Skip to content
 

پان ہے کوئی مذاق نہیں

سنا ہے کہ حضرتِ آدم نے جنت میں جو پتہ چبایا تھا وہ پان کا پتہ تھا۔
جب تھوکنے کی حاجت پیش آئی تو وہاں نہ دیواریں تھیں نہ مالکِ مکان کی سیڑھیاں کہ جس کے کارنر میں نظر بچاکر تھوک سکیں۔ آگے پیچھے ساری فرشتوں کی ٹریفک تھی ظاہر ہے کہ وہاں حیدرآباد کی سڑکیں نہیں تھیں جہا ں کسی کی پرواہ کئے بغیر دائیں یا بائیں گردن گھما کر پچکاری ماری جا سکتی تھی۔ اسلئے حضرتِ آدم کو زمین پر آنا پڑا ۔
ہم کو یقین ہے کہ یہ تحقیق غلط ہے یہ مولوی حضرات کی اڑائی ہوئی افواہ ہے جو محض پان کی دشمنی میں یوں اس کی تحقیر کرتے ہیں۔ یہی حضرات بھی سگریٹ کے خلاف بھی یوں ڈراتے ھیں کہ اگر جنت میں سگریٹ پینے کی خواہش ہوگی تو اسے سلگانے کے لئے دوزخ میں جانا پڑے گا!

اگر پان کے ساتھ تھوکنے کی مجبوری نہ ہوتی تو پان سے زیادہ لذیذ شئے دنیا میں کوئی نہ تھی اور عجب نہ تھا کہ انگریز ہندوستان میں چائے چھوڑ کر اپنے ساتھ پان لے کر چلے جاتے۔۔۔

پچیس سال سے سعودی عرب میں رہتے ہوئے ہماری بس ایک ہی خواہش ہے کہ یہاں گلی گلی پان کو عام کر دیا جائے تاکہ عربو ں کی روائتی خشک مزاجی تلخ لب و لہجہ حیدرآبادی مروت اور شیریں کلامی میں بدل جائے ۔ اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ بڑے بڑے کاروباری شیخوں کو مثلا جفالی، جمجوم ، بترجی وغیرہ کو ہندوستان لا کر ہفتہ دو ہفتے ان کی پانوں سے خوب ضیافت کی جائے۔ دولت مند شیخ جو بھی کسی ملک جاتے ہیں وہاں سے کوئی نہ کوئی ایجنسی ضرور اٹھا لاتے ہیں ۔ پان تو ایسی برانڈ ہے جس کی ایجنسی کی بھی ضرورت نہیں۔ اگر یہ شیخ حضرات نکل بھاگنے کی کوشش کریں تو پھر این ٹی آر کا فارمولا آزمایا جائے اور سارے ایم ایل ایز کی طرح ان کو بھی شہر سے باہر ایک ریسٹ ہاؤز میں رکھ کر ان کی مہمان نوازی بالجبر کی جائے۔ پھر دیکھنا یہاں جگہ جگہ پان کے ڈبے بھی کھل جائینگے۔
سائن بورڈ کچھ اس طرح کے ہونگے
" جفالی پان شاپ "
" جمجوم گٹکھا "
" دبئی پان مسالہ "۔ وغیرہ۔
البتہ " پان " کو " بان " کہا جائگا۔ کیونکہ عربی میں " پ " نہیں ہوتا۔

چونکہ یہ ایک اشتہاری دَور ہے اس لئے ٹی وی پر دلچسپ اشتہارات آئنگے۔ ہمارے خیال میں ان اشتہارات کے لئے لالو پرساد یادو سب سے شاندار رہینگے ۔ جب یہ اپنی سرکار کی کارکردگی سے خوش ہوتے ہیں تو منہ میں پان رکھ لیتے ہیں بلکہ بھر لیتے ہیں کیونکہ بہاری پان چارے کی طرح بھرپور ہوتا ہے۔ اسے منہ میں رکھا نہیں جا سکتا بلکہ ذرا ٹھونستے ہوئے بھرنا پڑتا ہے اور جب لالو جی کو بی جے پی پر غصہ آتا ہے تو وہ فورا پیک نکالتے ہیں۔

سعودی عرب ہی نہیں سارے خلیجی ممالک میں پان ممنوع ہے۔ لیکن یہاں ممنوع کو مرغوب میں بدلنے دیر نہیں لگتی۔ میک ڈونالڈ ، کنٹیکی وغیرہ بھی کبھی یہودی امریکی پراڈکٹ ہونے کی وجہ سے یہاں ممنوع تھے جب بڑے شیخوں نے اس کی ایجنسی لے لی تو پھر ممنوع نہیں رہے۔ پان کے کاروبار میں فائدے ہی فائدے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہندوستان کا ایکسپورٹ بڑھ جائگا اور دوسرے زیادہ سے زیادہ ملکیوں کو روزگار فراہم ہوگا اور سعودائزیشن میں مدد ملے گی ۔

ہندوستان ہمیشہ پان کے معاملے میں خودمکتفی رہا ہے۔ یہاں پانی کی قلت تو بارہا دیکھی گئی لیکن کبھی پان کی قلت نہیں دیکھی بلکہ غریبوں کے لئے تو یہ من و سلویٰ ہے ۔ زردے سے بھرا پان منہ میں بھر کر وہ بھوک کو مار دیتے ہیں بھوک روٹی مانگتی ہے اور روٹی عمر کو اور لمبا کر دیتی ہے جسے گزارنے کے لئے مزید روٹیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسلئے یہ پان اور زردے عمر کم کرنے کے کام آتے ہیں۔

ریاست ِ حیدرآباد کی سڑکیں پہلے امراء و نوابوں کے پانوں سے لال ہوا کرتی تھیں پھر نہ جانے کس کی نظر لگی۔ پولیس ایکشن میں لاکھوں معصوم انسانوں کے لہو سے کئی شہروں کی سڑکیں لال ہوئیں۔ آجکل آئے دن حادثات سے لال ہوتی رہتی ہیں ۔ اب نہ وہ حیدرآباد رہا اور نہ و ہ تہذیب البتہ اس تہذیب کی کچھ باقیات الصالحات میں سے ایک تو شاعری ہے جسے آٹو رکشا والوں نے بڑی محبت سے باقی ر کھا ہے اور دوسرے وہ پان کے ساتھ فرشی " آداب عرض " کی ادا جسے آج بھی چند ایک پان کے ڈبے والوں نے قائم و جاری رکھا ہے۔
جس نیازمندی سے یہ حضرات پان پیش کرتے ہیں اور جس نوابانہ انداز سے ہم بھی پان قبول کر کے آداب بجا لاتے ہیں خود کو کچھ دیر کے لئے ہم بھی نواب سمجھتے ہیں۔ اگرچہ کچھ بچے کھچے نواب آج بھی پان کھاتے ہیں لیکن کنیزوں کے ہاتھ کے نہیں بلکہ پان کے ڈبوں پر اور زیادہ تر اُدھار کھاتے ہیں۔

بہرحال پان کی وجہ سے ہی سہی کچھ تہذیبی آثار تو موجود ہیں۔ پان کے ڈبوں کے اطراف اکثر کچھ قلندر مزاج توکل و قناعت سے بھرپور دنیا و ما فیہا سے بے خبر حتیٰ کہ اپنے گھر اور بچوں سے بھی بے فکر حضرات کو ہم نے گھنٹوں سیاست و مذہب یا پھر محلے والوں کے چال و چلن پر گفتگو کرتے دیکھا ہے۔ ڈبے والے بڑے مہذبانہ انداز میں بورویل کے گدلے پانی میں پان ڈبو ڈبو کر نکالتے ہیں اور بزرگوں سے چلے آ رہے ایک چیتھڑے سے صاف کرتے ہیں۔
اسی کپڑے سے جن کا اصلی رنگ کیا تھا اور کب تھا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ، کاؤنٹر بھی صاف کرتے ہیں شیشوں کی گرد بھی دور کر تے ہیں اور پان بھی اسی سے صاف کر تے ہیں۔ آپ ایک پان کا آرڈر دیجیئے وہ دو پتے نکال کر پتے کے ٹھیک سینے پر قینچی چلاتے ہیں اور جیسے کوئی درزی کسی ہیروئن کے کپڑے کاٹ رہا ہو۔ اچھے خاصے دو پانوں کو کتر کے آدھا آدھا کر دینے کا جواز کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آیا ۔ یہ سوال ہم نے کئی ڈبے والوں سے پوچھا ہمیں یہی جواب ملا کہ :
" یہی طریقہ بزرگوں سے چلا آ رہا ہے "۔

مذہبیات میں بزرگوں کے طریقہ کو معروف کا درجہ ہے لیکن یہ طریقہ فضولیات تک دراز ہوگا یہ ہمیں نہیں معلوم تھا۔
لوگ پان کھا کر بے حسی سے ادھر اُدھر پچکاری مارتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ ذرا احتیاط سے تھوک لیں تو دوسروں کے نہیں تو کم ا ز کم اپنے دامن کو تو سرخرُو ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ ہم نے اسی طرح تھوکنے کی وجہ پُوچھی تو ایک صاحب نے فرمایا :
" یہی طریقہ بزرگوں سے چلا آ رہا ہے"۔۔

سائنسداں کہتے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ اگر ہوگی تو پانی کے مسئلے پر ہوگی۔ خیر آپ یہ نہ سمجھیں کہ ہم جئے للیتا کے موقف کی تائد یا مخالفت میں کچھ کہینگے۔ ہم تو بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ پانی کے مسلئےپر ہو یا نہ ہو پان کی پیک پر ضرور ہوگی۔ لوگ سڑکوں کو اپنے آباء کی جاگیر سمجھ کر ، پیدل ہوں یا سیکل سوار ، بس میں ہوں کہ اپنی ذاتی کار میں آگے پیچھے دیکھے بغیر حسنِ بے سلیقگی سے پیک تھوکتے ہیں ہمیں یقین ہے ایک دن یہی بُزرگوں کا طریقہ فرقہ وارانہ فساد کا سبب بنے گا۔ مذہبیات ہو کہ فضولیات ۔۔۔ عقلِ سلیم کو بالائے طاق رکھ کر بُزرگوں کا طریقہ چلیگا تو ہر جگہ فساد برپا کرے گا۔

ویسے پان کے دوسرے فوائد بھی ہیں اس سے قومی یکجہتی بھی پیدا ہوتی ہے۔
کلکتہ پان کی کڑواہٹ کا آدمی ایک با ر عادی ہو جائے پھر ممتا بنر جی جیسے لیڈر کو بھی قومی سطح کا قائد مان لیتا ہے ۔
بنارسی پان نارتھ اور ساؤتھ کے لوگوں کو ہم نوالہ و ہم پیالہ بنا دیتا ہے ۔
شعر و ادب کا مزہ پان کی وجہ سے دوبالا ہو جاتا ہے۔
اسٹیج پر تشریف فرما شعراء و ادباء اپنی باری کے انتظار میں اور صدر صاحب نیند بھگانے کی سعی میں جس طرح پان کی جگالی فرماتے رہتے ہیں اس کی وجہ سے کم از کم اسٹیج پر کچھ لو گوں کے جاگتے رہنے کا ثبوت ملتا ہے۔
کچھ حضرات جب منہ میں پیک لیئے اچھے شعر یا مضمون کی داد دیتے ہیں تو داد معتبر ہو جاتی ہے ۔ ان کے دانتوں کی خوبصورتی ویڈیو میں دیکھنے پر اور نکھر آتی ہے۔
بعض حضرات تو ایک گال میں صبح ایک پان محفوظ کر دیتے ہیں جو شام تک سلامت رہتا ہے دوسرے گال کے راستے کھانا ، چائے اور آئسکریم وغیرہ کی رسد جاری رہتی ہے ۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے