Skip to content
 

مرو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے مرو

ایک دوست نے امریکہ سے مجھ پر یہ شعر مارے کہ

عرض کیا ہے :
میرے مرنے کی تو مانگتا ہے دعا
لے گلا گھونٹ دے میں بھی بیزار ہوں
موت اب تک تو دامن بچاتی رہی
تْو بھی دامن بچائے تو میں کیا کروں

مجھے مجبوراً یہ جواب سوجھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم !
واہ ، مرنا بھی ہے تو مجھے پھنسا کر ؟؟؟؟
بھلامیں کیوں گلا گھونٹوں؟ مرنے کے ہزاروں اور بھی طریقے ہیں۔ سعودی میں گلہ گھونٹنے کی سزا گردن زدنی ہے۔ دبئی میں بھی یہی ہے۔ امریکہ میں تو (CNN) پر نشر کر ڈالتے ہیں اور دہشت گردی کا کیس بناڈالتے ہیں۔ انڈیا میں مقدمہ اتنا لمبا چلتا ہے کہ کس کا گلہ گھونٹا تھا وہ بھی یاد نہیں رہتا۔

حیات لے کے مرو ، کائنات لے کے مرو
مرو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے مرو

اور اگر مرنا ہی ہے تو لاکھوں کی طرح اس طرح مرو کہ زندہ رہو۔
جس زندگی میں کوئی مقصد نہ ہو ۔۔۔
اگرعورت ، بچہ پیدا کرنے اورانہیں بڑا کر کے ان کی شادیاں کرنے ، پھر ان کے بچے ، پھر اْن کے بچوں کی شادیاں کرنے کی مشین ہو
اور ۔۔۔
اگرمرد ، نوکری ، کمائی ، گھر ، بچت ، اور جائیداد جوڑنے میں لگا ہو، کبھی موڈ سے نماز ، کبھی روزہ ، کبھی عمرہ و حج اور کبھی حاتم طائی کی قبر پر لات مار کے دو چار ہزار خیرات زکوٰة بھی کرلیتا ہو، نہ بیوی کو ناراض کر سکتا ہو نہ سماج کے اکثریت کے رواج کو توڑنے کی ہمت رکھتا ہو
قوم ، زبان ، تہذیب ، تمدن ، طریق ، ادب ، معاشرہ سب جائیں جہنم میں ، اْس کو اپنے کام اور کمائی سے مطلب ہو ۔۔۔۔
توایسی زندگی یوں بھی موت ہے !
ایسے لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں ، حالانکہ وہ تو کبھی کے مر چکے ہیں۔ زندہ لاشیں ہیں جو چل پھر رہی ہیں۔ بے مقصد ، بے جان ، بے علم و بے دین ۔

اردو جس کی ماں کی زبان ہو اور وہ کہے :
"مجھے اردو نہیں آتی"
۔۔۔ کیا میں اسے زندہ سمجھوں ؟
جس کی قوم بیشمار مسائل میں گھری ہو اور وہ جیب سے ایک پیسہ نہیں نکال سکتا، صرف مشوروں اور تبصروں کی بھرمار کرتا ہو ، کیا اس کو زندہ سمجھوں؟

جس کو اپنی تاریخ کا ایک ورق بھی یاد نہیں ، کیا اسے حال میں زندہ سمجھوں ؟

جو جوڑا جہیز لے کر خود بھی بِکتا ہو اور دین و ایمان بھی بیچ ڈالتا ہو ، کیا اسے زندہ سمجھوں ؟

دنیا جسے دہشت گرد ، بنیاد پرست ، ہریجنوں سے بھی بدتر (سچر کمیٹی رپورٹ) ، کرپٹ اور ملک دشمن کہتی ہے مگر اس میں جواب دینے کی صلاحیت پیدا کرنے اور مقابلہ کرنے کا حوصلہ یا ارمان نہ ہو ، کیا اس کو زندہ سمجھوں ؟

یہ قوم مر چکی ہے ۔ اور معاف کرنا میں بھی شائد مر چکا ہوں۔
تم بھی مر چکے ہو۔ خوب کھاؤ پیو ، پارٹیاں کرو ، بچوں کی شادیاں کرو ، تھوڑی بہت ظاہری عبادتیں کر لو ، خوب مال جمع کر کے بیٹوں اور دامادوں کے لڑنے کیلئے چھوڑدو، اور اپنی قوم کی سیاسی ، اخلاقی ، معاشی ، معاشرتی اور ہر سطح پر ذلت کو اخبار اور ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر صرف تبصرے کرتے رہو ۔۔۔۔۔ یہی سب سے اچھی خودکشی ہے۔ اسلئے کہ تمہیں اسکے حرام ہونے کا احساس نہیں رہے گا کیونکہ یہ تو سبھی کررہے ہیں۔ جیسے سب جیتے ہیں ویسے ہی جینے کو زندگی کہتے ہیں۔ جو الگ روش اختیار کرنا چاہتے ہیں خودکشی تو وہ کرتے ہیں۔
دوسرے خودکشی کے طریقوں میں آدمی کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ مر گیا۔ ایسی بے مزا موت کا کیا فائدہ؟ موت تو وہ ہے کہ جس میں کچھ مرنے کا احساس بھی ہو۔ وقت کے ہاتھوں اپنی موت کو محسوس کرو تو خودکشی کا مزہ بھی آتا ہے۔

اسلئے پیارے !
ضرور مرو لیکن زندہ رہ کر ۔۔۔ اسی طرح کی خود کشی سے دوسروں کو ایک عبرت تو ملتی ہے، ہوسکتاہے کسی کو عبرت مل ہی جائے اور وہ کسی انقلاب کا ساتھی بن جائے !!

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے