Skip to content
 

قصہ ناموں کا

دنیا کی آبادی میں جتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ناموں کی قلت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ کوئی نام پکاریئے چار پانچ آدمی پلٹ کر دیکھتے ہیں۔
پہلے یہ مسئلہ صرف چین میں تھا جس میں ہر گھر میں ایک چیانگ دوسرا چونگ اور تیسری لڑکی چینگ ہوتی تھی۔ کوریا اور تھائی لینڈ سے سارے کِم اور لی کو نکال دیں تو سارا ملک خالی ہو جائے ۔
لیکن اب یہ مسئلہ یورپ تک پھیل گیا ہے۔ ہر بستی میں کئی کئی جان، بوب اور مائیک ہونے لگے ہیں۔ وہاں ناموں کی اس قلت کی وجہ جانور بھی بتائے جاتے ہیں کیونکہ لوگ پالنے سے پہلے ہی نام طئے کر لیتے ہیں۔ اس لئے وہاں اب آپ کسی جان یا ٹام کا پتہ پوچھیں تو الٹا سوال ہوگا :
" یہ آدمی ہے یا کتا "؟

ہند و پاک میں بھی یہی مسئلہ ہے لیکن لوگوں نے کچھ نہ کچھ حل ڈھونڈھ لئے ہیں۔ حیدرآباد میں جہاں ہر بستی میں دو قاسم بھائی ، تین غفور صاحبان ، چار جہانگیر اور تھوک کے حساب سے احمد ، رحیم ، کریم ، انور پاشا ، وغیرہ مل جاتے ہیں ، وہاں نانی ، دادی ، یا پھر محلے کے شریر بزرگوں کی طرف سے دئے گئے القابات کے ذریعے آسانی سے پہچان ہو جاتی ہے جیسے ۔۔۔
گورے وحید میاں ، چھوٹا خالد ، انور تالو ( گنجا ) قاسم پیٹ ( بڑے پیٹ والے )۔

پاکستان میں نوعیت ذرا مختلف ہے۔ وہاں خوبصورت مرکب ناموں کا ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ بعض اوقات محترم ہیں یا محترمہ پتہ ہی نہیں چلتا مثلا شمیم کوثر ، حیات گل ، منور سلیم ، فردوس نعیم ۔
اب عورتوں نے اپنے نام کے ساتھ " خان " لکھنا شر وع کر دیا ہے جس کی وجہ سے پٹھانوں کو یہ دشوار ی پیش آتی ہے کہ تذکیر و تانیث کا فرق کیسے کریں۔ وہ تو یوں بھی قوم کو مذکر کر کے ہمارا قوم اور قسمت کو بھی مذکر کرکے "یہ نہ تھا ہمارا قسمت کہ وصالِ یار ہوتی " کہتے ہیں۔

عربوں میں بھی یہ مسئلہ پایا جاتا ہے جو کہ بعض اوقات بڑا سنگین ہو جاتا ہے اکثر بیٹا بھی محمد ، باپ بھی محمد ، اور دادا بھی محمد ملتے ہیں۔ صالح ، عبداللہ ، فہد ، سلطان وغیرہ تو اِس کثرت سے ملتے ہیں کہ باپ اور خاندان کا بھی نام لینا لازمی ہو جاتا ہے خاص طور پر عورتیں بڑی پریشان رہتی ہیں۔ چونکہ ان کے ہاں شوہر کو بھی ، نام لے کر پکارا جاتا ہے اس لئے جب کسی خاندانی تقریب میں یہ شوہرِ نامدار کو پیار سے یا صالح یا یا عبداللہ کہہ کر پکارتی ہیں تو چار پانچ مرد دوڑ پڑتے ہیں۔
خدا کا شکر ہے ہمارے ہاں عورتیں شوہر کا نام لینے میں شرم محسوس کر تی ہیں ۔ " اجی " " سنئے " وغیرہ سے کام چلاتی ہیں البتہ آج کے ماڈرن زمانے میں جانو ہنی ڈارلنگ وغیرہ زیادہ چلنے لگے ہیں۔ جب کوئی محترمہ جانو کے واؤ کو لمبا کرکے محفل میں بانگ لگاتی ہیں تو اِن کی والدہ محترمہ کا دل باغ باغ ہوجاتا ہے لیکن جانو کی امّاں کا دل یہ سن کر پارہ پارہ ہوجاتا ہے۔ عورتوں میں اب منی ، بی بی، چھوٹی وغیرہ کی جگہ شگفتہ ، کہکشاں ، عنبر گُل افشاں وغیرہ نے لے لی ہے مگر اس میں خامی صرف یہ ہے کہ سننے والوں نے اگر محترمہ کو پہلے دیکھا نہیں تھا تو بڑی حسین خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب سامنا ہوتا ہے تو شگفتہ کی شگفتنی اور کہکشاں کی کہکشانی ایسی بجلی گراتی ہے کہ پھر ساری زندگی خوش فہمیوں سے توبہ کر لیتے ہیں ۔

خیر یہ سارا مسئلہ تو خاندانی اور محلہ واری تھا۔ اب اس مسئلے کے جو سیاسی ، قومی اور بین الاقوامی طور پر اثرات پڑنے لگے ہیں ۔ ان کا اندازہ شہاب الدین صاحب کے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اب تک زیادہ سے زیادہ محلے کے پولیس تھانوں تک یہ غلطی محدود تھی کہ ایک مجرم کے ہم نامی کو پکڑ لاتے حتٰی کہ جرم بھی قبول کر والیتے لیکن اب تو صحافی اور لیڈر بھی اس مسئلے کا شکار ہو چکے ہیں ۔ جب خبر آئی کہ بہار کے شہاب الدین نامی لیڈر گرفتار ہوئے تو اخبارات نے خبر کے نیچے جس شہاب الدین کی بھی تصویر میسر آئی چھاپ دی۔ جتنے دوسرے شہاب الدین تھے ان کے گھروں پر فون اور ملاقاتیوں کا تانتا سا لگ گیا۔ جدہ کے اردو نیوز ڈیلی کو جناب سید شہاب الدین ایم پی کی تصویر ہاتھ آئی اور اِنہوں نے وہی شائع کردی ۔ جتنے دوسرے شہا ب الدین تھے اُنہوں نے حفظِ ما تقدم کے طور پر اپنی اپنی نیک نامی کے جلسوں اور جلوسوں کا اعلان کردیا۔ اور مختلف تنظیموں کی طرف سے اپنے نام ایوارڈ جاری کروائے۔

ہمیں پتہ نہیں بنگلہ دیش میں اس مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں ۔ وہاں تو اس کثر ت سے عبد السلام اور نذر الاسلام ہیں کہ ایک کے نام وارنٹ نکلے تو پچاس گرفتار ہوجائیں۔

سعودی عرب آکر تھوڑی سی صورتِ حال بدلی ہے اب القابات کی جگہ لوگوں نے اپنے شیخوں کو اپنی "کنیت " بنا لیا ہے جس سے عام نام ہونے کے باوجود پہچان آسان ہو گئی ہے۔ جیسے " انور زاہد ٹریکٹر " " کریم جفالی " " اطہر سعودیہ " اور "غوث العیسائی"۔

بہر حال ناموں کی بڑھتی ہوئی قلت کی وجہ سے ہمیں ابنِ انشاء کے مشورے میں معقولیت نظر آر ہی ہے وہ یہ کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہ ہو فیملی پلاننگ سختی سے نافذ کی جائے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے