Skip to content
 

ہم نے بھی چین دیکھا

حکومت ملک میں پچھلے اسّی نوّے سال سے ایک ہی پارٹی کے ذریعہ چل رہی ہے۔ سیاسی نسبندی کا یہ سخت قانون کسی دوسری پارٹی کو پیدا ہونے نہیں دیتا۔ ہر کمپنی اور گورنمنٹ کے پرسونل ڈپارٹمنٹ میں ایک افسر کا تقر ر کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ہوتا ہے جو ملازمین اور کمپنی کے نظام میں کمیونسٹ اصولوں کی فرماں روائی پر سخت نظر رکھتا ہے۔ اصول شکنی پر بر طرفی ہوتی ہے لیکن اس میں اگر بغاوت کا عنصر ہو تو وہی سزا ہے جو سعودی عرب میں ہے یعنی پھر بندے کا پتہ نہیں چلتا کہ بیچارہ گیا کدھر؟

رشوت ہندوستان کی طرح ملک کی رگ و پے میں بسی ہوئی ہے۔ طرزِ زندگی اسی مغرب کے سرمایہ دارانہ کلچر پر مبنی ہے جس سے کمیونزم سے جنگ کرتے ہوئے ہزاروں لاکھوں انسانوں کے سر کٹا دیئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عورت مرد کے شانہ بہ شانہ محنت کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن اس کے لئے مراعات نہ اس کا کوئی تقدس اس سوسائٹی میں نظر آتا ہے۔ برابر محنت کرنے کے باوجود اس کا محنتانہ مرد سے کہیں کم ہے۔ خدا اور آخرت کے چونکہ یہ روزِ اوّل ہی سے منکر ہیں ہی اس لئے کسی بھی طرح کا جرم ہوتا دیکھ کر ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں رہتا۔ چوری جسم فروشی جھوٹ اور دھوکہ عام معمول ہے۔ تاجروں پر آسانی سے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ۔ ہندوستانی تاجروں کی طرح گاہک کو اعتماد میں لینے کے بعد کبھی بھی دھوکہ دے سکتے ہیں۔ جہاں تک انڈسٹری اور ہائی ٹیک کا سوال ہے اس میں دھوکہ دینے کے مواقع کم ہیں شائد اسی لئے ا سمیں انٹرنیشنل ترقی بھی ہو رہی ہے۔

عوام کمیونسٹ نظریات کی قائل ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ا سکول سے ہی یہ پڑھائے جاتے ہیں دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح تبلیغی جماعت میں دو ایک مخصوص کتابوں سے ہٹ کر کسی اور کتاب کو ہاتھ لگانے نہیں دیا جاتا اسی طرح چین میں بھی کسی اور نظریئےکو پڑھایا نہیں جاتا نہ اس کی تبلیغ کی اجازت ہے۔ کمیونسٹ ورکرس کی اہمیت سرکاری عہدیداروں سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ لیکن کمیونسٹ ورکرز بن جانا ہر ایک کے لئے آسان بھی نہیں ہے۔

ہندوستان کے جیسا معاملہ نہیں ہے کہ جو سب سے زیادہ اوباش ہو وہ سیاست میں داخل ہو جاتا ہے ۔
یہاں Civil Services کے جتنے مسابقتی امتحانات ہوتے ہیں چاہے وہ پبلک سرویس کمیشن کی نوعیت کے کیوں نہ ہوں ان میں اعلیٰ ترین صلاحیت کے حامل افراد کو پہلے کمیونسٹ پارٹی کے لئے لے لیا جاتا ہے۔ یہاں کمیونسٹ پارٹی اتنی منظم اور مضبوط ہے کہ آئندہ پچاس سال تک اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ نکتہ ہماری دینی جماعتوں کے لئے لمحۂ فکر ہے جو اپنے منشور میں پورے ملک میں اقامتِ دین کا عزم رکھتی ہیں۔ ایک ملک کے پورے نظام کو بدل کر ایک نیا نظام لانے کے لئے جن صلاحیتوں کے حامل افراد کو حاصل کرنے کے لئے ان کی ذہانتیں اور صلاحیتیں اصل کسوٹی ہوتی ہیں نہ کہ جی حضوری۔ اور بزدلانہ حکمت بھی جسکو مصلحت اور فراست سمجھا جاتا ہے۔ ہماری دینی جماعتوں کا سانحہ یہ ہے کہ یہ نئی نسل کو جذب کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہیں جو نئی نسل قریب آتی ہے وہ رشتوں بلکہ اخلاقی اور دوسرے مفادات پر مشتمل مصلحتوں کی بنا آتی ہیں۔ تعلیم میں یہ Clerical صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وہ جماعتیں ہیں جو شیعوں کی ا س لئے مخالف ہیں کہ شیعہ نسب کے قائل ہیں لیکن جب خود ان کے اپنی جماعتوں ، سلسلوں یا اداروں کی جانشینبی کا سوال آتا ہے یہ سوائے اپنے بیٹے ، داماد یا بھائی بھتیجوں کے کسی اور کو قیادت کے قریب بھی آنے نہیں دیتے ۔

بہرحال کمیونسٹ نظریہ کامیاب ہو کہ نہ ہو کمیونسٹ حکومت اور کمیونسٹ سیاست ضرور کامیاب ہے اور جب تک اس میں افراد کے انتخاب کا یہ طریقہ سختی سے روبہ عمل رہیگا اس کی ساخت کو دھکّہ نہیں لگ سکتا۔

قد چھوٹے دماغ بڑے، رنگ مینڈک کے گوشت کیطرح سفید ، نام چِن ، چان ، ہو مذہب کام کام اور صرف کام۔
عورتوں کی دنیا میں سب سے بڑی آبادی چین میں ہے لیکن مردوں اور عورتوں کی صورتیں اِسقدر یکساں ہوتی ہیں کہ فرق کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ہمارے جن مردوں کو اپنی عورت اچھی نہیں لگتی اُسے ایک بار چین ضرور جانا چاھئیے پھر خود بخود اپنی عورت اچھی لگنے لگے گی۔
اور ممالک میں ایک سے زیادہ 'جائز' شادی کرنا جرم ہے لیکن یہاں صرف شادی ہی نہیں بلکہ ایک سے زیادہ 'جائز' بچے پیدا کرنا بھی جرم ہے۔سیاست میں بھی سخت نس بندی نافذ ہے ایک سے زیادہ سیاسی پارٹیاں بھی پیدا نہیں کی جاسکتیں ۔کوئی لیڈر صاحب اگر پارٹی سے ناراض ہوکر کوئی نئی پارٹی بنانے کی کوشش کریں تو اُن کا حشر وہی ہوتا ہے جو ہندوستان میں دہشت پسندی کے الزام میں بے قصور نوجوانوں کا ہوتا ہے۔اِسی لئے کمیونسٹ پارٹی دنیا کی واحد سیاسی پارٹی ہے جو پچھلے ستّر یا اسّی سال سے بِلا مقابلہ جیتتی آ رہی ہے۔ اِس کے مقابلے اگر کوئی کھڑا ہونے کی ہمت کرے تو وہ بِلا مقابلہ ہار سکتا ہے۔ ایک سے زیادہ بچے پیدا نہ کرنے کی پابندی ایک طرح سے اچھی پابندی ہے مانباپ اولاد سے امیدیں لگا کر ایک دن مایوسی کا شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی ساری زندگی کی کمائی داماد خریدنے یا بہوؤں کے قبضے میں دے کر بڑھاپے میں بے بس ہوتے ہیں۔

نسبندی مذہب پر بھی سختی سے نافذ ہے۔ دور دور تک نہ ٹرافک کو درہم برہم کرنے والے مندر ہیں نہ چِلّے۔ نہ کہیں ہرا جھنڈا ہے نہ زعفرانی۔ ہر شہر میں دو چار مندر ضرور ہوتے ہیں جن میں دیوہیکل بھگوان آرام سے بیٹھے رہتے ہیں کبھی سڑکوں پر نہیں آتے اِسلئے یہاں نہ کوئی گنپتی کا جلوس ہے نہ عَلم نہ عُرس کی چادریں۔
البتہ اِن تراشیدہ خداؤں کے دیومالائی قصّے بڑے دلچسپ ہوتے ہیں کسی نے جنگ میں برائی والوں کی فوج پر پورا کرّہْ ارض پھینک مارا تو کوئی چوہے یا ہاتھی کی شکل اختیار کرگیا۔ ہمارے ہاں کی تمام مندروں اور درگاہوں کے اگر تمام قصّے معجزات اور کرامات جمع کئے جائیں تووہ چین کے صرف ایک خدا کے قصّوں کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔ حیرت ہیکہ اِتنے طاقتور اور مافوق الفطرت خدا رکھتے ہوئے بھی چینی قوم نہ کسی خدا کی سالگرہ مناتی ہے نہ منّت کرتی ہے۔ شائد وہاں خدا لوگوں کے دِل میں رہتے ہیں اسلئے نہ بسوں یا ٹیکسیوں میں نظر آتے ہیں نہ آفس یا دُکانوں میں۔
خدا کو دِل میں ہی رہنا چاہیے ورنہ اگر وہ سڑکوں پر آجائے تو پھر دوسرے خداؤں سے مقابلہ شروع ہوجاتا ہے ہر گروہ کا خدا کبھی لاوڈاسپیکروں کے ذریعے سب کے کان پھاڑنے لگتا ہے تو کبھی لوگوں کو آپس میں لڑا کر خون کی ندیاں بہانے لگتا ہے۔ کبھی وحشتناک داڑھی موچھوں سے اور کبھی گیرووے پیشانیوں میں جلوہ افروز ہو کر ڈراتا ہے۔ ہندوستانی اپنے خداؤں کو سڑکوں پر لا کر تیوہاروں میں کروڑوں روپیہ پانی میں بہا دیتے ہیں اور چینی اپنے خداؤں کو دل میں رکھتے ہیں اسلیئے اُن کی محنت کی کمائی اور وقت فیکٹریوں کے قیام پر لگتا ہے یہی وجہ ہیکہ چین معاشی طور پرآج دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور ملک ہے ۔

معاشی ترقی کا یہ عالم ہے کہ FDI یعنی فارن ڈائرکٹ انوسٹمنٹ 20 ٹرلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور FR یعنی فارن ریزروس امریکہ کیلئے ایک خطرہ بن گئے ہیں اور مستقبل میں WMA یعنی ورلڈ مانیٹری ایجنسی پر چین کی بلا شرکت ِ غیرے اجارہ داری ہونے کا خطرہ ہے جس کو روکنے کے لئے امریکہ ہندوستان کی مدد لے رہا ہے ا ور ہندوستانی ایکسپورٹ کو چین کی جگہ دینے کے لئے کوشاں ہے۔ انڈسٹریل اعتبار سے چین کا سب سے اہم شہر گانزو ہے جہاں حکومت نے فارن انوسٹرس کو خوب مواقع دے رکّھئے ہیں جس کا سب سے زیادہ فائدہ ہندوستانی تاجروں نے اٹھایا ہے کافی تعداد میں ہندوستانی فیکٹریز بنک اور اسکول بڑھ رہے ہیں جگہ جگہ چائے خانے اور کیفیٹریا نظر آئے لیکن کوئی پان کی دُکان نظر نہیں آئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیرالا والوں نے وہاں نیل آرم اسٹرانگ کیطرح اپنا جھنڈا توگاڑ دیا لیکن کوئی حیدرآبادی وہاں اب تک نہیں پہنچا۔
چونکہ انگریزی زبان کا فقدان ہے ا س لئے ہندوستانی اسکولوں کے لئے یہ ایک بہترین موقع ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر چینی انگلش زبان میں بہتر ہوتے تو آج ہندوستان کو عالمی مارکٹ میں وہ جگہ نہ مل پاتی جو ملی ہے۔ اب رفتہ رفتہ انگریزی مترجمین رکھنے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے لیکن ان مترجمین کی قابلیت دیکھ کر سر پیٹنے جی چاہتا ہے اُن کے ساتھ دو چار روز گزار کر جب ہم آتے ہیں تو دوسروں کو ہماری انگریزی سمجھنے کیلئے مترجم بُلانا پڑتا ہے۔اسلئے ہم اپنی انگریزی کی حفاظت کیلئے کسی کیرالا والے کو انگریزی سے انگریزی میں ترجمے کیلئے بُلا لیتے ہیں کیونکہ چینیوں کو کیرالا والوں کی انگریزی سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ چینی مترجمین سے تنگ آکر ہم نے سوچا Client سے اسکی شکایت کردیں لیکن کیا کریں کہ
ارادہ کر لیا ہے ان سے قاصد کی شکایت کا
مگر وہ خط اُسی کو سونپنا ہے کیا کیا جائے

یونس بٹ نے اپنے ایک سفر نامے میں لکھا کہ :
امجد اسلام امجد نے ایک لڑکی سے پوچھا ” کیا آپ انگریزی بولتی ہیں؟ “
لڑکی نے جواب دیا ” یس یس 20 ڈالر “ ( بر گردنِ راوی )

خلیج کی تمام بڑی عمارتوں کو اگر ایک جگہ جمع کیا جائے تو شہر شنگھائی کی ایک سڑک بنتی ہے۔
ایک چیف منسٹر نے کہا تھا کہ وہ بمبئی کو شنگھائی بنا دینگے شائد انہوں نے کبھی شنگھائی دیکھا نہیں ہے۔ پورے شہر بمبئی میں جتنے پُل ہیں وہ شنگھائی کی صرف ایک سڑک جو پورٹ اور انڈسٹریل ایریا جاتی ہے اُس پر واقع ہیں۔ اگر موصوف کا اشارہ شنگھائی کی رشوت، نقلی مال، چالاک سیلزمین شِپ سے ہے تو اور بات ہے لیکن ہمیں شبہ ہیکہ بمبئی پہلے ہی سے شنگھائی ہے۔
چین کی سڑکیں اور پُل دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ چار چار پُل ایک دوسرے کے اوپر سے گزرتے ہیں۔کیا فائدہ ایسے پُلوں کا کہ اگر بندہ غلطی سے دوسرا پُل چڑھ جائے تو گاڑی روک کر کسی سے پتہ بھی نہ پوچھ سکے۔ سعودی عرب کے امیر زادوں کی ان وسیع سڑکوں پر بڑی کمی محسوس ہوتی ہے۔ عوام کی خوشحالی کا اندازہ تو اسی وقت ہوتا ہے جب نوجوان نسل مہنگی ترین گاڑیاں لے کر سڑکوں پر دندناتی پھرتی ہے۔ لوگ پولیس سے بہت ڈرتے ہیں اِسلئے نہیں کہ قانون سخت ہے اِسلئے کہ قانون کو سخت یا نرم کرنے کا اختیار پولیس والوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ جُرمانہ ادا کئے بغیر پولیس سے چُھٹکارا پانا مشکل ہے لیکن ساتھ ساتھ جُرمانہ لگانے کیلئے پولیس والوں کو جو زحمت اُٹھانی پڑتی ہے اُس زحمت کی فیس جُرمانے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اگر آپ یہ نہ ادا کریں تو پھر جُرمانہ اتنا سخت ہوتا ہے کہ گاڑی بیچ کر بھی ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہم نے جب خلیج میں قدم رکھا تو یہ سمجھا کہ امیری صرف خلیجیوں کے حصّے میں آئی ہے۔ لیکن چین کی عمارتیں، کاروبار، ہوٹل اور مختلف کاروبارِ زندگی دیکھے تو احساس ہوا کہ دولتمند ہونا الگ چیز ہے اور امیر ہونا الگ چیز۔
امیر دولت کا صحیح استعمال کرتا ہے اور دولتمند ایک سے دو ، دو سے تین بیویاں کرتا ہے اور اُن کیلئے عمارتیں اور نئی نئی گاڑیاں خریدتا چلاجاتا ہے۔پھر مرد بیگمات کے پیچھے پیچھے مینا بازاروں میں، عورتیں تقاریب میں اور اولادیں عیش میں لکھنؤ کے نوابوں کی تاریخ دوہراتے ہیں۔
چین کی آسمان کو چھونے والی عمارتوں کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے یہ حسرت ہوتی ہے کہ کاش اپنے ملک میں ایک ایسی عمارت اپنی ہوجائے لیکن کام ہم ایسا کرتے ہیں جن سے عمارت بن تو نہیں سکتی جو کچھ جھونپڑی جیسا مکان ہے وہ بِک ضرور سکتا ہے۔ اردو کو زندہ رکھنے کیلئے بلا معاوضہ دن میں تخیّلات میں گُم رہنے اور راتوں کو خون جلا کر ورق کالے کرنے والوں کو اور مِلے گا بھی کیا؟

البتہ ان Main Roads کے پیچھے اگر آپ غلطی سے داخل ہوجائیں تو پھر آپکو چینی تہیذیب کے وہ سارے افلاسی مناظر بھی ملینگے جو ہر غریب ملک میں مشترک ہیں۔ ایک ہی تنگ و تاریک کمرے میں زندگی گزار دینے والے انسانوں ، رکشہ کھینچتی ہوئی عورتوں، چکلوں پر گھومتی لڑکیوں اور بھیک مانگتے ہوئے بوڑھوں کو دیکھ کر سارے ترقی پسند یاد آجاتے ہیں جنہوں نے برسوں ہتھیلی میں جنّت دِکھائی خود بھی اور اپنے ساتھ لاکھوں معصوموں کو بھی لے کر سُرخ سویرے کی آس میں اندھیروں میں بھٹکتے رہے۔

بُلاؤ فِدایانِ چیں کو بلاؤ یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوانِ اِشتراکیت کو لاؤ جنہیں ناز تھا روس پر وہ کہاں ہیں

چین سیاسی ، فوجی ، اور اقتصادی طور پر جتنا ترقی پذیر ہے اسکا عوام کی خوشحالی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
لوگ بدستور پسماندہ اور مفلس ہیں۔ اگر چیکہ 1989 کے Tinamin Square کے واقعہ کے بعد سیاسی اور اقتصادی طور پر چین مکمل بدل چکا ہے۔ کمیونزم کا کلیدی نعرہ بدل چکا ہے۔ عوام اب ہر چیز کی ملکیت کے حقدار ہو چکے ہیں لیکن نتیجہ وہی ہوا جو سرمایہ دار ممالک کا ہے ۔ امیر ، امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کی روک تھام کیلئے صرف اسلام ہی ایسا دین تھا جو انسانیت کو اس عذاب سے نجات دلا سکتا تھا لیکن چین میں دین کا وجود نہیں اور بد قسمتی سے جن ملکوں میں دین کا سرکاری وجود ہے وہ دین صرف فقہی مسائل اور عبادات پر محیط ہے۔
البتہ وہاں کے اور یہاں کے دین میں ایک قدرِ مشترک یہ ہیکہ اگر حقیقی دین کی آپ نے بات کی تو انجام ایک ہی ہے یعنے جیل۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے