Skip to content
 

ہم بھی وہیں موجود تھے۔۔۔۔ قصہّ ایک مشاعرے کا

واللہ مزا آگیا۔
جی چاہ رہا ہیکہ آپ کو مشاعرے کی داستان سے پہلے مشاعرہ گاہ کی داستان سنا یئں۔ سیٹوں کا انتظام دیکھ کر کئی سال بعد یاقوت محل اور ضیا ء ٹاکیز کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ البتہ پیچھے والے ذرا بہتر کرشنا ٹاکیز کا مزا لے رہے تھے۔تالیوں کی گونج تو تھی لیکن سیٹیوں کی کمی تھی۔ ایک بھی سیٹی سننے کو نہیں ملی۔ وہ مدھر شوخ اور چنچل سیٹیاں مارنے والے جانے کدھر چلے گئے ۔ شکلوں سے پہچانے تو جا رہے تھے لیکن شائد VIP کارڈ نے ان کے منہ بند کر دیئے تھے۔کئی ایک نے شائد شادیاں کر لی ہیں۔ کوئی بڑی بحر کے ساتھ تھا تو کوی چھوٹی بحر کے ساتھ کوئی آزاد نظم کے ساتھ تو کوی سہلِ ممتنع کے ساتھ اور کئی کے ساتھ قطعات اور مطلعے بھی تھے اسلیے شرافت کا تقاضہ تھا کہ کوی سیٹی نہ مارے۔
کرسیاں اسقدر گتّھم گتّھا اسٹایئل میں جمائی گئی تھیں کہ پاوں رکھنے کی بھی گنجائش نہیں تھی ۔ لوگ کرسی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھنے پر مجبور تھے بازو والے سے بات کرو توآگے یا پیچھے تشریف فرما محترمہ سے سرگوشی کا گماں ہوتا تھا اسلیے لوگ سیٹی تو درکنار واہ واہ بھی احتیاط سے کرنے پر مجبور تھے۔ اکثر وزن سے خارج بیگمات نے جنکے وسیع و عریض رقبے کا احاطہ کرنے کے لئے دو کرسیاں بھی ناکافی تھیں بمشکل اپنے آپ کو ایک کرسی پر ڈھیر کیا ہوا تھاجنکو عبور کرنے کے لیے کئی حضرات کو کینگرو کی طرح پھدکنا پڑرہا تھا یا پھر لومڑی کیطرح پھلانگنا پڑرہا تھا۔کئی مولوی حضرات بھی مشاعرہ گاہ میں موجود تھے جو برقعے کے احکامات میں پوشیدہ حکمتوں پر مسلسل غور فرمارہے تھے۔
ڈھانکے کفن نے سارے عیوبِ برہنگی
ورنہ میں ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

کچھ مرد حضرات اپنی بے ہنگم توندوں کو سوٹ اور جیکٹ میں ڈھانک رہے تھے بے چاروں کی مجبوری قابلِ فہم تھی کیونکہ عورت کی توند تو عارضی ہوتی ہے ایک نقطۂ عروج پر پہنچ کر اتر بھی جاتی ہے اور نتیجہ بھی نکلتا ہے لیکن مردوں کی کم بخت توند سالہا سال گامزن بہ عروج رہتی ہے نتیجہ تو کو ئی نہیں نکلتا بس ایک بار جو بڑھنا شروع ہوتی ہے اترنے کا نام ہی نہیں لیتی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ اسلیے لوگ اسے چھپانے کوٹ کے کونے بار بار کھینچ کر آگے کررہے تھے۔

کچھ شیروانیاں بھی نظر آئیں جنہیں دیکھ کر خوشی ہوئی کیونکہ ان حضرات نے انتہائی شریف اور غیر سیاسی ہوتے ہوئے بھی شیروانیاں زیب تن کی ہوی تھیں۔ اب یہ پتہ نہیں کہ انہوں نے مشاعروں کی تہذیب کو رونق بخشنے شیروانی زیب تن کی تھی یا برسوں میں کبھی کبھار کام آنے والی اپنی شادی کی اکلوتی شیروانی کو رونق بخشنے ۔

گرمی اور حبس اتنے عروج پر تھے کہ جسم پر ململ کا کرتا پاجامہ بھی بارِگراں تھا لیکن کچھ لوگوں کا ٹائی سوٹ میں ذوقِ خوش لباسی موسم سے بے نیاز تھا۔ ہماری اور انگریزوں کی تہذیب کا یہ سنگم بھی بڑا عجیب ہیکہ ہم گرمیوں میں ایک دوسرے کے لباس کا تبادلہ کر لیتے ہیں وہاں گرمی حد سے بڑھے تو وہ ہمارے لباس اختیار کر لیتے ہیں اور یہاں گرمی حد سے بڑھے تو ہم ان کے سوٹ اختیار کرلیتے ہیں۔ تہذیبوں کا یہ باہمی تبادلہ اعلٰی ظرفی کی نشانی ہے۔ اس ذوقِ خوش پوشی کو دیکھ کر منتظمینِ مشاعرہ کو بھی یہ اطمینان ہو جاتا ہیکہ VIP کارڈ غلط ہاتھوں میں نہیں گیا ہے اور پیچھے بیٹھنے والے تھرڈ کلاس سامعین کو بھی اْن کی اوقات معلوم ہوجاتی ہے جو شرٹ پتلون یا توپ یا شلوار قمیص میں منہ اْٹھائے چلے آتے ہیں گویا کسی مارننگ شو میں آرہے ہیں۔

مشاعرے کے دعوت نامے بے حد شاندار تھے خواتین اِن سے پنکھوں کا کام لے رہی تھیں۔ سارے میک اپ کا بیڑہ غرق ہورہا تھا۔
ہم مشاعرہ گاہ پہنچے گیٹ کے اندر نظر دوڑائی۔ اندر فری چائے اور سموسوں کے اسٹال پر راشن کی دکان کی طرح بھیڑ تھی۔ ہم نے بھی تیزی سے قدم بڑھائے حالانکہ ہم گھر سے پیٹ بھر کھا کر نکلے تھے لیکن پتہ نہیں کیوں مفت کا مال دیکھتے ہی ہم سب کے منہ میں پانی آجاتا ہے اور اس دوڑ میں بلا لحاظِ ٹائی سوٹ توپ یا شیروانی سبھی شامل ہوجاتے ہیں۔ اکثر حرم میں بھی یہ منظر ہم نے دیکھا کہ رمضان میں سامنے افطاری کا ڈھیر ہوتا ہے لیکن پھر بھی کوئی کھجور بانٹتا ہوا سامنے آجائے تو لوگ آگے بڑھ کر دو چار کھجور ضرور کھینچ لیتے ہیں۔ خیر تو ہم تیزی سے گیٹ کی طرف بڑھے۔ گیٹ مین نے کارڈ دیکھا اور بڑی حقارت سے پیچھے کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وی آی پی گیٹ ہے۔
ہماری دل آزاری تو ہوئی لیکن ہم نے یہ کہہ کر دل کو تسلّی دی کہ اسقدر گرمی میں چائے پینا تو حماقت ہے اور ہم نے اپنی شانِ خودداری کو اکھٹاّ کیا اور آگے بڑھے اور ایسا کونا ڈھونڈھا جہاں کم سے کم ٹھوکروں کے امکانات تھے۔

اسٹیج اسقدر خوبصورت تھا کہ دیکھ کر ساری کلفت دور ہوگئی۔مشاعرے کی کامیابی کا اندازہ ہمیں اْسی وقت ہوگیا جب مشاعرہ ٹھیک ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا ورنہ اردو مشاعروں میں ایک گھنٹہ بعد تو اسٹیج پر تھوڑی سی ہلچل ہوتی ہے اور ایک صاحب نمودار ہوکر اعلان فرماتے ہیں کہ حضرات شعراء کرام اور مہمانِ خصوصی بس پہنچنے ہی والے ہیں۔ ٹھیک نو بجے مشاعرے کا آغاز ہوا ۔ ایمیسی کے ایک ذمہ دار آفیسر نے مہمان "شعراوں اور شاعراتوں" کا تعارف کروایا گیا اور ایک ایک کرکے شعراء اسٹیج پر آنے لگے کچھ لائے گئے۔ بعض شعراء عمر اور صحت کے لحاظ سے اس حالت میں تھے کہ ان کو سننا بڑے ثواب کا کام لگ رہا تھا۔ شعراء کا انتخاب کوٹہ سسٹم کے تحت کیا گیا تھا لیکن کرکٹ کیطرح ریاستی بنیادوں پر یا ہاکی طرح سردارجیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ تیس تا چالیس سال کے ایک ۔ چالیس تا پچاس کے دو تین، پچاس تا ساٹھ کے تین چار اور اسی طرح نوّے سو کے پیٹھے سے ایک دو شعراء کو بلایا گیا تھا۔ ایک" شاعرات" تھیں کیونکہ وقت انہوں نے پوری شاعرات کا لیا تھا اور جیسا گاہک ویسی پڑیا کے مصداق سامعین کی دلچسپی کی انہوں نے ہر چیز سنائی یعنے غزل گیت دوہے وغیرہ۔ گیت دوہے وغیرہ شاعرانہ تہذیب تو نہیں لیکن مشاعرانہ تہذیب بن چکے ہیں ان کو بند کرنے کے لیے پہلے ہمیں جمیل الدّین عالی کو بند کرنا پڑے گا۔ البتّہ محترمہ نے نہ پلّو ڈھلکایا نہ اوڑھنی گرائی انتہائی مہذّبانہ داد وصول کی جس پر وہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔

مشاعرے کی کامیابی کا ہمیں اس وقت یقین ہوچکا تھا جب ناظمِ مشاعرہ نے اپنے گلے کے آپریشن کی وجہ سے زیادہ بولنے سے معذرت کرلی ورنہ وہ ہر شعر کی شرح پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں ایک شاعر نے اپنی گرجدار نظم میں پورے ہندوستان کو للکارتے ہوے مسلمانوں کے احسانات گنوائے۔ ہر بڑے قائد رہنما سائنسداں شاعر ادیب کرکٹر و میچ فکسچر اور فلم اسٹار کے نام وہ اپنی نظم میں لے آئے لیکن صرف ایک خاتون کا نام شامل کیا جسکی وجہ سے خواتین کو بہت افسوس ہوا دلیپ کمار اور نوشاد کا نام آسکتا ہے تو مدھوبالا اور مینا کماری کا کیوں نہیں آسکتا؟ اور نئی نسل میں دیا مرزا اور سوہا علی خان جس شاندار پیمانے پر ہڑپہ اور منجودھارو کی تہذیب کو زندہ کر کے ملک و قوم کا نام بلند کر رہی ہیں ان کا نام شامل نہ کرنا زیادتی ہے ان کا نام اس لیے بھی اہم ہے کہ ہند و پاک دوستی کو آگے بڑھانے میں انکا بڑا ہاتھ ہے۔ کسی بھی پاکستانی بھائی کے گھر یا گاڑی کی تلاشی لیجیے آپ کو انہی کے ویڈیو سی ڈی اور آڈیو برآمد ہوں گے۔

آزاد شاعری کی بھی ہمّت افزائی کی گئی۔
اب وہ دن دور نہیں جب یہ ترنّم سے بھی پڑھی جائیں گی۔ ایک شاعر نے طویل آزاد نظم سنائی ۔ ہمیں یاد نہیں وہ نظم کیا تھی لیکن اتنا یاد ہے کہ وہ گھر کے سامانوں کی طویل فہرست پیش کر رہے تھے۔پابند شاعری میں ردیف قافیے خوامخواہ بڑی جگہ گھیر لیتے ہیں ان کی جگہ گھر کے کئی سامان آتے ہیں جیسے میز کرسیاں رضائیاں چمچے پتیلیاں ہانڈیاں وغیرہ۔ اور شاعر نے بہت خوبصورتی سے ان ساری چیزوں کو جما دیا تھا ویسے نظم کا مرکزی خیال بہت اچّھا تھا۔

حیدرآباد کی کھٹّی شاعری بھی تھی۔ کھٹاس کبھی باسی نہیں ہوتی شائد اسی لیے بیس بیس سال سے وہی لطیفے وہی اشعار جو کئی سامعین کو بھی زبانی یاد ہو گئے ہیں وہی سنائے جارہے ہیں کیا حیدرآباد نئی تخلیقات کے لیے واقعی بانجھ ہوچکا ہے؟

ہمیں مشاعرہ اس لیے بھی اچّھا لگا کہ اس بار حالاتِ حاضرہ پر چیخ چیخ کر داد و فریاد گفتار و للکار کرنے والے شعراء کوئی نہیں تھے۔ حالاتِ حاضرہ پر کہی جانے والی شاعری ہمیں اْس گْلگلے کی طرح لگتی ہے جو جب تک گرم ہو اچّھا لگتا ہے اس کے بعد وہ ربڑ کا ٹکڑا لگتا ہے۔

بہرحال منتظمینِ مشاعرہ مبارکباد کے مستحق ہیں اس بار انہوں نے پاکستانی سامعین پر سے قد غن ہٹا کر انہوں نے تہذیبی فراخدلی کا ثبوت دیا اور یہ ایک خوش آئند علامت ہے۔ مشاعرہ نہ ناکام رہا نہ بہت زیادہ کامیاب رہا لیکن سی جی صاحب اور ان کے رفقا کی کوشش اور خلوص کامیاب رہے جس پر انہیں مبارکباد نہ دینا اپنے آپ سے بھی اور اردو کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے