Skip to content
 

مجھے مشوروں سے بچاؤ

بخد ا ہم ملک الموت سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا مشوروں سے ڈرتے ہیں۔

ہمارا تو جی چاہتا ہے کہ جس طرح بعض لوگ فضائی آلودگی سے بچنے کے لئے ناک پر کپڑا باندھ لیتے ہیں اسی طرح ہم بھی مشورو ں کی آلودگی سے بچنے کے لئے کانوں میں کپڑا ٹھونس کر چلیں۔ قیس کے بارے میں ہمارا یہ گمان ہے کہ وہ لیلیٰ کی یاد میں پاگل ہو کر نہیں بلکہ مشوروں کی وجہ سے پاگل ہو کر شہر سے بھاگ نکلا اور صحرا میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا۔ کوئی کہتا تھا کہ لیلیٰ کالی ہے اس سے تیری اولاد بھی کالی پیدا ہوگی۔ پھر کالی بیٹیوں کو بیاہنے تو جوڑا اور جہیز کہاں سے لائے گا۔

دولت مند ملکوں میں مشوروں کی قیمت ہوتی ہے کیونکہ وہاں بچے کم پیدا ہوتے ہیں اسلئیے بوڑھے بھی کم پائے جاتے ہیں ۔ نہ گلی کے نکڑ پر چبوترے ہوتے ہیں نہ سرکاری نل۔ نہ پان کی دوکانیں نہ عبادت خانوں میں مشاورت کی فرصت ۔ اسلئے وہاں مشیروں کی پیدا وار بہت کم ہے۔ چنانچہ لوگ مشورہ کرنے کے لئے متعلقہ کونسلر یا کنسلٹنٹ سے رجوع ہوتے ہیں اور باضابطہ فیس ادا کرتے ہیں ۔ اگر ہم اپنے ملکوں سے ان تمام چبوتروں پر بیٹھنے والوں اور دوکانوں کے باہر کھڑ ے ہوئے تیار جاسوس حضرات کو جو ہر آنے جانے والے کے شجرہ نسب اور ہر ظاہر و باطن کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے ہیں امریکہ یا یورپ بھیج دیں تو نہ صرف ان کی بیکاری دور ہوجائے بلکہ ان ملکوں کا نقشہ ہی بدل جائے۔ وہاں کے سارے برسرِ روزگار کنسلٹنٹ چند مہینوں میں بے روزگار ہو جائیں ۔ مشوروں کی قلت کا یہ عالم ہے کہ ہر قسم کی معمولی بات کیلئے مشورہ دینے والا الگ اور اسکی فیس بھی الگ۔ شادی کے لئے مشورہ ، طلاق کے لئے مشورہ ، بچوں کی تربیت کے لئے مشورہ ۔ یہی نہیں بچے پیدا کرنے کے لئے بھی مشورہ۔ سر درد ہو کہ پیٹ کا درد کینسر ہو کہ ایڈز غرض یہ کہ ہر معاملے کے لئے ایک مخصوص مشورہ دینے والا ہوگا۔
وہاں بغیر مانگے مشورہ دینے والے کو لوگ پاگل سمجھتے ہیں اور نہ چلتے پھرتے مشورہ دینے یا لینے کے قائل ہیں۔ اس لئے کونسلر حضرات جب تک ایک آ فس یا مطب کرایہ پر نہ لے لیں مشورے بھی نہیں دیتے اور الحمدا لللہ ایک ہماری سوسائیٹی ہے کہ ہر شخص نام و نمود سے بے نیاز بغیر کوئی صلے یا فیس کے نکڑ پر ہو کہ دیوان خانے میں ۔ دوکان پر ہو کہ مسجد میں ہر جگہ اپنی زنبیل میں مشوروں کا انبار لیئے پھرتا ہے۔ اور لوگوں کو مشوروں سے مالا مال کر سکتا ہے ۔
یہ حضرات قلندرانہ صفات کے حامل اتنے غنی اور سخی ہوتے ہیں کہ ان کا مشورہ آپ نہ بھی مانیں تو برا نہیں مانتے۔البتہ اُس وقت کا انتظار ضرور کرتے رہتے ہیں جب آپ کے ساتھ کوئی ناگہانی واقعہ ہوجائے۔ یہ فوری آپ کا جی جلانے پہنچ جاتے ہیں اورکہتے ہیں کاش آپ نے ہماری بات مان لی ہوتی۔
(حیدرآبادی ہوگا تو کہے گا : "ہم تو پہلیچ بول دیئے تھے")۔
آپ کو یقین نہ آئے تو جہاں دو چار افراد جمع ہوں وہاں ذرا آپ سر پکڑ کر بیٹھ جایئے یا ذرا سا چھینک کر یا کھانس کر دیکھیئے ۔ نہ صرف وہاں موجود حضرات بلکہ کوئی راستہ سے گزر رہا ہو تو وہ بھی رک کر ایک آدھ مشورے سے ضرور نوازے گا اور آپکو یقین ہو جائگا کہ آپ واقعی بیمار ہیں۔ کیا کوئی صحتمند ان مشوروں کی تاب لا سکتا ہے ؟

ایک صاحب کہیں گے :
" آ پکی طبیعت خراب لگتی ہے کوئی گولی فوری لے لیجیئے صبح تک آرام ہو جائے گا" ۔

دوسرے صاحب :
" گولیوں سے ری ایکشن کا خطرہ رہتا ہے جوشاندہ لیجیئے دیر سے سہی لیکن دیر پا آرام ہو جائے گا "۔

تیسرے صاحب :
" دو دن سے میری بھی طبیعت خراب تھی ہومیو پیتھی سب سے بہترین ہے دیکھئے میں کیسا ٹھیک ٹھاک ہوں "۔

چوتھے صاحب آپ کے پان یا سگریٹ پر غصہ نکالیں گے۔

تو پانچویں صاحب آپ کو موت سے ڈرائیں گے اور تنبیہاً آپ کو علاج میں دیر کرنے کے نتیجے میں مرجانے والوں کے ایسے ایسے قصے سنائیں گے کہ رات بھر قبر میں جانے کا خوف آپ کی نیند حرام کردے گا۔

مشوروں کی یہ پانچویں قسم سب سے زیادہ کار گر ہوتی ہے کیونکہ مشورہ دینے و الے نے احتیاطی تدابیر کے طور پر مشورہ نہ ماننے کے درد ناک انجام سے بھی باخبر کر دیا۔

ضمانت قبل از گرفتاری کی طرح مشورہ قبل از پریشانی پھر بھی قابل ِ قبول ہوتا ہے لیکن جو مشورے بعد از پریشانی دیئے جاتے ہیں وہ بہت جی کو جلاتے ہیں جی چاہتا ہے ایسے حضرات کو د ھکّے مار کر نکال دیں۔ ایسے حضرات کے سامنے آپ مجرم کی طرح سر جھکائےغلطی کا اعتراف کرنے اور پچھتاوے کے اظہار کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ واقعہ ہو جانے کے بعد کونے کونے سے مشورے جھینگروں کی طرح امڈ امڈ کر آتے ہیں۔
ایک صاحب ملامت کرنے والے انداز میں فرماتے ہیں " ارے حضت ذرا ہم سے پہلے پوچھ لیتے"
دوسرے صاحب: ہم نے تو پہلیچ (پہلے ہی) کہا تھا۔ ( حالانکہ نہ انہوں نے پہلے کچھ کہا تھا نہ آپ نے سنا تھا)۔
تیسرے صاحب: آپ کو ویسا کرنے کی بجائےایسا کرنا چاہئے تھا۔
چوتھے صاحب: اب جو ہونا تھا سو ہو گیا سب اللہ کی طرف ہے۔ (تقدیر پر ایک عدد تقریر کے بعد ) جو ہو گیا اسے بھول جایئے مگر اب ذرا سوچ سمجھ کر قدم اٹھایئے ( گویا اب تک آپ بغیر سوچے سمجھے زندگی گزار رہے تھے۔)۔
پانچویں قسم اُن احمق قسم کے ہمدردوں کی ہوتی ہے جو اچانک نمودار ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں "آپ کو کیا پہلے معلوم نہیں تھا؟ "
اِس احمقانہ سوال کے ساتھ ہی وہ پورا مسئلے کا یہ حل نکالتے ہیں کہ آپ چونکہ بیوقوف ہیں اسلیئے اب بھگتیئے ۔

مشوروں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ حضرتِ انسان میں یہ عادت فرشتوں سے چلی آئی ہے۔
مشورہ حضرتِ آدم سے پہلے پیدا ہو چکا تھا۔ جیسے ہی اللہ تعالی نے آدم کی تخلیق کا ارادہ فرمایا فرشتوں نے مشورہ پیدا کر دیا۔ تخلیقِ کائنات کے process میں سب سے پہلے مشورہ پیدا ہوا پھر آدم پھر زمین و آسمان۔ اب غور کیجیئے تو پتہ چلے کہ پوری کائنات مشوروں پر گھو م رہی ہے جس چیز کو محورِ ارض کہا جاتا ہے وہ بھی دراصل مشورہ ہی ہے۔

پہلا مشورہ یہی تھا کہ اس آدمِ خاکی کو خلیفہ کیسے بنایا جا سکتا ہے اللہ تعالی نے فوری ڈانٹ پلا دی ورنہ پتہ نہیں اور کتنے مشورے آجاتے۔
حضرتِ انسان نے فرشتوں کے چیلنج کو تو اہمیت نہ دی البتہ مشورے کو serious لے لیا اور فوری مشورہ دینا سیکھ لیا۔ اللہ تعالی نے اس سے کچھ اور عہد لینا چاہا لیکن عہد اس نے یہ کیا کہ وہ مشورے دیگا مگر لے گا نہیں اور یہی عمل روزِ ازل سے پوری استقامت کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔
انسان اولاد کو حکماً مشورے دیتا ہے لیکن خود اپنے باپ کے مشوروں کو نظر انداز کر دیتا ہے ۔
علماء اور قائدین اتحاد کے مشورہ دیتے ہیں اور جو اِن سے اتحاد نہ کرے اُسکی تکفیر کر ڈالتے ہیں۔
ایک عام آدمی کو بھی ہم نے دیکھا کہ ایک جنازے کی تدفین کے موقع پر خود تو دور ایک درخت کے سائے میں کھڑا ہے اور چِلآرہا ہے :
"میت احتیاط سے اُتارو مِٹّی گرنے مت دو"

تدفین کے لئے قبر میں اترنے والے ایک یا دو ہوتے ہیں لیکن اوپر کھڑے جتنے لوگ ہوتے ہیں اُتنے ہی چِلّا چلّا کر مشورے دیتے ہیں۔ ہم آئے دن مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی میٹنگس میں شریک ہونے کا عذاب بھگتتے رہتے ہیں۔ صدر صاحب سے لے کر کرسیاں بچھانے والے اور مائیک لگانے والے صاحب تک ہر شخص مشورے دے دے کر جو بات دس منٹ میں طئے ہوسکتی ہے اُسے ایک دو گھنٹے میں طئے کرتے ہیں۔
ان مشوروں کی شور و پکار میں جو ایک دوسرے سے اختلاف الرائے پیدا ہوتا ہے اُن اختلافات کو ختم کرنے پھر سے میٹنگ ہوتی ہے اور پھر سے مشورے ہوتے ہیں۔ بے شمار انجمنوں کو ہم نے اِنہی مشوروں کے ٹکراو کے نتیجے میں ٹوٹتے دیکھا ہے۔ دو چار صاحبین الگ ہوکر ایک نئی جماعت بنانے کے مشورے کرنا شروع کردیتے ہیں۔ شائد اسی لیئے مشوروں کو تنظیمی شکل دے دی جاتی ہے تاکہ کسی بھی کام کو منظم طریقے پر ہونے سے روکا جا سکے ۔
شوریٰ یا مشاورت اسی کم بخت مشورے کی ٹھوس سرپرستی کرنے والی شکلیں ہیں۔ مشیر اس کو کہتے ہیں جسکو مشورہ دینے کا قانونی تحفظ حاصل ہوجائے ۔

بات چلی تھی فرشتوں کے مشورے سے۔ اللہ تعالی کی حکمت ماننی پڑتی ہے کہ اس نے پہلے مرد کو پیدا کر دیا ورنہ اگر عورت پہلے پیدا ہو جاتی تو مرد سے پہلے نہ جانے کتنے مشورے پیدا ہو جاتے بقول یونس بٹ کے :
اللہ تعالی یہ کام بغیر کسی مشورے کے کرنا چاہتا تھا اس لئے اس نے پہلے مرد کو پیدا کیا۔

چونکہ مشورہ بھی حضرتِ آدم کے ساتھ ہی پیدا ہوا تھا اسلئے تقسیم کار یہ عمل میں آئی کہ مرد دنیا میں اللہ کا خلیفہ طئے پایا اور عورت مشیر۔ وہ جب تک مرد کے پاس ہے سانسوں کی رفتار سے مشورے دیتی رہے گی۔
افسوس اس بات کا ہے کہ مرد اپنے فرائض ِمنصبی تو بھلا چکا لیکن عورت اپنے فرضِ منصبی سے کبھی سبکدوش نہیں ہوئی ۔ وہ برابر اپنا فرض نبھاتی رہتی ہے اور مرد کی ناک میں دم کرتی رہتی ہے۔ بعض عورتیں تو ناک ہی میں نہیں سر، آنکھ، منہ، پیٹ وغیرہ کئی جگہ دم کرتی رہتی ہیں۔
عورت دنیا کی ہر ہستی کو مشورے دے سکتی ہے لیکن کسی کا مشورہ سن نہیں سکتی سوائے ایک ہستی کے اور وہ ہے اسکی والدہ محترمہ ۔ وہ اپنی والدہ محترمہ کے مشورے کے بغیر نہ خود چلتی ہے نہ مرد کو چلنے دیتی ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے تیس مار خان گزرے ہیں حتیٰ کہ مغلِ اعظم شاہ جہاں بھی جنکے پیچھے چلمن کی اوٹ سے انار کلی کندھے پر ہاتھ ٹکائےر کھتی تھی۔ جہاں انہوں نے محترمہ کے مشورہ کے بغیر کوئی فیصلہ صادر فرمایا فوری محترمہ نے پیچھے سے کہنی ماری۔

ہم مشوروں سے نجات پانے وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے لیکن شہر تو شہر ہے جنگل بھی نہ جنگل نکلا ، ہم جہاں جہاں گئے مشورے ہمارا پیچھا کرتے ہوئے وہاں وہاں پہنچ گئے ۔
ہم بیمار رہتے ہیں تو علاج در علاج کے مشورے ۔
ہم صحتمند رہتے ہیں تو مزید صحتمند رہنے کے لیئے مشورے ۔
بے کار تھے تو کام کر نے کے مشورے اور اب بچت اور کاروبارکے مشورے۔

ہم مشوروں کے ڈر سے اپنا ہر غمِ دوراں اور ہر غمِ جاناں چھپاتے ہیں لیکن ہر چیز تو چھپائی نہیں جاسکتی ۔ اب کیا کریں اِس پاپی پیٹ کا جو عمر کے ساتھ ساتھ آگے نکلتا جارہا ہے۔جس سے بھی مصافحہ کیجیئے وہ پیٹ کم کرنے کا ایک مشورہ پیش کردیتا ہے ہم نے اِن مشوروں سے تنگ آکر لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا۔
اب بیوی کہتی ہے :
"آپ گھر میں بیٹھے بیٹھے پیٹ اور بڑھا لیں گے گھر کے کام کاج میں تھوڑا ہاتھ بٹایا کیجیئے"۔

ان مشوروں سے تنگ آکر سوچا خودکشی کرلیں لیکن ڈرتے ہیں کہ اگر ناکام ہوگئے تو ہمت سے جینے کے جو مشورے در آئینگے ان سے تنگ آکر واقعی ہم کوئی ٹھوس خودکشی کا سامان نہ کر بیٹھیں ۔ڈر کر ہم زندہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم نے علا مہ اقبال کی یہ دعا اپنے لئے مانگی تھی :
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیر ے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

خدا نے سن لی اور مشورے دینے والوں کو ہمارے اطراف اِس کثرت سے پیدا کردیا کہ اب ہمارے بحر کی ہر موج ایک ایک مشورے سے آلودہ ہے اور ہم ایک مستقل اضطرابی کیفیت میں ایک ایک آدمی سے ملتے ہیں۔

یہ مضمون پڑھ کر اگر آپ بھی ہماری اصلاح کیلئے کوئی مشورہ عنایت فرمائیں تو نوازش ہوگی۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے