Skip to content
 

جوابِ تنقید

میرے عزیز دوستو ،
السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

میں آپ تمام کا بے حد ممنون ہونکہ آپ تمام کی ہمت افزائیوں اور عزت نوازیوں ہی کی بدولت آج کچھ لکھنے اور بولنے کے قابل ہوں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ آپ تمام کو نہ میرے مقصد سے اختلاف ہے نہ میرے خلوصِ نیت پر شک ہے۔ اگر کسی کو اختلاف ہے تو صرف میرے طرزِ تخاطب اور اسلوب سے ہے۔ خود مجھے بھی اپنی ترش بیانی اور لب ولہجے سے سخت اختلاف ہے لیکن میں کیوں مجبور ہوں اسکی وضاحت کی اجازت چاہتاہوں۔ اگر آپ غور فرمائیں تو شائد مجھے معاف کردیں۔
میر ی باتوں پہ ہنستی ہے دنیا ابھی
میں سنا جاوں گا فیصلوں کی طرح

مجھ پر ایک الزام یہ ہیکہ میں تنقید کرتاہوں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ تنقید سبھی کرتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے کسی نہ کسی فرد، جماعت، انجمن، ادارے، عقیدے یا مسلک سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے سرکل میں کسی نہ کسی پر ضرور تنقید کرتاہے۔ اگر ہم خود اپنا اپنا احتساب کریں اور یاد کریں کہ کن الفاظ میں کس حد تک مخالف پر تنقید کرتے ہیں تو اسکے سامنے میرا جرم بہت چھوٹا نظر آئیگا۔فرق صرف یہ ہیکہ میں اسٹیج پر یا تحریر میں کرتا ہوں اور لوگ پیٹ پیچھے۔ کیونکہ مجھے مریض سے نہیں مرض سے اختلاف ہے۔ لوگ مرض کو نہیں دیکھتے اور مریض کے پیچھے پڑجاتے ہیں اسلئے اسکے سامنے کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ بچہ اسکول جانے کیلئے علی الصباح آسانی سے ایک آواز پر نہیں اٹھتا۔ اسکو سختی سے آواز دینی پڑتی ہے اور اسکے بعد بیلٹ بھی ہاتھ میں لینا پڑتاہے۔ایسی سختی پڑوسی نہیں کرتا صرف باپ کرتا ہے کیونکہ اسکو اپنی اولاد سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ اس وقت قوم اس بچے سے بھی زیادہ ضد اور ہٹ دھرمی پر تلی ہوئی ہے جسکے رویئے پر جھنجھلاہٹ پیدا ہونا ایک فطری امر ہے اور میں ہی نہیں کوئی بھی شخص جو قوم کی اس حالت پر ہر وقت دل ہی دل میں کڑھتا ہے وہ یہی کرے گا۔

قوم کی اکثریت اس وقت اپنی کمائی، گھر اور بچت کی تگ و دو میں جانوروں کی طرح لگی ہوئی ہے۔لوگ احساس ، غیرت اور حمیّتِ قومی سے عاری ہیں گجرات اور بابری مسجد کے موضوع پر طویل جذباتی تبصرے کرسکتے ہیں لیکن اپنے وقت یا جیب سے کچھ نکالنے کے سوال پر سانپ سونگھ جاتاہے۔ قوم کو آکسیجن کی ضرورت ہے اور لوگ ایکPanadol دے کر ٹالنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اسکی تعریف اور تعبیر اپنی اپنی سہولت اور اطمینانِ ذات پر منحصر ہے۔الہلال اور البلاغ کی تحریریں پڑھئے مولانا آزاد بھی اس پتھر قوم کو جگانے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کرتے ہوئے نظر آئیں گے ایسی قوم سے پیار سے گفتگو کرکے انقلاب کی امید رکھنا ممکن نہیں ہے۔ امام غزالی، شاہ ولی اللہ، اور مولانا آزاد وغیرہ کی ساری تحریریں پڑھ ڈالئے ۔جب وہ اس زوال پذیر معاشرے کی ذہنیت نہ بدل سکے تو میں اور آپ کون ہیں۔ لہذا جب ہم انہیں بدل نہیں سکتے تو اتناتو کرسکتے ہیں کہ ان کی کھڑکیوں پر پتھر مار کر فضا میں ایک ارتعاش پیدا کریں، ان کے ضمیروں اور ذہنوں میں ہلچل مچائیں اور دلوں میں کانٹے چبھا کر نکل جائیں۔ میں یہی کررہاہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ قوم اگر آج پیغمبر بھی آجائیں تو انہیں پانچ دس منٹ سے زیادہ برداشت نہیں کرے گی۔ تصور کیجئے کہ اگر آج رسول اللہ ﷺ بذاتِ خود تشریف لائیں اور فرمائیں کہ "اے علی و فاطمہ پر جان چھڑکنے والو، اہلِ بیت سے عقیدت اور رشتہ جوڑنے والو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی علی و فاطمہ کی طر ح کرکے بتاو تو دیکھئے کیسے کیسے بہانے ڈھونڈھیں گے اور کیسے کیسے جواز تلاش کرکے لائیں گے۔ آج اس جہیز کی لعنت نے جو مسلم معاشرے میں تباہی مچائی ہے ایک بار چل کر ان بستیوں میں دیکھئے جہاں ہماری 90% مسلم آبادی رہتی ہے۔ ہم خوشحال یا متوسط گھرانوں کے لوگ، بالخصوص NRIsاپنے خاندان اور محلے کو دیکھ کر یہ تصور کرتے ہیں کہ سب خیریت سے ہے۔ دوستو، کچھ بھی خیریت سے نہیں ہے۔ جن آبادیوں کا میں ذکر کررہاہوں آپ کی توجہ کی طالب ہیں۔ اگر ہم نے آئندہ پندرہ بیس سال میں کوئی تبدیلی نہیں لائی تو یہ قوم ہریجنوں سے بھی بدتر ہونے والی ہے۔ اس وقت پیسے ، تعلیم اور نوکریوں سے کہیں زیادہ ایک سوشیل ریفارم کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں مدرسہ اور جماعتیں بے بس ہیں۔کیونکہ ان کے پاس ہمت، صلاحیت اور منصوبے تو موجود ہیں لیکن مال کی کمی ہے ۔اور قوم اپنے گھر فلاٹ پلاٹ اور جہیز کیلئے تو لاکھوں لٹا سکتی ہے لیکن ہمارے مدرسوں کی ترقی کیلئے جیب اچانک قحط کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور ایک عام آدمی اسلئے خاموش ہیکہ اسے نہ شعور ہے نہ فرصت۔ جہیز کی وجہ سے لڑکی ایک بوجھ بلکہ عذاب بن چکی ہے۔ بیٹی یا بہن کے جہیز کی مجبوری میں ہرقسم کے جھوٹ، رشوت، چوری، قتل و غارتگری اور دھوکے بازی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ مرد ایک مکمل جانور کی طرح بکاو مال ہے جسکو پیسہ اور جہیز دیئے بغیر خریدنے کا تصور ناممکن ہے۔ آٹو ڈرائیور جیسے خاندان ہوں کہ بزنس مین یا کہ ہماری طرح کےNRIs ۔
سارے مردجہیز کے بھکاری ہوچکے ہیں۔ کچھ لوگ تو راست مانگتے ہیں، کچھ لوگ بہانوں سے مطالبہ کرواتے ہیں اور بے شمار ہماری طرح کے خوددار اور شریف ہیں جو ہرگز نہیں مانگتے لیکن سسٹم کے نام پر جو آرہاہے اسے "خوشی سے" آنے دیتے ہیں۔ یہ اس دورکے مہذب بھکاری یا مہذب ڈاکو ہیں۔جن کے سارے عیب، ہنر اور باعثِ عزّت ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقات کا یہ عالم ہیکہ ساری زندگی لوگ مر مر کرپیسہ جتنا جمع کرتے ہیں بیٹیوں اور بہنوں کی شادیوں پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں اب کیسے اس قوم میں اعلیٰ تعلیم کیلئے بچوں پر خرچ کریں اور کہاں سے مسلمان کمشنر آئی اے ایس صحافی اور ڈپلومیٹس لائیں۔ جو پیسے بچوں کی فیس کیلئے اسکول جانے تھے۔ وہ تو سود خواروں کے حوالے ہورہے ہیں۔ اور بدقسمتی یہ ہیکہ سود لینے والے بھی مسلمان ہیں۔کوئی اخبار اٹھا کر دیکھئے کہ مسلمانوں کا Crime ratio دوسروں کے برابر ہے۔غیر شادی شدہ لڑکیوں کی بڑھتی ہوی تعداد دیکھیئے، جہیز کی مجبوری کی وجہ سے غیر مسلم مشرکوں سے شادیاں کرکے مشرک نطفوں کو پیٹ میں پالنے والیوں کا حال اخبارات میں پڑھیئے۔ میں حیدرآباد ہی کی نہیں بلکہ مہاراشٹرا، کرناٹک اور بہار وغیرہ ہر جگہ کی بات کررہاہوں۔ بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی حالت کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یقین نہ آئے تو چل کر دیکھئے۔ اسکا نتیجہ یہ ہیکہ مسلمان مردوں کی اکثریت مزدوروں، حمّالوں، رکشہ رانوں اور آٹو ڈرائیوروں پر مشتمل ہے۔ جومیری اور آپ کی طرح ایک دو فیصد اچھے عہدوں پر ہیں یا مال پکڑے ہوئے ہیں وہ سسٹم بگاڑ رہے ہیں اور باقی پورے بگڑنے پر مجبورہیں۔ ایک عام آدمی کی پوری زندگی صرف اور صرف بیٹی یا بہن کی شادی اور جہیز کے اطراف گھومتی ہے۔ ادھیڑ عمر تک کماتے ہیں جتنا کماتے ہیں وہ حق بیٹوں کا ہے کہ وہ کاروبار کریں اور دوسروں کا روزگار پیدا کریں ۔
اس امت کو تاجدار امت ﷺ نے کاروبار کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور یہ فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ نے رزق کے دس دروازے رکھے ہیں جن میں سے نو دروازے تجارت کرنے والے کیلئے ہیں۔ "
اور یہ بھی فرمایا کہ "قیامت کے روز سچا تاجر انبیا کے گروہ سے اٹھایا جائیگا"۔
لیکن بجائے بیٹوں کو دینے کے ڈاکو دامادوں اور ان کی حریص ماوٴں کے خوف کی وجہ سے لوگ بیٹوں کا حق چھین کر لڑکیوں پر خرچ کرڈالنے پر مجبور ہیں اور بیچارے بیٹے نوکریاں ڈھونڈھ کر غیروں کی غلامی کرتے ہیں۔جہیز کی وجہ سے وراثت کے احکام جنہیں قرآن "تِلکَ حُدُودُاللہ" کہتاہے ان احکامات کی مکمل نافرمانی ہورہی ہے اسطرح سے کہ بجائے بیٹوں کے ، بیٹیوں اور دامادوں پر خرچ ہورہا ہے۔ لاکھوں ہیں جو ملک سے باہر کئی کئی سال دور رہ کر اپنے خاندان کی خوشیوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ بہنوں کے جہیز کی خاطر اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بڑا ہوتاہوا دیکھ نہیں پاتے۔ پھر باقی کی عمر بیٹوں اور بہووٴں کے ہاتھوں عزتِ نفس کوقتل ہوتے دیکھتے ہوئے گزاردیتے ہیں۔ اسکے ذمہ دار وہ تمام آپ کی اور میری طرح کے خوشحال لوگ ہیں جو اپنے گھر کی شادیوں پر بالخصوص وداعی کے دن کے کھانے پر جو قطعی غیر اخلاقی اور غیر اسلامی ہے لاکھوں لٹاتے ہیں ۔ آپ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ سنت کی خلاف ورزی کرکے معاشرے کو برباد کریں اور ان سے شرافت کے لہجے میں بات کی جائے؟۔ لڑکی کے باپ ہوں تو پھر بھی معاف کیاجاسکتاہے کیونکہ میں بھی دو لڑکیوں کا باپ ہوں میں جانتاہوں لڑکی کا باپ کسطرح بلیک میل ہوتاہے۔ لیکن لڑکوں کے باپ کی غیرت کو کیا ہوگیا ہیکہ اتنے کھلے احکام بتانے کے باوجود لڑکی کے باپ کے خرچے پر اپنے مہمانوں کی ضیافتیں کرتے ہیں سسٹم کے نام پر لازمی جہیز وصول کرتے ہیں اور لاکھوں لڑکیوں کے والدین کیلئے ایک لازمی ماڈل قائم کرکے تقلید کرنے پر مجبور کرڈالتے ہیں۔کیونکہ ہر کمینہ دلہا اور اسکے مانباپ کی بھی یہی آرزو ہوتی ہیکہ برابری میں شادی کریں جہاں لڑکی کا باپ جہیز کے ساتھ ساتھ وداعی کے دن بھی خوب کھانا کھلائے۔ ایسے لوگ شوٹ کردیئے جانے کے قابل ہیں جو ہندووٴں کی رسم کو اسلام میں رواج دے کر لاکھوں کے گھر تباہ کررہے ہیں۔
شہر کی اہم سڑکوں پر جایئے اور مسلمان لڑکیوں کی فحاشی پر مجبوری کا اندازہ لگائیے۔ شریف گھرانوں کی لڑکیوں کو جاکر دکانوں میں سیلزگرلس کے طور پر غیرمسلموں کے ہاں کام کرتے ہوئے دیکھیئے۔ مسلم اکثریتی محلّوں میں جاکر عارضی شادی کرنے والیوں، قاضیوں اور دلالوں کو دیکھیئے۔Bar girls میں مسلمان لڑکیوں کی تعداد دیکھئے۔ میٹرنٹی ہومس میں ہر روزAbortions کا اوسط دیکھیئے ۔ مہیلا کورٹ میں روزانہ جہیز کی وجہ سے مارپیٹ کے نتیجے میں زخمی ہونے والی یا گھر چھوڑنے پر مجبور ہونے والی خواتین کو دیکھیئے۔ وکیلوں اور قاضیوں کے دفتر پر جاکر جہیز کے سبب ہونے والے طلاقوں کے کیسس کو دیکھیئے۔Anti-dowry مقدمات میں پولیس ، عدلیہ اور وکیلوں کی مسلمانوں سے وصول ہونے والی آمدنی کو دیکھیئے۔عملیات کرنے والے مرشدوں کے پاس جاکر دیکھئے وہاں ہزاروں لڑکیوں کا اچھے رشتے کیلئے یا پھر ازدواجی مسائل کے حل کیلئے کیا حشر ہورہا ہے۔ کھنڈالہ گھاٹ کی طرح ہر شہر سے دور واقع بے شمار استراحوں، دھابوں اور اڈّوں پر جاکر دیکھئے شریف زادیاں کیا کررہی ہیں۔ اپنے گھر کی نوکرانی سے پوچھیئے ہر نوکرانی کی ایک ہی کہانی ہے۔ جہیزبیچ کر شوہر کھاگیا دو تین بچے ہوگئے پھر وہ بھاگ کر دوسری شادی کرلیا اب بیوی اور بچے گھروں میں کام کررہے ہیں۔ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان حالات میں "النکاح من سنّتی " کا مذاق اڑانے والوں کو عزت دے کر بات کی جائے جو اپنے پیسے کے زور پر اسراف سے بھرپور شادیاں کرکے پورے معاشرے کو تباہ کررہے ہیں؟ یہ ناممکن ہے۔ ان کے ضمیر مرچکے ہیں۔ ان کے پاس کتاب اللہ پڑھنے کی فرصت ہے نہ اصلی سنت پر عمل کرنے کی جستجوہے۔اور ان سنّتوں اور حدیثوں پر عمل کرکے شفاعت اور مغفرت کے شارٹ کٹ ڈھونڈھتے ہیں جنکی حیثیت نفل کی ہے۔ یہ لوگ خود کو بھی اور اللہ کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔
مردوں کی اکثریت عورتوں کی غلام ہے۔ باہر بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں اور گھر کی تقریبات میں عورتوں کی مرضی چلتی ہے۔ قرآن نے رِجاّل یعنی مرد کی تعریف یہ مقرر کی کہ وہ اپنا مال خرچتے ہیں۔ (سورہ النساء آیت ۳۴)، لیکن جہیز کی صورت میں جب سارا مال خرچ کرنے والی عورت ہوتو ایسے لوگوں کو کیا رِجاّل کہا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ قرآن کی اس آیت کی روشنی میں یہ لوگ مرد نہیں نامرد ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو اسمیں برائی کیاہے؟ میری طرح اگر کوئی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھے تو اسے "باغی، فائر برانڈ، قادیانی، سرکاری ایجنٹ، امریکی ایجنٹ،وہابی یا درگاہ پرست جیسے خطابات کی گالی دینا ایک مزاج بن چکاہے۔ اور آجکل لوگ میرے خلاف بھی Yahooاور Googlegroups پر اور محفلوں میں اسی کارِخیر میں لگے ہوئے ہیں۔علمی دلیل کا دلیل سے جواب دینے اور مثبت تنقید و اصلاح کی صلاحیت نہیں رکھتے اور بحث ، حجّت اور دشنام طرازی پر اتر آتے ہیں۔ وہ راست یہ نہیں کہتے کہ انہیں مخالف جہیز مہم کی وجہ سے تکلیف پہنچی ہے ۔ جو بھی مخالفت کررہا ہے اگر آپ غور کریں تو پتہ چلے گا کہ اسکے دل میں چور ہے وہ مخالفت کی اصل وجہ بیان نہیں کررہاہے بلکہ کسی اور موضوع کا بہانہ کرکے کردار کشی کررہاہے۔

مجھ پر یہ بھی الزام ہیکہ میں جذباتی ہوں۔ یہ آپ لوگوں کی غلط فہمی ہے۔ میں اپنے پورے ہوش و ہواس میں نفسیات کو سمجھتے ہوئے بات کرتاہوں اورخود نہیں بلکہ سامعین کو جذباتی کرنے کی کوشش کرتاہوں تاکہ لوگ اس مشن کو اپنالیں۔ اور الحمدللہ اسمیں کامیابی مل رہی ہے۔ اکثریت کبھی ساتھ نہیں دیتی بلکہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ ایک ایک گھنٹے کی تقریر سن کر یا مضمون پڑھ کر ایک آدھ جملے یا لفظ کو پکڑ کر پوری چالاکی کے ساتھ اصل موضوع کو دفن کردیتی ہے۔ گویا اگر میں وہ ایک جملہ یا لفظ نہیں کہتا تو مجھ پر ایمان لے آئی ہوتی۔ اگر لوگ واقعی دین سے محبت کرنے والے ہوتے تو کہنے والے کا مقصد سامنے رکھتے، نہ کہ اسکے الفاظ یا جملوں کو۔
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غوّاص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے؟

قرآن ایسے بہانہ بازی کرنے والوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ جہاں تک لوگوں کی تنقید کا سوال ہے یہ میں جانتاہوں کہ زندگی میں صرف اہلِ مغرب قدر کرتے ہیں۔ ہماری قوم نے کبھی کسی کی زندگی میں اسکی قدر نہ کی۔ جسطرح رسولوں سے کہا گیا کہ "یہ تو ہماری طرح کے ہمارے درمیان اٹھنے بیٹھنے والے ایک عام انسان ہیں یہ کسطرح نبی ہوسکتے ہیں" اسیطرح ہر دور میں ہر تبدیلی لانے والے کے ساتھ کیاگیا۔ سرسید کو جوتوں کے ہار پہنائے گئے۔ کافر، زندیق، مشرک وغیرہ ہر خطاب سے نوازاگیا۔ مولانا آزاد کو جب شیخ الہند نے امام الہند کا خطاب دے کر علماء کی قیادت سونپنی چاہی تو یہی علماء کی جماعت نے کہا کہ "کرگس کو شاہین بنانا چاہتے ہیں"۔تمام اکابرین کے ساتھ یہی ہوا۔

دوستو میری درخواست ہیکہ مسائل کی سنگینی پر غورکیجئے۔جسطرح Aids اور Swine flu ایک نیا مسئلہ ہے اسیطرح آج جہیز ایک نیا مسئلہ ہے جسکا وجود کچھ دہوں پہلے تک اسقدر مہلک نہ تھا۔ آج کونسلنگ ایک نیا مسئلہ ہے۔ صحابہ کے درمیان طلاقیں اور فوری دوسری شادیاں کوئی مسئلہ نہیں تھیں لیکن آج یہ مرنے مارنے کا مسئلہ ہے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں میاں بیوی ایک چھت کے نیچے کتنی نفرتوں کے بیچ زندگی گزاررہے ہیں اسکا اندازہ لوگوں کو نہیں ہے۔ آج بینکنگ، اکنامکس ، کامرس اور انشورنس کا مسئلہ ہے جس سے پوری قوم مکمل کوری ہے۔ آج عدالتوں کا مسئلہ ہے۔مسلمان اپنے سارے سچے جھوٹے مقدمات عدالتوں کو لے جاکر سالہا سال اپنی کمائی لٹارہے ہیں۔ ہمارے سامنے مسائل کے پہاڑ ہیں اور ہم ہیں کہ ایک دوسرے کے جملوں اور لفظوں میں نقص تلاش کرنے میں وقت اور توانائیاں ضائع کررہے ہیں۔

جہیز ایک تنہا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہمارے تعلیمی، تہذیبی، غربت اورسارے اخلاقی مسائل کے تانے بانے اسی جہیز سے جڑتے ہیں ۔ ہر وہ شخص جو جانے یا انجانے میں اسکا مرتکب ہو چکا ہے اور ہر وہ شخص جو اسمیں ملوّث تو نہیں لیکن دور سے صرف تبصرے کررہاہے یہ تمام اس معاشرے کی خرابی کے ذمہ دار ہیں۔ اسکا سب سے پہلا حل یہ ہیکہ ان تمام شادیوں میں شرکت کا بائیکاٹ کیاجائے جسمیں لڑکی کے باپ کی طرف سے وداعی کے دن کھانا کھلانا لازمی یا شوقیہ ہوتاہے۔ اور جس شادی میں جہیز کا لین دین ہوایسی شادیوں میں شرکت ہرگز نہ کی جائے۔ ورنہ ایک حرام فعل کی ہمت افزائی کا جرم ہمارے سر بھی عائد ہوگا۔ یہ اپیل لڑکیوں کے والدین سے بعد میں اور لڑکوں کے والدین سے پہلے ہے تاکہ لڑکے والے ، لڑکیوں کے والدین کا سوشیل بلیک میل کرنا بند کریں۔ مردوں کی مردانیت زندہ ہو اور وہ اپنی عورتوں کی تربیت کرنا سیکھیں۔

یہی میرا مقصد ہے۔ میں آپ تمام سے التماس کرتاہوں کہ اگر یہ مقصد اہم ہے تو میری رہنمائی فرمایئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام نہ دیا تو کہیں ایسا نہ ہوکہ تم دعاوں کرو اور تمہاری دعائیں رد کردی جائیں۔۔ یہ کہیے کہ اِس شخص کا مقصد صحیح ہے لیکن اسکا پیش کرنے کا انداز بالکل غلط ہے بلکہ جاہلانہ ہے لہذا ہم اس کو صحیح طور پر پیش کرینگے، اور آگے بڑھ کر کیجیئے یہ اِس وقت کا سب سے بڑا جہاد ہوگا۔ بجاے اسکے یہ کہنا کہ اِس شخص کا انداز غلط ہے لہذا اس کام میں کیڑے نکال کر اس اہم ترین مقصد کو پسِ پشت ڈال دینا ایک مجرمانہ غفلت ہے جو یقینا کوئی بھی جان بوجھ کر نہیں کررہاہے۔ لیکن انجانے میں یہ غلطی کرنا ایک عظیم کام کو نقصان پہنچانا ہے۔ اب آپ لوگ بھی میری طرح عمر کے پچاس سال سے تجاوز کرچکے ہیں اور نانا اور دادا بن چکے ہیں یا بننے والے ہیں۔ اس عمر میں نوجوانی کی عمر کی طرح ایک دوسرے کی غلطیاں پکڑنا مناسب نہیں ہے۔ اس عمر میں یوں بھی اب میں نئے سرے سے تقریر یاتحریر سیکھنے میں کسی مدرسے یا کالج نہیں جاسکتا۔ جن لوگوں کو صرف جلسے سننے یا اخبار پڑھنے اور تبصرے کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے ، ان لوگوں کیلئے غلطیاں پکڑنا ایک محبوب مشغلہ ہے لیکن جو لوگ ایک تبدیلی یا فکری انقلاب کیلئے سرگرداں ہیں ان کیلئے میرے اسلوب یا بیان کی غلطیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ آپ سے بھی درخواست ہیکہ لفظوں اور جملوں کو پکڑنے والے افراد کو خاطر میں نہ لائیں۔بڑے بڑے لیڈر اور علماء و دانشور بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں لوگ ان کے جملوں یا لفظوں کو نہیں پکڑتے کیونکہ لوگ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں۔
تو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز
مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ کر

بہت بہت شکریہ، میں انشاء اللہ کوشش کروں گا کہ اپنی زبان اور قلم سے کسی کو تکلیف نہ پہنچاوں۔ اگر ایسا انجانے میں ہوا ہے تو میں آپ تمام سے معافی کا درخواست گزار ہوں۔آپ تمام کی تعمیری تنقید و اصلاح و رہنمائی کا میں ہمیشہ محتاج ر ہوں گا، اگر کوئی بات ناگوار لگے تو ایک بھائی سمجھ کر درگزر فرمائیے۔

فقط
علیم خان فلکی

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے