Skip to content
 

وجودِ زن سے ہے تخریبِ کائنات میں رنگ

شادی شدہ جوڑوں کی تاریخ میں آدم و حوا سب سے زیادہ خوش نصیب ترین میاں بیوی گزرے ہیں۔
حضرت آدم کو کبھی یہ طعنہ سننا نہیں پڑا کہ : "یہ میں ہی ہوں جو تمہارے ساتھ نبھا رہی ہوں ورنہ اگر کوئی دوسری ہوتی پتہ چلتا "
اور بی بی حوا کو کبھی یہ سننا نہیں پڑتا تھا کہ : "کتنی اچھی اچھی لڑکیوں کے آفر موجود تھے میں نے پھر بھی تم کو سلیکٹ کیا "

دراصل ان کے پاس چوائس کوئی نہیں تھا۔ خوش نصیبی کی یہ تاریخ جب آگے بڑھی تو آبادی بڑھتی گئی اور خود بخود ایک تیسری چیز پیدا ہو گئی جسکا نام چوائس تھا۔ سنا ہے محبت اندھی ہوتی ہے اور شادی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ شادی کے بعد جب آنکھیں کھل جاتی ہیں تو دونوں کو ہر طرف چوائس ہی چوائس نظر آتے ہیں جسکا موقع جا چکا ہوتا ہے۔
کسی نے سچ ہی کہا کہ شادی ایک ایسا قلعہ ہے جس میں رہنے والے باہر نکلنے کی تمنا کرتے ہیں اور باہر والے جلد اندر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شادی دراصل ایک ایسے عہدنامہ تفاق کا نام ہے جسکے بعد ساری زندگی میاں بیوی یہ طئے کرنے میں گزار دیتے ہیں کہ کس بات پر اتفاق کریں۔ جب ان میں سے کوئی ایک گزر جاتا ہے تو دوسرا اس بات پر متفق ہوجا تا ہے کہ : "مرحوم بہت اچھے تھے"
سنا ہے ایک عورت نے خدا سے شکایت کی کہ ساری طاقت مردوں کو کیوں دے دی ، خدا نے کہا "اسلئے تاکہ وہ تمھارا بوجھ اٹھاسکیں"۔عورت نے کہا" دولت بھی ساری مردوں کے حصے میں دیدی! "خدا نے کہا "تاکہ وہ تم پر لُٹا سکیں"، عورت کو بہت غصہ آیا اس نے تنک کر کہا "پھر اسے اتنا بیوقوف کیوں بنا یا؟" خدا نے مسکرا کا کہا "تا کہ وہ تم سے محبت کر سکے" ذہین سے ذہین مرد بھی عورتوں کے معاملے میں کہیں نہ کہیں بیوقوفی کرجاتاہے،کس حد تک کرتا ہے یہ عورت کے حسن اور ذہانت پر منحصر ہے اور حسین سے حسین عورت بھی کہیں نہ کہیں سمجھداری کا ثبوت دیدیتی ہے ،کس حد تک دیتی ہے یہ مرد کی آمدنی پر منحصر ہے۔

رشید احمد صدیقی مرحوم نے لکھا کہ :
ذہین بیوی اور بیوقوف شوہر ہمیشہ ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں۔
تعریف نے بڑے بڑوں کا بیڑا غرق کیا ہے۔ جہاں بیوی نے شوہر کی تعریف کی سمجھ لیجئے کہ جیب کا صفایا ہونے والا ہے ا ور جہاں شوہر نے بیوی کی تعریف کی سمجھ لیجئے وہ رات دیر گئے گھر لوٹنے والے ہیں یا پھر کسی دعوت کا پکوان کروانے والے ہیں۔ بعض تعریفیں ہمدردی کی شکل میں ہوتی ہیں جسکے ذریعے ڈاکٹر نہ صرف اپنی تگڑی فیس وصول کرلیتے ہیں بلکہ عورتوں کا دل بھی جیت لیتے ہیں، کہتے ہیں :
"آپ دیکھنے میں تو صحتمند لگتی ہیں مگر اندر سے بہت کمزور ہیں، "
یا کہتے ہیں کہ :
"آپ کے ذہن پر کوئی بوجھ ہے جسے دوسرے سمجھ نہیں سکتے"
حالانکہ بوجھ سارا مردوں کے ذہنوں پر ہوتا ہے جسکا ثبوت ان کی دور سے نظر آجانے والی تالو ہوتی ہے یہاں تک ہوتا ہے کہ بعض مردوں کو راستہ چلتے ہوے اپنے ارد گرد کی پرواہ کئے بغیر اپنے آپ سے باتیں کرتے دیکھا گیا ہے ،شائد بیچاروں کو گھر میں بولنے کی اجازت نہیں ہوتی اگر اجازت ہوتی بھی ہے تو ہمّت نہیں ہوتی۔ عورتوں کا دل جیتنے کے معاملے میں عامل حضرات ڈاکٹروں سے زیادہ چالاک ہوتے ہیں ان کا ایک ہی جملہ کافی ہوتا ہے کہ:
" آپ کو نظر لگی ہے" یا "آپ پر کسی نے سایہ کروایا ہے۔"

عورتیں کہتی ہیں کہ مردوں کی تعریف کا اعتبار نہیں کرنا چاہئے ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں، بالخصوص جب وہ اکلوتی بیوی سے کہے کہ" تم سب سے اچھی ہو "
جسطرح گھوڑ دوڑ میں ایک ہی گھوڑا حصہ لے تو ظاہر ہے وہی پہلے انعام کا مستحق قرار پاے گا،اسی طرح جب بیوی بھی ایک ہی ہو تو وہی اچھی کہلائیگی۔لیکن بلا مقابلہ اسے سب سے ا چھی کہنا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے ، لیکن بیچاری بیویاں یقین کرلیتی ہیں اور شوہروں کودوسروں کی بیویوں کے جھوٹے سچے قصے سنا سنا کر یقین دلانے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ سب سے اچھی ہیں،بلکہ بہتر ترین ہیں اور اکثر شوہریقین بھی کر لیتے ہیں سواے چند نظرباز شوہروں کے جو شاید بیوی کے بہترین ہونے کا یقین کرنے کے لیے دوسری عورتوں کو گھور گھور کر دیکھتے رہتے ہیں۔ہمارے ایک ایسے ہی دوست جو بازار اور تقاریب میں خواتین کو تاڑنے کے شوقین تھے جب انکی بیوی نے انکو ٹوکا تو کہنے لگے "ڈارلنگ میں اسلیے ہر عورت کو غور سے دیکھتا ہوں کہ کہیں تو کوی خوبصورتی میں تمہاری مثال ملے لیکن واللہ حسن میں تمہارا کوی ثانی نہیں"۔
بیویاں شوہر کو پہلے ہر بات پر ٹوک ٹوک کراسے بدلنے پر مجبور کردیتی ہیں پھر جب وہ بدل جاتا ہے توخود ہی شکایت کرتی ہیں "آپ کتنے بدل گئے ہیں پہلے جیسے نہیں رہے"وہ واقعی بدل بھی جاتا ہے شادی کے بعد پہلے سال تک خود کہتا ہے " ڈارلنگ چلو آج تمہارے لئے ایک اچھی ساڑی خریدنے یا ایک سونے کی انگوٹھی خریدنے کو جی چاہتاہے" اور بعد میں یہی شوہر بیزاری سے کہتا ہے "پلیز پیسے لے جاو اپنی پسند سے جو جی چاہے خرید لو مجھے شاپنگ کے تصور سے وحشت ہوتی ہے" بیوی کے ہاتھ کا پکوان ابتدا میں خوب تعریفیں کر کے کھاتاہے ایسے جیسے پہلی بارکھارہاہو اور بعد میں اسی پکوان کو دسترپردیکھ کر چیختاہے اور کہتاہے "پھروہی " ۔ شروع میں نئے جوڑے میں دیکھ کرحور پری ،ایشوریاراے ،اور پریانکا چوپڑا تک کہہ جاتا ہے اور بعد میں نئے جوڑے میں دیکھ کر کہتا ہے "کتنے کا ہے؟"۔ جو شوہر ابتدا میں بیوی سے کہتا ہے کہ خدا نے تمھیں اپنے ہاتھوں سے بطور ِخاص میرے لئے بنایا ہے وہی کچھ سالوں بعد کہتا ہے"تم میکپ میں بہت اچھی لگتی ہو"۔پہلے دور سے نظر آجانے والی محبوبہ شادی کے بعد بعض اوقات قریب بھی کھڑی ہو تو نظر نہیں آتی۔

کہتے ہیں خوب صورت بیوی وہ ہے جسکی شوہر ہر بات سنتاہو اور خوب سیرت بیوی وہ ہے جو شوہر کی ہر بات سنتی ہو اور ہمارے معاشرے میں خوبصورت بیویوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اسکا ثبوت اس واقعے سے ملتاہے کہ ایک خاتون ایک ڈاکٹر کے پاس گئیں اور اپنے شوہر کے نیند میں بڑبڑانے کی شکایت کی ڈاکٹر نے کئ ٹیسٹ کرلئے لیکن بیماری کا کہیں سراغ نہ مل سکا تب ڈاکٹر نے خاتون کو مشورہ دیا کہ ا اپنے شوہر کوبھی کبھی دن میں بھی بولنے کا موقع دیا کرے۔خیر ہم اس بات سے متفق نہیں کہ بیویاں بولنے کا موقعہ نہیں دیتیں یہ عورتوں پر سراسر بہتان ہے البتہ یہ بات مردوں کے حوصلے اور ہمت سے تعلق رکھتی ہے کم از کم ہمارا تجربہ یہی کہتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو آج آپ کے سامنے عورتوں کے موضوع پر اتنی گفتگو ہرگز نہ کرسکتے۔یہ الگ بات ہیکہ مرد حضرات صرف محفلوں میں ہی دوسری شادی کی باتیں کر کے خوش ہوجاتے ہیں۔ سچ لکھا تھا یونس بٹ نے کہ"امریکی عدالت نے شوہر کو بیوی کی ڈاک کھولنے کا حق تو دے دیا لیکن ہمّت نہ دے سکا"۔
یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کون کس کی پیداوار ہے۔ پہلے پہل لگتا ہے کہ بیوی کو شوہر نے دریافت کیا ہے لیکن بعد میں ثابت ہوتا ہیکہ شوہر دراصل بیوی کی ایجاد ہے۔لوگ کہتے ہیں بیوی شوہر آپس میں لڑتے ہیں ،ہمارا خیال یہ ہے کہ شوہر تو صرف اس کار ِخیر میں بیوی کا ہاتھ بٹاتے ہیں ورنہ اگر وہ اکیلے ہی لڑنے لگے تو نفسیاتی طور پر بیمار ہو جاے ،کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور اچّھے شوہریہ نہیں چاہتے کہ بیوی کے کام میں ہاتھ نہ بٹائیں۔
ایک شوہر ایک میگزین کا مطالعہ کر رہے تھے انھوں نے اپنی بیگم سے مخاطب ہو کر کہا "سنو یہاں لکھا ہے کہ عورتیں دن میں تیس ہزار لفظ بولتی ہے اور مرد صرف پندرہ ہزار "
بیوی نے کہا "وہ اسلئے کہ بیوی کو ہر بات دہرانی پڑتی ہے مرد وں کے سامنے صرف ایک دفعہ کہنے سے ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔
شوہر نے پوچھا "کیا "؟

سنا ہے لڑائی سے محبت بڑھتی ہے ہلکی پھلکی لڑائیاں چلتی رہنی چاہیے، ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں، امریکہ یورپ میں بیوی اگر نہ لڑے تو شوہر ڈرتا ہے کہ یہ زیادہ دن ٹکنے والی ہے اس سے پیچھا چھڑانا مشکل بھی ہو سکتاہے اور ہمارے معاشرے میں اگر نہ لڑے تو شوہر کو شوہر ہونے کا احساس نہیں ہوتا ۔ ویسے بھی عورت کی خاموشی ا ور مرد کی زیادہ بک بک کی عادت میں خطرہ ہوتا ہے۔ امریکہ وغیرہ میں اگر بیوی خاموش رہنے لگے تو وکیل آتے ہیں اور ہمارے پاس ساس یا سالے۔ مشرق اور مغرب کا یہ عجیب تضاد ہے وہاں میاں بیوی میں لڑائی ہو تو بچے پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں اور مشرق میں جتنی لڑائیاں اتنے بچے۔اسی لئے کہتے ہیں اختلاف میں رحمت ہے۔ کسی کے گھر میں رحمت کا اندازہ لگانا ہو تو ہم خیر خیریت کے بجائے بچے کتنے ہیں پوچھ لیتے ہیں۔

مارگریٹ تھیچرکے شوہر سے ایک سیمینار میں ایک رپورٹر سے پوچھا :
مسز تھیچر فرماتی ہیں اگلی صدی عورت کی صدی ہوگی آپ کا کیا خیال ہے ؟
مسٹر تھیچر نے جواب دیا "ہاں اگلی صدی بھی عورت ہی کی صدی ہوگی"۔

ان میاں بیوی کی طرح کامیاب زندگی گزارنا ہو تو شادی کے ساتھ ہی یہ بھی طئے ہوجانا چاہیے کہ گھر کے اندر اصل میاں کون ہوگا اور بیوی کون ، اگر شادی کے ایک دو سال میں یہ طئے نہ ہوجائے تو بعد میں کئی مسائل کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہے،جسکے حل کرنے کے لیے مجبورا ساس کو آنا پڑتا ہے یا دوسری طرف کے سسرے آتے ہوے دیکھے گئے ہیں، یوں بھی کسی لڑکی کے بارے میں اگر یہ جاننا ہو کہ وہ شادی کے بعد میاں ہوگی کہ بیوی تو اسکی ماں کو دیکھ لینا کافی ہو سکتا ہے اور لڑکے کے بارے میں جاننا ہو تو لڑکے کے والد کودیکھ لینا چاہیے۔ اگرابّاجان عام اباّوں کی طرح گھر کے بارھویں کھلاڑی ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ خطرہ ہے۔ ویسے بھی شادی ایک جوا ہے۔
تین چیزیں ایسی ہیں جو کبھی کبھار ہی قسمت سے اچھی نکل آتی ہیں بلکہ لاکھوں میں ایک آدھ بار ورنہ ان کا کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا :
ایک داماد دوسرے بہو اور تیسرے کفیل۔

یہاں یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ساری ساسیں مزاج کے اعتبار سے شوہر ہوتی ہیں کچھ ساسیں زیادہ شوہر بھی ہوتی ہیں، ایسی بیویوں کو بیٹر ہاف کی بجائے بِٹّر ہاف کہا جاتا ہے۔ عورت کا مزاج شاعری کے اصناف سخن سے قریب ہے۔ پہلے عورتیں غزل کی طرح ہوا کرتی تھیں حیا اور پردہ کی ایسی پابند جیسے کہ غزل ردیف قافیے اوزان اور بحورکی پابند ہوتی ہے۔ اب عورت آزاد شاعری کی طرح ہے !
اور اب جبکہ فلم ٹی وی اور ڈش کلچر کا دور دورہ ہے غزل آزاد شاعری میں تبدیل ہو گئی ہے، بعض عورتیں ایسی علامتوں اور استعاروں کی طرح ہوتی ہیں جسے صر ف بے بحر شعر کہنے والا آزاد شاعر ہی سمجھ سکتا ہے، بعض ایسی طویل نثری نظمیں ہوتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور کہاں ختم، آپ کی خیریت اسی میں ہے کہ خاموشی سے سن لیں اگر غلطی سے کہیں داد دیدی تو کم بخت پہلی سطر سے مکرر ہو جاتی ہیں۔ بعض بیویاں ایسی علامتی غزل ہوتی ہیں کہ آپ ان علامتوں کا جو چاہے مطلب نکالیں غلط نہیں ہوگا۔ بعض خواتین قومی ترانے کی طرح ہوتی ہیں جنھیں سرکاری تقاریب یا قونصلیٹ اور ا یمبیسی کے فنکشنوں میں دیکھا جا سکتا ہے، عموماً منتظمین کو بھی ایسے قومی ترانے بہت اچھے لگتے ہیں اسلئے انہیں پہلی صفوں میں بٹھا کر محفلوں کی رونق اور مارکٹ بڑھائی جاتی ہے۔

جہاں تک شوہروں کا تعلق ہے وہ اکثر اخباروں اور رسالوں کی طرح لگتے ہیں،بعض سیاسی تجزیہ نگار ہفتہ وار ، بعض مذہبی ماہنامے ، بعض ادبی میگزین اور بعض روزناموں کی طرح تمام تر مضامین اپنے اندر سمیٹے ہوئے یعنے سیاسی سماجی علاقائی اور فلمی تمام مو ضوعات کا مکسچر ہوتے ہیں۔ لیکن شادی کے دو چار سال بعد یہ پُرانے اخبار ہونے لگتے ہیں آپ باتوں سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون کتنے ہفتے یا کتنے سال پْرانا رسالہ ہے۔ بعض مرد نوکری سے فارغ ہونے کے بعد وظیفہ یاب کہلاتے ہیں اور بعض وظیفہ خوار ، وظیفہ یاب وہ ہوتے ہیں جنھیں سبکدوشی کے بعد بھی کوئی نہ کوئی ذریعہ آمدنی میسر ہوتاہے اور وظیفہ خوار وہ جنھیں وظیفہ کی رقم کے علاوہ کچھ نہیں ملتا بلکہ اور خواری کیلئے بیوی بچوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتاہے ،ایسے شوہر دعاوں اور وظائف کے کتابچوں کی طرح ہوتے ہیں بعض شوہر جدیدیت اور ساختیات کی خشک بحثوں والی کتابوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں صرف شیلف پر رکھا جا سکتا ہے اور کبھی کبھی حوالوں کیلئے دیکھا جاسکتاہے ایسے شوہرتقاریب میں عموماً بیویوں کے ساتھ انگلی پکڑ کر آتے ہیں اور کسی کونے میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں انہیں چھیڑ کر پوچھنا پڑتا ہیکہ وہ کس کے شوہرنامدار ہیں۔

ہم ایک طویل شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد اور کئی شادی شداؤں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد اس من گھڑت روایت پر یقین کرنے لگے ہیں کہ جب خدا نے یہ کائنات کی تخلیق کی اور تمام حیوانات بشمول حیوانِ ناطق پیدا کیے تو سب کیلئے پچیس پچیس سال عمر مختص کردی، کُتّے گدھے اور اُلّو غیرہ نے کہا یہ عمر ہمارے لئے بہت زیادہ ہے اور انھوں نے صرف پانچ پانچ سال ہی قبول کئے اور باقی بیس بیس سال واپس کردئے، اشرف المخلوقات حضرتِ انسان نے کہا پچیس سال کافی نہیں تب خدا نے فرمایا کہ یہ جو بیس بیس سال کتے گدھے اور اُ لّو کے بچے ہیں چاہو تولے لو، انسان خوشی خوشی راضی ہو گیا اسی لئے پہلے پچیس سال وہ اپنی اصلی عمر جیتا ہے ہر بات میں اسکی اپنی مرضی ہوتی ہے اسکے بعد کتے کے بیس سال شروع ہوتے ہیں، زبان باہر نکالے ہڈی کی پیچھے میں بھاگتا رہتا ہے اس کے بعد گدھے کے بیس سال شروع ہوتے ہیں تب وہ بوجھ اٹھائے گھر سے گھاٹ اور گھاٹ سے گھر کا سفر کرتا رہتا ہے اور آخر میں الو کی طرح راتوں کو جاگتے ایک کونے میں باقی عمر گزار دیتا ہے !!

اگر پیدا نہیں ہوتا کوئی احمق تو کیا ہوتا
نہ دیتا داد کوئی اور نہ شاعر کا پتا ہوتا
اگر ا حمق نہیں ہوتا تو شوہر بھی نہیں ہوتا
نہ ہوتے جیٹھ دیور اور نہ بیوی کا سگا ہوتا

( یہ مضمون یوم جمہوریہ تقاریب کے سلسلے میں اردو اکاڈمی جدّہ کی جانب سے منعقدہ یوم مزاح کے موقعے پر پڑھا گیا ، بتاریخ 27/جنوری 2006ء بمقام شاہی رسٹورنٹ ، جدّہ )

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے