Skip to content
 

میرا پیغام تعزیت ہے جہاں تک پہنچے

ہم اپنے تمام قدردانوں سے یہ التماس کرنا چاہتے ہیں کہ برائے مہربانی ہمارے سانحۂ انتقال پر کوئی تعزیتی مضمون نہ لکھیں اور تمام شعراء و ادباء سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنے انتقال کے بعد جن جن سے تعزیتی مضامین ، مقالے اور خصوصی نمبر وغیرہ کی توقع کرتے ہیں ان تمام حضرات سے زندگی میں ہی لکھوا کر دستخطِ تصدیق ثبت کردیں۔
اس کی کئی وجوہات ہیں ۔
ایک تو یہ ہیکہ قبل از وقت پتہ چل جانا چاہیے کہ ادب کی دنیا میں ہم میر و غالب سے کتنے بڑے یا چھوٹے ہیں تاکہ انہی مراتب کا خیال رکھتے ہوئے برزخ میں ہم ان بزرگوں سے ملیں۔ دوسرے یہ کہ ہم اس سکرات کے عذاب سے محفوظ رہیں جس سے ہر عظیم شا عر اور ادیب گزرتا ہے یعنی زندگی میں قدر نہ ہونے کا احساس۔ ہمیں مرنے سے پہلے سخت سے سخت جان لیوا بیماری یا کوما منظور ہے لیکن اپنی نا قدری کے احساس کا عذاب منظور نہیں ۔ ہمارے قدردان احسان کرینگے اگر وہ اپنے تعزیتی مضا مین ہمیں مرنے سے قبل دکھا کر ہمیں خوشی خوشی اس دنیا سے جانے کا موقع دیں۔ اس سے تیسرا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہمیں پتہ تو چل جائیگا کہ ہم کس حیثیت سے پہچانے جاتے تھے ۔ ہمیں اپنے اس جرم یا اس حرکت کا پتہ چل جانا چاہیئے جس کی وجہ سے لوگ ہم پر تعزیتی مضمون لکھیں گے۔

جیسا کہ علامہ اقبال کے ساتھ ہوا۔ محمد طفیل صاحب مدیر ” نقوش“ نے اقبال نمبر میں ایک واقعہ لکھا کہ جب وہ علامہ اقبال کی یاد میں جلسے کے لئےچندہ اکٹھا کرنے نکلے تو بھینسوں کے ایک تاجر کے پاس پہنچ گئے۔ وہ ڈاکٹراقبال سے بڑی والہانہ محبت رکھتا تھا کہنے لگا :
”مرحوم بہترین ڈاکٹر تھے جب تک وہ زندہ تھے میری بھینسوں کو کوئی تکلیف نہیں تھی“۔
اسی طرح ایک او ر واقعہ ماجد دیوبندی نے ایک مشاعرے میں سنایا کہ رفیع احمد قدوائی مرحوم پر جب سمینار کا انعقاد ہوا تو ایک وزیر کو مہمان ِخصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ وزیر صاحب نے ا پنی تقریر میں رفیع صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آج ہندوستان کا بچہ بچہ رفیع صاحب کی آواز کا دیوانہ ہے۔ انہوں نے پچیس ہزار سے زائد گانے گائے ہیں۔ مجمع سکتے میں آگیا۔ جب وزیر کو ٹوکا گیا کہ یہ محمد رفیع کا نہیں رفیع احمد قدوائی کا جلسہ ہے تو وزیر صاحب نے ڈانٹا کہ:
” آپ لوگوں کو چاہئے تھا کہ رفیع صاحب کا پورا نام مجھے ہندی میں لکھ کر دیتے کیوں کہ میں اردو سے واقف نہیں ہوں“۔

” خط لکھیں گے گر چہ مطلب کچھ نہ ہو “ کے مصداق کچھ لوگوں نے وطیرہ بنا رکھا ہیکہ:
” تعزیتی مضمون ضرور لکھیں گے چاہے مرحوم سے علاقہ کچھ نہ ہو“۔
زیادہ تر تقاریر یا مضامین وہ ہوتے ہیں جن میں مرحوم کو جراجِ تحسین دیا کم جاتا ہے اور ان سے لیا زیادہ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر محلے میں جب کسی کے انتقال کی خبر سرکاری نل پر یا گلی کے نکڑ پر جمع ہونے والے افراد تک پہنچتی ہے تو ہرشخص اپنا تعزیتی بیان کچھ اسطرح جاری کرتا ہے ۔
کوئی صاحب یو ں گویا ہوتے ہیں ”یار : کل ہی انہوں نے میرے ساتھ نماز پڑھی اور مجھ سے مصافحہ کیا“۔
حالانکہ یہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مرحوم نمازی تھے اور نماز کے بعد ہر ایک سے مصافحہ کرتے تھے۔ کچھ تبصرے یہ ہوتے ہیں کہ :
”مرحوم مجھ سے پانچ سال بڑے تھے، مرحوم کو بھی وہی غزلیں پسند تھیں جو مجھے ہیں، مرحوم دو سال تک میرے پڑوسی رہے، مرحوم کو میں ہمیشہ بڑے بھائی کہتا تھا“
ان تمام تبصروں میں ”میں، میرے“ شامل ہونا کیا ضروری ہے؟ کیا اس حوالے کے بغیر مرحوم کی شخصیت ادھوری رہ جائیگی؟

مرنے کے بعد تو یوں بھی بد سے بدتر آدمی بھی نیک صورت و نیک سیرت اختیار کر جاتا ہے۔ ایک شرابی شخص کی موت پر بھی کسی نے یہ خوبصورت تبصرہ کیا کہ ” لوگ دارو پی کر کیا کیا نہیں کرتے لیکن مرحوم کی ایک خاص بات تھی ۔ پی کر نہ انہوں نے کبھی کوئی ہنگامہ کیا نہ کبھی کوئی جھگڑا کیا “۔
بڑی بڑی ہستیوں کو بھی ہم نے دیکھا کہ تعزیتی تقریر یا تحریر میں ان کا رویہ سرکاری نل سے پانی بھرنے والے افراد سے مختلف نہیں ہوتا ۔ حاصلِ بیان یہ ہوتا ہے کہ :
مرحوم کو ان کی کون سی عادتیں پسند تھیں؟
مرحوم ان کی کس طرح ، کیوں اور کب قدر کرتے تھے ؟
مرحوم کو یہ کس طرح برداشت کرتے تھے؟
مرحوم پر ان کے کیا کیا احسانات ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے ایک معروف عالمِ دین کا انتقال ہوا۔ ایک خانوادۂ طریقت نے تقریر کرتے ہوئے مرحوم کو اس دور کا معروف عالمِ دین قرار دیا اور ان کی تین وجوہات بتائیں :
ایک تو یہ کہ ان کے والدِ محترم نے مرحوم کو ان کا اتالیق مقرر کیا تھا۔
دوسرے یہ کہ مرحوم کی تصنیف کردہ کتاب میں انہوں نے کچھ غلطیاں پکڑی تھیں مرحوم نے فوراً ان غلطیوں کو تسلیم کر لیا اور تصحیح کی۔
تیسرے یہ کہ مرحوم اسی قبرستان میں دفن کئے گئے جہاں ان کے ابّا جان مدفون ہیں۔

ایک بزرگ سیاسی و سماجی قائد کے انتقال کے موقع پر شہر جدہ کی ایک نامور شخصیت نے کافی پر سوز تقریر کی اورفرمایا کہ :
کئی سال قبل جب مرحوم پہلی بار ہوائی سفر کر رہے تھے یہ ایر پورٹ پر انہیں ملے تھے ۔ مرحوم انگریزی سے نا واقف تھے اسلئے ان صاحب نے بورڈنگ پاس لینے میں اور اور ایمیگریشن فارم بھرنے میں کس طرح مدد کی تھی اور دورانِ سفر مرحوم نے ان کے کن کن سوالات کا جواب دیا تھا ا ور کہاں کہاں لاجواب ہو کر ان کی ذہانت کی تعریف کی تھی۔ چونکہ یہ ساری باتیں مرحوم کی ” انکساری “ کے کھاتے میں تھیں اسلئے صاحبِ موصوف نے ضروری سمجھا کہ مرحوم کے انتقال پر سامعین کو اپنے تعزیتی جذبات سے آگاہ فرمائیں ۔

مرحوم شفیق الرحمان ہمارے پسندیدہ مزاح نگار ہیں ۔ حیدرآباد ہی کے ایک روزنامے کے ادبی صفحے پر ہم نے ایک سرخی دیکھی :
” شفیق الرحمان سے ایک ملاقات“ ۔
مضمون پورے پاؤ صفحے پر مشتمل تھا۔ ہم نے بڑے چاؤ سے مضمون پڑ ھنا شروع کیا۔ اس توقع میں کہ ہماری ادبی معلومات میں اضافہ ہوگا لیکن اضافہ صرف اس حد تک ہوا کہ شفیق الرحمان مرحوم و حیدرآباد کی امباڑے کی بھا جی بہت پسند تھی۔ مرحوم نے دو خطوں میں اس کا تذکرہ کیا تھا اسلئے وہ خط نہ صرف ادبی دستاویز کی حیثئت رکھتے تھے بلکہ مصنف کے اعلیٰ ترین ادبی روابط کا ثبوت بھی تھے۔ مصنف بھاجی لے کر کراچی پہنچے ۔ مرحوم کاگھر ڈھونڈھنے میں پیش آنے والی تکالیف کا تفصیل سے ذکرکیا گیا۔ پھر مرحوم نے کس طرح مصنف کے ابّا جان، امّی جان، بھائی جان، چچا جان، و غیرہ وغیرہ کی فردا ًفرداً خیریت پوچھی اور امباڑے کی بھاجی کے لیے کس انداز میں اظہارِ تشکر کیا۔ ان تفاصیل پرمشتمل مضمون پڑھ کر ہمیں خیال آ یا کہ اگر مرحوم کو یہ اندازہ ہوتا کہ ان کی ادبی خدمات کو لوگ امباڑے کی بھاجی کے ذریعہ خراجِ تحسین ادا کرینگے تو شائد شفیق الرحمان کبھی کچھ نہ لکھتے۔

اگر سطحی قسم کے لکھنے والے ایسا کریں تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن نامور ادیب یا شعراء بھی یہی حرکت کریں تو ہمیں شبہ ہوتا ہے کہ آیا یہ مرحوم سے کسی خصومت کا بدلہ تو نہیں لیا جا رہا ہے؟ ۔ اپنی طویل تقریر یا تحریر میں مرحوم کی فکر و فن یا خدمات کو کئی کلو میٹر دور رکھتے ہوئے وہ باتیں کہتے جائنگے کہ جن کا تعلق نہ ادب سے ہے اور نہ کسی اور شعبے سے تاکہ قاری یا سامع مرحوم کے بارے میں یہی سوچتا رہ جائے کہ اگر مرحوم پیدا نہ بھی ہوتے تو دنیا میں ادبی دنیا میں کیا فرق پڑتا۔ دلاور فگار پر ایک معروف قلم کار نے قلم اٹھایا اور یہ بیان کیا کہ دلاور فگار اپنے شعروں پر ان سے تبصرہ حاصل کرتے تھے۔ یہ تو مصنف کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انہوں نے تبصر ہ لکھا حالانکہ وہ تو یہ لکھنا چاہتے تھے کہ وہ دلاور فگار کے اشعار پر اصلاح دیا کر تے تھے۔

تمام تعزیت خواہوں سے ہماری یہ بھی التماس ہے کہ وہ توصیفی کلمات جو ہر تعزیتی جلسے یا مقالے کے اجزا ہیں اور مرحومین کا نام بدل کر چسپاں کر د دئے جاتے ہیں ان کلمات سے سوا بھی کچھ کہہ دیں۔ اگر آپ نے ہمیں کبھی نہیں پڑھا ہے تو ہمیں آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ کیونکہ آپ وہ پیدائشی ا ہل ِ اردو ہیں جو اردو پڑھ کر اپنے Educated ہونے کو مشکوک نہیں ہونے دیتے۔
اور اگر آپ نے ہمیں کبھی مستعار لئے اخبار یا رسالے میں پڑھ لیا ہے تو آپ سچے محبِ اردو ہیں ۔ اور اگر آپ نے بغیر پڑھے ہی اردو کا بہترین شاعر یا ادیب مان لیا ہے تو ہمکو یقین ہیکہ آپ ایک بہترین تنقید نگار ہیں۔ ہماری خواہش ہیکہ آپ ہمارے مرنے کے بعد سہی، پڑھ کرہمیں رد کر دیجئے ۔ لیکن خدارا ہم کوان گِھسے پٹے تعزیتی کلمات سے بنی وہ کِرائے کی شیروانی نہ پہنائیے جو ہر دولہا کو پہنائی جاتی ہے ۔ جیسے :
” مرحوم کے گزر جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ نا ممکن ہے کہ کوئی ُپر کر سکے“۔
” مرحوم اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب و دانشور اور محقق وغیرہ تھے“۔
” مرحوم نے جو لازوال ادبی سرمایہ چھوڑا ہے وہ نئی نسلوں کی یقینا رہنمائی کر تا رہیگا “۔
” مرحوم ا پنی ایک انفرادیت رکھتے تھے ۔ وہ اس دور کی نئی آواز تھے۔ روایت شکن تھے انہوں نے اپنی ایک پہچان بنائی تھی“۔

اور خبردار اگر کسی نے ہمیں یہ گالی دی کہ ”ایسا کہاں سے لاؤں کہ تُجھ سا کہیں جسے “۔
چالیس برسوں سے سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے ہیں ۔ اب تو مصرعہ نیا لاؤ کہ
” مجھ سا کہیں جسے “

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے