Skip to content
 

پچاس ریال میں انقلاب چاہئے

میرا بیٹا ابھی چار پانچ سال کا ہے۔ بہت پیاری پیاری باتیں کرتا ہے۔ بہت اچھے اچھے مشورے دیتا ہے۔ بڑا اچھا لگتا ہے۔ کہتا ہے :
"ابو اپن لوگ ایک جہاز خرید لینا پھر سب مل کر کہیں بھی جاسکتے"
کبھی ٹی وی پر جنگ یا فساد کی تصویریں دیکھتاہے تو کہتا ہے :
"ابّو اپن لوگ سوپر مین بن جانا پھر سارے بدمعاشوں کو ختم کردے سکتے"۔۔
وہ بڑا انقلابی ہے۔ ہر وقت انقلابی باتیں کرتا رہتا ہے۔ اسے نہیں پتہ کہ خواب دیکھنا کتنا آسان ہے لیکن ان خوابوں کی تعبیر لانا کتنا مشکل ہے۔

بالکل اسی طرح ہمارے دوست بھی ہیں۔ بڑی پیاری پیاری باتیں کرتے ہیں۔ بڑا اچھا لگتاہے جب وہ بھی اچھے اچھے مشورے دیتے ہیں۔انہیں بھی یہ پتہ نہیں کہ مشورے دینا کتنا آسان ہے لیکن خود کام کرنا کتنا مشکل ہے۔
کوئی صاحب بھرپور دانشورانہ انداز میں ایسے جیسے سننے والا ایک بیوقوف ورکر ہے فرماتے ہیں "علیم صاب، ہم کو سب سے پہلے متحد ھونا چاہئے، علما اور جماعتوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہئے۔"
ایک صاحب پورے انقلابی جوش سے فرماتے ہیں "علیم صاب، تمام مسلمانوں کو ایک سیاسی پارٹی بنا کر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں پر قبضہ کرنا چاہئے" گویا سارے سیاستدان بیوقوف ہیں۔
ایک صاحب بڑے گلوگیر لہجے میں پوری متانت سے نصیحت آمیز جو کچھ کچھ حقارت آمیز بھی ہوتے ہیں مشورے دیتے ہیں کہ "علیم صاب، دراصل یہ سب ایمان کی کمزوری ہے جس کی وجہ سے ہم لوگ ہر محاذ پر ذلیل ھورہے ہیں۔ ہم کو تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔"
ایک صاحب تو مشورہ نہیں بلکہ ڈائرکٹ آرڈرکرتے ہیں کہ "علیم صاب، یہ سب بے کار کام چھوڑیئے اور ایجوکیشن پر محنت کیجئے۔ جب تک قوم میں بڑے صحافی ،کمشنر اور کلکٹر پیدا نہیں ہونگے ہم لوگ ترقی نہیں کرسکتے۔ "
اور کوئی صاحب طنزیہ فرماتے ہیں "علیم صاب، مسلمان لڑکیاں غیرمسلموں سے شادیاں کر رہی ہیں، سود کی لعنت بڑھتی جارھی ہے، شادیوں میں اسراف بڑھتاجارھا ہے یہ سب چھوڑ کر آپ کیا مشاعرے کرتے پھر رہے ہیں، یہ سب چھوڑیئے اور سماج سدھار کا کام کیجئے۔"

اور اگر خدانخواستہ ہزار بار خدانخواستہ آپ نے کبھی ان کے مشوروں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کسی کام کا آغاز کردیا اور ان سے کچھ مالی مدد یا کسی میٹنگ میں آنے کی درخواست کی تو اب ان کا رویّہ دیکھیئے۔

کسی صاحب کو اپنے تیسرے پلاٹ یا چوتھے فلیٹ کی پےمنٹ کرنی ہے، یا بیٹی کی شادی کیلئے پندرہ لاکھہ ناکافی ہیں مزید کی ضرورت ہے اسلئے وہ پچاس ریال سے زیادہ نہیں دے سکتے۔ ۔جہاں تک میٹنگ یا جلسے میں آنے کا تعلق ہے کوئی صاحب مصروفیات کی اتنی طویل تفصیل بتانا شروع کرتے ہیں گویا وہی ایک مصروف ترین آدمی ہیں اور باقی سارے مچھلیاں پکڑ رہے ہیں مسجد کے مولوی کی طرح سوائے نماز پڑھانے اور جلسے کرنے کے آپ کے پاس اور کوئی کام نہیں ہے۔ سیدھے سیدھے یہ نہیں کہتے کہ میٹنگ میں نہیں آسکتے، لمبی تفصیل سنا کر بور کرنا شائد ضروری ہوتا ہے۔
کسی صاحب کو میٹنگ میں آنے والے دوسرے چند افراد سے سخت الرجی ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی میٹنگ میں آنے والے دوسرے حضرات اور اسٹیج پر بیٹھنے والے حضرات کے شجرہ نسب اور نامۂ اعمال سے جب تک مطمئن نہ ہوں میٹنگ میں آنا قوم کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ سیدھے سیدھے یہ نہیں کہتے کہ بیوی کا موڈ خراب ھونے کا اندیشہ ہے اسلئے نہیں آسکتے، الٹی سیدھی تاویلیں پیش کر کے وقت خراب کرتے ہیں۔
کسی صاحب کو عین جس وقت ان کی ضرورت ہو اسی وقت عمرہ یا مدینہ جانا یاد آتا ہے۔

کچھ لوگوں کا مسئلہ یہ ہیکہ وہ پہلے سے ہی کسی سیاسی پارٹی کے چمچے ہیں تو کسی دینی جماعت کے کارکن ہیں، کسی انجمن سے وابستہ ہیں تو کسی شخصیت سے بےحد متاثر ہیں۔ مشورے تو یہ بھی خوب دیتے ہیں لیکن جب کسی کام کا بیڑہ اٹھانے کا وقت آتا ہے تو جب تک ان کے لیڈر، امیر یا مرشد حکم نہ دیں اس وقت تک یہ آپ کو صرف زبانی تعریفوں پر ٹرخاتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کا نظریہ یہ ہوتا ہیکہ کام تو صرف وہی کام ہے جو ہمارے لیڈر یا ہماری جماعت کر رہی ہے، باقی سارے کام نماز جنازہ کی طرح فرض کفایہ ہیں محلّہ کا ایک بھی آدمی ادا کرلے تو کافی ہے سب کی طرف سے ادا ہو جاتا ہے۔

کوئی اللہ کا بندہ مل کر یہ نہیں کہتا کہ "علیم بھائی، میں یہ یہ کرنا چاہتا ہوں آپ میری اس کام یہ یہ مدد کیجئے"۔
بلکہ ڈائرکٹ یہ حکم فرماتا ہے کہ "آپ یہ کیجئے اور وہ کیجئے"۔
میں ایسے لوگوں کو فوری حساب کر کے بتا دیتاہوں کہ ان کے اس زرّین مشورے پر عمل آوری کیلئے کتنے پیسے اور کتنا وقت درکار ہوگا۔ پھر ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ کتنا مال اور کتنا وقت دینے تیار ہیں تو پھر ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ پھر بعد میں ملنے کا گرمجوشی سے وعدہ کر کے رخصت ہوجاتے ہیں اور پھر کبھی صورت نہیں دکھاتے۔ ایسے لوگوں کو چپ کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔

کچھ صاحبان کام تو نہیں کرسکتے البتہ ہماری تقریر اور تحریر کی غلطیوں کی اصلاح ہمارے پیچھے کرتے پھرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ہم کو فلاں بات یوں نہیں یوں کہنی چاہئے تھی ۔ فلاں جملہ یوں نہیں بلکہ یوں لکھنا چاہئے تھا۔ وغیرہ۔ ایسا بھی نہیں کہ اگر ہم اپنی ہر تقریر یا تحریر پیش کرنے سے پہلے ان کو بتاکر اجازت لے لیا کریں تو وہ کوئی کام کرینگے۔ بس مفت کی خیرخواہی اور وقت گزاری ان کا مقصد ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کی یہ معذرت ہوتی ہیکہ :
"بھائی معاف کرنا مجھے اردو نہیں آتی ، تقریر نہیں آتی وغیرہ۔ یہ کام تو جماعتوں اور لیڈروں کا ہے مجھے تو اسکا کوئی تجربہ نہیں، میں کیسے کر سکتا ہوں۔"
مجھے حیرت اسلئے ہوتی ہیکہ سعودی عرب یا دوبئی آنے سے پہلے تو انہوں نے نہیں سوچا کہ مجھے باہر جاکر کمانے کا تو کوئی تجربہ ہی نہیں میں کیسے نوکری کر سکتا ہوں۔ شادی کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ مجھے بچے پیدا کرنے کا تو پہلے سے کوئی تجربہ ہی نہیں میں شادی کیسے کر سکتا ہوں۔ لیکن قوم کیلئے کسی بھی فلاحی، دینی، اصلاحی یا ادبی کام کیلئے پتہ نہیں پہلے سے تجربہ ہونا ان کیلئے شرطِ ایمان کیوں ہو جاتا ہے۔

پچھلے ہفتے میں نے ایک سو دوستوں کی فہرست بنائی اور ایک چھوٹا سا کام دیا ۔ وہ کوئی ایسا کام نہیں تھا کہ جس سے کوئی بڑا انقلاب آجاتا۔ لیکن کسی بھی انقلاب کی تیاری کیلئے دوستوں کو چھوٹے چھوٹے ہوم ورک دے کر ان کو متحرک رکھنا ضروری ہوتاہے۔ یہ تربیت اور آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ صرف یہ دیکھنے کیلئے کہ بڑے بڑے ٹاسک لینے کیلئے پہلے چھوٹے چھوٹے ٹاسک میں کون ساتھ دے سکتاہے۔ خیر تو جناب کام کچھ نہیں تھا صرف یہ کرنا تھا کہ انٹرنیٹ پر ایک آدھہ گھنٹہ بیٹھہ کر کچھ انفارمیشن جمع کرنی تھی۔
صرف پانچ دوستوں نے مثبت جواب دیئے اور کچھ انفارمیشن فوری عنایت فرمائی۔
کچھ نے کام تو نہیں کیا لیکن بہترین مشوروں سے نوازا ۔ مشورے بھی ایسے کہ جسمیں نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری۔ مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا جو کئی ایسے خیرخواہوں پر فٹ ہوتا ہے۔

ایک عورت نے بھگوان سے منّت مانی کہ اگر اسکا کام ہوجائے تو وہ چٹکیوں کا ہار پہناے گی۔ بھگوان تجسّس میں پڑ گئے کہ یہ چٹکیوں کا ہار کیا ہوتا ہے، سونے چاندی کے ہار تو انہوں نے دیکھے تھے یہ نیا ہار کیا ہوتا ہے وہ سوچ میں پڑگئے۔ خیر تو اس عورت کی مراد پوری ہوئی، اس نے آکر بھگوان کے گلے کے آگے پیچھے ہاتھ گھماتے ہوئے چٹکیاں بجانی شروع کیا اور اسیطرح ہوائی چٹکیوں کےکئی ہار پہنائے۔

ہمارے اکثر دوست اسیطرح چٹکیوں کے ہار پہناتے ہیں۔ ہمارے ہر کام کی تعریف کرکے ہمیں عہد حاضر کا عظیم دانشور، لیڈر، مفکر، ادیب، شاعر وغیرہ وغیرہ کے خطابات و القابات سے نوازتے ہیں لیکن جب بات کام کی آتی ہے تو ہماری ان کی نظر میں کتنی وقعت ہے پتہ چل ہی جاتاہے۔ یہ تو ہم اپنے اوپر ڈال کر خوامخواہ خود ستائشی کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہیکہ یہ منافقت ہر اس شخص کے ساتھہ ہوتی ہے جو کچھ عملی اقدام کی دعوت دیتاہے۔

خیر پیارے پیارے مشورے یہ تھے کہ ۔۔۔۔۔
ایک صاحب نے فرمایا "آپ یہ کیجیئے کہ ٹی وی پر جو ڈیبیٹ ہوتے ہیں آپ اسمیں جاکر یہ ٹاپک اٹھایئے"
ایک صاحب نے فرمایا کہ"ہمارے ایک قائد کی شاندار سی ڈی اسی موضوع پر ہے، ایک گھنٹے کی یہ سی ڈی آپ سب کو بھیج دیجئے"
ایک صاحب نے فرمایا کہ "ان کے اس موضوع پرلکھے گئے کئی مضامین ہیں ان کو شائع کرکے بانٹ دیجیئے۔ "
ایک صاحب نے ایک چٹکی کی دیر میں ہمارا کام کر دیا۔ کہا کہ "گوگل سرچ پر جایئے پوری انفارمیشن مل جائیگی۔"
کیا انہیں یہ پتہ نہیں کہ گوگل پر ایک معمولی سی انفارمیشن بھی لینی ہو تو کم سے کم ایک گھنٹہ تو لگ ہی جاتا ہے۔

ایک صاحب نے فرمایا "علیم صاب، آپ ایسا کیوں نہیں کرتے گوگل یا یاھو پر اپنا ایک گروپ کھولئے، یا اپنا ایک بلاگ بنائے، لوگ دھڑادھڑ آپ کو انفارمیشن پاس کرنا شروع کرینگے" ۔ حالانکہ ہم نے یہ کام بھی پہلے سے کر رکھا ہے لیکن پھر بھی انہیں کچھ متحرک کرنے کی غرض سے ہم نے درخواست کی کہ کیا آپ تھوڑی سی زحمت گوارا کر کے ایک گروپ یا بلاگ کھول کر دے سکتے ہیں"
انہوں نے معذرت کی کہ "ساری، مجھے بالکل تجربہ نہیں ہے لیکن یہ اتنا مشکل بھی نہیں ، آپ پانچ منٹ میں یہ کام کر لے سکتے ہیں"۔
مطلب یہ کہ میں کچھ نہیں کرنگا آپ خود کرلیجئے۔

اور ایک صاحب نے فرمایا کہ "یہ سب فضول کام ہیں، آخرت کی فکر کیجئے، اپنی نمازوں کو سنواریئے، تجوید اور عربی پر محنت کیجئے"
گویا پیدائشی عربی اور تجوید لے کر پیدا ہونے والے سارے عرب بھائی صراط مستقیم پا چکے ہیں بس ایک بھٹکے ہوئے ہم ہی رہ گئے ہیں۔
خیرآدھا آدھا گھنٹہ ہمارا ضائع کر کے مشورے دینے والے یہ حضرات بھی چار پانچ ہی تھے، ہم ان کے پھر بھی شکر گزار ہیں کہ ان لوگوں نے کچھ تو کیا۔ لیکن باقی حضرات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی نے نہ جواب دینا مناسب سمجھا، نہ مشورہ۔

کچھ نے سوچا یہ تو بہت چھوٹا کام ہے، میں تو بڑے بڑے کام کرنے کیلئے پیدا کیاگیا ہوں۔ چھوٹے چھوٹے کام میری شان کے خلاف ہیں۔
کچھ نے سوچا کہ اگر کسی مخبر کو پتہ چل گیا تو امیج خراب ہو جائیگا۔ کیونکہ مسلمانوں کا کسی بھی اجتماعیت سے جڑنا دہشت گردی، ملک دشمنی، فرسودگی، قدامت پسندی، بنیاد پرستی اور فرقہ پرستی ہے۔ اس احساس کمتری کی وجہ سے کئی نے شائد جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔
کچھ لوگ تو خیر تعلیم یافتہ ہیں قوم کے لئے ایسے چھوٹے چھوٹے کام انہیں سوٹ نہیں کرتے۔ ایسے لوگ ریٹائر ہونے اور بڑھاپے کی بیماریاں شروع ہونے تک کچھ نہیں کرتے۔
کچھ لوگوں نے یہ سوچا ہوگا کہ یہ چھوٹا سا کام تو سب نے ہی کیا ہوگا اگر میں ایک نہ کروں تو کونسی قیامت آجائیگی۔

دوستو۔ مختصر یہ کہ آپ کی قوم سماجی، معاشی، اخلاقی، سیاسی اور دینی طور پر ذلیل سے ذلیل تر ہوتی جا رہی ہے۔ جو لوگ بہترین تبصرے، تقاریر، مضمون بازی، اور جوش دکھانے میں ماہر ہیں۔ اگر ان کے خلوص اور سچائی کو پرکھنا ہو تو یہ دیکھنا پہلی شرط ہیکہ وہ اپنے جیب سے مال کتنا نکالتے ہیں اور دوسرے یہ کہ وقت کتنا نکالتے ہیں۔ انقلاب چل کر آپ کے دیوان خانے پر نہیں آئیگا اور نہ آکر یہ کہے گا کہ حضور جیسا آپ چاہتے تھے ویسا ہی انقلاب آچکا ہے اب آپ آکر مہاتما گاندھی یا قائد اعظم کی طرح قیادت سنبھالئے۔
انقلاب کیلئے آپ کو ہہت معمولی سا سپاہی بنکر، چاہے ذاتی زندگی میں آپ بہت بڑی چیز کیوں نہ ہوں، کام کرنا ہوگا۔

جو آدمی پیسہ اور وقت دونوں خرچ کئے بغیر قوم کی ہمدردی میں جو کچھ فرماتا ہے وہ بکواس اور منافقت کے علاوہ کچھ نہیں۔ جو لوگ گجرات، فلسطین، کشمیر، افغانستان، سماجی بگاڑ، مسالک کی جنگ، وغیرہ وغیرہ پر بغیر کچھ جیب سے خرچ کئے، اور بغیر وقت دیئے بڑی بڑی گفتگو فرماتے ہیں یہ لوگ اپنا بھی اور دوسروں کا بھی وقت برباد کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کا دائرہ انقلاب صرف دیوان خانے یا ریسٹورنٹ ہوتے ہیں۔

سیرت پڑھئے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک اسلامی ریاست کے قیام میں مصروف ہیں، جنگوں اور غزوات کو کمانڈ بھی کررہے ہیں، ایک بڑھیا کے گھر کی صفائی کیلئے بھی وقت نکال رہے ہیں۔ یہ محض خدمت خلق کی ایک مثال نہیں ہے، یہ مثال اسلئے ہے کہ عوامی ربط اور عوام کے مسائل سمجھنے اور ان کو حل کرنے کیلئے اگر قائد کے پاس وقت نہ ہو، کوئی کام چاہے کسی کے گھر کی صفائی کرنی ہو چاہے تلوار لے کر میدان میں اترنا ہو، اگر قائد ہر کام کو اہم کام نہ سمجھے تو کوئی عوامی انقلاب نہیں آتا۔
اور یہی کام خلفاء کرام نے بھی کیا۔ خلیفۃ المومنین ایک طرف ایران، مصر وغیرہ پر چڑھائی بھی کررہے ہیں دوسری طرف ایک نابینا صحابی کی بکری کا دودھ بھی دوہ رہے ہیں جنکی گزر اوقات اسی دودھ پر ہوتی ہے۔

اب جو منیجر صاحب یا بزنس مین صاحب بچاس ریال دے کر انقلاب لانا چاہتےہیں۔ لیکن چھوٹے چھوٹے کام کرنا، میٹنگ میں آنا، عوام سے ربط رکھنا مناسب نہیں سمجھتے بلکہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی لیڈر اور دانشور بننا چاہتے ہیں ایسے لوگ قوم پر بوجھ ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے جتنے چور، اچکّے، سود خور، زمینوں پر قبضے کرنے والے تھے وہ لیڈر بن کر بلدیہ، اسمبلی، پارلیمنٹ یا سینیٹ میں جا چکے ہیں۔ اور انہی لوگوں کی وجہ سے فروعی فقہی مسائل کو لے کر علماء قوم کو مسالک، گروہ اور فرقوں میں بانٹ چکے ہیں۔

لیکن کیا کریں۔ ہماری قوم ایسی ہی ہے ایسی ہی رہے گی۔ میں اپنے معصوم بچے کو فالتو مشورے دینے پرایک تھپّڑ تو رسید کر سکتا ہوں لیکن ان بالغ العمر نابالغ العقل دوستوں کو تو تھپّڑ بھی نہیں مار سکتا۔ جسطرح بچے کے ساتھہ رہنا لازمی ہے اسیطرح ان لوگوں کے ساتھ اس معاشرے میں رہنا بھی ناگزیر ہے۔

بک رہا ہوں مذاق میں کیا کیا
کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی

  • Share/Bookmark

2 تبصرے

  1. ایک بہت ہی درست تجزیہ کیا آپ نے معاشرتی رویوں کا، لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم خود سے سوال کر سکتے ہیں۔ ایسے ہی معاشرے میں بہتری کے لیے ہم نے کیا قدم اٹھایا۔ کیا ہم میں تاریخ کے کسی چھوٹے سے پنے پر چڑھنے والی کوئی خوبی موجود ہے‌؟

  2. چند دن پہلے مجھے ایک میل موصول ہوئی جو جدہ سے کسی علیم خان فلکی صاحب نے لکھی،
    میرے خیال میں میں شاید علیم خان صاحب کو نہیں جانتا لیکن اگر انہوں نے یہ میل بھیجی ہے تو یقینا کچھ تعلق تو ضرور ہو گا،
    بہرحال بہت بھرپور تحریر تھی
    http://urdunama.org/forum/viewtopic.php?t=4741

تبصرہ کیجئے