Skip to content
 

مصر نامہ

ڈاکٹر عابد معز کو ہم نے بقر عید کی مبارکباد دی اور پوچھا عید کیسے گزری۔
انہوں نے کہا ”بکروں کے ساتھ“۔
ہم نے کہا : الحمدللہ! ہماری عید انسانوں کے ساتھ گزری، ہم مصر میں تھے۔
انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا اس سے بہتر لطیفہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سفر نامہ لکھنے کا حکم دے ڈالا۔
ہم نے کہا کہ سفر نامہ تو امریکہ یا یورپ کا ہوتا ہے۔ اسلئے ہمارے اکثر ادیب محض سفر نامہ لکھنے کیلئے وہاں کا سفر کرتے ہیں۔ کئی تو پہلے سے ہی لکھ رکھتے ہیں بعد میں کچھ تصویریں لینے سفر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا ”میں آپ کو سفر نامہ نہیں ”مصر نامہ“ لکھنے کہہ رہا ہوں بھلے آپ سنجیدگی سے لکھئے ”شگوفہ“ کے قارئین کیلئے یہ خود مزاح پیدا کرلے گا۔ “

مصر آکر ہمیں پتہ چلا کہ ترکی کی طرح مصریوں نے بھی یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو یورپین یونین میں شامل کرلیا ہے کیونکہ یہاں کے کسی ٹوئیلٹ میں ہمیں نہ Tissue paper ملا نہ پانی۔ Tissue paper کا نہ پایا جانا تو خیر ترقی یافتہ ہونے کی نشانی تھی ہی لیکن مصری چونکہ ہندوستانیوں کی طرح ترقی ذرا دیر سے کرتے ہیں لیکن پھر ترقی کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ اسلئے اس جدّت پسندی پر ہمیں حیرت نہ ہوئی۔
شاید اسی لئے یہاں گوروں کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے۔ ہم نے سردار جیوں کے بارے میں اتنا کچھ سنا تھا کہ پنجاب دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ خیر ہم نے ہندوستان کا پنجاب تو نہیں دیکھا لیکن عرب کا پنجاب دیکھ لیا۔ اب یہ پتہ نہیں کہ مصری پہلے سردار جی تھے یا سردار جی پہلے مصری تھے۔
تاریخ سے تو اندازہ ہوتا ہیکہ مصری سردارجیوں سے بڑے ہیں۔ اسی لئے احتراماً یہاں کئی سردار جی آتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔ ہم نے کئی ملک دیکھ ڈالے لیکن یہ پہلا ملک ایسا نظر آیا جہاں کوئی کٹّی صاحب یا کویا صاحب نظر نہیں آئے۔ مصرکو ہمارے ملیالی بھائیوں نے آکر فوری اپنے سالے بہنوئیوں کی فوج کو جمع کرنے کی قابل جگہ کیوں نہیں سمجھایہ مصر کیلئے شرم کی بات ہے۔ اس پر مصری حکومت کو ہندوستان کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے۔

آدمی دوسرے ملکوں کی سیر اسی لئے کرتا ہے کہ کچھ دن کیلئے ہی سہی دوستوں سے نجات تو ملتی ہے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ افسر فہیم صاحب پہلے ہی سے وہاں ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے سعودی عرب میں رہتے ہوئے اتنے دوست پال لئے تھے کہ سب سے نجات پانے مصر چلے گئے لیکن تھوڑے دن میں ہی اُنہیں پرانے یاروں کی یاد بے چین کرنے لگی۔ وہ واپس آنے کا ارادہ نہ کر بیٹھیں یہ سوچ کر ہم خود ان کی ڈھارس بندھانے مصر پہنچ گئے۔ وہ اتنے دوست ساز اور دوست نواز انسان ہیں کہ مکڑی کے جالے کیطرح جہاں بھی جاتے ہیں اپنا جالا بن لیتے ہیں۔ اتنے کم عرصے میں انہوں نے مصر میں بھی اتنے دوست بنالئے ہیں کہ لوگ سفیرِ ہند کا نام کم جانتے ہیں اور افسر فہیم کا زیادہ۔
کئی دوستوں سے تعارف کروایا۔ زیادہ تر غیر حیدرآبادی تھے اسلئے ہر جگہ زبان کو کلف دے کر استری کرنی پڑتی تھی۔ ہَوْ نکّو کیکو سے بچتے ہوئے گفتگو کرنے میں ایسے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے پینتالیس انچ کی کمر والا چالیس انچ کی پتلون پہن لے۔

ایک جناب عزیر احمد صاحب ملے ۔ ان کا تعلق بہار سے ہے۔ ریڈیو مصرکی اردو نشریات پر خبریں اور دوسرے موضوعاتی پروگرام پیش کرتے ہیں اسکے ساتھ حضرت ثناء اللہ پانی پتی کی تفسیرِ قرآن پر عربی میں جامعہ ازہر سے ڈاکٹریٹ بھی کررہے ہیں۔ ایک مولاناجناب منصور احمد صاحب کا تعلق سہارنپور سے ہے اور یہ امام کرمانی کی شرحِ بخاری (الکواکب الدراری) پر جامعہ ازہر ہی سے پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ ایک اور مقناطیسی شخصیت جو دینی ،علمی اور سماجی حلقوں میں معروف ہے بلکہ مرکز ہے وہ تھے جناب شعیب اسلام صاحب جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ جامعہ ازہر سے انہوں نے ” پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اعتراضات اور ان کے جوابات“ پر ڈاکٹریٹ کی ۔ اب اپنی علمی خدمات کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ جو بہت جلد کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں اپنی خدمات تدریس پیش کرنے کیلئے جدہ تشریف لانے والی ہیں۔

ایک ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی جن کا تعلق حیدرآباد ہی سے ہے ۔ ان سے مل کر ہم رات بھر انہی کے بارے میں سوچتے رہے۔ اور بیگم اختر کی گائی ہوئی ایک غزل کے مصرعے کو یاد کرتے رہے۔
”اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا“
محبت میں دل کے ساتھ ساتھ گھر اور زندگی لٹ جانے کے قصّے سنے تو بہت تھے لیکن پہلی بار ڈاکٹر صاحب سے مل کر دیکھ بھی لیا۔ سعودی عرب میں یوں تو بے شمار لوگ دیکھے جن کا دل کسی نہ کسی مصری حسینہ پر آجاتا ہے لیکن کسی زلیخائے مصر کا کسی ہندوستانی پر یوں دل آجائے کہ دونوں سعودی عرب چھوڑ کر مصر آبسیں یہ کبھی نہیں ہوتا لیکن ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہوا۔
یہاں تک تو خیر ٹھیک تھا لیکن اسکے بعد یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی پہلی بیوی نے کورٹ اورپولیس کی وہ کاروائیاں کرڈالیں کہ ان کا انڈیا جانا ممکن نہیں رہا۔ ادھر مصری قوانین جو شہریت دینے کے معاملے میں اتنے سخت ہیں کہ سعودی عرب میں بھی شہریت حاصل کرنا شائد ممکن ہو لیکن مصر میں نہیں۔ عمر بھی ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جسمیں وطن چاہے وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو اسکی مٹی کی خوشبو سانسوں کیلئے آکسیجن اور اپنا گھر اور اپنے لوگ چاہے وہ کتنے برے ہوں، غذا کا کام دیتے ہیں۔ اس محرومی کے نتیجے میں شائد وہ نفسیاتی الجھن کا شکار ہوکر مایوسی اور Depression کا شکار ہوچکے ہیں۔ بقول افتخار عارف کے
”عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
تمام عمر چلے اور گھر نہیں آیا“۔
ڈاکٹر صاحب کے رکھ رکھاؤ ، گفتگو اورمسکراہٹ میں اب بھی حیدرآبادی تہذیب مکمل رچی ہوئی ہے۔ ان کی بے چارگی اور اکیلا پن رات بھر ذہن پر چھائے رہے اور ان کا درد اپنے دل میں محسوس ہوتا رہا۔ ان کیلئے دعا کے علاوہ اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔

ہم جس سے بھی کہتے کہ ہم مصر جارہے ہیں اسکی آنکھوں میں ایک چمک اور حسرت کے ساتھ ساتھ چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ بھی پھیل جاتی ۔ ہم بھانپ لیتے کہ وہ آگے کیا کہنے جا رہا ہے اس لئے ان کی زبان کھلنے سے پہلے ہی ہم کہہ دیتے کہ
”بھائی ہم اپنی فیملی کے ساتھ جارہے ہیں“۔
وہ کچھ نہ کہتا لیکن ہم اسکے ردّعمل میں پوشیدہ یہ خاموش جملہ ضرور پڑھ لیتے کہ
”آپ بے وقوف آدمی ہیں جو اتنا بہترین موقع ضائع کررہے ہیں“۔

لوگوں کو یہ بھی غلط فہمی ہیکہ ٹی وی پر مصری ڈرامے اور بیلی ڈانس دیکھ کر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایرپورٹ سے ہی ہر حسینہ انہیں بیلی ڈانس کرتی ہوئی نظرآئیگی۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ مصری عورتیں جتنی بدنام ہمارے تصوّر میں تھیں اسکے بالکل برعکس نکلیں ۔ ایک سے اعلیٰ ایک حسن کا نمونہ اگرچہ نظر آتا ہے۔ برقعوں یا دوپٹّوں کا بھی وجود عام نہیں ہے ۔ عام طور پر لڑکیاں اسکرٹ اور عورتیں میکسی پہنتی ہیں۔ اسکے باوجود کوئی لڑکی یا عورت بغیر اسکارف کے کہیں نظر نہیں آتی۔ نماز کا وقت ہوتے ہی اکثر عورتیں اور مرد ایک کونے میں کوئی کپڑا بچھا کر نماز ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ تفریحی مقامات پر جسطرح ہندوستان میں لڑکیوں کو گھورنا عام ہے اور جسطرح سعودی عرب اور دوسرے مالدار خلیجی ممالک میں ان لڑکیوں کو ٹیلیفون نمبر پاس کرنا عام ہے بلکہ یہ بھی ہیکہ اگر کوئی گھورنے والا یا نمبر پاس کرنے والا نہ ملے تو لڑکیاں خود اپنی حرکتوں سے ایسے اوباشوں کو پیدا کرلیتی ہیں ویسا ہم نے مصر میں نہیں دیکھا۔ مصر چوری اور رشوت خوری میں آگے ہونے کے باوجود لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ یا عصمت دری کے واقعات میں بہت پیچھے ہے۔
اگر مصری عورتوں میں یہ حیا اور خودداری نہ ہوتی تو ہمارے خلیجی دوست کب کے اسے بھی بحرین یا لبنان بناچکے ہوتے۔ انہیں پتہ ہے کہ بازارِ مصر میں غلام آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن لونڈیاں نہیں اسلئے عیاشی کیلئے وہ اِدھر کا رخ کم ہی کرتے ہیں۔
مصری مرد ، عورتوں کا احترام کرتے ہیں۔ اور عورتیں بھی گھر کے باہر کے ہر مرد کا احترام کرتی ہیں۔ جوڑا جہیز کا کوئی وجود نہیں۔ جب تک لڑکا روزگار سے نہ لگے اور رہن سہن کا پورا انتظام نہ کرے اسکی شادی ناممکن ہوتی ہے۔ اسلئے مردوں کی شادی کی اوسط عمر تیس سال ہے۔ اسی لئے بچے دیر سے پیدا ہوتے ہیں اور کم پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں بھی گھروں میں ہندوستان اور پاکستان کی طرح ہر بڑا فیصلہ مرد کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے مسئلے عورتیں اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں۔ بڑے فیصلے جیسے اوباما کوافغانستان میں کیا کرنا چاہئے، علماء اور جماعتوں میں کسطرح اتحاد پیدا کرنا چاہئے وغیرہ اور چھوٹے فیصلوں سے ہماری مراد ہے اس ماہ میاں کی تنخواہ کیسے اور کہاں خرچ ہوگی، بیٹے کی شادی پر کتنا جوڑا جہیز وصول کیا جائیگا، دعوتیں کیسی ہونگی وغیرہ۔ یہاں بھی گھر کے معاملات میں مردوں کا کام مشورے دینا ہے اور عورتوں کا کام فیصلے کرنا ۔
ہندوستانیوں کو یہ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستانی بھائیوں کی مہربانی کی وجہ سے شائد ہندوستانیوں کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے ہاں حسیناؤں کو عورت بننے میں کئی سال لگتے ہیں لیکن مصری لڑکیاں شادی تک حسینہ بلکہ حسینہ عالم ہوتی ہیں لیکن شادی کے بعد ۔۔۔۔۔ یوں سمجھ لیجیئے کہ شادی تک وہ ہندوستانی فلموں کی ہیروئن لگتی ہیں شادی کے بعد پاکستانی پنجابی یا پشتو فلموں کی ہیروئن بننے میں دیر نہیں لگاتیں۔ میٹھی مصری کا دانہ جاکر گُڑ کا ڈھیلا بن جاتی ہیں ۔ ہندوستانی فلمیں یہاں مقبول ہیں۔ عورتیں ان فلموں کو دیکھ کر یہی سمجھتی ہیں کہ ہندوستانی مرد بڑاوفادار ہوتا ہے سارا دن صرف محبت کرتا ہے۔ ہم نے یہ غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ ہم کو اپنی بیوی بچوں کے پاس بھی جانا ہوتا ہے۔

بیلی ڈانس واقعی ایک ہوش ربا فن ہی نہیں مشکل ترین فن ہے۔ جسم کا ہر حصّہ الگ الگ اسطرح تِھرکانا جیسے بجلی کا کرنٹ بدن میں دوڑ رہا ہو ایک حیرت انگیز آرٹ ہے۔ شائدرقصِ دو آتشہ اسی کو کہتے ہیں۔ ایک تو خود ڈانس کرنے والی کے بدن سے لگتا ہے شعلے اٹھ رہے ہیں۔ دوسرے اسے دیکھنے والے کے بھی جذبات میں شعلے اٹھنے لگتے ہیں۔
ہم سے کہا گیا تھا کہ لڑکیاں وہاں آکر کپڑے اتار دیتی ہیں۔ یہ جھوٹ ہے۔ وہاں لڑکیاں کپڑے پہن کر ہی نہیں آتیں !
یہ مزا اس وقت کِرکرا ہو جاتا ہے جب بجائے لڑکیوں کے خود مرد بیلی ڈانس پیش کرنے لگتے ہیں۔ رقص صرف عورت کو بھاتا ہے۔ مرد ڈانس کرتے ہوئے اتنے ہی برے لگتے ہیں جتنے بھارت ناٹیم یا کیبرے کرتے ہوئے لگتے ہیں ۔ مرد توپ پہن کر جب کمر اور سینے تِھرکاتے ہیں تو اوپر سے نیچے تک صرف توپ تھرکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اندر کیا کیا تھرکتا ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔

عورتوں کو نوکری کروانا یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن وہ عورتیں جو جدید تعلیم سے آراستہ ہو رہی ہیں وہ بچے رکھتے ہوئے بھی پوری بن ٹھن کر ٹخنوں تک اسکرٹ پہنے کہیں کہیں کسی آفس میں نظر آجاتی ہیں۔ قطع کلامی کی بیماری عام عربوں کی طرح مصر میں بھی عام ہے۔ آپ ایک گھنٹہ گفتگو کیجئے وہ پچاس منٹ بولیں گے۔ باقی دس منٹ سانس کے۔ اگر کوئی آپ کے تیسرے یا زیادہ سے زیادہ چوتھے جملے پر ہی قطع کلامی نہ کر ڈالے وہ عرب نہیں ہو سکتا۔
اور جو پہلے یا دوسرے جملے پر ہی آپ کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع نہ کردے وہ مصری نہیں ہوسکتا۔
البتہ دوسرے عربوں کے مقابلے میں مصریوں میں حسِّ مزاح زیادہ ہوتی ہے۔ دوسرے عربوں اور مصریوں میں یہ فرق ہوتا ہیکہ دوسرے عرب جو باتیں بغیر سوچے سمجھے کرتے ہیں مصری وہی باتیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔
حیدرآبادیوں اور مصریوں میں ایک قدرِ مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہر شخص بغیر کسی مطالعے یا قابلیت کے بیک وقت سیاست، مذہب ، سماجیات یا تاریخ وغیرہ پر بول سکتا ہے۔ ہر مصری انگریزی بولے نہ بولے ایک جملہ ضرور بولتا ہے کہ : Welcome to Egypt, Sank you۔

مصر کی شہرت کی اصل وجہ یہ ہیکہ ان کے ہاں لطیفے بولے کم جاتے ہیں اور کئے زیادہ۔ سیاسی لطیفے بولنا جرم ہے کیونکہ ہر عرب ملک کیطرح مصر بھی ”ایک محوری“ ملک ہے جہاں ایک بار کوئی صدر بن جاتا ہے تو پھر صرف موت کا فرشتہ ہی آکر اسے ہٹاتا ہے۔ لیکن فرشتے بھی ان پر اتنے مہربان ہوتے ہیں کہ اُس وقت تک انتظار کرواتے ہیں جب تک صدرصاحب کا بیٹا جوان نہ ہوجائے اور جمہوریت کو اپنی جیب میں رکھنے کے قابل نہ ہوجائے۔

امریکہ اور یورپ نے حتیٰ کہ جمہوریت کا جو بھی خود موجّد رہا ہوگا اس نے بھی جمہوریت کی اتنی حفاظت نہیں کی جتنی یہ لوگ کرتے ہیں اسلئے ان کی جمہوریت کے خلاف جو بھی آواز اٹھائے اسکو خود اپنی آواز کبھی سنائی نہیں دیتی ۔ جمعہ کے خطبوں میں کہیں کوئی سیاسی بات نہیں ہوتی۔ اگر ہوتی ہے تو آئندہ وہ خطیب وہاں نہیں ہوتا۔ ابن انشاء کے ایک جملے کو اگربدل کر یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ
عرب کوئی نماز نہیں چھوڑتے اور اپنے کسی مخالف کو زندہ نہیں چھوڑتے۔
امریکہ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ایک بار کسی امریکی پر ایک آوارہ کتے نے بھونک دیا۔ فوری پورے شہر کی پولیس کو کتے پکڑنے کے کام پرلگا دیا گیا ۔ کاش مکھیوں اور مچھروں سے تنگ آکر کوئی امریکن کبھی شکایت کردے۔ کسی بھی عمارت کے سنگِ بنیاد یا افتتاح کے موقع پر جو کتبہ نسب کیاجاتا ہے وہ بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔
”بہ عہدِ رئیس حسنی مبارک، بہ سرپرستی وزیر فلاں، بہ عنایت ایم پی فلاں، بہ نظرِکرم ایم ایل اے فلاں فلاں، جناب فلاں کونسلر صاحب نے اس عمارت کا افتتاح فرمایا“۔

جس عمارت پر ایسا کتبہ نسب ہوتا ہے اسے بلدیہ اور ٹیکس جیسے ہر ڈپارٹمنٹ سے امان مل جاتی ہے ورنہ ۔۔۔۔۔۔ ورنہ ”بخشش“ کا فرشتہ ہی ان کی جان بچا سکتا ہے۔ یہاں بخشش کے معنے وہی ہیں ہو ہمارے ہاں علماء میں نہیں بلکہ عوام میں رائج ہیں۔ یعنے رشوت۔
بخشش کے جتنے نمونے ہندوستان اور پاکستان میں رائج ہیں وہ پورے یہاں بھی رائج ہیں البتہ یہ کہا جاسکتاہے کہ پورے ہندوستان اور پاکستان میں جتنی رشوت لی اور دی جاتی ہے وہ ایک طرف رکھی جائے اور یہاں جتنی لی اور دی جاتی ہے اسے ایک طرف رکھی جائے تو یہ لوگ جیت جائیں گے۔
فرق یہ ہیکہ ہمارے ہاں ”چائے پانی کیلئے “ کہہ کر مانگا جاتا ہے اور یہاں اعط پیبسی یعنی Pepsi کیلئے ۔ سنا ہے ایک آدمی جو بخشش نہ دینے کے جرم میں جیل میں بند تھا مرگیا۔ پولیس والے اسکے گھر پہنچے اور کہنے لگے :
”مرنے والا جیل کی مدت پوری کئے بغیر مرا ہے اسلئے باقی مدت اسکے باپ یا بھائی کو جیل میں پوری کرنی لازمی ہے“۔
مرنے والے کے رشتہ دار پولیس والوں کے پاوں پکڑ کر معافی مانگنے لگے اور بالآخر انہیں بخشش دینے پر ہی جان کی بخشش ملی۔
اب اسی سے اندازہ لگا لیجئے کہ ہم کو قاہرہ سے شرم الشیخ کے لئے جہاز بدلنا تھا جو دوسرے ٹرمینل پر تھا۔ اس ٹرمینل پر جانے کیلئے Shuttle bus کا انتظام جو کہ ایرپورٹ کی ذمہ داری تھی اس کے لئے بھی ڈیوٹی آفیسر نے ہم سے سو پاونڈ وصول کر لئے ۔

یہاں صحافت کو مکمل آزادی حاصل ہے۔۔۔۔ صحافیوں سے۔ جو بھی رشوت اور بدعنوانیوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس کو وزیر یا نائب وزیر بنا دیا جاتا ہے۔ کاش ہم مصری ہوتے۔
ایک مصری سے ہم نے پوچھا : آپ اسلامی قوانین کیوں نہیں نافذ کرتے ؟
اس نے کہا خطرہ ہے۔
ہم نے پوچھا کیا امریکہ یا اسرائیل سے؟
اس نے کہا ” نہیں! ہاتھ کٹ جانے سے۔ آدھے مصریوں کے ہاتھ پہنچوں سے اور باقی آدھوں کے کہنیوں سے کٹ جائیں گے“۔

تب ہمیں سمجھ میں آیا ہندوستان اور پاکستان طالبان سے اسقدر گھبراتے کیوں ہیں۔ مصر میں اسلام پسند طبقہ بھی کافی تعداد میں ہے لیکن عوام کو صحیح اسلامی تعلیمات کیطرف راغب کرنے میں ناکام ہے۔ اس کی بنیادی وجہ شائد اس نکتہ سے ناواقفیت ہو کہ اسلام میں داڑھی ہے لیکن داڑھی میں اسلام نہیں ہے۔ شہروں میں توپ پہننے کا رواج رفتہ رفتہ کم ہو رہا ہے۔ ایسا ہی رہے تو توپوں کی تعداد ایک دن اتنی ہی رہ جائیگی جتنی شیروانیوں کی تعداد آج حیدرآباد میں ہے۔
یہاں آٹو اور اسکوٹر نہیں ہوتے اسلئے کار ڈرائیوروں پر دوہری نہیں تہری ذمہ داریاں ہیں۔ وہی بے چارے آٹو اور اسکوٹر والوں کی کمی پوری کرتے ہیں اور ایسے کرتے ہیں کہ ہندوستان کے آٹو اور اسکوٹر والے بھی شرمندہ ہو جائیں۔ یہاں بھی وہی ہندوستانی ٹرافک سسٹم ہے یعنے نہ لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہے نہ رائٹ ہینڈ۔ سب درمیان میں چلتے ہیں۔
اگر غلطی سے حکومت درمیان میں فٹ پاتھ بنا دیتی ہے تو لیفٹ والے رائٹ پر اور رائٹ والے لفٹ پر پوری داداگیری کے ساتھ گاڑی چلاتے ہیں۔ اگر آپ نے انہیں گھور کر دیکھا تو آپ کو اپنا راستہ خاموشی سے طئے کرنے کی تڑی بھی دیتے ہیں۔ اگر مصر میں آپ کے ساتھ اپنی سواری کا انتظام نہ ہو تو ٹیکسی والے آپ کو ویسے ہی لوٹ لیتے ہیں جیسے دلّی یا بمبئی والے باہر والے کو دیکھ کر لوٹتے ہیں۔ ٹیکسیوں کی حالت دیکھ کر ہمیں اپنے ملک کی ٹیکسیاں اور آٹو اچھے لگنے لگے ہیں۔ اسلئے حیدرآباد کا کوئی آٹو اپنے ساتھ لا لینا بہتر ہے۔ لیکن آنے جانے کا کرایہ پہلے سے طئے کرکے لائیں تو بہتر ہے ورنہ وہاں کے آٹو والوں میں بھی مصری خصلتیں پوری پوری موجود ہیں ۔ پہلے تو بڑی خوش اخلاقی سے کہیں گے کہ جو بھی آپ خوشی سے چاہیں دے دیں۔ بعد میں ایک داماد کیطرح آپ کی جان کو آجائیں گے جو پورا جوڑا جہیز لیئے بغیر نہیں چھوڑتا چاہے آپ کنگال ہوجائیں۔
ایک بار ہمارے ایک ڈاکٹر دوست حیدرآباد تشریف لائے ۔ انہوں نے ایک گھنٹے کیلئے آٹو لیا۔ واپس آکر پوچھا کتنے پیسے ہوئے؟ آٹو والے نے کہا چار سو روپئے۔ انہیں غصّہ آگیا ۔ انہوں نے کہا ” میں دل کا ڈاکٹر ہوں اور میں نے آج تک ایک گھنٹے میں چار سو نہیں کمائے!“۔
آٹو والے نے جواب دیا ”میں بھی پہلے دماغ کا ڈاکٹر تھا صاحب۔ میں نے بھی کبھی اتنے نہیں کمائے“۔

جامعہ ازہر قدیم ترین عظیم یونیورسٹی ہے لیکن عید الاضحی کی تعطیلات کی وجہ سے بند تھی اسلئے ہم وہاں نہ جا سکے۔ ہم اس کی تاریخی خدمات کا اندازہ لگانا چاہتے تھے۔ ہم نے ایک مصری سے جامعہ ازہر کی تاریخ پوچھی۔
اس نے کہا : مئی 2009 ۔
ہم نے پوچھا : وہ کیسے؟
اس نے کہا : اوباما جامعہ ازہر آیا تھا اور وہیں سے اس نے السلام علیکم کہا تھا۔
ہم نے کہا : یہ تو ہمیں بھی معلوم ہے کیونکہ ہمارے ایک بزرگ مجتبیٰ حسین نے ہماری طرف سے وعلیکم السلام بھی کہہ دیا تھا لیکن اوباما کے سلام سے جامعہ ازہر کی شان کا کیا تعلق ہے یہ تاریخ تو نہ ہوئی۔
اس نے کہا : اس سے پہلے کی تاریخ کا ہمیں خود پتہ نہیں۔ اب جتنے بھی سیاح آتے ہیں ہم انہیں اسی مقام پر لے جاتے ہیں جہاں سے اوباما نے خطاب کیا تھا۔ اس سے جامعہ ازہر کی ہی نہیں مصر کی بھی عزت بڑھ جاتی ہے۔

اب انہیں کیسے سمجھائیں کہ ان کی عزت علم کی دولت سے تھی لیکن آج دولت سب سے بڑا علم بن چکی ہے۔ جو اس علم سے محروم ہے اسکا کوئی بھی علم کوڑیوں کے مول بِکتا ہے۔ جسکا جیتا جاگتا ثبوت ہمارے امیر خلیجی ممالک کی یونیورسٹیاں ہیں۔ وہاں ڈاکٹریٹ کے سارے مقالے خریدے جاتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کا اسی سے روزگار چلتا تھا۔ وہ ایک صفحے کے پچاس ریال لے کر یہ کام کردیتے تھے۔ لیکن ہمارے ملیالی بھائیوں کو اس کی خبر لگ گئی اور انہوں نے دس ریا ل فی صفحہ کردیا۔ اب ہمارے دوست ایک عرصے سے بےروزگار ہیں۔

میوزیم میں فرعون اور اسکے عہد کی کچھ لاشیں عبرت کیلئے پانچ ہزار سال کے بعد بھی محفوظ ہیں۔ دواوٴں کی وجہ سے یہ سکڑ گئی ہیں اور رنگ کالا ہوچکا ہے لیکن جسم پورا سلامت ہے۔ ان کو دیکھنے والوں سے حکومت کولاکھوں پاؤنڈ کی روزانہ آمدنی ہوتی ہے۔ کاش ان لاشوں کے کاروبار کے ساتھ ساتھ یہ لوگ فرعون کی وہ قرآنی تاریخ بھی پیش کرتے جو دنیا کیلئے ایک بہترین رہنمائی اور دعوت کا سامان ہوتی ۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود ان ممیوں یعنی لاشوں کا باقی رہنا اور ڈھانچہ میں تبدیل نہ ہونا قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔ سائنسداں اس تحقیق میں لگے ہیں کہ ایسی کونسی کیمسٹری تھی جس نے ان لاشوں کو جوں کا توں باقی رکھا۔ ہمارے نزدیک تو یہ ہے کہ جس انسان نے ”انا ربّکم الاعلیٰ“ کا اعلان کیا تھا اور اپنی ضد پر اڑا رہا اللہ رب العزّت نے اسے قیامت تک کیلئے محفوظ کرکے نہ صرف لعنت و عبرت کا نشان بنا دیا بلکہ ان تمام انسانوں کیلئے بھی سبق دے دیا جوذرا سی دولت، عزت یا طاقت ملنے کے ساتھ ہی خدا بن جاتے ہیں۔ جن کے بارے میں قتیل نے سچ کہا تھا کہ
کچھ لوگوں سے جب میری ملاقات نہیں تھی
میں بھی یہ سمجھتا تھا خدا سب سے بڑا ہے

اہرامِ مصر ایک عجیب و غریب شئے ہے۔
یہ دراصل تین قبروں کا مجموعہ ہے۔ ان میں اپنے وقت کے بادشاہ فرعون دفن ہیں۔ پہلا ہرم تقریباً دو ہزار مربع میٹر پر تعمیر کیا گیا ہے۔ دوسرے اور تیسرے فرعون کی قبروں کیلئے شائد ان کے جانشینوں کے پاس بجٹ نہیں تھا یا پہلی قبر بنا کر وہ زیادہ مقروض ہو گئے تھے اور ورلڈ بینک نے مزید قرض دینے سے انکار کر دیا تھا اسلئے ان کی قبریں پہلے ہرم کے مقابلے میں چھوٹی ہیں۔ ہر ہرم کے پہلو میں بھی چھوٹے چھوٹے اہرام ہیں جو شائدان کی بیویوں کے ہونگے۔ اہرامِ سے باہر نکلتے ہی ابوالہول Sphinx کا قد آور مجسمہ ہے۔ یہ ایک بیٹھے ہوئے ببر کا مجسمہ ہے جسکا چہرہ ایک خوبصورت مرد کا ہے۔ یہ بھی گنپتی کی طرح کی کسی خرافاتی کہانی کا ایک حصّہ ہے اسلام سے قبل اسکی بھی پوجا ہوتی تھی ۔ اسکی ناک پہلے ہی سے ٹوٹی ہوئی تھی کب اور کیسے ٹوٹی یہ کسی کو نہیں معلوم ۔ اگر یہ عیب نہ ہوتا تو مجسمہ واقعی اتنا خوبصورت تھا کہ بقول مغلِ اعظم کے :
”شہنشاہ اپنا تاج ، سپاہی اپنی تلوار اور انسان اپنا دل نکال کر اسکے قدموں میں رکھ دیتے“۔
اگر اسکی خوبصورتی کی وجہ سے اسے پوج کر سنگ تراش کے فن کو سلام کرتے تھے تو شائد غلط نہیں کرتے تھے۔

اہرامِ مصر بلاشبہ سات عجوبوں میں سب سے بڑا عبرت ناک مقام ہے۔عبرتناک ہم دنیا و عقبیٰ کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ بلدیہ اور سڑکوں کے لحاظ سے کہہ رہے ہیں۔ مصری حکومت کو فرعون نے کروڑوں پاونڈ سالانہ کا وظیفہ مقرر کررکھا ہے جو گورے آ آ کر اپنے جدامجد کے دیدار کے عوض داخلہ فیس کے طور پر ادا کرتے ہیں۔ لیکن اتنے اہم مقامات تک پہنچنے کیلئے جو راستے ہیں وہ ابھی تک فرعون ہی کے زمانے کے ہیں جن پر اب بجائے خچّر یا گھوڑے یا اونٹ کے کاریں اور بسیں چلتی ہیں۔ جہاں ٹورزم سے اتنی آمدنی ہے وہاں حکومت کو چاہئے تھا کہ راستے تو صحیح بناتی۔ کوئی تاریخی مقام ایسا نہیں جہاں پہنچنے کم سے کم ایک گھنٹہ کے ٹرافک جام کے بغیر آپ پہنچ سکیں۔

اہرامِ مصر سے فارغ ہوکر ہر شخص دریائے نیل میں کشتی رانی کا خواہشمند ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہی مسئلہ یعنی وہاں تک پہنچنے کیلئے آپ کو پرانے شہر کی انہی سڑکوں اور اسی ماحول سے گزرنا ہے جو ہر پرانے شہر کی پسماندہ مسلمان بستیوں میں پائے جاتے ہیں ۔
دریا کے دونوں کنارے گندگی، تعفّن، مکھیوں کا سیلاب، سیاحوں پر ٹوٹ پڑنے والے کشتی راں، خستہ حال بیروزگار مردوں کے جگہ جگہ دو دو چار چار کے گروپ اور میاں جی کچھ کما کر لائیں تو چولھا جلائیں اس انتظار میں بیٹھی لاچار عورتیں اور بچے سڑک کے دونوں جانب کثرت سے نظر آتے ہیں۔ کاش پان کی لذت سے یہ لوگ واقف ہوتے ۔ جگہ جگہ پان کے ڈبّے ہوتے اور کئی ہزار خاندانوں کو روزگار حاصل ہوجاتا۔ ہم کو بھی ہر بار چائے پینے کے بعد پان یا گُٹکے کی طلب اتنی بے چین نہ کرتی۔ اگر کچھ ہندوستانی آکر یہاں پان کی دوکان کا تجربہ کریں تو ممکن ہے مصر بھی بہت جلد تہذیب یافتہ ہوجائے۔

ملک سے بیروزگاری دور کرنے کیلئے نئے نئے پیشے متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ جتنے بھی مصری ہیں وہ یا تو دکتور (ڈاکٹر) ہیں یا پھر مہندس (انجینیئر) یا پھر رئیس (ڈائرکٹر)۔ اسکے علاوہ مصریوں میں تو ہمیں کوئی اور نہیں ملا۔ دواخانے کا چپراسی کیوں نہ ہو وہ ”یا دکتور“ سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ ہر قسم کا ٹکنیکل کام کرنے والا چاہے وہ پنکچر بنانے والا ہی کیوں نہ ہو اگر اسے ”یا مہندس“ کہہ کر نہ مخاطب کیاجائے تو ناراض ہو جاتا ہے۔ باقی جتنے ہیں چاہے وہ کرانہ دوکان کا مالک کیوں نہ ہو ”یا رئیس“ کہلاتا ہے۔ باقی اگر کچھ رہتے ہیں تو ”یا استاذ“ کہلاتے ہیں جنکو ہمارے پرانے شہرمیں ”وستاد“ کہتے ہیں۔

دنیا کے ہر شہر کی طرح قاہرہ بھی نئے اور پرانے شہر پر مشتمل ہے۔ نیا قاہرہ جسے رحاب سٹی کہتے ہیں اتنا خوبصورت اور پلاننگ کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ وہاں رہ جانے کو جی چاہتا ہے۔ یہ یورپ کی طرز پر بنایا گیا ہے اور وہاں رہنے والے مصری اپنی طرف سے یورپ میں ہی رہتے ہیں۔
افسر فہیم صاحب نے بھی یہیں ایک اپارٹمنٹ لے رکھا ہے۔ سجایا بھی اتنا آرٹسٹک ہے کہ انہیں نکال کر خود رہ جانے کو جی چاہتا ہے۔
ہماری بیگم صاحبہ ہندوستان کی آبادی، ٹرافک، گندگی اور طرزِ زندگی سے اسقدر بیزار ہیں کہ انہیں جدید قاہرہ بے حد پسند آ گیا اور ہمیں ورغلانے لگیں کہ ہندوستان سے نجات پانے کیلئے قاہرہ ہی سب سے اچھی جگہ ہے یہیں رہائش اختیار کرلی جائے۔ افسر فہیم صاحب بہت خوش ہوگئے اور ہماری بیگم کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ہمیں باڑیں مارنے لگے کہ ایک آدھ ملین پاؤنڈ کا ایک وِلا لے کر یہیں کاروبار کریں۔ ہم نے پوچھا :
”اتنا پیسہ خرچ کرکے نیا گھرلینا اور اس میں اُسی پرانی بیگم کو رکھنا کیا عقلمندی ہے؟“
بیگم صاحبہ کو غصّہ آگیا اور وہ سامان پیک کرنے لگیں۔ ہم نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگیں :
”آپ رہئے جاکر انہی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اور باقی عمر بیگم اختر کی دوسری غزلیں گنگناتے رہئے میں ہندوستان جارہی ہوں“ ۔
ہم نے یہ کہہ کر منایا کہ ”جانم ہم تو آپ کے دل میں اپنے ملک سے محبت پیدا کرنے کیلئے ایسا کہہ رہے تھے“۔

بہرحال، افسر فہیم جیسے دوستوں کے ساتھ وقت گزار کر یہی نقصان ہوتا ہے کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ آٹھ دن پلک جھپکتے نکل گئے ۔ مسرت کے لمحوں میں بس ایک ہی خرابی ہے کہ وہ جلد نکل جاتے ہیں ۔ اور یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ ہم واپس جدہ ایرپورٹ پہنچ کر بھی ان یادوں میں اُس وقت تک کھوئے رہے۔ جب تک ایک سعودی ٹیکسی ڈرائیور نے ہم کو ”یا رفیق ! تیکسی؟“ کہہ کر ہمیں پھر اپنی اوقات یاد نہ دلا دی ۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے