Skip to content
 

اخبار لوں نہ کل سے کوئی

یہ سوچتا ہوں کہ اخبار لوں نہ کل سے کوئی
عذابِ دیدۂ بیدار لوں نہ کل سے کوئی
کوئی خبر ہی نہیں ہے بری خبر کے سوا
کوئی نظر ہی نہیں دیدہ ہائے تر کے سوا
ورق ورق ہوا " اعلانِ گمشدہ " اس کا
وہ قوم جس کا مقدر نہ تھا امر کے سوا

علاقہ رکھتا نہیں مسئلے کا حل کوئی
یہ سوچتا ہوں ہوں کہ اخبار لوں نہ کل سے کوئی

یہ وقت کانٹا مرے دل میں ہی چبھوتا ہے
ہر اک کے غم میں مرا قلب خون روتا ہے
وہ چیچنیا ہو کشمیر ہو کہ کو سو فو
کسی پہ گولی چلے قتل میرا ہوتا ہے

امید خاک رکھے پنجۂ اجل سے کوئی
یہ سوچتا ہوں کہ اخبار لوں نہ کل سے کوئی

ہلاک و زخمی گرفتار ہو گئے کتنے
اور اپنی زیست سے بیزار ہو گئے کتنے
ستم سے جبر سے آزار ہو گئے کتنے
گواہی دینے کو تیار ہو گئے کتنے

پتہ چلائے ذرا افرادِ دل بدل سے کوئی
یہ سوچتا ہوں کہ اخبار لوں نہ کل سے کوئی

کبھی نہ بخشیں گے ظلمت کے تاج داروں کو
سزائیں دیں گے لُٹیروں گناہگاروں کو
ہر اک تعصبِ دوراں کو ختم کر دیں گے
سہارا دیں گے غریبوں کو بے سہاروں کو

پر ایسی باتوں کو نسبت نہیں عمل سے کوئی
یہ سوچتا ہوں کہ اخبار نہ لوں کل سے کوئی

کہیں لکھا ہے یہ ہے "صرف بالغوں کے لئے "
صفحہ ہے وقف کہیں خوب عاملوں کے لئے
کہیں ہے سُرخی " برائے علاجِ مردانہ "
کہیں ہے دعوت ِ نظّارہ عاشقوں کے لئے

سجائے بزم کو طبلے سے اور گجل سے کوئی
یہ سوچتا ہوں کہ اخبار لوں نہ کل سے کوئی

یہ سوچتا ہوں کہ خود ہی نکال لوں اخبار
کہ جس کی ساری خبر سچی اور اچھی ہو
نہ ظلم و جبر ہو نہ اس میں تذکرہ کوئی
جدھر بھی آنکھ اُٹھے فاختہ ہی بیٹھی ہو

یہ کارِ دیدہ وری کب ہوا کنول سے کوئی
یہ سوچتا ہوں کہ اخبار لوں نہ کل سے کوئی

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے