Skip to content
 

چمچے

صاحب کو بھی کرسی سے ہٹا سکتے ہیں چمچے
چپراسی کو کرسی پہ بٹھا سکتے ہیں چمچے

چاہیں تو یہ غالب کے برابر تجھے کر دیں
ورنہ تری ہوٹنگ بھی کرا سکتے ہیں چمچے

چمچے کوئی مصری ہوں کہ بنگالی یا ہندی
شیخوں کو ہتھیلی پہ نچا سکتے ہیں چمچے

سنتے ہیں وفادار بہت ہوتے ہیں کُتّے
دُم اُن سے کہیں زیادہ ہلا سکتے ہیں چمچے

مل بیٹھیں یہ آپس میں تو یکجا نہ سمجھنا
چمچوں کو بھی چمچوں سے لڑا سکتے ہیں چمچے

ممبر کے ہیں چمچے کہیں دربار کے چمچے
ایمان شریفوں کا بِکا سکتے ہیں چمچے

گرگٹ سے یہ پوچھا کہ ترے رنگ ہیں کتنے
بولا کہ صحیح گنتی بتا سکتے ہیں چمچے

چمچوں نے نواسے کو نبی کے بھی نہ چھوڑا
بدنام یزیدی بھی کرا سکتے ہیں چمچے

آیا نہ تمہیں پالنا چمچوں کو فلکی
مسند پہ صدارت کی بٹھا سکتے ہیں چمچے

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے