Skip to content
 

پاشو بھائی اور کُٹّی صاحب

لوگ کہتے ہیں کہ چاند اور ماؤنٹ ایورسٹ پر جب پہلی بار امریکیوں نے قدم رکھا تو کٹی صاحب وہاں پہلے سے موجود تھے اور چائے خانہ چلا رہے تھے۔
اسلیئے ہمیں اِس دعویٰ پر بھی حیرت نہیں کہ حضرتِ آدم اور بی بی حوّا بھی پہلے کیرالا ہی میں تشریف لائے۔یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے وہ عرب میں ہی تشریف لائے لیکن اِقامہ اور رخصہ وغیرہ کے مسائل سے ڈر کر کیرالا چلے گئے۔ البتہ یہ تحقیق ہنوز باقی ہے کہ وہ پہلے کٹی صاحب کے ہا ں ٹھہرے یا کویا صاحب کے ہاں۔

دنیا میں جہاں بھی جایئے کٹی صاحبان وہاں پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں۔ جہاں یہ نہیں پائے جاتے وہاں بقول کسی کے :
”حکومت اپنے خرچے پر اِنہیں رکھوا دیتی ہے کہ اِن کے بغیر یہ جگہ اچھی نہیں لگ رہی ہے“۔
جو قد اور وزن پاسپورٹ پر لکھوا کر لاتے ہیں دس پندرہ سال بعد جب واپس جاتے ہیں تو وہی قد اور وزن ہوتا ہے۔ کسی ملک کا ایک کلو کا بھی احسان نہیں اٹھاتے جبکہ پاشو بھائی دو تین سال میں ہی جب پہلی بار چھٹّی جاتے ہیں تو ان سے پہلے ان کی توند امیگریشن میں داخل ہوتی ہے۔

پاشو بھائی بھی کٹی صاحب سے پیچھے نہیں یہ بھی دنیا کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں۔ پاشو بھائی بھلے کٹی صاحب کی طرح محنت نہ کرتے ہوں لیکن ان سے زیادہ مصروف نظر آتے ہیں۔مصروف نظر آنے کے لیئے جتنی محنت لگتی ہے اگر آدمی اِس سے تھوڑی سی بھی کم کر لے تو واقعی مصروفیت ہاتھ لگ سکتی ہے۔ ہم دوبئی امریکہ یورپ جہاں بھی گئے بے شمار پاشو بھائی اور کٹّی صاحبان ملے۔ ان میں نوّے فیصد سالے یا بہنوئی تھے اور باقی دس فیصد اپنے سالے یا بہنوائی کیلئے ویزا خریدنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ ۔ سالوں کی دونوں کے پاس بڑی اہمیت ہوتی ہے شائد اسلئیے کہ
سالے سمجھے تو ساتھ دیتے ہیں
سالے پلٹے تو ہاتھ دیتے ہیں

ہمیں دونوں حضرات بے حد پسند ہیں۔ کٹی صاحب کے پاس طویل گفتگو کیلئے وقت نہیں ہوتا اور پاشو بھائی کے پاس مختصر بات کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔
جتنی دیر میں پاشو بھائی ایک چائے میں دو کر کے ایک دوسرے کو سارے محلّے کی خبریں سنائیں گے اتنی دیر میں کٹی صاحب دس چائے سپلائی کر کے دس ریال کما چکے ہوں گے۔ ہم اخبارات خرید کر پیسے ضائع کرنے کے بجائے اکثر پاشو بھائی اسٹریٹ چلے جاتے ہیں سعودی عرب میں اسکو ”شارع غیبت“ بھی کہتے ہیں ہر شہر میں یہ پائی جاتی ہے۔ حتٰی کہ شکاگو میں بھی۔ ہم کو وہاں ملکی، بین الاقوامی سبھی خبریں تبصروں کے ساتھ سننے کو مل جاتی ہیں بلکہ خود اپنے بارے میں بھی زیادہ تر خبریں ہم کو یہیں سے ملتی ہیں۔

سنا ہے لڑائی میں 555 پینترے ہوتے ہیں ۔ پہلا پینترا ہے مخالف کو للکار دو چاہے بعد میں پِٹ جاؤ۔
اور آخری پینترا ہے بھاگ لو۔
پاشو بھائی پہلے پینترے کے استاد ہیں اور کٹی صاحب آخری پینترے کے۔ یہ بھی سنا ہے کہ کیرالا میں شرح خواندگی یعنی literacy rate سو فیصد ہے لیکن کٹی صاحب اتنے منکسرالمزاج ہوتے ہیں کہ literacy کا پتہ نہ انکی صورت سے چلتا ہے نہ حالت سے۔ جبکہ پاشو بھائی کی صورت سے خواندگی کئی سو فیصد ٹپکتی ہے بشرطیکہ یہ اپنا منہ نہ کھولیں۔ ورنہ شرح خواندگی کم اور شرح خاوندگی زیادہ جھلکنے لگتی ہے۔ کٹی صاحب زیادہ تر فیملی کے بغیر رہتے ہیں اسلئے نڈر اور بے باک ہوتے ہیں کوئی کام کرتے نہیں شرماتے۔

پاشو بھائی کو تاریخ پسند ہے اور کٹی صاحب کو جغرافیہ ۔
کٹی صاحب سے پو چھیئے انڈیا کہاں ہے تو کہیں گے کیرالا میں۔ اور پاشو بھائی سے پوچھئیے حیدرآباد کہاں ہے تو کہیں گے نظام سرکار میں۔ پاشو بھائی کا پسندیدہ موضوع یہ ہوتا ہے کہ ان کے آباء و اجداد کیا تھے اور کٹی صاحب اپنی اولاد اور پوتا نواسی کیا بنیں گے اسمیں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دونوں مذہب پسند ہوتے ہیں خدا انکی ہابی میں داخل ہے اسلئیے کمپنی کے اکاونٹ میں پڑھی جانے والی نمازوں میں شریک رہتے ہیں۔ پاشو بھائی کے نزدیک غلط کام اگر دوسرے کر رہے ہوں تو غلط ہے لیکن اگر وہ خود کر رہے ہوں تو صحیح ہے۔کٹی صاحب صحیح یا غلط کی بحث میں نہیں پڑتے ان کے نزدیک جب تک پکڑے نہ جاؤ ہر کام صحیح ہے۔

کہتے ہیں کہ عمر کا اندازہ شکل و صورت سے نہیں حرکتوں سے لگایا جاتا ہے۔اِس لحاظ سے پاشو بھائی بڑھاپے میں بھی جوان ہی رہتے ہیں لڑکپن سے چلی آرہی زنانے میں تاک جھانک کی عادتیں اِنہیں کبھی ضعیف ہونے نہیں دیتیں۔ کٹی صاحب جب تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوجاتے نہ یہ زنانے کی طرف دیکھتے ہیں نہ زنانہ انکی طرف دیکھتا ہے۔ اسلئے یہ کب جوان رہے کب بوڑھے ہوے پتہ ہی نہیں چلتا۔جوانی میں بھی واجپائی واجپائی لگتے ہیں۔ کٹی صاحب ایک بار کی ہوئی غلطی دوبارہ نہیں کرتے لیکن پاشو بھائی مستقل مزاج ہوتے ہیں۔جو غلطی ایک بار کی اُسے نہیں چھوڑتے۔ ساری عمر دوہراتے ہیں۔شائد اسی لیئے ہم نے اکثر پاشوبھائی کو دو دو شادیاں کرتے دیکھا ہے۔ جو دو شادیاں نہیں کرتے ان کو ہم نے دوسری شادی کے موضوع پر مذاق مذاق میں چھیڑتے دیکھا ہے۔ لیکن جونہی بیوی گھور کر دیکھے چپ ہوجاتے ہیں۔
ایک بار ایسے ہی ایک پاشو بھائی نے ہم سے کہا کہ : ہمارے لیئے دوسری شادی کی دعا کیجیئے۔
ہم نے کہا بھائی کس نے کہا کہ اِسکا تعلق دعا سے ہے؟ اسکا تعلق ہمت اور حوصلے سے ہے۔ دعا کا وقت تو بعد میں خود بخود آجاتا ہے۔ بلکہ اس کے بعد تو بندے کیلئے صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ تاوقتیکہ وہ کوئی شیردل مرد نہ ہو۔

پاشو بھائی کے پاس پیسے زیادہ ہوں تو بچّے کی سالگرہ کرڈالیں گے لیکن کٹی صاحب کے پاس پیسے آجائیں تو وہ فکس ڈپازٹ یا انشورنس خریدیں گے۔ کسی اچھی بلڈنگ کو دیکھ کر پاشو بھائی یہ سوچتے ہیں کہ میں اسکا مالک کیوں نہیں۔ اور کٹی صاحب یہ سوچتے ہیں کہ اِسے خریدنے کیلیئے اور کتنے سال کی محنت درکار ہوگی؟
اسیلیئے جہا ں دو چار کٹی صاحبان جمع ہوں وہ محفل Wall Street Journal ہوجاتی ہے۔ اورجہاں دو چار پاشو بھائی جمع ہونگے وہ جگہ یا تو دارالسلام یا پارلیمنٹ یا ورلڈ فقہ کونسل میں تبدیل ہوجائیگی، جہاں ایک مسئلہ حل ہونے تک دوسرے کئی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ ہر بندہ مسلسل قطع کلامی کرتے ہوئے یوں مخاطب کرتاہے گویا پورے عالمِ اسلام کومخاطب کر رہا ہو۔ یہ لوگ جتنا عالمی مسائل پر غور کرتے ہیں اگر اِس سے تھوڑا سا کم اپنے خاندان یا محلّے پرغور کرلیں تو پورے عالمِ اسلام کی صورتِ حال بدل سکتی ہے۔

کٹی صاحب کی دوستی ہر اس شخص سے ہوسکتی ہے جو ہم زبان ہو لیکن پاشو بھائی صرف اُسی سے دوستی کرتے ہیں جو ان کا ہم خیال ہو یعنے جو ان کی ”ہم“ کا ”خیال “ رکھے ۔ اسلیئے کٹی صاحبان نئی نئی آرگنائزیشن بنانے میں آگے ہیں اور پاشو بھائی آرگنائزیشنس چھوڑنے ۔ اتحاد و اتفاق کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا سکتے ہیں ۔۔۔ سر دوسروں کا اور دھڑ اپنا۔
کئی کئی کٹی صاحبان مل کر ایک آرگنائزیشن چلاتے ہیں جبکہ ایک پاشو بھائی کئی کئی آرگنائزیشنس چلاتے ہیں۔ اکثر پاشو بھائی کی تنظیمیں بنتے ہی ٹوٹ جاتی ہیں ۔ نائب صدر اور جنرل سکرٹری صاحبان الگ ہوکر اپنی الگ تنظیم کا اعلان کرڈالتے ہیں اسلئے کچھ دیڑھ ہوشیار پاشو بھائی اکیلے تنظیمیں چلا لیتے ہیں۔
ہم نے ایک بار پاشو بھائی سے پوچھا ”آپ قوم کو کیا دے سکتے ہیں ؟“
کہنے لگے ”ہم قوم کو مشورے دے سکتے ہیں “۔
لیکن سارے پاشو بھائی ایسے نہیں ہوتے۔ یہ صرف %99 لوگوں کی وجہ سے باقی سارے پاشو بھائی بدنام ہوجاتے ہیں۔

دونوں انگریزی بولنے پر آتے ہیں تو انگریزوں کو بھی مات کرڈالتے ہیں لیکن کٹی صاحب کی انگریزی سمجھنے کیلیئے انگریزوں کو پہلے ملیالی سیکھنا لازمی ہے۔ جبکہ پاشو بھائی کی انگریزی اردو کا ترجمہ ہوتی ہے۔ ویسے کٹی صاحب جب انگریزی میں غصّہ کرتے ہیں ہمیں بڑا اچھا لگتاہے۔ دونوں کے مزاج اور رکھ رکھاؤ میں وہی فرق ہے جو دھوتی اور کرتے پاجامے میں ہے۔ شیروانی یا کرتے پاجامے میں آ رام سے جس پہلو چاہے بیٹھیئے اٹھیئے جس کروٹ چاہے لیٹیئے کوئی خطرہ نہیں اسلیئے پاشو بھائی چار سو سال سے آرام ہی آرام کررہے ہیں صبح کی دعوت دیجیئے آرام سے دوپہر تک پہنچیں گے۔
کٹی صاحب کی چستی اور پھرتی کا راز انکی دھوتی یا لنگی ہے اِسے دیکھ کر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ پہنی جا رہی ہے یا اتاری جا رہی ہے۔اِسے پہن کر بیٹھنے اٹھنے یا لیٹنے میں آدمی کو اتنا چوکس رہنا پڑتا ہے کہ اگر دھوتی فِٹ نہ ہوی تو سامنے والے پر فِٹس پڑ سکتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ڈارون نے اپنا مقالہ کیرالا میں ہی لکھا تھا۔ ویسے دھوتی پہننے میں ذرا مشکل ہے لیکن اتارنے میں بڑی آسان۔ شائد اسی لیئے امریکہ میں مقیم کٹی صاحبان نے بل کلنٹن کو دھوتی کا تحفہ پیش کیا تھا۔ نہرو نے کہا تھا کہ کشمیر ہندوستان کا سر ہے دہلی اسکی پیشانی اور حیدرآباد اسکا دل ہے۔ اس لحاظ سے کیرالا جس مقام پر آتا ہے وہ ایک جغرافیائی مجبوری ہے۔ اس میں ہنسنے کی کوئی بات نہیں البتہ نہرو صاحب کو اِسطرح نہیں کہنا چاہیے تھا۔

پاشو بھائی اور کٹی صاحب کی طرح پاشو بھابھی اور مسز کٹی بھی شاندار شخصیات کی حامل خواتین ہوتی ہیں۔ ۔ پاشو بھابھی اسکوٹر پر بھی اِس ناز سے بیٹھتی ہیں جیسے کار میں بیٹھ رہی ہوں اور مسز کٹی کار میں بھی اسطرح قدم رکھتی ہیں جیسے اسکوٹر سے اتر رہی ہوں۔ دونوں کو بچّوں سے بہت محبت ہے۔ فرق یہ ہیکہ جب تک کہ مسز کٹی اگلے بچے کی پلاننگ کر رہی ہوتی ہیں پاشو بھابھی دو تین بچّوں کا اضافہ کر چکی ہوتی ہیں۔ کٹی صاحب زیادہ بچّوں سے ڈرتے ہیں اور پاشو بھائی کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اپنی ساس کی بچّی کے۔

دوکاندار پاشو بھابھی کو دیکھ کر قیمت دُگنی بتاتے ہیں اور مسز کٹی کو تین گنی ۔ اسکے باوجود دونوں محترمائیں اصل قیمت سے بھی کچھ کم کروا کر چھوڑتی ہیں۔یہ ہر چیز چکا کر خریدنے میں ماہر ہیں صرف دولہوں کو نہیں چکا سکتیں۔
کیونکہ کٹی صاحب کے استری دھن یعنے جوڑا جہیز کے Rates وہاں fixed ہوتے ہیں۔ انٹر ایک لاکھ، گریجویٹ دو لاکھ اور انجینیئر چار لاکھ۔ فریج ، ٹی وی ، پلنگ بستر علحدہ۔
پاشو بھائی انتہائی خوددار واقع ہوئے ہیں یہ جوڑے جہیز کے مخالف ہیں کوئی جہیز نہیں لیتے بلکہ صاف کہتے ہیں جوڑا جہیز مانگنا حرام ہے۔ البتہ رشتہ صرف اّس جگہ بھیجتے ہیں جہاں خوشی سے دیا جائے۔ یہ صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیئے جو بھی دینا ہو اپنی بیٹی کو دے دیجیے ۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے