Skip to content
 

شیر خوار بھگوان

(ہندوستانی میڈیا نے جب بھگوان کی مورتی کے دودھ پینے کے واقعے کو ٹی وی پر Live پیش کیا اس موقع پر کہی گئی ایک نظم)

بن جائے نہ بھگوان کہیں خود ہی یہ انسان
گر دودھ ہی پیتے رہے اسطرح سے بھگوان

تم دودھ کے چمچوں کو ذرا منہ سے ہٹاتے
کچھ اور بھی دنیا کو چمتکار دکھاتے
ہاتھوں کو ہلاتے ذرا آواز اُٹھاتے
دہشت کو مٹاتے ذرا دنگوں سے بچاتے

کیا ہوگا اگر تم بھی کرو پیٹ کا کلیان
بڑھ جائیگی اس دیش کی پھر اور بھی سنتان

چلتی رہی یوں دیش میں جو دھرم کی دوکان
کیا ہوگا ذرا سوچو تو اس دیش کا سمّان
دینے لگیں جب بندے ہی بھگوان کو یوں دان
انسان ہی بن جائیگا بھگوان کا بھگوان

ترشول کی نیپّل سے بدل جائیگی پہچان
پھر گود میں ہر پُرش کی ہوگا کوئی بھگوان

زیادہ نہ پیو دودھ کرو تم نہ حماقت
جاتی ہے جو شئے پیٹ میں ڈھاتی ہے قیامت
اک اور چمتکار دکھائیگی اجابت
ہر روز غسل دینے کی پڑ جائیگی حاجت

پرساد کی تقسیم پہ ہوجائیگا گھمسان
سنڈاس ہی رہ جائیگا اس دیش کی پہچان

لکھا ہے یہی وید میں کہتا یہی قرآن
مادھو کبھی مٹّی کے نہیں بنتے پہلوان
ہوتا نہیں بھگوان کبھی صورتِ حیوان
اپمان ہے اپمان یہ بھگوان کا اپمان

لے عقل کے ناخن ارے نادان کے نادان
آجا بھی ذرا ہوش میں بھگوان کو پہچان

کچھ تم کو پتہ ہے کہ ہے کس درجہ گِرانی
سستا ہے یہاں خون مگر مہنگا ہے پانی
مہنگائی کے اس دور میں کیا تم نے یہ ٹھانی
کہتے ہیں سبھی سنت و صوفی و گیانی

خالی ہو اگر پیٹ تو آتا ہے تبھی گیان
بھرجائے تو پھر یوگ نہ آسن نہ کوئی دھیان

ہے کیسی شردّھا کے پڑے عقل پہ تالے
یوں روز جو گڑھتے رہے تم قصّے نرالے
مذہب ہو مجاور کے یا پنڈت کے حوالے
بن جائیں تماشہ نہ کیوں درگاہ و شوالے

اندھوں پہ اگر عقل کے بڑھتا رہے ایمان
ہندو ہی رہے گا نہ رہے گا تو مسلمان

گجرات میں جب کھیلی گئی خون کی ہولی
دیوی جو تعصّب کی تھی کستی رہی چولی
جلتے رہے انساں وہ مگر کچھ بھی نہ بولی
بمبئی کے دھماکوں سے مگر زور سے ڈولی

گویا کہ برابر نہ تھے اسکے لئے انسان
انساں کا لہو دیکھ کے ہنستے رہے بھگوان

یوں دودو کے دانتوں سے چلاؤ نہ خدائی
آنے دو عقل داڑھ کہ اسمیں ہے بھلائی
فلکی کا دے پیغام تمہیں کاش سنائی
ہندو و مسلمان تو ہیں صدیوں سے بھائی

بھائی جو کرے بھائی کا مذہب پہ بلیدان
یہ دیش نہ بن جائے کسی روز ہی شمشان

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے