Skip to content
 

چلنا ہو تو دلّی چلیے

سنا ہے کہ دلّی اب تک سات بار اُجڑی اور سات بار بسی ہے لیکن ہم نے نہ کبھی اجڑنے سے روکا نہ بسنے میں ہاتھ بٹایا اس سے پہلے کہ دلی کا اسکور آگے بڑھے ہم نے دلی دیکھنے کا قصد کیا ۔ کیا پتہ اگلی دلی کو دیکھ کر آج کی دلی بہتر لگے اور اسے نہ دیکھنے کا افسوس رہ جائے ۔ وقت گزر جانے کے بعد ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ نادر شاہ نے دلی کو تاراج کیا لیکن جب انگریزوں نے بھی لوٹا تو نادر شاہ خود بخود اچھا لگنے لگا۔ اسی طرح جس طرح آج واجپائی کے حکومت سنبھالتے ہی لوگوں کی نرسمہا راؤ کے بارے میں رائے بہتر ہوگئی ہے ۔ خیر ہم دلی پہنچ گئے تاکہ دلی والوں کوکوئی شکایت نہ رہے ۔

دنیا کے تمام شہروں کی طرح دلی بھی پرانے شہر اور نئے شہر پر مشتمل ہے۔ پرانی دلی اور نئی دہلی۔
اگر چیکہ دنیا کے ہر پرانے شہر کی طرح دلی بھی ان تمام برکات و خصوصیات کی حامل ہے جو کسی بھی پرانے شہر میں اگر نہ ہوں تو وہ پرانا شہر ہی نہ کہلائے۔ جیسے تنگ و تاریک گلیاں، جھونپڑے ، موریاں اور نالیاں جو راتوں میں open air toilets کا کام دیتی ہیں اور راہگیروں کی ناک کا امتحان لیتی ہیں۔
رکشے بیل گاڑیوں ، سائیکلوں ، اسکوٹروں اور پیدل انسانوں کا ایک سیلاب جس میں ہر فرد سڑک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر دوسروں کو مخل اندازی کی سزا دیتا ہوا چلتا ہے۔ قدم قدم پر درگاہ ، چلہ یا مندر اور کان پھاڑنے والے لاؤڈ اسپیکر، جگہ جگہ ہوٹل اور مٹھائی گھر جہاں مکھیوں اور مچھروں کی بھرمار میں مکمل بے نیازی کے ساتھ مصروفِ طعام لوگ ۔
بہرحال یہ ہر پرانے شہر کی خصوصیت ہے جو پرانی دلی میں بھی سر تا پا موجود ہے۔ یہی حال ہندوستان کے سارے شہروں کا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت پرانے شہروں میں آباد ہے اس لئے حکومت کی ساری بد انتظامیاں مسلمانوں کی بُرائیوں کے کھاتے میں جمع کر دی جاتی ہیں۔ البتہ جو کمی رہ جاتی ہے اسے مسلمان خود پورا کر دیتے ہیں جیسے مسجدوں اور قبرستانوں کی زمینوں پر قبضے ۔ جامع مسجد اور لال قلعہ ایک دوسرے کے مقابل اس طرح تعمیر کئے گئے تھے کہ لال قلعہ سے نکلتے ہی سامنے مسجد کا صحن نظر آئے ۔ لیکن لال قلعہ پر سرکار نے جھنڈا لہرا دیا اور مسجد کی چہار دیواری پر مسلمانوں نے ۔ اب یہ ایک شاہی مسجد نہیں لگتی بلکہ مصروف ترین بازار میں چندے سے تعمیر کی گئی ایک چھپی ہوئی مسجد لگتی ہے۔ مچھلیوں اور مرغیوں کی بد بو دار دکانیں ، گھوڑوں کا اصطبل اور موٹروں کا کارخانہ اور ہمہ اقسام کی دکانیں مسجد کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
ہم ان دکانداروں کے پھر بھی مشکور تھے کہ جنہوں نے سڑک کیلئے تھوڑی سی جگہ تھوڑی تھی ورنہ ہم ان کا کیا بگاڑ لیتے؟ مسجد کی آخری سیڑھی تک بھی دوکاندار موجودہیں۔ وہاں تسبیحوں اور جا نمازوں کے ساتھ ساتھ طلسمی چھلوں اور عملیات کی کتب بھی مل جائنگی۔

جامع مسجد دہلی تمام مغلیہ عمارتوں میں وہ واحد عمارت ہے جس میں داخلہ مفت ہے۔ البتہ ایک بزرگ کیمرے کے دس روپئے بغیر رسید کے وصول کرتے ہوئے ملے۔ مسجد کے صحن کا فرش کئی جگہ سے اکھڑ رہا ہے۔ یہ آخری بار غالباً نواب میر عثمان علی خان نظامِ سابع نے لگوایا تھا۔ یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ نظام ذاتی زندگی میں بہت کنجوس واقع ہوئے تھے۔ ایک بار جب سردیوں میں انہوں نے نئی رضائی منگوائی تو اس کی قیمت پچھلے سال کے مقابلے میں دو روپیئے زیادہ تھی۔ انہوں نے مہنگی ہے کہہ کر نوکر کو واپس کرنے کا حکم دیا ۔ اس وقت اتفاق سے جامہ مسجد دہلی کا ایک وفد مسجد کے صحن کی مرمت کے لئے غالباً ایک لاکھ روپئے کی درخواست لے کر آیا ہوا تھا۔ وہ بادشاہ سلامت کی اس کفایت شعاری کو دیکھ کر اس شش و پنج میں مبتلا تھا کہ درخواست پیش کی جائے کہ نہ کی جائے۔ لیکن جب وہ لوگ نظام کے حضور پیش ہوئے تو نظام نے اپنے ذاتی خرچ سے پورے صحن کی تعمیرِ جدید کے لے روپئے ادا کر دیئے ۔

ایک اور مسجد پر قبضہ دیکھ کر افسوس ہوا۔ انڈیا گیٹ سے راشٹراپتی بھون تک کے چاروں طرف کا علاقہ جس کے ایک طرف پارلیمنٹ کی عمارت بھی ہے ۔ دوسری طرف ایک وسیع و خوبصورت میدان ہے۔ ایک طرف چند خوبصورت عمارتوں کے درمیان ایک مسجد بھی ہے جو مغلیہ دور کے بعد کی تعمیر لگتی ہے۔ اس کے تین چوتھائی صحن پر لوگوں نے گھر بنا لئے ہیں۔ نماز کے دوران دیوار کی دوسری طرف سے بچوں کے رونے کی آواز بھی آرہی تھی۔ نہ جانے ان مسلمانوں کی ایسی کونسی مجبوری رہی ہوگی کہ ایک طرف اگر کوئی غیر مسلم کسی مسجد کو ڈھادے تو اینٹ سے اینٹ بجادیتے ہیں، سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ دوسری طرف خود ہی مسجد کی مقدس زمین پر قبضہ کرکے اس پر دیوراریں کھڑی کرتے ہیں اور اندر بچے پیدا کرتے ہیں۔ ان قبضے کے گھروں کے بیچ ایک کونے میں دبی سہمی ہوئی مسجد پر ہمیں بڑا افسوس ہوا۔ تنگ اور گندے حمام خانے دنیا تمام کی مساجد میں مشترک ہیں۔ سوائے امیر مسلم ممالک کے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ غریب ملکوں کی مسجدیں اور حمام مسافروں اور راہگیروں کیلئے ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔

راشٹاپتی بھون کی دونوں جانب وزراء کے دفاتر مغلیہ دور کے شان دار فنِ تعمیر کا نمونہ ہیں ۔ جن کے باب الداخلہ پر قرانی آیات کندہ ہیں ۔ صدیوں بعد بھی یہ عمارتیں عظیم شاہانہ رعب سے کھڑی ہیں ۔ اس کے مقابلے میں پارلیمنٹ کی جدید عمارت کی دیواریں اب لال پڑنے لگی ہیں اور آثار یہی ہیں کہ آئندہ دس بیس سال میں بمبئی کی مخدوش عمارتوں کی طرح نظر آئنگی۔ مغلوں کی بیشتر عمارتیں لال یا گیرو کے رنگ کے پتھروں سے بنائی ہوئی ہیں۔ یہی رنگ بی جے پی کو بھی پسند ہے اس کا راز ہماری سمجھ میں نہ آیا۔

اگلا دن جمعہ کا تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ جامع مسجد کا خطبہ سنیں۔
اس ممبر کو دیکھ کر مولانا محمد علی جوہر کو چشمِ تصور میں لائیں جو کبھی یہاں کھڑے ہو کر مخاطب کیا کرتے ۔ اسی ممبر سے ایک بار جب انہوں نے ہندو فرقہ پرستوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی مسلسل کردار کشی کے واقعات سے مجبور ہو کر بڑی بے بسی سے کہا تھا کہ کیا آج کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں رہا جو ان الزامات کا جواب دے سکے۔ سامعین میں ایک بائیس یا تئیس سالہ اس وقت کا غیر معروف نوجوان ابو الاعلی مودودی بھی تھا ۔ وہ اٹھا اور ” حہاد فی الاسلام “ لکھی۔ جو آج بھی اسلامی فکر پر معرکة الارا کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔

واقعہ یوں تھا کہ ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس کے ایک تعصب پسند لیڈر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی گستاخی میں ایک کتاب لکھی جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ۔ ایک تانگہ چلانے والے عبدالکریم کو یہ دیکھا نہ گیا اس نے اسے چھڑی سے قتل کر ڈالا جس پر سارے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف فسادات اور احتجاجات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ فرقہ پرستوں نے اخبارات اور ریڈیو کے ذریعہ مسلمانوں پر دہشت گردی، جہاد و قتال پسند، بنیاد پرست ہونے کے الزامات لگائے گئے اور پورے ہندوستان میں فرقہ پرستی کو ہوا دی جانے لگی۔ مسلمانوں کیلئے اُس وقت تک کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ تھا جب انہیں سیاست ، سماج اور میڈیا میں تنہا اور بے بس ہونے کا احساس ہوا ۔ جو آج تک باقی ہے۔ ایسے وقت مولانا محمد علی جوہر کی آواز نے جتنے سوئے دلوں کو جگایا ۔ اس مشعل کو لیکر پھر مولانا مودودی اور علامہ اقبال وغیرہ اٹھے ۔

اس ممبر سے برسہا برس تک عبد اللہ بخاری مخاطب کرتے رہے۔ آج کل ان کے صاحب زادے احمد بخاری صاحب خطبہ دیتے ہیں۔ بہت اچھے مقرر اور خطیب ہیں ۔ نماز کے بعد ایک پُر سوز اور ایمان پرور منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ تین حضرات نے جامع مسجد میں قبولِ اسلام کیا جن میں سے ایک میاں بیوی تھے جو کویت میں دونوں ملازم ہیں۔ محترمہ کے والد دہلی کے سابق کمشنر اور بی جے پی کے موجودہ اہم کارکن ہیں۔ شوہر پیشے سے ڈاکٹر تھے ہمیں بھی تھوڑی دیر ان سے گفتگو کی سعادت ملی ۔ معلوم ہوا کہ بوسنیا کے لئے جب کوویت ٹی وی کے ذریعہ لاکھوں دینار کی اعانت وصول کی جا رہی تھی اس واقعہ نے ان کو بہت متاثر کیا ۔ مغرب سے مشرق تک مسلمانوں کا ایک دوسرے کے لئے اس جذبہ کو پہلے انہوں نے اسے عصبی حمیت اور مسلمان قوم پرستی کے جذبہ سے تعبیر کیا۔ یہ بات ہر قوم میں فطری طور پر ہوتی ہے لیکن اتنا نہیں ہوتا کہ لوگ اپنی آمدنیوں سے کچھ نہ کچھ نکالنا نا گزیر سمجھیں اور خوشی کے ساتھ نکالیں۔ انہیں خیال یہ ہوا کہ تاوقتیکہ پیچھے کوئی مضبوط نظریہ نہ ہو کوئی اتحاد اتنا طاقتور نہیں ہوتا ۔
اس نظریہ کی تلاش میں انہوں نے قرآن اور دوسری کتابوں کے ہندی اور انگریزی ترجموں کو پڑھنا شروع کیا ۔ بیوی جس کی تعلیم ایل ایل بی تک تھی وہ اس نتیجہ پر پہنچیں کہ اسلام ایک ایسا قانونِ حیات رکھتا ہے جو ہر طرح سے مکمل ہے۔ جبکہ ہندو دھرم میں سوائے عبادات اور رسم و رواج کے کسی اور شعبۂ زندگی میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کو پیش کیا جا سکے۔ اس طرح مسلسل مطالعہ کے ذریعہ ذہن و قلوب حقانیت سے منور ہوتے چلے گئے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہندوستان جب بھی چٹھی پر جائنگے اسلام قبول کر لینگے ۔ میرے اس سوال پر کہ انہوں نے جس وقت اسلام قبول کر لینے کا فیصلہ کیا اسی وقت کویت میں ہی اس سعادت کو کیوں نہ حاصل کر لیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ کویت میں ان کمیونٹی کے کئی افراد نے اسلام قبول کیا ہے جب بھی کوئی قبولِ اسلام کا اعلان کرتا کمیونٹی کے لوگ ان کے اس عمل کو شیخ حضرات کو خوش کرنے کی ترکیب سے تعبیر کرتے ۔ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے قبولِ اسلام کو لوگ خوشامد پسندی یا خود غرضی سے تعبیر کریں اس لئے انہوں نے یہاں آکر اسلام قبول کیا۔

احمد بخاری صاحب نے ملاقات پر بتایا کہ نئی دہلی میں قبولِ اسلام کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ تعلیم یافتہ طبقہ بہت تیزی سے اسلام قبول کر رہا ہے جس میں برہمن بھی ہیں اور دوسری ذات کے لوگ بھی۔ ان نو مسلموں میں کچھ لوگ ان ” پاک نفوس “ پر مشتمل ہوتے ہیں جو دوسری شادی کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن ہندو دھرم انہیں جائز رشتے قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ (بے چاروں کو یہ خبر نہیں کہ اسلام جس چیز کی اجازت دیتا ہے اسی کے مخالف سب سے بڑے مسلمان ہیں۔ کوئی مسلمان دوسری شادی کی ہمت کرکے تو دیکھے پھر پورا معاشرہ اسکا جو حشر کرتا ہے وہ شائد ہندو دھرم والے بھی نہ کریں)۔ ایک کثیر تعداد محبت کی شادیوں کی خاطر بھی اسلام قبول کرتی ہے۔ کچھ لوگ مکہ اور مدینہ کے ویزوں کی خاطر بھی اسلام لاتے ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہوتی ہے۔

اس کے بعد ہم لال قلعہ کی طرف بڑھے۔ اس کے دروازے پر بھارت کا جھنڈا Made in India کے اسٹامپ کی طرح دور سے نظر آرہا تھا۔
اس کے دو دروازے عوام کے لئے کھلے ہیں۔ ایک دہلی دروازہ دوسرا لاہوری دروازہ ہے ۔ لاہوری دروازے پر جھنڈا لہرا رہا ہے۔ دروازہ خالی ہے۔ لال قلعہ میں داخلہ کیلئے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔ نادرشاہ اور انگریز بغیر داخلہ ٹکٹ کے داخل ہو گئے تھے جس کی وجہ سے بہت نقصان پہنچا شائد اسی لئے بھارت سرکار نے داخلہ ٹکٹ مقرر کر دیا مغلوں کی نسلیں تو مغلوں سے کوئی وراثت یا وظیفہ نہ پا سکیں ۔ کچھ عرصہ قبل بہادر شاہ ظفر کی نسل کے آخری دعویدار کلکتہ میں حکومت سے کاروائوں کی تکمیل کے انتظار میں غربت و افلاس اور فاقہ کشی میں انتقال کرگئے۔ بہادرشاہ کی سکّڑ پوتی کی شادی کیلئے ایک مقامی ہندو تنظیم نے انسانیت کی بنیاد پر چندہ جمع کرکے شادی کی۔ البتہ مغلوں کی عمارتوں سے اب تک کئی کروڑ سرکارحاصل کرچکی ہے۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دہلی کے لُٹنے اور پھر بسنے کا اسکور آگے نہیں بڑھے گا۔ نصابی کتب سے مسلمانوں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ مغلوں کا تذکرہ تو تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ باقی جو کچھ ہے وہ انہی شاندار عمارتوں کی وجہ سے زندہ ہے کیونکہ یہ منہدم نہیں کی جا سکتیں۔ جن سورماؤں کا تذکرہ بھر دیا گیا ہے وہ بغیرکوئی نشانی چھوڑے نصابی کتابوں کے ذریعہ ذہنوں میں بٹھائے جا رہے ہیں۔ جبکہ کئی تو ان میں ایسے ہیں جن کا وجود بھی ثابت نہیں۔

لال قلعہ آج بھی ایک عظیم زندہ شاہی محل لگتا ہے۔
اسی کے احاطہ میں انگریز,ں نے اپنی فوجی barracks بنائیں جو مخمل میں ٹاٹ کے پیوند کی طرح کھڑی ہیں۔ دیواروں سے ایک بوسیدہ فیکٹری کا گمان ہوتا ہے۔ جبکہ لال قلعہ کے دیوانِ عام ، دیوانِ خاص ، رنگ محل اور شیش محل کی عمارتیں پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی ہیں۔ البتہ دیواروں کی اداسی یہ صاف کہتی نظر آتی ہے کہ وہ شایانِ شان مکین ہمیں پھر میسر نہ آسکے۔ اور یوں لگتا ہے جیسے ابھی ابھی چھوڑ کر گئے ہیں۔ دیوانِ خاص میں وہ سنگِ مر مر کا تخت موجود ہے جس پر کبھی تخت ِ طاؤس ہوا کرتا تھا۔ اب بچے بیٹھ کر تصویریں کھنچواتے ہیں ۔ ان تمام عمارتوں میں اتنے ہیرے جڑے ہوئے تھے کہ ان کی چمک سے لال قلعہ شام سے ہی بقعۂ نور بن جاتا۔ کبھی کسی قندیل کی ضرورت نہ پڑتی۔ شیش محل جس کی دیواروں پر آئینے اور ہیرے جڑے تھے پتھروں کو جوڑنے والی لکیروں میں چاندی تھی۔ ہیرے نادر شاہ کی نذر ہوئے اور آئینے اور چاندی انگریزوں کے خزانوں میں محفوظ کر دیئے گئے۔ شیش محل کو انگریزوں نے کچن میں تبدیل کرد یا جس کی وجہ سے دیواریں کالی پڑ گئں ۔ رنگ محل کی اندرونی دیواروں پر یہ شعر دیکھ کر تحت الشعور میں نمرود کی جنت کا واقعہ ذہن میں ضرور تازہ ہوتا ہے :

گر فردوس برُوئے ز میں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
یعنی اگر فردوس زمیں پر ہوتی تو یہیں ہوتی، یہیں ہوتی اور یہیں ہوتی۔

نادر شاہ بغیر کسی Inventory کے کئی سو اونٹوں اور گھوڑوں پر ہیرے ، جواہرات و قیمتی سامان لاد کر ایران لے گیا جس کا آج ایران سے حسا ب مانگنا مشکل ہے ۔ لیکن انگریزوں نے خود inventory کا سسٹم دیا جو ان کے حلق کا کانٹا بن گیا۔ تختِ طاؤس سے لُوٹے ہوئے کوہِ نور کیلئے انگلینڈ پر بھارت سرکار کا دعوی پتہ نہیں کتنے برسوں سر چل رہا ہے۔ دیوانِ خاص کی سیدھی جانب اورنگ زیب کی اپنی ذاتی کمائی سے بنائی ہوئی موتی مسجد قلعہ کی تکمیل کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ چھوٹی سی خوبصورت سنگِ مر مر سے بنی مسجد پتہ نہیں کتنے برسوں سے بند ہے؟ اس پر زیرِ تعمیر کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

اندھیرا ہونے کے ساتھ ہی ایک دلچسپ تاریخی پروگرام sound & light پیش کیا جاتا ہے جس کے لئے علیحدہ ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔ اس میں شاہ جہاں آباد یعنی دلی کے آغاز سے لے کر 15 / اگست 1947ء تک مختلف سیاسی ادوار بہت اچھے طریقے سے پیش کیئے جاتے ہیں ۔ ایک گھنٹہ کے اس پرگرام میں سامعین کہیں بور نہیں ہوتے۔ بہت معلوماتی پروگرام ہے البتہ بعض جملے عصبیت سے بھر پور ہیں جو کسی آر یس یس کے اسکرپٹ رائٹر نے لکھے ہیں۔ جیسے :
” اورنگ زیب نے پورے پچاس سال ہندوستان پر حکومت کی ۔ وہ ایک تنگ نظر انسان تھا“۔

اگلے دن ہم تاج محل دیکھنے کیلئے روانہ ہوئے۔
دہلی سے آگرہ کا 215 کلو میٹر کا راستہ آدھے سے زیادہ زیرِ تعمیر ہے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ سڑک کو بنتے ہوئے دس سال پورے گزر چکے ہیں۔ دہلی کے بعد ہریانہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اتر پردیش۔ تاج محل دیکھنے کا جو بھی خواہشمند ہووہ گرمیوں میں ہرگز نہ جائے۔ دہلی سے وحشتناک گرمی کا سلسلہ آگرہ جا کر اور بڑھ جاتا ہے۔ البتہ تاج کو دیکھتے ہی کچھ لمحوں کے لئے آدمی سورج کی گرمی بھول جاتا ہے۔۔ سفید سنگِ مر مر کی یہ عمارت واقعی ہندوستان کا تاج کہلانے کے لائق ہے۔ حقیقت میں ایک سچے عاشق کا اپنی خوبصورت محبوبہ کے لیئے خوابوں کا محل ایسا ہی ہو سکتا ہے جیسے کہ یہ زندہ کھڑا ہے۔
صدیوں بعد بھی نہ اس کی خوبصورتی ماند پڑی ہے اور نہ کوئی پتھر کہیں سے ٹوٹا ہے۔ البتہ ریاست کی فیکٹریوں اور متھرا ریفائنری کے دھویں نے بعض بعض جگہ کچھ کالے نشان ڈال دیئے ہیں جو قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتے ہیں ۔ تاج محل میں داخل ہونے کیلئے بھی ایک عالیشان محل سے گزر کر باب الداخلہ پر پہنچتے ہیں جو بذاتِ خود تاج محل سے کم نہیں۔ تین طرف ایک ہی نمونے کی شاہانہ عمارتیں ہیں۔ چوتھی طرف جمنا ندی۔ درمیان میں تاج محل دلہن کی طرح کھڑا ہے۔ زیادہ تر یہاں نو شادی شدہ جوڑے نظر آتے ہیں۔ اسے دیکھ کر ہر شوہر کی خواہش ہوتی ہیکہ وہ بھی اپنی بیوی کی یاد میں ایک ایسا ہی تاج محل بنائے لیکن ہر شوہر کی قسمت شاہجہاں جیسی کہاں جسکی بیوی بیوہ ہونے سے پہلے شاہجہاں کو کچھ کرنے کا موقع دے کر چلی گئی۔
آج کے مالدار شوہروں نے بھی بیوی کے مرنے کے ساتھ ہی دوسری شادی کرنی شروع کردی ہے اسلئے اب تاج محل جیسی عمارتیں بننی ختم ہوگئی ہیں۔
صرف نواب صفدر جنگ نے شاہجہاں کی تقلید کی اور ایک محل دہلی میں تعمیر کیا لیکن بہر حال لال پتھر کا بنا ان کا یہ محل ، تاج محل کی بھونڈی نقل لگتا ہے جس کا داخلہ ٹکٹ ہونے کے باوجود لگتا ہے برسوں سے نہ اندر صفائی ہوئی ہے اور نہ حوض کا پانی بدلا گیا ہے۔

تاج محل میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے سامنے سے فوٹو گرافرس کا لشکر حملہ آور ہوتا ہے۔ پھر گائیڈز کا دائیں بائیں سے۔ یہ لوگ اس قدر گھیرتے ہیں کہ آدمی تاج محل دیکھنا چھوڑ کر ان لوگوں سے جان چھڑانے کے لئے سعی و جہد میں لگ جاتا ہے۔ اور جب باہر نکلتے ہیں تو مختلف اصلی و نقلی مصنوعات بیچنے والے لڑکوں کی گوریلا فوج سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جن کی چالاک سیلزمین شپ سے بچنے کے لئے خاصی محنت اور سمجھداری کی ضرورت ہے۔

مقبرہ کے اندر داخل ہونے کے بعد جالیوں سے آتی ہوئی جمنا ندی کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں گرمی کے احساس کو بھلا دیتی ہیں۔ ممتاز محل کی قبر بیچوں بیچ ہے۔ اس کے ایک کونے میں شاہ جہاں کی قبر ہے۔ ایک عدد مجاور صاحب یہاں بھی موجود ہیں جوہندو اور انگریز عورتوں کو لائین میں کھڑا کر کے ایک تھالی میں کچھ گیندے کے پھول ایک ایک عورت کی طرف بڑھاتے ہیں وہ دو تین پھول اٹھا کر ممتاز محل کی قبر پر پھینکتی ہے اور کچھ روپئے تھالی میں رکھ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ جس کے شکریہ کے طور پر مجاور صاحب ایک عجیب مترنم آواز میں اللہ اکبر پکارتے ہیں ۔ ہم نے مجاور سے دریافت کیا کہ آیا وہ شاہ جہاں کے خلیفہ ہیں؟ انہوں نے غصے سے ہماری طرف دیکھا اور انگلی سے دفع ہو جانے کا اشارہ کر کے دوسری ہندو عورت کی طرف تھالی بڑھائی ۔ قبروں کا کاروبار ہندوستان میں نیا نہیں ہے ۔ لیکن کوئی ہمت کر کے شاہ جہاں اور ممتاز محل کی قبروں کی بھی ایجنسی Agency حاصل کر لے گا ہمیں یہ توقع نہیں تھی۔ ایک گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ شاہجہاں کے خلفاء اور مجاوروں کا انتخاب پولیس کی رضامندی اور حصہ داری پر منحصر ہے۔

پورے سفر میں مسجدوں کی افسوس ناک حالت دیکھنے میں آئی۔ جگہ جگہ جدید طرزِ تعمیر کے گردوارے اور مندر ملتے ہیں ۔ اگر کسی ویرانے میں کوئی پتھر بھی لگا ہو تو دو چار لوگ اطراف تظر آ جاتے ہیں۔ لیکن کئی صدیوں تک مسلمانوں کے زیرِ اثر رہنے والی ان ریاستوں میں دور دور تک مسجد نظر نہیں آتی۔ راستہ میں کچھ مسجدیں ایسی ہیں جنہیں مخدوش قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں حکومت حق بجانب بھی ہے ۔ جن راستوں سے روزانہ بے شمار مسلمان بھی گزرتے ہوں گے لیکن کبھی کوئی گاڑی روک کر بوقتِ نماز مسجد نہیں جاتا ۔ ان مسجدوں کو کیسے باقی رکھا جا سکتا ہے ؟ البتہ کچھ درگاہیں ملیں جیسے
” حضرت ماموں بھانجہ “
” حضرت گلال شاہ “ وغیرہ ۔
یہاں مجاور اور کچھ زائرین نظر آئے جو پھول چڑھاتے ہیں ڈبّے میں کچھ روپئے ڈال کر مجاور صاحب کے ذریعے مرحوم کی خدمت میں کچھ عرضداشت پیش کرتے ہیں۔ ظہر کا وقت ہوچلا تھا۔ ہم ایک درگاہ میں گھسے کہ شائد مسجد مل جائے اور نماز ادا کر لیں ۔ مسجد تو مل گئی لیکن پتہ چلا کہ حمام سڑک کی دوسری جانب جھاڑیوں کی اوٹ میں ہے۔ گرد آلود مصلےّ پر کبھی کبھار کوئی مسافر یا مجاور اپنی اپنی انفرادی نماز پڑھ لیتے ہیں جماعت وغیرہ نہیں ہوتی۔

تاج محل کے وسیع و عریض صحن میں بھی سیدھی جانب تاج محل کے شایانِ شان ایک مسجد موجود ہے لیکن اس کے اطراف درخت اتنے بڑھادیئے گئے ہیں کہ مسجد دانستہ طور پر نظروں سے اوجھل کردی گئی ہے۔ ۔ شاذ و نادر ہی کوئی پتہ پوچھ کر گھوم کر داخل ہوتا ہے۔ یہ نا ممکن تھا کہ مسلمان خود نماز کا ارادہ کر کے مسجد ڈھونڈھے اور مسجد کے دروازے اس کے لئے بند کر دیئے جائیں۔ ہزارہا مسلمان موجود ہو تے ہوئے مسجدیں بند ہوں یہ بے سبب ہرگز نہیں ۔ اذان کی آواز آئے نہ آئے ضمیر سب سے بڑا موذّن ہے۔ اگر وہ نماز کے وقت کے ساتھ ہی اذان نہیں دیتا تو ایسے گونگے بہروں کیلئے حکومت مسجدوں کی حفاظت کیونکر کرسکتی ہے۔ اسلئے ایسی مسجدوں کا متروک و مسدود ہو جانا ایک لازمی نتیجہ ہے۔

اس کے بعد ہم نے قطب مینار دیکھا۔
اگر چیکہ بے شمار تاریخی یادگاریں مسلمان بادشاہوں ہی کی ہیں لیکن قطب مینار آنے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان بادشاہوں کی یاد گاریں ہیں جو حقیقت میں اسلام پسند تھے۔ علا الدین خلجی ، التمش کے مدرسے علای مینار اور مسجدِ قطب مینار کے ساتھ ہی ہیں۔ مینار اور مسجد و مدرسہ کی دیواروں پر کلمہ طیبہ اور آیاتِ قرآنی بکثرت ہیں۔ داغ دوزی کے نام پر قطب مینار پر سے کئی آیات کوسمنٹ دوز کر دیا گیا ہے ۔ مسجد موجود ہے لیکن لوگ اسے آثارِ قدیمہ سمجھ کر جوتوں سمیت آرام سے گھومتے ہیں۔ جنمیں خود کئی مسلمان شامل ہیں۔ جبکہ اطراف کی بے شمار دوکانیں مسلمانوں کی ہیں۔ اگر دو چار مسلمان بھی وضو کر کے آجائیں تو نہ صرف مسجد محفوظ ہو جائے بلکہ ہزاروں دیکھنے والوں کے سامنے دین کے ایک اہم رکن کا مظاہرہ ہو۔ ہم نے چند وزیٹرز اور دوکانداروں سے وہاں نماز نہ پڑھنے کی وجہ پوچھی اور یہ محسوس کیا کہ لوگ احساسِ کمتری اور خود مسلط کردہ خوف کا شکار ہیں ۔ بے شمار مسلم اور غیر مسلم وزیٹرز کے سامنے مسجد جانے اور جماعت بنانے سے قدامت پسند کہلانے کا کا خدشہ ہے اسلئے ایسے اعراض کرتے ہیں جیسے کوئی معیوب کام ہو۔ جبکہ خرافات کو انجام دیتے ہوئے بالکل نہیں شرماتے ۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر اس مدرسہ اور مسجد کے ویران احاطوں میں چند پتھروں پر لال پیلے رنگ کر دیئے جائیں تو پوجا پاٹ کر نے والوں کا ایک جمِ غفیر جمع ہو جائے گا اور کسی نہ کسی بھگوان کی جائے پیدائش معہ شجرہ نسب راتوں رات وجود میں آجائیگی۔ کم از کم ایک ویرانہ آباد تو ہو جائے گا۔ مسلمان نہیں کرینگے تو کوئی اور تو کرے گا۔

بھول بھلیّاں ، ہمایوں کا مقبرہ بھی تاریخی یاد گاریں ہیں جنہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ اپُّو گھر بچوں کی تفریح کے لئے الکٹرک جھولوں ، کشتیوں اور نقلی Dinasaurs پر مشتمل ہے جو کسی نے اگر جدہ ، دوبئی یا یورپ نہ دیکھا ہو تو یہ اس کے لئے بہت دلچسپ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ سارا دلّی بے دین مسلمانوں سے بھرا ہوا ہے ۔ جہاں اسے ہر دور میں بادشاہوں اور حکومتوں کا مرکز ہونے کا شرف حاصل ہے وہیں دینی لحاظ سے ساری دنیا کا مرکز ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ تبلیغی جماعت، اہلِ حدیث اور جماعتِ اسلامی کے بھی مراکز یہیں ہیں جہاں سے ساری دنیا میں دین کی دعوت ہر ملک ، ہر زبان اور ہر فرقہ میں پھیل رہی ہے۔ دوسری طرف حضرت نظام الدیم اولیا (رحمۃ اللہ علیہ) اور حضرت امیر خسرو (رحمۃ اللہ علیہ) وغیرہ جیسے نامور بزرگوں کی درگاہیں بھی ہیں جہاں ساری دنیا سے لوگ کھنچے آتے ہیں۔ ان مراکز میں گئے بغیر یہ محسوس نہیں ہوگا کہ آپ مسلمانوں کے شہر آ کر گئے ہیں۔

تبلیغی جماعت کے مرکز سے آگے بڑھیئے تو گلی تنگ ہوتی ہوئی درگاہ نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) کے باب الداخلے پر ختم ہوتی ہے۔ پچاس قدم پہلے بائیں جانب غالب اکیڈیمی ملتی ہے جس کے بورڈ کو اگر غور سے نہ پڑھا جائے تو آپ اسے بھی کوئی درگاہ سمجھ کر آگے گزر سکتے ہیں۔ درگاہ میں داخل ہونے سے پہلے سیدھے اور الٹے جانب بے شمار پھولوں اور بتاشوں کی دکان والے اور والیاں آپ کو پکار پکار کر متوجہ کر تی ہیں گویا یہ نذرانہ ہاتھ میں لئے بغیر داخل ہو نگئے تو بے ادبی ہوگی۔
احاطہ میں داخل ہونے سے قبل اگر آپ نے جوتے نہ اتارے تو کوئی نہ کوئی مجاور آپ کو اس طرح اشارہ کرینگے جیسے آپ گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہو چکے ہیں ۔ پہلے حضرت امیر خسرو (رحمۃ اللہ علیہ) کا مزار ہے جو انتہائی تنگ کمرے میں ہے اس کے بعد ایک شاندار گنبد کے نیچے حضرت نظام الدین اولیا (رحمۃ اللہ علیہ) کی مزار ہے۔ دونوں جگہ ایک جیسے مناظر ہیں۔
کچھ لوگ مجاور حضرات کی رہنمائی میں زیارت کرتے ہیں جیسے طواف و سعی میں مطوف حضرات رہنمائی کرتے ہیں۔ عقیدت و معرفت کی معراج یہاں نظر آتی ہے۔ کئی لوگ مزار پر پر مزین مخمل کی چادر کے اندر سر ڈال کر سجدہ ریز مصروفِ تعظیم و طلبِ حاجات میں مصروف رہتے ہیں۔ کئی لوگ پھولوں کی چادر بچھا کر فاتحہ خوانی میں یا کونے میں کھڑے مراقبے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ عورتیں قبر کے پاس داخل نہیں ہو سکتیں اسلئے یہ دس قدم کے فاصلے پر ایک جالی والی دیوار کے پیچھے جمع ہوتی ہیں۔ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی زیارت و طلبِ حاجات کے آداب بتانے کیلئے کئی ایک سینئر اور جونئر مجاور حضرات گھومتے ہوئے پائے جاتے ہیں جو نذروں ، منتوں اور فریادوں کو معقول معاوضے پر لکھ کر درگاہ کے حضور پیش کرتے ہیں ۔ نشانی کے طور پر درگاہ کی جالی سے ڈوریاں باندھ دی جاتی ہیں۔ دونوں مزاروں کے درمیان سیدھی جانب ” حجرۂ فِردوسِ بریں “ ہے جہاں سجادہ نشین تشریف رکھتے ہیں ۔ حجرۂ فِردوسِ بریں کی تختی کے نیچے ” کُل عملیات ِ سحر “ ”جادو ٹونے وغیرہ کے علاج کا مرکز “ کی بھی تختی نظر آتی ہے۔

پیلا رنگ حضرت نظام الدین (رحمۃ اللہ علیہ) اور ان کے چاہنے والوں سے مخصوص ہے۔
ایک بزرگ مجاور صاحب نے پیلے رنگ کی خصوصیت کے بارے میں بتایا کہ ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ جن بزرگوں نے فرمائی وہ تقریر و وعظ یا کتابی شکل میں نہیں تھی بلکہ لاکھوں ہندوؤں کو انہوں نے بھجن وغیرہ کو حمد و نعت میں بدل کر سنایا اور لوگ جوق در جوق مشرف بہ اسلام ہونے لگے ۔ پیلے رنگ سے وابستہ ایک واقعہ یوں ہیکہ :
ایک مرتبہ کچھ عورتیں بسنتی کی خوشیاں مناتی ہوئی پیلے کپڑوں اور پیلے و زعفرانی ڈوپٹوں کو لہراتے اور گیت گاتے ہوے حضرت امیر خسرو (رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس سے گزریں۔ حضرت کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ بسنتی کا تیوہارہے۔ یہ اتحاد و اتفاق کی نشانی ہے۔ اس لئے آج کا دن عید کے طور پر منایا جاتا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ تو ہماری بھی عید ہے کیونکہ اسلام اتحاد و اتفاق کا مذہب ہے۔ انہوں نے بھی ایک پیلی چادر زیب تن فرمائی اور سب کے ساتھ حضرت نظام الدین (رحمۃ اللہ علیہ) کے حضور پہنچے ۔ حضرت نے جب سارا ماجرا سنا تو پسند فرمایا اور اس کے بعد یہی رنگ صدیوں سے ہندو و مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی ایک علامت ہے۔

ہر سال بسنت کے موقع پریہ خوشیاں منا کر اس واقع کی تذکیر کی جاتی ہے کہ کس طرح اولیائے کرام نے ہند میں اسلام کی جڑوں کو مضبوط کیا۔ بزرگ نے بتایا کہ یہ تفصیلی واقعہ سجّادہ صاحب نے بسنتی کے روز دور درشن پر بھی پیش کیا ۔ بہر حال اگر یہ حوالہ نہ بھی دیا جاتا تو ہمیں یقین تھا کہ ان رسومات کے پیچھے یقیناً اولیائے کرام کا کوئی نہ کوئی ، اجتہاد رہا ہوگا ورنہ بے سبب تو کوئی رسم شروع نہیں ہو جاتی۔

تیسرا بڑا اسلامی مرکز جماعتِ اسلامی کا مرکز ہے جہاں پہنچنے کیلئے اوکلا کی گندی متوفّن بستیوں سے گزرنا لازمی ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ جامعہ ملیہ اور ڈاکٹر ذاکر حسین کالج کے راستے بھی یہیں سے گزرتے ہیں۔ ان تعلیمی مراکز پر مسلمان طلبا کی چہل پہل دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ اعلی تعلیم اور تخقیق کے کئی شعبے یہاں موجود ہیں۔ علی گڑھ کے بعد مسلمان طلبا کے لئے بشمول ہمدرد یونیورسٹی کے دہلی سب سے بڑا تعلیمی مرکز ہے جہاں سے مستقبل کی کم از کم شمالی ہندوستان کی مسلم قیادت ابھریگی۔

کناٹ پیلیس دنیا کے بڑے Shopping Centres میں شمار کیا جاتا ہے۔ انگریزوں کا بنایا ہوا یہ خوبصورت بازار ہزاروں دوکانوں پر مشتمل ہے جہاں ملکی اور غیر ملکی تمام چیزیں مل جاتی ہیں بالخصوص وہ کتابیں جو لندن وغیرہ میں چار گنازیادہ قیمتی ہوتی ہیں یہاں سستی مل جاتی ہیں جو کہ چوری سے چھاپ کر فروخت کی جاتی ہیں۔ کاپی رائٹس کا مسئلہ ہندوستان پاکستان میں نہیں ہے اسلئے مصنف بے چارا تو اپنی کمائی پوری اپنی تخلیق پر لگا دیتا ہے اور صِلے کے تمنا میں مرجاتا ہے لیکن پبلشر ان کی کتابیں بغیر کسی اجازت کے شائع کرکے خوب کماتے ہیں۔ کئی مصنف تو بے چارے ایسے ہوتے ہیں جو عدالتی کاروائی کرنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے اسلئے یہی سوچ کر خوش ہوجاتے ہیں کہ چلو اسی بہانے ان کی تحریر تو مشہور ہوئی۔ اس سے لگا ہوا پرکرما ریسٹورنٹ جو دلی کی بلند ترین عمارت کی چھت پر ہے یہ ایک Revolving Restaurant ہے جس میں بیٹھ کر آپ نوے منٹ کے ایک چکر میں پوری دہلی کے اہم مقامات کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ کناٹ پیلیس میں دو آباد مسجدیں دیکھ کر خوشی ہوئی جو نو جوان مصلیوں سے ہمہ وقت پُر ہوتی ہیں۔

دلی کو خدا حافظ کہنے سے پیشتر یہ تا انصافی ہوگی اگر ہم چاندنی چوک، چتلی قبر ، بلی ماران اور اس جیسی پرانی دلی کی دوسری گلیوں میں رہنے والوں کو خراجِ تحسین پیش نہ کریں۔
یہاں چونکہ کاریں داخل نہیں ہو سکتیں اس لئے رکشہ والوں کی حکومت ہے۔ جس طرح حیدرآباد میں آٹو والے حضرات کاروں اور لاریوں کو بھی نظر انداز کر کے چلاتے ہیں اسی طرح یہاں رکشہ راں بھی راہگیروں سے مکمل بے نیازی برتتے ہیں ۔ یہاں عزت بچانا اتنا مشکل نہیں جتنا جان بچانا ہے۔
تنگ گلیوں میں دونوں جانب قبر سے بھی کم جگہ پر دوکانیں ، خریداروں کا ہجوم ، سائکل رکشے اور ٹانگوں کا سیلاب دیکھنے کو ملتا ہے۔ صرف انسان ہی نہیں اتنی ہی تعداد میں کُتے، بلیاں اور گائے ہوتے ہیں۔ کتے اور بلی کی ساتھ آپ جیسا چاہے سلوک کرلیں لیکن کسی گائے کے حضور آپ نے کوئی گستاخی کی اور انہیں سڑک کے بیچ سے ہٹانے کی کوشش کی تو آن واحد میں ہندو مسلم فساد پھوٹ سکتا ہے۔

یہاں لوگ چلتے نہیں ہیں بلکہ بھیڑ انہیں چلاتی ہے۔ رکشے بھی کچھ ایسی وضع کے کہ جن پر بیٹھنے سے پیشتر گھڑ سواری کی ٹریننگ حاصل کرلینی چاہیئے ۔ ورنہ یوں لگتا ہے کہ آن میں پھسل کر نیچے آجائنگے ۔ ان رکشہ رانوں کی حالت پر جہاں ہمیں رحم آیا وہیں یہ دیکھ کر حیرت بھی ہوئی کہ ان پر سواری کرنے والے اکثر حضرات ٹائی سوٹ میں بھی ، چغوں میں بھی ملبوس ہوتے ہیں ۔ تین تین لوگوں کو ایک مریل سا کمزور انسان کھینچتا ہے اور یہ حضرات پوری شانِ بے نیازی سے غریب سے رکشہ کھنچواتے ہیں۔ فقیروں کا جمِ غفیر جگہ جگہ راستہ روکے کھڑا ہوتا ہے۔ ان کی وجہ سے گزرنے والوں کو کتنی رکاوٹ ہوتی ہے وہ بالکل احساس نہیں کرتا۔ کیا کریں تنگ و تاریک ایک ایک دو دو کمروں پر مشتمل مکانوں میں پیدا ہو کر رینگنے جگہ نہ ملی تو سیدھے باہر آ کر سڑک پر دوڑنا سیکھتے ہیں ۔ سڑک کی دونوں جانب موریاں ، سروں کو چھوتے ہوئے بجلی کے تار اور بے شمار گڑھے ۔ ان تمام سے بچتے بچاتے چلتے ہوئے یہ تو محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی روایتی بستی سے گزر رہے ہیں لیکن یہ نہیں لگتا کہ اس شہر میں ہیں جو بین الاقوامی شہر ہے ۔

بہرحال پرانی دلی کے باسیوں کے صبر ، مستقل مزاجی اور قلندرانہ بے نیازی کو ہم سلام کرتے ہیں ۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے