Skip to content
 

روزہ رکھوائی

بیوی
درمیانِ شب کہا بیوی نے اک دن جانِ من
مجھکو ارماں ہے مناؤں گھر بھی اپنے کوئی جشن
سب بلاتے ہیں ہمیں ترکیب سے ترتیب میں
کیوں نہ ہم سب کوبلائیں اب کسی تقریب میں
برتھ ڈے ببلو کی یا بے بی کی بسم اللہ کریں
کچھ بیاں تو اپنی مرضی آپ بھی اللہ کریں
ویڈیو کا میرے بھائی ہی کرینگے اہتمام
آپ کو کرنا ہے باقی جشن کا سب انتظام

شوہر
جانِ من میں نا کہوں یہ کہاں میری مجال
دین اور دنیا کا پھر بھی رکھناپڑتا ہے خیال
جانِ من اسلام میں جائز نہیں یہ سارے کام
دل آزاری بھی تو مذہب میں ہے عورت کی حرام
روزہ افطاری کرانا ہے بڑا کار ِ ثواب
ہم بھی جشنِ روزہ رکھوائی کراتے ہیں جناب
ہو صفائی اور سجاوٹ بام و در کی اس قدر
دیکھ کر سب کو لگے یہ گھر ہے یا شاہی قصر

(شوہر گھر کی صفائی کے دوران سوچتے ہوئے)
کاغذوں کا ڈھیر تھا واں چار سُو بکھرا ہوا
میز پر الماریوں میں تھا یہی سب کچھ بھرا
کچھ مدرسوں کی اپیلیں رشتہ داروں کے خطوط
طالبِ ویزا کئی بے روز گاروں کے خطوط
بھیجئے تعمیرِ مسجد کیلئے لکھیں جنابِ پیش امام
چندے اور سجدے سوا کچھ نہیں ہے ان کو کام
کثرتِ اولاد کا ہر خط میں رونا زار زار
پالنا ممکن نہیں تو کیوں لگاتے ہیں قطار
ہر بشر خیرات کا امداد کا ہے منتظر
غربت و افلاس کی تصویر ہے ہر اک بشر
سب کو پاکٹ میں مری ڈالر ہی آتے ہیں نظر
جیسے ہم گلچیں ہیں گویا اور عرب زر کا شجر
روبرو بوسیدہ سا اک خط پڑا تھا ادھ کھلا
جانے کتنے سال پہلے ماں کے ہاتھوں کا لکھا
جس میں امی نے لکھا تھا اے میرے لختِ جگر
خیریت کو تیری پانے ہم ہیں سارے منتظر
تو نے لکھا تھا نہ مل پایا ابھی تک کوئی کام
ہر جگہ بے روزگاروں کا لگا ہے اژدھام

تُو نے لکھنے کو کہا ہے گھر کی ترجیحات کو
شرم آتی ہے مجھے لکھتے ہوئے حالات کو

تھی تری تعلیم اور ویزا ضروری اس قدر
رہن کرنا پڑگیا تھا زیوروں کو سود پر
زیوروں کا کوئی غم مجھکو نہیں ہے میرے لعل
تیری بہنوں کی سگائی کا ہے بس مجھ کو خیال
صالحہ کے سسرے کہتے ہیں کہ فہرست لائیے
جتنا بیٹے کو ملا اس سے سوا دلوائیے
بشریٰ اور سلمان دونوں ہی ابھی کالج میں ہیں
فیسیں ان کی بڑھ چکی ہیں یہ تری نالج میں ہیں
یاد ہونگے تجھکو کیسے گزرے تھے وہ ماہ و سال
تیرے ابا کاجہاں سے ہو گیا جب انتقال
من و سلویٰ سے سوا تھی ایک روٹی اور دال
ہر ٹپکتی چھت سے تھا خود کو بچانا تک محال
جو اعزا اقربا رکھتے تھے ایسے میں خیال
ان کے احساں کو بھلا دینا نہیں کوئی کمال
میں نے سوچا تھا کہ سب کے کام کچھ تو آؤنگی
تیری محنت کا ثمر اُن کے بھی گھر بھجواؤنگی
بدلہ احساں کا ہے احساں کچھ نہیں اس کے سوا
جو کٹے اس سے جڑو کہ ہے یہی حکمِ خدا
تو یہ کہتا تھا کہ امی پہلے حج کرواؤنگا
تیرے سسرے نے کہا ہے پہلے گھر بنواؤنگا
میری صحت کیا کہوں بس موت کا ہے ا نتظار
تو ہی اس گلشن کا ہوگا بعد میرے ذمہ دار
داستانِ زندگی ہونے کو ہے اب مختصر
یہ وصیت ماں کی بیٹا یاد رکھنا عمر بھر
قمریوں اور تتلیوں سے شاخِ گل کی لاج ہے
فصلِ گل میں برگ بھی کانٹوں کے سر کا تاج ہے
جب خزاں آئے تو کھل جاتا ہے شاخوں کا بھرم
مہر و الفت کے سبھی رشتے سبھی ناطے ہیں ختم
پھول بھی ٹہنی پہ پھر اپنی جگہ پاتا نہیں
بوجھ پتّے کابھی شاخوں سے سہا جاتا نہیں
خار رہ جاتے ہیں باقی پھر خزاں آنے کے بعد
پھر کوئی اپنا نہیں اپنے گزر جانے کے بعد
توڑ دیتا ہے شجر بھی برگ سے خود رابطہ
ہے یہی فلکی جہاں میں سارے رشتوں کا صلہ

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے