Skip to content
 

قحط الرجال

قحط ا لرِّجال
پہلے ہم اسے دانشوروں کا تکیہ کلام سمجھتے تھے۔

جس طرح میکانک حضرات جب اصل خرابی تک پہنچ نہیں پاتے تو " مینو فیکچرنگ ڈیفیکٹ " کہکر جان چھڑا لیتے ہیں اسی طرح ہمارے قائدین اور دانشور حضرات بھی جب مسائل کا صحیح حل سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں تو قحط الرجال کہکر قوم کو مطمئن کر دیتے ہیں تا کہ وہ انہی حضرات کو غنیمت جان کر ان کے جلسوں کو کامیاب بنائیں ۔
شائد یہی وجہ ہیکہ اکثر جماعتوں ، اداروں ، مدرسوں ، اور سلسلوں کی باگ ڈور جن کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں وہ سارے "تاحیات صدر" ہوتے ہیں۔ اور جب جانشینی کا سوال آتا ہے تو دور دور تک کوئی قابل نہیں ملتا سوائے انہی کی اولادوں اور دامادوں یا زیادہ سے زیادہ بھانجوں بھتیجوں کے۔ بہر حال لوگوں کے ذہنوں میں جب تک قحط الرجال کا یقین خوب اچھی طرح نہ بٹھایا جائے وہ انکے جانشینوں کو قبول نہیں کرتے چاہے وہ کتنے ہی نالائق کیوں نہ ہوں۔ خیر یہ تو پھر بھی بہت غنیمت ہے کہ ہمارے ہا ں قحط الرجال دور کرنے پھر بھی رجال مل ہی جاتے ہیں۔ لالو پرساد یادو کی مجبوری کا اندازہ لگایئے کہ کہ قحط الرجال کو دو ر کرنے انہیں اپنی بیو ی کو آگے لانا پڑا ۔ جس بیچاری نے زندگی میں سوائے بچے پالنے اور دودھ دوہنے کے علاوہ کچھ سیکھا ہی نہیں تھا۔

ممتا بنرجی ہوں کہ جئے للیتا، بے نظیر ہوں کہ حسینہ واجد ان کے نام کی سرخیاں خو د یہ اعلان کر رہی ہیں کہ قحط الرجال ہے اور وہ بھی ایسا کہ انگریزوں کے زمانے والابنگال کا قحط بھی اس قحط کے سامنے کچھ نہیں ۔مگر پھربھی ہمیں یقین نہیںآ یاکہ واقعی کوئ قحط الرجا ل ہے۔ ہم اسکی تصدیق کیلیئے نکل پڑے۔ بے شمار جلسے اورسمیناربھگتے، انتہائی دلچسپ موضوعات پر مبنی سیاسی، ادبی، علمی و مذہبی جلسوں کے اشتہارات نے ہمارے اشتیاق کو بھڑکایا۔
جلسہ گاہوں میں کئی ٹائی سوٹ اور شیروانیوں کو دیکھ کرہم بیحد متاثر ہوئے۔ پھر جلسے کے شاندار بینر کے نیچے قطار میں ان مقررین اور منتظمین کی اخبارات میں تصویریں دیکھ کر ہمیں ڈھارس بندھی کہ کوئی قحط الرجال نہیں ہے۔ اشتہا ر بازی، اسٹیج بازی اور اسکے بعد اخبار بازی کوئ معمولی کام تو نہیں ۔ جوبھی اس ہنر میں ماہر ہوں ا نکے ہوتے ہوئے قحط الرجال کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو اس بات سے اختلاف ہو تو ذر ا اپنی تصویر اخبار میں چھپواکر بتا دیں۔ ہمارے ہاں تو اخبار میں کسی کا بیان یا تصویر شائع ہونا اس شخص کا ایک عظیم کا رنا مہ تصور کیا جاتا ہے اور خود موصوف اپنے بیان اور تصویر کو اتنی مرتبہ دیکھتے ہیں جتنی مرتبہ تو دلہا اپنی نئی نویلی دلہن کو بھی نہیں دیکھتا۔

ایک مرتبہ شہر میں فسادات کی و جہ سے کرفیو نافذ تھا۔ دو تین روزبعدجب کجھ گھنٹوں کیلئے کرفیو اٹھایا گیا تو اتفاق سے ہماری ملاقات ایک بزرگ قائد سے ہوگئی ۔ ہم انکی طرف لپکے کہ تازہ صورتِ حال دریافت کریں ۔لیکن انکی نظرجونہی ہم پرپڑی ،ہم سے پہلے وہ گویا ہوے اور پوچھا " میاں آج کے اخبار میں میرا بیان پڑھا؟"
ہم سٹپٹا گئے ۔ہم نے اخبار توبغوردیکھا تھا لیکن ا ن کا بیان کہیں نظر سے نہیں گزرا تھا۔ خیرہم نے اندازے پرتیرچلایا کہ ان حالات میں یقینا انہوں نے کوئی زبردست احتجاجی بیان ہی دیا ہوگا۔ ہم نے اثبات میں گرمجوشی سے سر ہلاتے ہوے کہا کہ:
" ہاں ، آ پ کا دلیرانہ بیان پڑھ کر تو مبا رکباد دینے کو جی چاہتا ہے "
اچانک انکی آنکھوں سے شوقِ خود ستائی رخصت ہوئیاو ر یکلخت بے نیازی چھا گئی ۔ فرمایا کہ" خیر یہ توکچھ بھی نہیں، اخبار والوں کی بزدلی کی وجہ سے پورا بیان شائع نہیں ہوا ورنہ دھوم مچ جاتی"۔ ہم نے بعد میں گھر جاکردیکھا۔ واقعی ان کا ایک مختصر سا بیان موجودتھا۔ لیکن تیسرے یا چوتھے صفحے پر، ایک انتقالِ پُر ملال کی خبر کے اوپر۔

ایسے قائدین سے مل کر قحط الرجال پر کُچھ یقین آنے لگتا ہے۔ یہی ایک تنہا قوم کے مخلص خدمت گزار لگتے ہیں۔ کسی بھی دوسری اہم شخصیت کے بارے میں ان سے ذرا پوچھ کر دیکھئے یہ ہر ہر شخص اور ہر ہر ادارے اور جماعت کا آپ کے سامنے کچا چٹھا بیان کر دینگے۔ ایسے ایسے راز افشأ کرینگے کہ قحط الرجال پر آپ کو مکمل یقین آجائیگا۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ کچھ اہم حضرات سے قحط الرجال کی تصدیق کروائیں ۔ ہماری تمنّا تھی کہ کوئی تو سمجھدار ایسا ملے جو اپنے علاوہ بھی کسی کو اپنے شعبے میں قابل سمجھے۔ کوئی تو یہ کہے کہ :
"نہیں، یہ دشمن کی پھیلائی ہوئی افواہ ہے ۔ الحمدللہ ہمارے ہاں کوئی قحط الرجال نہیں، ایک سے اعلیٰ ایک ہیرا قوم میں موجود ہے جنکے سامنے میں تو کچھ بھی نہیں۔"

سب سے پہلے ہم نے ایک سیاسی جماعت کے قائد سے گفتگو کی۔ یہ جماعت اگرچیکہ شہرکے قدیم حصہ پرمحیط ہے لیکن کل ہند ہے۔ ہند وپاک کی ہر جماعت چاہے اسکا اکلوتا آفس پرانے شہر کی کسی پتلی سی گلی میں ہی کیوں نہ ہو اسکے بوسیدہ دروازے کے اوپر" کل ہند " یا "کل پاکستان "کا ہی بورڈ لگا ہوتا ہے۔ صرف اسمبلی یاپارلیمنٹ کیلے ہی نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ ، ورلڈ ہیومن رائٹس ، آئی ایم ایف وررابطۂ عالم اسلامی کیلئے بھی ساری اہم ہدایات واحکامات یہیں سے جاری ہوتے ہیں۔ یہ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں۔ ان کی حرکتوں یا تقریروں سے سیاست کا اندازہ ہویا نہ ہو، یہ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ یہ عبادت کو کیا سمجھتے ہیں۔ جو ان کا خیال رکھ سکے اسے ہمخیال سمجھتے ہیں جو ان سے اختلاف کرے وہ ان کی دانست میں یا تو حکومت کا ایجنٹ ہے یا پھرصیہونی وامریکی ایجنٹ۔

خیر صاحب ہم نے موصوف سے پوچھا کہ کیا قحط الرجال کی خبر واقعی صحیح ہے ؟
انھوں نے بھاری بھر کم آواز میں پہلے تو تعوذ و تسمیہ پڑھا پھر سلام کے بعد فرمایا کہ" قحط الرجال ہے۔ قحط الرجال ہی قحط الرجال ہے۔ ہم نے قوم کی ترقی کیلئے اتنی بڑی جماعت کھڑی کر رکھی ہے لیکن کوئی پڑھا لکھا اسمیں شریک ہونا نہیں چاہتا ۔سب دور سے مشورے دینا چاہتے ہیں ۔
ہم نے ادباً کہا کہ :
سب کے ساتھ معاشی مجبوریاں ہوتی ہیں ۔ بفضلِ خدا آپکی پارٹی کو لاکھوں کی نہیں بلکہ کروڑوں کی آمدنی ہے آپ افراد پر کچھ خرچ کریں تو آپکو بھی دوسری جماعتوں کی طرح نہ صرف پڑھے لکھے دانشورمل سکتے ہیں ، بلکہ بڑے بڑے فلم اسٹار ،کرکٹر، ریٹائرڈکمشنر ، صحافی اور سفیروغیرہ سبھی مل سکتے ہیں ۔ یہی سب کچھ تودوسری جماعتیں بھی کر رہی ہیں ۔ وہ ہم پر برس پڑے ۔گویا ہم کوئی اپوزیشن ہیں ۔ ظاہر ہے ساری زندگی اپوزیشن میں بیٹھتے بیٹھتے کبھی تو انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ حکمران ہو اور اپوزیشن پر گرجے ۔ وہ ہم پر گرجنے لگے :
" نمازمیں لقمہ دینے کیلئے پہلے جماعت میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ پہلے آپ فی سبیل اللہ جماعت میں شامل ہو جائیے اور پھر مشور ے د یجیئے ، خداحافظ "۔

انہیں شائدعلم نہیں کہ اگرجماعت کاقبلہ ہی غلط رخ ہوتو توجہ دلانے کیلئے فقہ کے مطابق ، جماعت میں شامل ہونا تو درکنار مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا۔

اپوزیشن کے ہاتھ مضبوط کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ جوں ہی اپوزیشن پارٹی حکومت میں آجائے یہ لوگ سابق حکمراں جماعت کے ساتھ مل کرنئی اپوزیشن کی راہ ہموارکرنے میں جٹ جاتے ہیں۔اور پوری قوم کو اپوزیشن پر ڈٹے رہنے میں ایمان و عقیدے کی سلامتی کا درس دیتے رہتے ہیں ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ساری قوم اتنی پکی اپوزیشن بن چکی ہے کہ اگر کبھی حکمران جماعتیں تھک ہارکران سے کسی بات پر اتفاق بھی کرلے تو یہ اپنے آپ سے مخالفت پر اتر آئنگے۔

ہم نے ایک مذہبی رہنما کو فون کیا۔ پہلے تو انہوں نے ہمارے مسلک و جماعت کے بارے میں استفسار فرمایا۔جب ہم نے انہیں یقین دلایا کہ ہمارا کسی مسلک یا جماعت سے تعلق نہیں ہے تو فرمایا کہ ہاں واقعی زبردست قحط الرجال ہے۔لوگ دین سے دور ہو چکے ہیں جب تک لوگ صحیح مسلک ( یعنی ان کا مسلک ) سے نہ جڑیں اور علماءِ حق ( یعنی وہ علماء جنکا تعلق انکے مسلک سے ہے ) کی پیروی نہ کریں قحط الرجال دورنہیں کیا جا سکتا۔

پھرہم نے ایک دانشورسے گفتگو کرنے کی ٹھانی۔ ان حضرات کے پاس دانش ہو یا نہ ہو پی ایچ ڈی کی ڈگری ضرور ہوتی ہے ۔ جدید تعلیمی ترقی نے دانشور کو پی ایچ ڈی سے مربوط و مشروط سا کر دیا ہے۔ چلئے اچھا ہی ہوا ورنہ دانشوری کی تعریف متعین کرنے اہلِ علم کے درمیان برسہا برس سے ویسی ہی جنگ اور تکفیر بازی رہی ہے جیسے فاتحہ کے مسئلے پر اہلِ مذہب کے درمیان۔
دانشوروں کے پاس قوم کے ہرمسئلے کا تجزیہ بھی ہوتا ہے اور اسکا حل بھی۔ پوچھیئے تو بتا دینگے کہ میرے ایم فِل کے مقالے کاصفحہ نمبر فلاں پڑھ لیجیئے۔ کہنے لگے :
"ہم کو دانشور کہہ کہ آپ لوگ چنے کے درخت پر چڑھا دیتے ہیں۔ ہم اپنی عمرِعزیز صرف کرکے کتابیں اور مقالے لکھتے ہیں،اپنی محنت کی کمائی ان کی چھپوائی پر لُٹا دیتے ہیں تاکہ اس قوم کو کوئی رہنمائی ملے، یہ بد احساس قوم انڈین فلمیں تو پیسے خرچ کرکے خریدتی ہے لیکن ہماری کتاب اگر مفت بھی دیں تو اسے پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ کوئی اپنی زبان ، تہذیب اور امت کی بقا کیلئے ایک کتاب خرید کر پڑھنے کا روادار نہیں قحط الرجال کا اِس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہئے؟۔

لیڈرہوں کہ مولوی صاحبان ہوں یا کہ دانشورحضرات، قحط الرجال دور کرنے کیلئے سب کے پاس ایک ہی فارمولہ ہے جسکو ہم" چاہیئے " فارمولہ سے تعبیر ر سکتے ہیں ۔ ان تمام کے فرمودات کو اگر آپ ایک جملے میں سمیٹنا چاہیں تو وہ جملہ ایک لفظ " چاہئیے " پر ختم ہوتا ہے جیسے
1)۔ ہمکوتعلیمی میدان میں آگے آنا چاہیئے۔
2) ۔ سیاسی شعوربیدارہونا چاہیئے ۔
3)۔ اتحادپیدا ہونا چاہیئے ۔
4) وغیرہ وغیرہ پیدا ہونا چاہیئے ۔

ایک ایک گھنٹہ طویل تقریر یا کئی کئی صفحات پر مشتمل مقالات سے سامعین کو زبردست متاثر کرنے کے بعد جب یہ حضرات حل کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں تو " چاہیئے چاہیئے "کا ریکارڈ ہمارے ذہنوں میں پہلے ہی بجنے لگتا ہے ۔ہم ان "چاہئے برادران" سے بڑے تنگ ہیں۔ جگہ جگہ ، موقع بے موقع یہ اپنی قائدانہ اور دانشورانہ مشوروں سے بور کرتے ہیں۔ یہ اپنے طور پر think tank ہوتے ہیں اور ہم جیسے صبر سے سننے والے گویا ان کے ورکر ہیں ۔

جس نے اس " چاہیئے " کو سب سے پہلے دریافت کیا وہ ایک چوہا تھا۔
جی ہاں چوہا۔
جس نے بلی کے بڑھتے ہوئے جبر و استبداد، قتل و غارتگری کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائ تھی۔ بلی پوری امریکہ بن چکی تھی جس نے چھوٹے چھوٹے ملکوں پر آزادی حرام کر رکھی تھی۔ و ہ طاقت کے زور پردندناتے پھرتی ، کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کرپاتا۔بڑے بڑے چوہے بھی بے بس ہو چکے تھے۔ اپنی اپنی بِلوں پر حکمرانی کے باوجود بلی کو بوقتِ حکم اپنی جانوں کا نذرانہ دینے پر مجبور تھے۔ وہ جس وقت جس پر ہاتھ ڈالنا چاہتی دبوچ لیتی۔ ایسے نازک وقت میں اس بوڑھے مگر ذہین چوہے نے اپنے تجربے اور بصیرت کا ثبوت دیا ۔ چوہوں کواکٹھا کرکے پہلے اس نے ان کے سامنے حالات کی سنگینی رکھی یعنی Current affairs گفتگو کی۔ پھر سب کو ہمت ، دلیری و اتحاد سے کام لیتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کی بھرپورشعلہ بیانی کے ساتھ تلقین کی۔ سامعین نے اس کی خوب پذیرائی کی ۔ کسی نے اسکے زبردست جراءتِ اظہار پر تالی پیٹی۔
کوئی اسکے منفرد ، اچھوتے اظہارِ بیان ، اسلوبِ زبان اور ایمان پرور اشعار کا دیوانہ ہو گیا ۔ جن کی سمجھ میں کچھ نہ آ یا وہ زند ہ با د کے نعرے لگانے لگے ۔ جب سماں بندھ گیا تو مقر ر نے فرمایا کہ:
" حل صرف یہ ہیکہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ دی جانی چاہیئے" ۔
بس پھرکیا تھا۔ سامعین بوڑھے چوہے کی ذہانت اور تجربے کا لوہا مان گئے ۔ یہ ایک ایسا حل تھا جو آج تک نہ کسی دانشور کے ذہن میں آیا تھا نہ آسکتا ہے۔ زبردست تالیوں کی گونج میں جلسے کا اختتام ہوا ۔ مقررین اور سامعین نے اپنا اپنا حق اداکر دیا ۔سب نے سکون کی سانس لی۔ اس حل پر سب ہی مطمئن تھے۔ بوڑھا چوہا اپنی اس تقریر پر پھولا نہیں سما رہا تھا ۔ لیکن پھر بھی انکساری سے اپنے قریبی رفیقوں سے داد طلب نظروں سے رازداری میں پوچھ رہا تھا "میری تقریر کیسی تھی؟ میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا؟ آپ میر ی اصلاح ضرور فرمایئے " ۔
حالانکہ وہ تعریف سننے کیلئے بے چین تھا۔

صدیاں گزر گئں۔ اس چوہے کے ہزاروں جانشین پیدا ہوئے اور ہوتے رہینگے۔ اسی گھنٹی کے فارمولے کے ذریعہ ووٹ ، چندے ، اور اپنی دیگر دوکانیں چلاتے رہینگے۔ اسی کی بنیاد پر ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں عطا ہوتی رہینگی اورلوگ خطابات و تمغوں سے نوازے جاتے رہیں گے۔ جو یہ سوال اٹھائے گا کہ :
" آخر بلی کے گلے میں گھنٹی کیسے باندھی جا سکتی ہے، کون باندھے گا "
اسکا انجام یہ ہوگا کہ اپنے ہی حلقوں میں اسے قدامت پسند، فائر برانڈ، باغی یا پھر حُجّتی کہاجائیگا، ہمیشہ اسکو سامعین میں ہی بٹھایاجائیگا۔ یاپھر وہ ٹاڈا ، پوٹا ، یا سی آ ئی اے کے ہتھے چڑھے گایا پھر کسی اردواخبار میں جگہ پانے کیلئے مالکان و ایڈیٹرانِ اخبار کے آگے منت سماجت کرتے کرتے مر جائیگا اور مرنے کے بعد اسکے تعزیتی جلسوں سے پتہ چلے گا کہ وہ اپنے عہد کا ایک بہت بڑادانشور،عبقری ،شاعر، مفکر اورریفارمر تھا۔

ہم نے ا س چاہیئے برادری کا منہ بند کرنے کیلیئے ایک ترکیب ڈھونڈ ہی لی۔
جس پر عمل کرنے کے بعد ہم کو قحط الرجال کا یقین آ ہی گیا۔اب جب بھی کوئی ہمارے سامنے" یہ ہونا چاہیئے یاوہ کرنا چاہیئے " کا حل پیش کرتا ہے ہم اسکی زبردست تائید کرتے ہیں۔اُسکی ذہانت کی پہلے تو خوب تعریف کرتے ہیں او ر فوری حساب لگا کربتا دیتے ہیں کہ" جناب ، اِس چاہیئے پر عمل درآمد کرنے کیلئے اتنے پیسے او ر اتنے افراد درکار ہیں۔ آپ پیسوں کا بندوبست کر دیجئے افراد ہم مہیا کر ینگے، یا کم از کم آپ آدھے پیسوں کا انتظام کردیجیئے باقی ہم سنبھال لیں گے "۔
یہ سننے کے ساتھ ہی انکے چہرے کا رنگ اُ ڑ جاتا ہے۔ جوش و خروش کی جگہ ٹھنڈی آہیں اور بے چارگی چھا جاتی ہے۔ ایسے منہ ڈال دیتے ہیں جیسے بکر ا ذبح ہونے کے بعد سر ڈھلکاتا ہے۔ وہ" انشاء اللہ ضرور ضرور کریں گے" کہکر مصافحہ کر کے نکل جاتے ہیں اور دوسری بار اگر نظر آتے ہیں تو دور سے سلام اور جلدی میں ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے بعد میں ملنے کا اشارہ کر کے راستہ کاٹ جاتے ہیں۔آپ بھی یہ فارمولہ آزمایئے ۔آ پ کو بھی راستوں ، دیوان خانوں اور جلسوں میں ان "چاہیئے برادران " کی بکواس سے نجات مل جائیگی ۔

خیر صاحب ہم جس جس سے قحط الرجال کی بابت دریافت کرتے رہے ہر شخص اپنے دائرۂ کار کے مطابق گواہی دیتا رہا ۔ شاعروں اور ادیبوں نے کہا کہ ہم خونِ جگر سے تخلیق کرتے ہیں اور ہماری غزلیں گاکر قوّال اور غزل گو کماتے ہیں، ہم منہ تکتے رہتے ہیں ۔ساہتیہ اکیڈمی والوں نے کہا اگر قحط الرجال نہ ہوتا تو ایوارڈ دینے کے لئے ہمیں اپنے من پسند افراد کو کیوں ڈھونڈنا پڑتا؟ مشاعروں اور جلسوں کی صدارتوں کیلئے مالداروں کو کیوں مدعو کرنا پڑتا؟۔خدمت خلق کی انجمنوں کے صدور نے کہا کہ قوم کی خدمت کیلئے ہمارے پاس بے شمارمنصوبے ہیں لیکن اپنی جیبوں سے مال نکالنے والا کوئی نہیں ۔جو مال آتا ہے اسمیں ہماراہی گھر نہیں چلتاانجمن کیا چلے گی؟۔ہم نے پوچھا , آپکاگھر چلنے کتنا درکارہے ، ؟ انہوں نے انتہائ خود داری اورجذبہ قلندرانہ سے فرمایا " بس گھر تعمیر ہوجائے ، مستقل آمدنی کا ایک ذریعہ پیدا ہو جائے ، بچے امریکہ،لندن یا سعودی چلے جائیں بس۔۔۔"۔مسجدکے مولوی صاحب نے کہا کہ قحط الرجال ہے بھی اورنہیں بھی۔کل تک جس گھرسے ایک آدمی مسجدآتاتھااب پانچ پانچ آتے ہیں لیکن کل بھی اگر وہ دس روپئے چندہ دیتے تھے آج بھی وہی دیتے ہیں۔ ان کے گھروں کی توسیع تو ہوچکی لیکن مسجدیں تنگ پڑرہی ہیں کوئی جیب سے پیسہ نکالنے تیار نہیں ۔ نئی آبادیوں میں مسلمانوں کے بے شمار پلاٹ تو ملتے ہیں دور دور تک کوئی مسجد نہیں ملتی۔

ہم نے مناسب سمجھا کہ خواتین سے بھی قحط الرجال کی تصدیق کریں۔ ان کے پاس قحط الرجال کی تصدیق کیلئے زبردست دلیل تھی۔ کہنے لگیں " مردوں کا واقعی زبردست قحط ہے اسی لئے دلہوں کو خریدناپڑتاہے ۔ ڈاکٹر پانچ لاکھ میں ، انجینٴر چار لاکھ میں ، گریجویٹ یا سرکاری ملازم ایک یا دو لاکھ میں ۔ حتٰی کہ رکشے کھینچنے والا بھی پانچ ہزار سے کم میں نہیں ملتا۔ شرم دلاؤ تو پُوچھتا ہے اگر میں ڈاکٹر ہوتاتوکیا آپ خوشی سے مجھ پر پانچ لاکھ نہیں خرچتے؟ اگر ایک ڈاکٹر مرد ہے تو کیا میں مر د نہیں ہوں؟۔ اس طرح قحط مردوں کا ہی نہیں مردانگی کا بھی ہے اسلئے مردانگی حسن کی طرح بکتی ہے۔
خواتین سے مل کر ہمیں " قحط الجمال " کا بھی اندازہ ہوا۔ کہاں وہ جمال جسے دیکھ کر زبان پر قدرت کی شان تخلیق پر حمد جاری ہو جاتی تھی اور کہاں یہ حسن کہ دیکھتے ہی بیوٹی پارلر کی تعریف کرنے پر آدمی مجبور ہو جائے۔ زلفیں، گال ، بھنویں ، آنکھیں ، ہونٹ ، ایک ایک عضو کو دیکھ کر لگتا تھا کہ خالقِ حسنِ کائنات نے اس پیکر ِ حسن کو اپنے ہاتھوں سے سوچ سوچ کر بنایا ہے لیکن اب یہ ہے کہ ہر ہر عضو کا ایک الگ بیوٹی ایکسپرٹ ہے۔

قحط الرجال کے غم میں پوری رات جاگتے گزر گئی اور فجر کی اذان ہوگئی۔ہم نے اُس دن فجرپڑھ لینے کاقصدکیا۔ مسجد میں دو تین مصلّیوں نے ہمیں دیکھ کر ایک دوسرے کی طرف حیرانی سے دیکھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ ایک ہمیں کاہل ہیں لیکن سارا محلّہ فجر پڑھتا ہوگا۔ وہاں دوتین ہزار افراد کے محلے کے بیچوں بیچ مسجد میں چند وظیفہ یاب بزرگوں اور چند بیروزگارنوجوانوں پر مشتمل ایک دیڑھ صف دیکھ کر خیال آیا کہ قحط الرجال اصل میں مسجد سے شروع ہوا ہے۔ مسجد کے لاوڈاسپیکر د ن میں پانچ پانچ مرتبہ قحط الرجال کی لاؤڈ اسپیکروں پر تصدیق کر رہے ہیں جسے ہم غلطی سے موذن کی اذاں سمجھتے ہیں۔۔۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے