودہ اختلافات کی روشنی میں ’’خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلہ بھی سن لے ‘‘ کے مصداق ہم دست بدستہ یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ مشرقی وسطیٰ میں صرف حیدرآباد ہی کے نہیں بلکہ دوسری ریاستوں کے بھی اور دوسرے ممالک کے بھی قارئین اردو اخبارات دیکھتے ہیں۔ اُن کے سامنے آجکل حیدرآباد کے اخبارات ہمارے لئے باعثِ شرمندگی و تضحیک بن چکے ہیں

یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ اخبار چاہے جس کی بھی ملکیت ہووہ بہرحال پوری قوم کی امانت ہوتا ہے۔وہ صرف خبریں ہی نہیں دیتا بلکہ اپنے صفحات کے ذریعے قوم کی تہذیب، اخلاق ، سماج اور اخلاقیات کی نشاندہی بھی کرتاہے۔ جمہوریت میں یقینا سب کو یکساں آزادی اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے لیکن اس حق کے استعمال میں ہر فریق کو اخلاقی حدود کی پاسداری کرنی چاہئے تاکہ بیرونِ ریاست اور بیرونِ ملک ہمار ا وقار مجروح و متاثر نہ ہونے پائے۔ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ ہمارے قائدین نے آپسی اختلافات ، اعتراضات برائے اعتراضات اور پروپیگنڈے کو صحافت میں سرخیاں دے کرجہاں اپنے موقف کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے وہیں اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ کارٹون ، الزامات و کردار کشی ، حلیفوں کی محفل میں مخالف کے خلاف گالی گلوج ، جلسوں میں ایک دوسرے کی خواتین پر انگشت نمائی، دشمن جماعتوں اور دشمن قوم کے بااثر عہدیداروں سے ہمنوائی۔۔۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

ہم ہرگز یہ فیصلہ کرنے کی جسارت نہیں کرسکتے کہ بنیادی قصوروار کون ہے کیونکہ اِسکا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ بروزِ قیامت کرے گا ہم تو محبوبِ دوجہاں آقائے نامدار سرورِکائنات محمدالرسول اللہ کے اِس فرمان کے قائل ہیں کہ ’’قیامت کے دن میں اُس شخص کیلئے وسط جنّت میں ایک مکان کا کفیل ہونگا جو اختلافات میں حق پر ہوتے ہوے بھی معاف کردیـ‘‘ ہم آپ حضرات سے صرف یہ استدعا کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے مقدمے کو بجائے عوام اور اخبارات میں لانے کے اُس دن کیلئے رجسٹر کردیجیے جس دن ہر مقدمے کا فیصلہ مالکِ یوم الدین کے ہاتھوں میں ہوگا اور اُسکے رسول عفو و درگزر کرنے والے کیلئے وسط جنّت میں وہ پلاٹ پیش کرینگے جس کے سامنے آج کی اوقاف کی کروڑوں کی جائدادیں ہیچ ہیں۔ آپ حضرات کے سینوں میں جو جذبہ خدمت موجّزن ہے ہم اُسکے شاہد ہیں۔ غلطی ہر انسا ن سے سرزد ہوتی ہے۔ لیکن غلطیوں پر بہ اصرار اڑ جانا ایک ایسی غلطی ہے جسے تاریخ بھی معاف نہیں کرتی۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نیچ ذاتوں کے افراد ہم پر غالب آجاتے ہیں۔ بجائے اِسکے کہ ہم اُنکے امام بنیں جو کہ ہر فردِامّتِ ابراہیمی کا منصب ہے وہ ہمارے لیڈر بن جاتے ہیں اور ہم اُن کے آگے سیٹوں، تحفظات اور انصاف کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

اختلافات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے جماعتوں میں ہی نہیں ایک گھر کے افراد میں بھی اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ان اختلافات کو ختم کرنے کیلئے سمجھداری کا تقاضہ یہ ہے کہ علما و دانشوروں کو حَکَم بنا کراختلافات کو ختم کرلیا جائے اگر یہ بھی نا ممکن ہوتو کم از کم ہماری اتنی درخواست ہے کہ انہیں اخبارات اور جلسوں اور محفلوں کا موضوع بنانے سے گریز کیا جائے۔ ہم تمام قائدین اور مدیرانِ اخبارات سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ اغیار کو آپسی انتشار سے فائدہ اُٹھانے کا موقع نہ دیں آپس میں ہی متحد ہو کر مسائل کا حل تلاش کریں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہیکہ فکرِصحیح کی دولت سے ہمیں مالامال فرفائے اور خلوص، جوشِ عمل اور قوتِ عمل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے