Skip to content
 

خامہ بگوش - ترقی پسندوں کے تعاقب میں

عجیب شخص تھا !!
ایک ہی نشست میں ساری کی ساری کتاب پڑھ جاتا۔ ایک ہی نشست میں ساری کتاب پڑھ ڈالنے سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا صرف تحریر ہی نہیں تحریررقم کرنے والے کا پورا ذہن پڑھ لیتا ہے۔ اسلئے شاعر و ادیب تو درکنار بڑے بڑے تنقید نگار بھی خامہ بگوش کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے۔ اگر تنقید نگاری ، بِلی کی دُم پر پیر رکھنے کا ہنر ہے توبِلا شبہ خامہ بگوش شیر کی دم پر پاؤں رکھنے والے عظیم قلمکار تھے۔
مروت تو انہیں کبھی چھو کر بھی نہیں گزری ۔ اسلئے کسی شاعر نے نہ کبھی انہیں اپنے کلام کے رسمِ اجراء پر مقالہ پڑھنے کی دعوت دی اور نہ کسی ادیب نے ان سے پیش لفظ یا فلیپر لکھانے کی ہمت کی۔ خامہ بگوش نے نہ صرف شعرو ادب پر بھر پور تنقید کی ، بلکہ تاریخ ،عمرانیات ، دینیات وغیرہ پر بھی چونکہ انہیں مہارت حاصل تھی ان شعبوں میں بھی لکھی جانے والی کتابوں اور ان کے لکھنے والوں کی کسی غلطی کو نہیں بخشا۔ پھر بھلا وہ ترقی پسند تحریک یا اس کے اسقاط سے پیدا ہونے والی آزاد شاعری یا نثری شاعری کو کیسے بخشتے؟ ترقی پسندی کیا تھی یہ تو خامہ بگوش کے اپنے الفاظ میں آگے واضح ہو جائے گا۔ اس تحریک نے کمیونزم کے چڑھتے سورج کے آگے بے شمار ذہنوں کو جھکا دیا۔
غربت و افلاس کے مارے ہندوستان میں جس میں کبھی پاکستان بھی شامل تھا کسی شاعر یا ادیب کا کسی اخبار یا رسالہ میں شائع ہو جانا یا ریڈیو پر اسے موقع مل جانا اس کے لیئے حاصلِ حیات تھا۔ اور اگر کسی کو ماسکو کا ٹکٹ مل جائے تو واہ، سونے پہ سہاگا، یہ بے چاروں کی تومعراج تھی۔
جلسے اور جلوس ترقی پسند تحریک کا خاصہ تھے۔ اس لیے شاعر و ادیب کی اس بہانے دلی مراد پوری ہوجاتی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ اسٹیج پر آنے اور داد پانے سے زیادہ اور کیا ترقی ہو سکتی ہے؟ یہی تھی وہ ترقی پسندی جس میں لاکھوں سادہ لوح بہہ گئے ۔ ظاہر ہے کہ روایتی ادب اور روایتی شاعری میں آدمی غالب کی طرح جیتے جی تو قرضدار ہی رہتا ہے اور مرنے کے بعد اس کی قدر ہوتی ہے۔ لیکن ترقی پسندوں نے جیتے جی قدردانی کے ایسے ایسے مواقع فراہم کر دیئے کہ ہر ایرے غیرے نے اس گنگا میں ہاتھ دھو لینے کی آرزو کی۔ ادھر نہرو جی نے اور ادھر بھٹو نے سوشلزم کا نعرہ کیا دیا کہ سارے ترقی پسندوں کو گویا لائسنس مل گیا اور اخبار ، رسائل ، ریڈیو اور ٹی وی پر ان کی اجارہ داری قائم ہوگئی۔ کوئی فلم لائین میں گھس پڑا تو کسی نے صحافتی اداروں میں خوب کمائی کی۔ ترقی پسندی کی دوکان کو تو خیر شکست و ریخت سے دو چار ہونا ہی تھا لیکن ان کی دوکانیں ان کی حیات تک تو خوب چل پڑیں ۔
لیکن تاریخ کے اس تیس چالیس سالہ ترقی پسندی کے عروج و زوال پر جس طرح خامہ بگوش نے ہر دور میں بھرپور گرفت کی ہے ایسا لگتا ہے کہ خامہ بگوش ایک مبصر ہے جو حال کا نہیں مستقبل کے کھیل اور اس کے انجام کی کامنٹری دے رہا ہے۔

خامہ بگوش نے ترقی پسند ادب ہی کا نہیں پورے نظریئے کا وقتاً فوقتاً جو تنقیدی جائزہ لیا ہے وہ مزاحیہ ہوتے ہوئے بھی سنجیدہ ادب کا ایک شاہکار کہلایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں موصوف کی تین کتابوں " خامہ بگوش کا انتخاب " سخن ہائے گفتنی " اور " سخن در سخن " سے کچھ اقتباسات پیش کیئے جاتے ہیں۔

اگر کوئی شخص ہر وقت یہی کہتا رہے میں عاقل و بالغ ہوں تو اس کا عاقل و بالغ ہونا مشکوک ہو جائے گا۔ یہی حال ترقی پسندوں کا ہے جن کی ترقی پسندی کی عمارت دعوؤں پر قائم ہے ۔ ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ کوئی ایسا رجعت پسندی یا زوال پسندی کا ڈھنڈورا پیٹے ۔
زبانی جمع خرچ سے ترقی پسندوں کو کچھ ایسی محبت ہے کہ ایک عرصہ سے انہوں نے لکھنے لکھانے کا کام شروع کرنے سے پہلے ہی چھوڑ رکھا ہے۔ " گفتگو " تحریر کا نعم البدل بن چکی ہے حد تو یہ ہے کہ گفتگو کے نام سے کتاب بھی چھپ گئی ہے جس کے سرِ ورق پر درج ہے " ترقی پسند تحریک کے نظری مسائل ، اثرات اور مخالفین کے اعتراضات مشاہرینِ ادب سے بات چیت "۔
ہم نے استاد لاغر مرادآبادی سے عرض کیا کہ اس میں کچھ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے استاد نے فرمایا " ہاں اس کا بھی امکان ہے آخر خود ترقی پسند تحریک بھی تو ہماری تاریخِ ادب میں کتابت کی ایک غلطی ہی تو ہے"۔
کتابت کی غلطیوں کی بات چل نکلی ہے تو یہ عرض کر دینا مناسب نہ ہوگا کہ زیرِ نظر کتاب " گفتگو " کا شائد ہی کوئی ایسا صفحہ ہوگا جس پر کتابت کی دس یا بارہ غلطیاں نہ ہوں، خصوصاً شعروں پر تو وہ ظلم ڈھائے گئے ہیں کہ اچھے خاصے شعر بھی کیفی اعظمی کے شعر بن کر رہ گئے ہیں"۔
( ترقی پسند تحریک کی لٹیا )

یہ تبصرہ دراصل سردار جعفری اور سید سبط حسن کے ایک انٹرویو پر تھا۔ اسی انٹرویو میں علی سردار جعفری نے کہا کہ
" فیض نے یا میں نے آزاد شاعری میں جو آہنگ اختیار کیا ہے وہ جدید لکھنے والوں تک پہنچتا ہے لیکن راشد اور میرا جی کی شاعری اپنی شناخت کھو چکی ہے"۔
ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ اگر راشد اور میرا جی کی شاعری اپنی شناخت کھو چکی ہے تو پھر ترقی پسند شاعری تو اپنا سب کچھ کھو چکی ہے۔ لیکن ہمیں اس قسم کی انتہا پسندانہ رائے سے اتفاق نہیں ہے۔ راشد جی اور میرا جی کی اپنی شناخت تھی تو انہوں نے کھوئی ۔ ترقی پسند شاعری کے پاس کیا تھا جو کھوئے گی؟
سردار جعفری نے دورانِ گفتگو کہا :
" برنارڈ شاہ نے ایک مرتبہ بڑی دلچسپ بات کہی تھی کہ میرا درزی ہر سال آ کے میرا ناپ لے جاتا ہے تو یہ بات حالات اور ہمارے رشتہ پر منطبق ہوتی ہے۔ حالات برنارڈ شاہ ہیں اور ہم درزی " ۔
عرض ہے کہ درزیوں کی انجمن بنانے کیلئے درزی کا کام آنا ضروری ہے جبکہ مصنفین کی انجمن بنانے کیلیئے اس قسم کے کسی تکلف کی ضرورت نہیں ۔

اسی گفتگو میں سید سبط حسن کا بھی ایک انٹرویو شامل ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ :
" ترقی کا تصور اقبال سے پہلے ہمارے ہاں موجود نہیں تھا ، اقبال نے ان تمام جدید تصورات سے ہمارے فکر و اد ب کو متعارف کروایا اور جس کمالِ خوبی سے شعری قالب میں ڈھالا وہ بجائے خود ایک مثال ہے بلکہ مجھے معاف رکھیں تو عرض کروں کہ ترقی پسند شاعری اپنی تمام توانائی ، دلکشی اور حقیقت آفرینی کے باوجود ملوکیت ، سرمایہ داری اور سامراج پر جو کچھ اقبال نے لکھ دیا اس کے پاسنگ برابر ایک نظم بھی اپنے ہاں سے پیش نہیں کر سکتی"۔
ترقی پسند ادب میں اکابر کا درجہ رکھنے والے ترقی پسند سید سبط حسن کے ترقی پسند ادب پر اس تبصرے پر خامہ بگوش کا یہ تبصرہ ملاحظہ فرمائیے ۔
"لیجیئے سید صاحب نے تو ترقی پسند شاعروں کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ بیچارے نصف صدی سے شاعری کر رہے ہیں اور شاعری کا ایک بھی ایسا نمونہ پیش نہ کر سکے جو اقبال کی کسی نظم کا پاسنگ ہوتا ۔ سید صاحب کو اتنی بے مروتی سے کام نہیں لینا چاہئے تھا۔ حوصلہ افزائی کے خیال سے کم از کم یہی کہہ دینا چاہئے تھا کہ اگلی نصف صدی میں اس کا امکان ہے کہ ترقی پسند ایک آدھ ایسی نظم ضرور لکھ دیں گے جسے کلامِ اقبال کا ' پاسنگ برابر ' قرار دیا جا سکے"۔

پوری ترقی پسند شاعری پڑھ ڈالیئے چاہے سجاد ظہیر ہوں ، مخدوم ، احمد ندیم قاسمی، جان نثار اختر کہ اخترالایمان، چند ایک بہترین غزلوں کے علاوہ جو ملے گا وہ دار و رسن، سلاسل ، روزنِ زنداں ، کسان، دھاتی ، مقتل، مظلوم و محکوم وغیرہ جیسے الفاظ پر باندھے گئے اشعار سے بھرے ہوئے کلام ملیں گے۔ اس پر خامہ بگوش کا تبصرہ ملاحظہ ہو۔

"ترقی پسند شاعروں کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے زنجیر لفظوں کے استعمال سے آفاقی شاعری کی ہے۔ کسی ترقی پسند سے غلط کام کی توقع نہیں کی جا سکتی سوائے شاعری کے۔ اور شاعری بھی ایسا کوئی غلط کام نہیں ہے جس پر شرمانے کی ضرورت ہو ۔ شرمانے کا کام پڑھنے والے بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں
( بائیں ہاتھ کی شاعری از مسلم شمیم)

ایسا بھی نہیں ہے کہ خامہ بگوش نے نظریئے سے اختلاف کرتے ہوئے نظریہ رکھنے والے کو بھی مکمل رد کر دیا ہو شاعری اور ادبی نقطۂ نظر سے اگر شاعر یا ادیب داد کا مستحق ہو تو اس کی بھرپور داد بھی دی ہے مگر یوں کہ پڑھنے والے کے سامنے نظریئے اور نظریہ رکھنے والے کا فرق عیاں رہے۔ مثلاً پاکستان ہی کے مشہور ترقی پسند شاعر حسن عابدی کو انتہائی خوبصورت خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ :
" ترقی پسندوں کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ان کی شاعری میں نظریہ تو ہوتا ہے نظر نہیں ہوتی حسن عابدی نے اس الزام کو بڑی خوبصورتی سے مسترد کر دیا ہے اور وہ اس طرح کہ ان کے ہاں نظریہ شاعری کو مسخ نہیں کرتا بلکہ بین السطور میں اپنا جادو جگاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام ترقی پسندوں کی طرح وہ شعروں سے سمع خراشی نہیں کرتے دل و دماغ دونوں کو نہائت شائستہ پیرائے میں متاثر کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ واحد ترقی پسند شاعر ہیں جن کا نام فیض کے نام کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔
( سوزتنی نہ فرختنی تبصرہ بر " نوشتِ نور " حسن عابدی )

ادب کی تخلیق ، فکر و شعور کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی پختگی کی محتاج ہے لیکن چونکہ ترقی پسندوں نے روزِ ازل سے ہی "ادب برائے مقصد " کے فریضے کا انکار کر دیا تھا۔ نتیجتاً سطحی جذبات و احساسات رکھنے والے عام تخلیق کاروں کو ادبی دنیا میں سستی دکانیں کھولنے کی آزادی مل گئی۔ ایسی ایسی چیزیں تخلیق ہونے لگیں جن کو آدمی پنی بیٹی یا بہو کے سامنے پیش کرتے ہوئے تو شرمائے لیکن محفل میں خوب داد حاصل کرے ۔ سہل پسندی ، آوارگئ طبع یا نا پختگی شعور کے نتیجے میں جو ادب پیدا ہوا وہ " امداد ِتحسین باہمی" کے اصول کے تحت خوب بِکا۔
تخلیق کار نہ صرف شرم و حیا کے حصار سے باہر نکل آیا بلکہ اس کا داعی بھی بنا ۔ کہیں غیر شادی شدہ ماں کے جذبات پر نظمیں لکھی گئیں ۔ کہیں منشور کو پڑھ کر ناری کتھا جیسی واہیات لکھنے والی کشور ناہید تو کہیں جوش ملیح آبادی کے خطوط اور یادوں کی بارات پڑھ کر خورشید علی خاں جیسے مصنف وجود میں آ گئے جن کے بارے میں خامہ بگوش نے بہترین تبصرہ کیا کہ :
" اگر فحش الفاظ اور جذبات کی لغت کبھی لکھی جائے گی تو جوش کے خطوط اور کشور ناہید کی کتھا سے خوب فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے"۔
ایسی ہی ایک تخلیق " کیفی اعظمی فن اور شخصیت " کے عنوان سے خورشید علی خان نے کراچی سے شائع کر وائی۔ خورشید صاحب کیفی کے برادرِ نسبتی ہیں۔ اس میں انہوں نے بہن بہنوئی کی جوانی ، ان کی آنکھ لڑ جانے کا منظر بہن کو دیکھ کر ایک غیر مرد (جو اس وقت تک بہنوئی نہیں ہوئے تھے ) کے دل میں اٹھنے والے جذبات کا جو منظر نامہ پیش کیا وہ معاشرے میں غیر اخلاقی سہی ترقی پسند ادب میں اسے ایک اعلیٰ اخلاقی جراءت کا مقام دیا گیا ۔ اسی پر خامہ بگوش نے یوں تبصرہ کیا کہ :
" کیفی کی ترقی پسندی ان کی شاعری سے اور خورشید علی خان کی ترقی پسندی ان کی زیرِ نظر کتاب سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ خود ترقی پسندی روزِ روشن میں ذرا کم ہی ہے۔ اگرچیکہ شاعری کے آغاز ہی میں کیفی کو معلوم ہو گیا تھا کہ جن لوگوں کے لیئے وہ شاعری کر رہے ہیں انہیں شاعری سے نہیں بھینس کی جگالی سے دلچسپی ہے اس کے باوجود کیفی نے ہمت نہ ہاری اور زندگی بھر کسانوں اور مزدوروں کے لیئے شاعری کرتے رہے، شائد اسی لیئے بعض محققوں نے ترقی پسند شاعری اور جگالی میں معنوی ربط کی نشاندہی کی ہے۔
( کیفی اعظمی FUN اور شخصیت)۔

خامہ بگوش کا ایک اور دلچسپ نشتر !
شائد اسی لیئے کسی نے لکھا کہ " خامہ بگوش کے قلم کا ڈسا پانی نہیں مانگتا " ۔
ترقی پسند تحریک ہو یا اس کے ردِعمل میں پیدا ہونے والی جدیدیت - ان دونوں کے علمبرداروں نے ادیبوں سے جو خلوص برتا اسے دیکھ کر حالی کا یہ شعر یاد آجاتا ہے۔
صحرا میں کچھ بکریوں کو قصاب چراتا پھرتا تھا
دیکھ کے اس کو سارے تمہارے آگئے یاد احسان ہمیں
بکریاں مولانا حالی کی ہوں ، ترقی پسندوں کی یا جدیدیت کی انجام سب کا ایک ہی جیسا ہوتا ہے"
( نقاد یل گورکن تبصرہ بر قمر جمیل )۔

شکست وریخت ترقی پسندی کا مقدر تو تھی ہی اس زوال نصیب تحریک پر خامہ بگوش یا ان جیسے دوسرے ناقدین نے جو کچھ لکھا اس کو ترقی پسند ایک مخالف تحریک کا بغض یا تعصب پسندی قرار تو دے سکتے ہیں لیکن ان زعمائے تحریک کے بارے میں کیا کہیں گے جنہوں نے شوقِ جنوں میں بے مقصدیت کا ایک طویل سفر تو طئے کر لیا لیکن کافی دو ر نکل جانے کے بعد جب پلٹ کر دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ نہ تو منزل ان کی مقصود تھی نہ کوئی ہمسفر معتبر۔ جس طرح سرخ سویرے کی منادی کرتے ہوئے وہ جس اندھیرے " زنداں " اور " ظُلمات " سمجھ رہے تھے وہ درحقیقت کسی کا دن دھاڑے سورج سر پر ہونے کے باوجود کمرہ بند کرکے رضائی میں منہ ڈھانپ کر اندھیرا پیدا کر کے " زنداں و ظلمات " کا تصور کر لینے کے برابر تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اکابرین ِ تحریک ایک ایک کر کے خود ترقی پسندی اور ترقی پسندوں پر کھل کر تنقید کرنے لگے۔
مجروح اور ظ انصاری نے وغیرہ نے نظریہ سے ارتداد کیا۔
اخترالایمان نے کسی کو بھی شاعر ماننے سے انکار کر دیا۔
ڈاکٹر محمد عقیل ، رفیق چودھری وغیرہ نے خود اپنی جماعت کے سرپرستوں پر مصلحت پسندی اور خود غرضی کے الزامات لگائے ۔
خامہ بگوش نے ان ہی رہنمایانِ ترقی پسند تحریک کی تحریروں کو اپنی دلیل بنائی اور اس پر جو بھر پور تبصرہ کیا اس سے قارئین بے حد لطف اندوز ہوں گے۔ ذیل میں خود ترقی پسند زعماء کے تجزئیے اور ان پر خامہ بگوش کا تبصرہ ملاحظہ ہو۔

ڈاکٹر سید محمد عقیل :
" سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی خود ترقی پسندی کا رشتۂ حیات کیوں منقطع ہوا؟ اس تحریک کا تو ڈاک خانے سے کوئی تعلق نہیں تھا کہ شمس الرحمن فاروقی ( جو کہ پوسٹل ڈپارٹمنٹ میں افسرِ تحقیقات ہوا کرتے تھے) اسے ڈیڈ لیٹر آفس میں تبدیل کر دیتے ۔ حسنِ اتفاق سے اس سوال کا جواب خود ڈاکٹر سید محمد عقیل کی کتاب میں مل جاتا ہے فرماتے ہیں:
" ترقی پسندی میں مختلف افراد کی مصلحت پسندیوں اور کسی حد تک خود غرضیوں کے باعث زبردست دراڑیں پڑگیں اگرچیکہ دو ایک سال بعد ترقی پسندوں کو پھر سے مجتمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر انہیں کوئی باندھ نہیں پاتا۔ ترقی پسندی کے اسٹیج کو اب لوگ اپنے وقتی فائدہ کے لیئے بھی استعمال کرتے رہتے ہیں اور کچھ لوگ محض طلبِ زر کے لیے۔ ترقی پسندوں کے زوال میں عالمی طاقتوں کا بھی دخل ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ زمانۂ حال کے ترقی پسندوں کے پاس ایک شجرۂ نسب ہی رہ گیا ہے جس میں سجاد ظہیر مخدوم وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔ جدیدیئے تو جان کا عذاب تھے ہی مگر ڈاکٹر عقیل کے اپنے قبیلے کے لوگ بھی دشمنی میں کسی سے پیچھے نہ تھے، اس کی تفصیل ڈاکٹر صاحب کی زبانِ حقیقت بیان میں یوں بیان کی گئی ہے۔
" ترقی پسندی کی ہزیمت کے اور بہت سے ادبی و فکری اسباب تھے مگر سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ ان میں ٹیم اسپرٹ ختم ہوگئی تھی۔ بلند نام ادیب اسٹابلشمنٹ میں لگ چکے تھے ۔ آئیڈیالوجی سے زیادہ اپنی ذات میں دلچسپی پیدا ہوگئی تھی جس کیلئے وہ ترقی پسندوں کے دشمنوں سے بھی ساز باز کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ بات بری لگے مگر یہی حقیقت ہے۔ انہیں بس اپنی اور اپنے ہوائی جہاز کی فکر ہوتی اپنی ٹیم کی نہیں ۔ ترقی پسندوں میں سرکاری انعامات حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوئی ۔ وہ ایک دوسرے کی کاٹ کرنے لگے۔ اپنے دیرینہ رفیقوں کو چھوڑ کر اثر و رسوخ رکھنے والے رفیق ڈھونڈھنے لگے چاہے وہ کسی مکتب کے کیوں نہ ہوں"۔
خامہ بگوش کا ان سطور پر تبصرہ ملاحظہ ہو :
" افسوس کہ ترقی پسندوں پر کیا برا وقت آن پڑا کہ انہیں اپنے حلقے میں کوئی دوستی کے لائق نظر نہیں آتا۔ کسی ترقی پسند کا گوپی چند نارنگ یا شمس الرحمن فاروقی سے دوستی کرنا رہزن کو دعا دینے کے مترادف ہے۔
( آپ بیتی یا مرقعِ عبرت تبصرہ بر " گٹو دھول " از ڈاکٹر سید محمد عقیل ۔)

چودھری محمد رفیق :
چودھری صاحب کا ترقی پسندی سے بہت پرانا تعلق ہے اور اس تعلق میں کبھی جھول پیدا نہیں ہوا یہ اور بات ہے کہ خود ترقی پسند تحریک جھول کا شکار ہو چکی ہے ۔ البتہ چودھری صاحب کے ہاتھ میں ترقی پسند تحریک کا جو ٹکڑا رہ گیا وہ ابھی تک محفوظ ہے وہ اسے پرچم بنا کر ترقی پسندی کے تنِ مردہ میں جان ڈالنے کی مخلصانہ مگر ناکام کوشش میں مصروف رہتے ہیں ۔ ان کے ادبی مرکز کے مہمان صرف ترقی پسند ہی نہیں ہوتے بلکہ " شرفائے شہر " بھی ہوتے ہیں۔ " میری نیّا " میں چودھری صاحب نے ترقی پسند تحریک کی سرگرمیوں کا ذکر تفصیل سے کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترقی پسندوں کا سب سے بڑا کام جلسے کرنا اور جلوس نکالنا تھا ۔ ان لوگوں نے کئی کامیاب کانفرنسیں اور کئی میل لمبے جلوس نکالے ۔ بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ترقی پسندوں نے ادب کی تخلیق میں بھی حصہ لیا ہے یا نہیں۔
ہمارے خیال میں یہ اعتراض کوئی اہمئت نہیں رکھتا۔ ادب تخلیق نہ کرنا ترقی پسندوں کا مسئلہ نہیں رہا ۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں جن میں ادب تخلیق ہو سکے۔ افسوس کہ ایسے حالات پیدا نہیں ہو سکے اسلئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ترقی پسند تحریک ادب کے بجائے حالات کا شکار ہو گئی۔ چودھری صاحب نے پرانے ترقی پسندوں کے خلوص اور نئے ترقی پسندوں کی خود غرضیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 1986ء میں بہت کچھ بدل گیا ۔ گروہ بندی کو ختم کرنے کی بجائے اسے ہوا دی گئی۔
اگر چودھری صاحب ذرا غور و فکر سے کام لیتے تو انہیں پرانے اور نئے ترقی پسندوں میں فرق کی وجہ معلوم ہو جاتی۔ پرانے ترقی پسند کم از کم سرکاری مخبروں سے ہاتھا پائی کرنے اور پانی کے ٹب میں غریقِ رحمت ہونے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ اب یہ حال ہے کہ انجمن ترقی پسند مصنفین میں سرکاری مخبر ہی باقی رہ گئے ہیں اسی لئے تو استاد لاغر مراد آبادی نے جو تجویز پیش کی تھی کہ انجمن میں جہاں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں وہاں نام کی تبدیلی بھی عمل میں آنی چاہئے۔ ہمیں اس تجویز سے اتفاق نہیں ہے۔ نام میں کچھ نہیں رکھا اصل چیز کام ہے اور کام جاری رہنا چاہئے۔ کتاب کا دیباچہ پرفیسر عتیق احمد نے لکھا ہے ۔ دیباچہ کیا لکھا ترقی پسندی کی قبر پر لات مار دی۔ لکھتے ہیں کہ:
" ترقی پسندوں پر پاکستان سے غداری اور نمک حرامی کا الزام ہے"۔ پرفیسر صاحب کو ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیئے کیونکہ بعض سادہ لوح اس قسم کے بیانات کو اعترافات کا درجہ دے دیتے ہیں۔
(ترقی پسندی یا روائتی کمبل ۔ تبصرہ بر میری دنیا از رفیق چودھری)

اختر الایمان نے دورۂ کراچی کے موقع پر ایک انٹرویو دیا جو "طلوعِ افکار " دسمبر 1989ء کے شمارے میں شائع ہوا اس میں انہوں نے تمام ترقی پسند شاعروں کو یہ کہ کر رد کر دیا کہ اکثر ترقی پسند احباب کی شاعری Verification یعنی کلامِ موزوں ہے۔ مجاز ، فیض ، مخدوم اور فراق کسی حد تک شاعر ہیں باقی کی شاعری تخلیقی شاعری سے باہر کی چیز ہے۔ کیفی اعظمی کو میں Genuine شاعر نہیں سمجھتا وغیرہ وغیرہ۔
اس پر خامہ بگوش کا دلچسپ تبصرہ یوں ہے کہ :
" ترقی پسندوں سے ہمیں بھی بہت سی شکایات ہیں مثلاً ایک شکایت یہ ہے کہ جب شعر و شاعری کے بغیر بھی آدمی ترقی پسند بن سکتا ہے تو پھر شعر کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لیکن اختر صاحب کی ناراضگی کچھ ذاتی قسم کی معلوم ہوتی ہے ورنہ وہ یہ گلہ نہ کرتے میری شاعری پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے"۔
ترقی پسندوں نے اختر صاحب کو نظر انداز کیا اور اختر صاحب نے سارے ترقی پسندوں کو خارج از آہنگ قرار دے کر معاملہ برابر کر دیا۔ عوض معاوضہ گلہ ندارد۔
( شاعری یا کلامِ موزوں پر اخترالایمان)

مجروح سلطا ن پوری:
مجروح سلطان پوری کے دورۂ پاکستان کے موقع پر روزنامہ " جنگ " نے انٹر ویو شائع کیا جس پر خامہ بگوش کا تبصرہ پڑھنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں :
" خدا جانے مجروح صاحب کس قبیل کے ترقی پسند ہیں جو شاعری کو ترقی پسندی پر ترجیح دیتے ہیں ورنہ ہمارے ہاں تو ترقی پسندی ہی کو سب کچھ سمجھا جاتا ہے۔ باقی ساری چیزیں تو ثانوی اہمیت کی ہیں۔ جب سے ترقی پسند تحریک کی پچاس سالہ برسی منائی گئی ہے تب سے یہ خیال عام ہو گیا ہے کہ لکھنے پڑھنے کی قطعاً ضرورت نہیں اس کے لیئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے ترقی پسند ہونے کا اعلان کر دے۔ مجروح صاحب نے ایک بات بڑی عجیب کہی ہے کہ بڑے شاعر میر و غالب تھے یا پھر جوش اور اقبال۔ باقی تمام شاعروں کی اہمیت اتنی ہے کہ وہ بڑے مشاعروں کے لیئے مٹیریل جمع کرتے ہیں۔ اپنے ہم عصروں میں فیض ، مجاز ، سردار جعفری اور مخدوم وغیرہ کے نام لے کر کہا کہ یہ سب شاعر قد نہیں نکال سکے۔
ان کوتاہ قد شاعروں میں مجروح نے اپنے آپ کو بھی شامل کر لیا اور فرمایا " ہو سکتا ہے ہمارا مٹیریل لے کر آئندہ کوئی بڑ ا شاعر پیدا ہو ۔
قطع نظر اس کے جس مٹیریل کی وجہ سے آپ خود بڑے شاعر نہیں بن سکے اسے لے کر کوئی دوسرا بڑا شاعر کیسے بن سکتا ہے؟
ہمیں تو اس پر حیرت ہے کہ مجروح جیسا مقبول اور ہر دلعزیز شاعر اپنے آپ کو بڑے شاعروں میں شمار نہیں کرتا جب کہ آج کل تو یہ حالت ہے کہ وہ نو مولود شعراء جن کی شاعری اسقاطِ سخن قسم کی کوئی چیز ہے وہ بھی اپنے آپ کو میر کے برابر سمجھتے ہیں"۔
( اسقاطِ سخن تبصرہ بر مجروح سلطان پوری) ۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے