Skip to content
 

ٹانگ اونچی رہے

جب سے کانگریس کی حکومت ختم ہوئی ہے ہم خواہ مخواہ خوش تھے جیسے ہم نے کانگریس کو ووٹ نہ دے کر کانگریس سے بہت بڑا انتقام لے لیا ہے۔ ہم اپنے طور پر خود کو ایک کامیاب سیاست دان بھی سمجھنے لگے تھے جو کہ عوام کی سمجھ میں نہ آنے والی چالیں چل کر بڑی بڑی سیاسی بازیاں الٹ دیتے ہیں ۔ ویسے تو ہم نے زندگی میں کبھی اپنے نام کا ووٹ استعمال نہیں کیا لیکن ایک مرتبہ ہم نے کسی اور کے نام کا ووٹ ڈالا تھا کیونکہ جب ہم بالغ نہیں ہوئے تھے حالانکہ ہمارے مسلمان لیڈروں نے بی جے پی کے جواب میں اپنی شاندار گرج دار تقریروں کے ذریعے ہم کو شعوری طور پر سیاسی بالغ بنا دیا تھا۔ ان کی تقریریں ایسی شاندار اور جذباتی ہوا کرتی تھیں کہ بچہ بچہ سیاسی طور پر بالغ ہو جاتا تھا۔ تقریروں میں اللہ اور رسول کے ذکر سے بات شروع ہوتی اور کہا جاتا ۔۔۔۔۔

مسلمانو! یاد رکھو ہم بابری مسجد کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں کو قلم کر کے رکھ دیں گے۔ اور قدموں کو کاٹ پھیکیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ہر بچے کو یقینِ کامل ہو گیا تھا کہ ایسے دو چار لیڈروں کو منتخب کر کے ہم سارے ہندوستان پر حکومت کر لیں گے۔

دوسری مرتبہ جب ہم بحیثیت ِ بالغ رائے دہندہ پوری شان اور وقار کے ساتھ پولنگ اسٹیشن داخل ہوئے تو پتہ چلا کہ ہمارا ووٹ تو پہلے ہی ڈالا جا چکا ہے۔ اس کے بعد پھر کبھی ہمیں ووٹ ڈالنے کی توفیق نہیں ہوئی لیکن اس مرتبہ تو ہم نے جس استطاعتِ جوش کے ساتھ ووٹ نہیں ڈالا عالمِ تصور میں سارا دن کانگریس ہماری خوش آمد کرتی رہی لیکن ہم اسے تڑپاتے رہے۔ اس کا ایک ایک کارنامہ گناتے رہے اور وہ ر و رو کر معافیاں مانگتی رہی لیکن ہم بھی ٹاڈا کے جیلر کی طرح اس کو دھکے مارتے رہے ہمارا دل پسیجا۔۔۔۔ اتنا بڑا انتقام ہم سوائےعا لم تصور کے اور لے بھی کہاں سکتے تھے؟ الیکشن کا دن گزرا جیسے تیسے نتیجے آنے لگے ہمارا دل باغ باغ ہوتا گیا۔ پھر اسی چشمِ تصوّر سے ہم ہر نتیجے پر کانگریس کو حقارت بھری نظروں سے گھور گھور کر کہ رہے تھے کہ :
"دیکھ لیا ہمارا انتقام ! ابھی تو دیکھتی جا ہمارے ایک ووٹ نہ ڈالنے کا عبرت ناک انجام "

جب دیوے گوڑا جی نے حکومت سنبھال لی تب ہمیں اطمینان ہوا کہ ہمارا انتقام پورا ہوگیا۔ اپنے تئں ہم نے نہ صرف کانگریس کا کورٹ مارشیل کر دیا بلکہ سزائے موت دے ڈالی لیکن جب سے نرسمہا راؤ جی کا وہ بیان پڑھا سارا اطمینان جاتا رہا جس میں انہوں نے انکشاف فرمایا تھا کہ :
" اپوزیشن کو حکومت کر نے کا موقعہ ہم نے خود بہت سوچ سمجھکر دیا ہے۔ تاکہ انہیں بھی اور عوام کو پتہ چل جائے کہ حکومت سنبھالنا سب کے بس کی بات نہیں اور اس دوران ہمیں بھی پارٹی کو مستحکم کرنے کا موقع ملے گا۔ "

گویا ہم ووٹ نہ ڈالکر بھی کانگریس کے استحکام کے کام آگئے !
بیان آگے اور بھی تھا لیکن اس سے زیادہ پڑھنے کی ہمت ہم میں نہیں تھی بالکل جیسے اخبار میں امتحانی نتائج میں اپنا رول نمبر غائب ہو تو آگے کے نمبر دیکھنا جی نہیں چاہتا۔ ہماری سیاسی چال بازی ، بے وقعت بن کر رہ گئی ۔ قبل از الیکشن کے تمام حالات کو حافظے میں لا کر ہم راؤ صاحب کی صداقت کی شہادت دے سکتے ہیں کہ جتنا کوئی جیتنے کے لئے بھاگ دوڑ کر سکتا ہے انہوں نے اس سے کہیں زیادہ ہارنے کے جتن کئے تا کہ ہار کر پارٹی مستحکم ہو جائے۔ جیت کر پارٹیاں مستحکم ہوتی ہیں یہ تو سنا ہے دیکھا بھی ہے۔ اس لئے ہم ان کی ہار پر اکڑ رہے تھے لیکن پارٹی کو ہرا کر مستحکم کرنے کا فارمولہ ہمارے لئے ایسا ہے انکشاف ہے جیسے کوئی استاد پہلوان اپنے شاگرد کو سارے گُر بتا دیتا ہے سوائے ایک کے تاکہ وقتِ ضرورت سبق سکھائے۔
راؤ جی واقعی استاد نکلے۔ کانگریس کے استحکام کے لئے عوام نے اتنے جوش و خروش اور مکمل قومی یکجہتی کے ساتھ تو نہرو اور گاندھی جی کے زمانے میں بھی کوشش نہیں کی تھی جتنی راؤ جی کے لیئے کی ۔ ٹاڈا ، بابری مسجد ، بوفورس چارہ و شکر اسکام وغیرہ وغیرہ جیسے اسکینڈلس کو نا خواندہ عوام خواہ مخواہ ان کی بد عنوان سیاست سے تعبیر کر رہے تھے حالانکہ یہ کام تو وہ عوام کی بھلائی کے لئے کر رہے تھے تاکہ اپوزیشن حکومت تشکیل دے او ر عوام کو پتہ چل جائے کہ حکومت چلانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں پھر اپوزیشن اور عوام خود ہی گڑ گڑا کر معافی مانگیں گے کہ آیئے آپ ہی دوبارہ حکومت فرمایئے اتنی دیر میں وہ پارٹی کو مستحکم کر لیں گے۔
اس کوشش میں انہوں نے پوری ایمانداری سے محنت کی اور اس بات کا مکمل خیال رکھا کہ کہیں کوئی ایسا آدمی نہ کھڑا نہ ہو جائے جو الیکشن جیت کر پارٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرے اور کسی حلقۂ انتخاب میں ایسی سہولتیں فراہم نہ کر دی جائں جس سے عوام خوش ہو کر دوبارہ انہی کو نہ منتخب کرلیں۔ جو کہ سراسر اس نادان غلام کے جیسی حرکت ثابت ہو جاتی جو مالک کی محبت میں مالک کی ناک پر بیٹھنے والی مکھی کو پتھر سے دے مارتا ہے ۔ ایک ایک آدمی کو چن چن کر پارٹی سے الگ کیا۔ ایک ایک حلقۂ انتخاب کو اپنے سے دور کیا تاکہ اپوزیشن جیتے اور پارٹی مستحکم ہو۔

اس بیان کو پڑھنے سے قبل ہم جب بھی راؤ جی کو ٹی وی پر عدالت کے چکر کاٹتے ہوئے دیکھتے اسی عالمِ تصور میں عورتوں کی طرح کوستے " دیکھا اللہ بتایا " لیکن اب ٹی وی پر جب ان کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم جیل جا رہے ہیں اور وہ ہمیں دیکھ کر مسکرا رہے ہیں ۔
ابھی تو ہم طفلِ مکتبِ سیاست ہیں پتہ نہیں اور کیا کیا سیکھنا ہے۔ اگر مکتب سیاست کا نصاب درسِ نظامی کی طرح ہوتا جو دو سو سال سے نہ بدلا ہے نہ بدلے گا توہم بھی ایڈوانس میں پڑھ کر اندازہ لگا لیتے لیکن یہ تو ہیروئن کے کپڑوں کی طرح ہوتا ہے کب کتنی بار بدلے اور کیا کیا منظر دکھائے پتہ نہیں چلتا۔ آج راؤ جی نے یہ بیان دیا ہو سکتا ہے کل کانگریس سے بچھڑ کر دوبارہ ملنے والے حضرات بھی یہی کہ دیں ہمارا پارٹی سے نکالا جانا اور دوبارہ و اپس لیا جانا ہماری پارٹی کا اپنا منصوبہ تھا تاکہ پارٹی کو استحکام بخشا جائے ۔

راؤ جی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف عدالتی کاروائیوں کی رفتار یہ بتا رہی ہے کہ ابھی استحکام میں تاخیر ہے۔ کوئی ایک آدہ کیس ہار بھی جائں تو شا ئد استحکام کے لئے یہ نا گز یر ہونے کی وجہ سے ہاریں ورنہ ذاتی طور پر وہ اتنے خوددار ہیں کہ ہارنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا پھر بھی حب الوطنی اور عوام دوستی کے پیشِ نظر پارٹی کے استحکام کی خاطر ہارنا پڑے تو وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیونکہ کیسس اتنے ہیں کہ ان کے ختم ہوتے ہوتے پارٹی مستحکم ضرور ہو جائے گی۔ ہماری نیک تمنائں کانگریس کے ساتھ ہیں۔
ہم خوش بھی ہیں کہ کانگریس کا ساتھ نہ دیکر جسے ہم ابنی جیت اور خوشی سمجھ رہے ہیں یہی کیفیت ان کو عین مطلوب تھی گویا ہم عملی طور پر کل بھی ان کے معاون تھے آج بھی ثابت ہو گئے اور شائد کا بھی رہیں۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے