Skip to content
 

ایک لاکھ روپے کی ضرورت

ہم اور ہماری قبیل کے کئی دوست یہ عہد کر کے سعودی عرب آئے تھے کہ دو چار سال میں ایک آدھ لاکھ روپیئے جمع کر کے واپس لوٹ جائیں گے اور الحمدللہ ہماری استقامت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ آج تیس سال بعد بھی ہم اپنے عہد پر قائم ہیں اور آپ سب بھی ہمارے عہد پرگواہ رہئے کہ جس دن ہمارے ہاتھ میں ایک لاکھ روپئے ہونگے ہم مزید ایک دن بھی یہاں نہیں رہیں گے۔
ماں باپ اور بھائی بہنوں کو چھوڑ کر غیروں کے در پر دھکّے کھانے سے بہتر ہے آدمی اپنے وطن میں بھوکا مرجائے۔ سوچو تو اپنے وطن میں کیا نہیں ہے۔ صرف دولت نہیں تو کیا ہوا ۔ لوگ اپنے ، زمین اپنی ، زبان اپنی اور اختیار اپنا ۔ یہاں تو ایک قیدی کی بلکہ اس سے بھی بدتر زندگی ہے۔ اگر ان حالات کا پہلے سے اندازہ ہوتا توہم ہرگز نہ آتے، لیکن کیا کریں آنکھوں پر پردہ جو پڑ گیا تھا۔ ہر باہر جانے والے کو پھول پہنتے، دعوتیں اڑاتے اور امام ضامن بندھواتے دیکھ کر ہمارے سر پر بھی باہر جانے کا بھو ت سوار ہو چکا تھا۔ باہر سے چھٹّی پر آنے جانے والے الگ ہمارا جی جلاتے۔ وہ اپنے لیے تو چار چار بیگ بھر کر لاتے لیکن ہمارے لیے صرف مدینہ کے دوچار کھجور اور ایک گلاس " آبِ زمزم کا پانی " !
وہ اپنے سالے اور بہنویئوں کے ویزے تو ساتھ لاتے لیکن جب ہم اپنے لیے ویزا کی بات کرتے تو یوں ظاہر کرتے جیسے وہاں رہ کر بھی ہم سے زیادہ پریشان حال ہیں۔ کہتے کہ پہلے جیسے حالات نہیں رہے۔ کفیل بہت ستاتے ہیں۔ بغیر اقامے کے باہرنکلو تو پکڑ کر بند کر ڈالتے ہیں اور بند کر کے بھول جاتے ہیں۔ ویزا کے پیسے لے کر کھا جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
عربوں کی سیرت میں یہ گستاخی سن کر ہمیں بڑا غصّہ آتا۔جس قوم کی بہادری و شجاعت، انسانیت اور شرافت کے بارے میں ہم بچپن سے پڑھتے آرہے تھے ہماری آرزو تھی کہ بھلے تنخواہ نہ ملے اُسی مومنانہ صفات سے بھرپور قوم کے ساتھ رہ کر زندگی گزاردیں۔ اور خدا نے ہماری سن لی اور ہم باہر آہی گئے۔

نوکری ملتے ہی ویزا اور ٹکٹ کا قرض اتارنا اور ایک لاکھ جمع کرنا اور واپس آکر کوئی انڈسٹری یا ایمپورٹ ایکسپورٹ شروی کرنا یہی اب ہمارا مشن تھا۔ ہم ان لوگوں میں سے نہ تھے جو ایک لاکھ جمع ہونے کے بعد دو لاکھ کی حرص کرتے اور جس دن دو لاکھ جمع ہوجائیں چار لاکھ والوں کو دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتے۔ چار لاکھ حاصل ہوجانے کے بعد دس اور بیس لاکھ والوں کو دیکھ کر اتنے غمگین ہوجاتے جتنے بیروزگاری کے زمانے میں بھی نہیں تھے۔ ہماری زندگی کا اصل مقصد قوم کی خدمت کرنا تھا نہ کہ پیسہ جمع کرنا اس لیے جلد سے جلد ایک آدھ لاکھ جمع کرنا اور نکل لینا یہی ہمارا پکّا ارادہ تھا۔۔ آج بھی ہے اورکل بھی رہے گا۔

اللہ نے وہ دن بھی دکھایا کہ سارے قرض ادا ہوگئے اور ہم نے ایک لاکھ جمع بھی کر لیے۔ اب نہ ہمیں کسی کفیل کی ضرورت تھی نہ نوکری کی اور نہ کسی باہر سے آنے جانے والے کو دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کا خدشہ تھا ۔ البتّہ بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ گھر خالی ہاتھ کیسے جائیں۔ اتنے عرصے بعد جب جارہے ہیں تو ماں باپ بھائی بہنوں اور دوسرے خیرخواہوں کیلئے کچھ توتحفے لے جانا چاہیے۔ جن لوگوں نے ہمیں مدینے کے کھجوروں اور آبِ زم زم کے پانی پر ٹرخایا تھا اُن کو اخلاق سکھانے کا تو یہ بہترین موقع تھا اسلیئے سب کے حسبِ مراتب ہم نے شاپنگ کی۔ پتہ چلا کہ شاپنگ میں جمع شدہ رقم کا آدھے سے زیادہ حصّہ نکل چکا ہے۔ خیر ہمارے حوصلے ابھی بلند تھے ہم نے فیصلہ کیا کہ اِس بار خروج دخول پر اور اگلی بار انشاء اللہ مستقل چلے جائیں گے۔

گھر پہنچ کر ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ ہماری طبیعت خراب ہونے لگی ۔ پتہ نہیں لوگ وہا ں کسطرح زندگی گزارتے ہیں۔ ایک تو شدید گرمی ، دوسرے گھنٹوں بجلی غائب۔ ایک ہاتھ سے اخبار کو پنکھا بنائے دوسرے ہاتھ سے مچّھروں کو بھگاتے بھگاتے اور یہاں وہاں کھجاتے کھجاتے ساری رات نکل جاتی۔ مرحوم سلیمان خطیب کی نظم یاد آتی :
"کس کا پلنگ ہے باشا "
کھٹمل کا آشیانہ مچّھر کا ہے ٹھکانہ
کیا کیا مزے ہیں یارو ہر ہر جگہ کھجانا
ہر چول ڈھیلی ڈھیلی ہر کیلا ڈھیلا ڈھیلا
ایک بار میں جو کِیلا سو بار یہ بھی کِیلا
کس کا پلنگ ہے باشا؟

بغیر فریج کے پانی حلق سے نہیں اترتا۔ دوچار بار پڑوسیوں کے فریج کا پانی منگوایا مگر وہ بھی کم ظرف نکلے اور بہانے کرنے لگے۔ ہم نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ چاہے مزید قرض کیوں نہ لینا پڑے ہم ہر قیمت پر ایک فریج اور ایرکنڈیشنڈ لگواکر ہی جائیں گے۔ ابّاجان نے شرم دلائی کہ پہلے آرسی سی کا ایک پختہ مکان بنوالو ورنہ کویلو کی ٹپکتی چھتوں اور بوسیدہ دیواروں میں اِس قسم کی چیزیں رکھنا ان الکٹرانکس کی توہین ہے۔ واللہ ہم نے یہ نکتہ تو سوچا ہی نہیں تھا۔ واقعی مستقبل میں اگر قوم کی خدمت کرنا ہے تو پہلے ایک شاندار مکان بنانا بے حد ضروری ہے ورنہ ہماری آواز تو مسجد کے امام اور موذّن کی طرح بے اثر ہوکر رہ جائیگی۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے مکان پھر ایک لاکھ ۔ چاہے اسکے لیے ہمیں دس سال بھی باہر کیوں نہ رہنا پڑے۔

تعمیر شروع ہوئی ۔ جتنی رقم بھیجتے رہے مزید اتنی ہی رقم کا مطالبہ آتا رہا۔ ہمارے تین چار سال نکل گئے اورخدا خدا کرکے مکان مکمل ہوا اور وہ وقت آیا کہ ہم ایک لاکھ جمع کرنا شروع کریں اور یہاں سے چلیں۔ مکان بنانے سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ بہنوں کیلئے کھاتے پیتے گھرانوں سے رشتے آنے لگے ورنہ بوسیدہ گھرمیں پولیس کانسٹبلوں اور کلرکوں کے ہی رشتے آتے تھے۔ مگر نقصان یہ ہوا کہ دولہوں کا rate بڑھ گیا۔ اب ڈاکٹروں اور انجینیروں کے رشتے آنے لگے۔ کوئی بھی پانچ چھ لاکھ سے کم کا نہ تھا۔ لیکن سارے شریف اور خوددار لوگ تھے ۔ ہر ایک نے یہی کہا کہ ہمیں جوڑا جہیز وغیرہ کچھ نہیں چاہیے جو بھی دینا ہے خوشی سے اپنی بیٹی کو دے دیجیے لیکن " شادی معیاری ہونی چاہیے"۔
ایسے شریف اور خوددار نہ جانے اُس وقت کہاں تھے جب ہمارا مکان کویلو کا تھا ۔ حالانکہ ہم اور ہماری بہنیں آج بھی وہی ہیں جو کل تھیں۔ شائد RCC کا مکان ہماری شرافت اور خاندان کا سرٹیفکٹ تھا جو لڑکے والوں کو پہلے نظر نہیں آیا۔ ہم نے سوچا کیوں نہ پہلے والے رشتوں پر ہی ازسرِنوغور کیا جائے کیونکہ بعض بعض پولیس والے شریف بھی تو ہوتے ہیں ۔ لیکن اب ہمارے خاندان والوں کی رائے بدل چکی تھی ۔ انکا خیال تھا کہ بڑے گھر کی بچّیوں کو چھوٹے گھر میں دینا مناسب نہیں ہے۔ بہرحال بہنوں کی زندگی کا معاملہ تھا اسلیے ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے دولہے خریدینگے پھر ایک لاکھ ۔ الحمدللہ بہنیں اپنے اپنے گھر کی ہوئیں اور شادیوں کے قرض ایک ایک کرکے ادا ہوئے اس مہم میں ہمارے اور چار پانچ سال نکل گئے۔ پھر ہم نے فیصلہ سنا دیا کہ اب ہمارے ایک لاکھ جمع کرنے کا وقت آ چکا ہے۔
والدین نے کہا جی نہیں اب آپ کی شادی کا وقت آچکا ہے۔ پہلے اپنی شادی پھر "ایک لاکھ"۔
ہم ہر روز کے اقامہ رخصہ قطع اِشارہ اور کفیلوں کے ظلم سے پہلے ہی تنگ آچکے تھے مزید ایک عدد بیوی کو سر پر مسلّط کرکے اپنے آپ کو کولہو کا بیل بنانا نہیں چاہتے تھے پھر کئی شادی شداؤں کا انجام دیکھتے ہوئے اپنے پاؤوں میں خود بیڑیاں ڈالنا اور ذلیل ہونا ہمیں منظور نہیں تھا۔ ہم نے چند بزرگوں سے مشورہ کیا اُنہوں نے کہا :
"شادی کر لو دو تین سال میں سب صحیح ہوجائیگا "۔
ہم نے پوچھا "کیا صحیح ہوجائیگا ؟ "
انہوں نے کہا " آپ کو عادت ہوجائیگی "

خیر تو ہم نے ایک لاکھ کا فیصلہ واپس لیا اور سہرا باندھا۔ شبِ عروسی ہی دلہن کو بتادیا کہ ہم سعودی واپس جاکر جلد از جلد ایک دیڑھ لاکھ جمع کرینگے اور واپس لوٹ جائیں گے۔
اُس نے پوچھا "واپس آکر کیا کرینگے؟ "
ہم نے کہا "ہم قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ٹاٹا برلا کیطرح کوئی انڈسٹری قائم کرینگے یا کوئی ٹی وی چینل یا اسکول یا کالج شروع کرینگے۔ الکشن لڑینگے اور کیا "
وہ ہنسنے لگی
ہم نے پوچھا کیوں ہنس رہی ہو؟
اُس نے کہا "شائد آپ گوئندا کی فلمیں زیادہ دیکھتے ہیں "۔

خیر دنیا نے جب سر سیّد کو نہیں چھوڑا تو ہمیں کیا چھوڑے گی ۔ اسلیئے ہم کسی کے مذاق اُڑانے کی پروا کیے بغیر اپنا عہدِ مسلّم لیے واپس آگئے۔ پھر بیوی نے انتہائی پیار سے التجا کی کہ ایک بارمکہ اور مدینہ دکھا دیجیے پھر زندگی میں کچھ نہیں مانگوں گی۔ یہ بیویاں اپنی ہر خواہش اسیطرح پوری کرواتی ہیں گویا زندگی میں اسکے بعد واقعی کچھ نہیں مانگیں گی اور بے وقوف مرد ہر بار انکی باتوں میں اسطرح آجاتے ہیں جیسے واقعی یہ بیوی کی آخری خواہش ہو۔

مختصر یہ کہ پھر فیصلہ بدلا اور سوچا پہلے بیوی کو بلا لینگے پھر ایک لاکھ ۔ ویزا اور ٹکٹ کا انتظام کیا گھر سیٹ کیا کچھ سال اور نکل گئے۔ الحمدللہ ایک کی جگہ دو لاکھ جمع ہو گئے۔ پھر ہم نے فیصلہ سنا دیا کہ اب واپس ہونے کا وقت آچکا ہے۔
بیوی نے کہا "جی نہیں آپ کی دو عدد بیٹیوں کیلئے ابھی سے کوئی فلیٹ، پلاٹ یا انشورنس پالیسی خریدنے کا وقت آچکا ہے۔ کل جب جہیز بیس بیس لاکھ کا ہوگا زمینوں کی قیمتیں کروڑوں میں ہونگی آپ اپنے وطن میں رہ کر کیا خاک کما کر جوڑا جہیز دینگے ؟"۔

عورتوں کا یہ وہ کامیاب ہتھکنڈا ہے جس کے ذریعے وہ مردوں کو ساری عمر کمانے کے چکّر میں جکڑے رکھتی ہیں ۔ جسطرح امریکہ عربوں کو صدّام حسین اور اسامہ بن لادن کا خوف دلا کر ڈرائے رکھتا ہے اسیطرح عورتیں دامادوں اور سمدھیاوؤں کاڈر دکھا کر بے چار ے مردوں کو ساری زندگی گھر سے گھاٹ اور گھاٹ سے گھر میں مصروف رکھتی ہیں۔

خیر صاحب ہم نے کچھ اور سال لگا دیئے ۔ بیوی کی یہ آخری خواہش بھی پوری کردی اور بیٹیوں کا بھی انتظام مکمل کر دیا۔ اب ہمارے پاس ایک لاکھ کی جگہ دس لاکھ پورے جمع ہو چکے تھے۔ اب ہم نے واپسی کا آخری اعلان کیا۔ ہماری خیر اندیش اور دور اندیش بیوی نے پوچھا :
"جب آپ سعودی عرب آئے تھے اس وقت دس لاکھ ایک کروڑ کے برابر تھے آج ایک کروڑ دس لاکھ کے برابر ہیں ۔ جب تک آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ نہ ہو آپ گھر کس طرح چلائیں گے؟"

گھر کی چار دیواری کے اندر رہتے ہوئے بھی world economy پر عورتوں کی نظر کتنی گہری ہوتی ہے اسکا ہمیں اندازہ نہیں تھا۔ واقعی یہ بات قابلِ غور تھی کہ جب تک کے ہم ٹاٹا برلا کے مقابلے پر اترنے کے قابل ہوں اور قوم ہم کو ایک قائد و دانشور تسلیم کرے اُس وقت تک گھر چلانے کیلئے کچھ تو آمدنی کا ذریعہ ہونا چاہئے۔ تیس چالیس ہزار ماہانہ آمدنی کیلیئے اِس دور میں کم سے کم ایک کروڑ کاسرمایہ رکھنا لازمی ہے۔ ہم بیوی کی ذہانت مان گئے۔ اسکی بات صد فی صد صحیح تھی اسلیئے ہم نے اپنا فیصلہ پھر ملتوی کیا اور انتہائی مجبوری سے اِس نئے پروجیکٹ پر لگ گئے۔

لیکن ہم آپ کو بھی اور اپنے آپ کو بھی یہ یقین دلاتے ہیں کہ جونہی یہ پروجیکٹ مکمل ہوگا ہم اپنے لیے ایک دیڑھ لاکھ جمع کر کے اپنے وطن لوٹ جائیں گے انشاء اللہ۔

یہ کیسی منزل ہے کیسی راہیں کہ تھک گئے پاؤں چلتے چلتے
مگر وہی فاصلہ ہے قائم جو فا صلہ تھا سفر سے پہلے

  • Share/Bookmark

ایک تبصرہ

  1. سید انور مھمود :

    لگ رہا ہے میری داستان لکھ دی ہے۔

تبصرہ کیجئے