Skip to content
 

اردو ۔۔۔ فرضِ کفایہ

کبھی آپ نے کسی مفلس کا ایسا جنازہ دیکھا ہوگاجس میں پانچ دس رشتہ داروں کے علاوہ جنازہ اُٹھانے کوئی نہیں ہوتا۔ قبرستان بہت دور ہوتا ہے اور لوگ دور سے اِسے دیکھتے ہیں ایک دو آدمی سر پر دستی باندھ کر دو چار قدم ساتھ بھی چلتے ہیں لیکن جنازہ اُٹھانے والے میّت اور لکڑی کے جنازے کا بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے تھک جاتے ہیں لیکن قبرستان تو بہرحال جانا ہی ہے۔
آج اردو کے لیے جو لوگ اپنے اوقات اور توانائیاں صرف کررہے ہیں ایک جنازے ہی کو اُٹھاکر لے جارہے ہیں باقی محلہ اِسے فرضِ کفایہ سمجھتاہے یعنے ایسا فرض جو پورے محلّے سے ایک آدمی بھی ادا کردے تو سب کا فرض ادا ہوجاتا ہے۔

ہم لوگ کبھی سنجیدہ قاری اور سامع کی گمشدگی کا رونا روتے ہیں جبکہ ہمار ا سامع اور قاری جھر جھر آنسو روتا ہوا کمزور پروگراموں کے عذاب خانوں سے رسّیاں تُڑا کر بھاگ چکا ہے۔
کبھی ہم نے ادب کے نام پر اِسکو بے ماجرا کہانیوں کو افسانہ کہہ کر سُنایا کبھی اُردو ے معلی کا بوجھ ڈال کر اُسکے کس بل نکال دیئے جس اسلوب اور الفاظ کو مولوی عبدالحق اور مولانا آزاد نے برتا اپنی قابلیت کی دھونس جمانے وہی الفاظ اور اسلوب عام قاری کو سُنا کر بے دادی کا رونا رونے لگ گئے۔
کبھی علامتوں سے بے وجود منظر دکھا کر اُسکی چشمِ بصیرت کو اور بھی نابینا کر دیا۔کبھی پردیسی تحریکات کا خراج وصول کیا اور کبھی رجحان سازی کے ادب آور ٹولے نے ادبی مافیا بن کر سچّائیوں پر شب خون مارا۔ اب ادیب اور شاعرچندے جمع کرکے اجتماعی جشنِ گریہ کا اہتمام کر رہا ہے اور مرحوم ادب کے مزار پر بیٹھا مجاوری کر رہا ہے۔
اوقاف کی جائدادوں پر قبضے کی طرح سرکاری اکیڈیمیاں اور ادارے بنا کر عرس کیطرح سالانہ پروگرام اور قوّالی کیطرح مشاعرے کرواکر ہر کوئی "میرا رنگ دے بسنتی چولا" کا دھمال ڈالنے میں مصروف ہے۔انگریزی ادب کو پڑھنے والے لاکھوں ہیں لیکن کوئی قاری یا سامع قلم اُٹھا کر ایوانِ ادب میں گُھس نہیں پڑتا۔ نہ ٹائی سوٹ میں تصویریں کھنچوا کر شائع کرواتا ہے۔

اردو کا قاری کہاں ہے؟
وہ تو اپنی بیگمات کے پیچھے مینا بازاروں میں گم ہے۔
عورت کے حُسن کی تکمیل کیلیئے کبھی زیور اور کبھی Beauty parlour کی دوکانوں میں ساتھ گھوم رہاہے قوم کا حُسن جو زبان ادب اور کلچر میں پوشیدہ ہے جائے بھاڑ میں۔ وہ بچّے پیدا کررہا ہے بڑے کر رہا ہے انکی شادیاں کر رہا ہے اور وہ بچّے پھر بچّے پیدا کررہے ہیں انہیں بڑا کر رہے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔یہی کام تو کتّے بلّی اور چھپکلی بھی کر رہے ہیں اسکے علاوہ وہ کچھ اور کر بھی نہیں سکتے کیونکہ نہ ان کو زبان سے دلچسپی ہوتی ہے نہ ادب سے اور نہ کلچر سے۔ وہ کائنات سے اپنے حصّے کی مسرّتیں حاصل کرنا جانتے ہیں کائنات کو کچھ دینا نہیں جانتے۔

  • Share/Bookmark

ایک تبصرہ

  1. قاری :

    کیا یہ سائیٹ زیر تکمیل ہے؟

تبصرہ کیجئے