Skip to content
 

بھائی اُسامہ بن لادن کے نام ایک خط

السلام علیکم و رحمةاللہ و برکاتہ

آپ کی یاد تو ہم قدم قدم پر کرتے ہیں کبھی آپ بھی ہمیں یاد کرتے ہیں یا نہیں؟ اس کا پتہ نہیں۔
خیر ہماری خیریت اِسی میں ہے کہ آپ کبھی بھولے سے بھی ہمیں یاد نہ فرمائیں ورنہ آپ جس کو یاد کرلیتے ہیں پھر وہ ایک یاد ہی بن کر رہ جاتا ہے۔
ہم آپ کو بھولنا بھی چاہیں تو نہیں بھول سکتے ہمیں بندوق کی نالی پر آپ کی یاد دِلائی جاتی ہے۔ پولیس تھانہ ہوکہ ایرپورٹ، کوئی سرکاری عمارت ہوکہ کمپنی ہر جگہ مچّھر جیسی جسامت کے سیکوریٹی والے آنکھیں دِکھا کر آپ کی یاد دلاتے ہیں ۔ کبھی آپ کی وجہ سے ہمارے جوتے اتروا دیئے جاتے ہیں تو کبھی بیلٹ اور جیکٹ۔ جگہ جگہ یہ حضرات جیبیں اور بغلیں تلاش کرکے ہمیں گُدگُدی کرتے ہیں اور ہم ہنس بھی نہیں سکتے ۔
ایک بار غلطی سے ہنسی نکل گئی تھی۔ اُن لوگوں نے سمجھا کہ ہم اُن پر ہنس رہے ہیں کیونکہ اُسوقت وہاں اُن کے علاوہ کوئی اور تھا بھی نہیں۔ بس انجام یہ ہوا کہ کبھی کسی محفل میں ہنسی آجائے تو خوف سے ہم اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے ہیں کہ کہیں کوئی سیکوریٹی والا ہمیں دیکھ تو نہیں رہا ہے۔

ورنہ ایک وقت وہ تھا جب یہ پہلوان اونگھتے پڑے رہتے کوئی مصروفیت نہیں رہتی۔ آپ نے اِنہیں اتنا چاق و چوبند کردیا کہ یہ اپنے باپ کو بھی چیکنگ کیئے بغیر نہیں چھوڑتے۔ کسی کسی کی تو پتلون تک اتروا دیتے ہیں۔ چاہے وہ ہمارے ملک کا وزیرِدفاع ہی کیوں نہ ہو۔ جی ہاں ہمارے ایک شریف وزیرِدفاع کی امریکہ میں پتلون اتروا دی گئی۔ وہ بے چارے کوئی دفاعِ قبا نہ کر سکے۔ دفاع تو درکنار احتجاج بھی نہ کر سکے۔ دوسرے وزیروں نے احتجاج کیا لیکن پتلون اتر نے کے بعد۔جب یہ خبر ہم نے اخبار میں پڑھی تو ہمیں بہت خوشی ہوئی ۔ جی چاہا کہ آپ کو شکریئے کاخط ضرور لکھیں کہ آپ کی وجہ سے ہمارا بدلہ پورا ہوگیا۔
ان کے نزدیک وزیروں کی پتلون اتروانا بدسلوکی ہے لیکن ہم جیسے شریفوں کی پتلون سے یہ خود جو سلوک کرتے ہیں اسکا انہیں کوئی احساس نہیں۔ آپ جیسے خدائی فوجدار کی وجہ سے سلوک کا بدلہ سلوک وجود میں آ گیا۔ اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے کے مصداق اگرچہ کہ آپ بتاتے رہتے ہیں کہ میں یہاں ہوں تو کبھی وہاں ہوں پھر بھی یہ حضرات آپ کو کبھی ہمارے پسِ لباس اور کبھی تہہِ لباس تلاش کرتے رہتے ہیں۔
ہمارا تو چھوڑیئے ہماری فلمی ہیروئینیں جو لباس پہنتی ہیں اُسکی تلاشی میں تو کوئی وقت لگنا ہی نہیں چاہیئے لیکن وہ ہم سے بھی زیادہ دیر میں باہر آتی ہیں۔ راز کی بات بتادیں کہ اتنا تارتار ہمارا لباس تو حمام میں بھی نہیں ہوتا ۔ جی کرتا ہے کہ اب لُنگی پہن کر ہی سفر کیا جائے۔ لُنگی میں نہ تو آزار والے بند ہوتے ہیں نہ پتلون جیسے قفل در قفل۔ ہزاروں میل کے سفر میں سب سے بامشقّت کام یہی ہوتا ہیکہ اِس پار اُتاری کبھی اُس پار اُتاری۔ بہتر یہی ہوگا کہ پہلی تفتیش پر ہی ہماری پتلون وہ جہاز کے عملے کے حوالے کردیں اور اختتامِ سفر پر لوٹا کر ہمیں باعزّت بری کردیں۔

ایک بار تو تفتیش کی حد ہوگئی ۔ ہمارے شیرخوار بیٹے کی دودھ کی بوتل پر اِن سیکوریٹی والوں کو کچھ شک ہوا ۔ پہلے تو الٹ پلٹ کر دیکھا اور کتے کی طرح سونگھا اور ہم کو حکم دیا گیا کہ اِسے پی کر دکھاؤ۔ اب کی بار ہم نے سوچا ہے کہ ناس یا نسوار کی ڈبیا اپنے ساتھ لے جائیں گے اور اُن کو سنگھا کر ہی چھوڑیں۔

آج تک صرف سنا تھا لیکن آج دیکھ رہے ہیں کہ دہشت مٹانے کیلیئے دہشت گردوں ہی کی ضرورت پڑتی ہے۔ محلّے میں جتنے آوارہ اور اوباش تھے جو ہر گزرنے والی کی نظروں سے جامہ تلاشی لینے کی علاوہ سارا دن اور کوئی کام نہیں کرتے، آپ کے طفیل نہ صرف انہیں نوکریاں مل گئیں بلکہ ایسی نوکریاں جو ان کے عین شایانِ شان تھیں۔ ان ساروں کو سیکوریٹی کی نوکریاں مل گئیں ۔ کل تک کی انکی ساری نازیبا حرکتیں آج انکی فرض شناسی اور مستعدی میں شمار کی جانے لگیں۔ اسطرح آپ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بن گئے۔ جی تو چاہتا ہے کہ آپ کا نام نوبل پرائز کیلیئے پیش کروں لیکن اگر ان لوگوں نے آپ کا پتہ پوچھ لیا تو ہماراکیا ہوگا؟ آپ کا پتہ تو یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اگر یہ کسی کو پتہ چل جائے تو ان کے ہتھیارفروخت ہونا بند ہوجائیں۔

ہم سوچتے ہیں اگر کسی دن آپ ہی خراماں خراماں سب کے سامنے تشریف لے آئیں تو ان بے چارے لاکھوں سیکوریٹی والوں کی نوکری کا پھر کیا ہوگا؟ اُن بے شمار پولیس افسروں کا کیا ہوگا جو آئے دن ہم جیسے شریفوں کو "قاعدہ" سکھاتے ہیں۔ اگر کوئی اِن کو "قاعدہ" سکھانے کی کوشش کرے تو اُسے انکاونٹر کر کے تمغے حاصل کرتے ہیں؟
"بڑے بھائی " کا کیا ہوگا جو آپ کے نام سے ڈرا کر شاہوں اور حکمرانوں سے ہفتہ وصول کر رہا ہے؟
اُن لیڈروں کا کیا ہوگا جو آپ کے نام سے ڈرا کر دھرم رکھشا کررہے ہیں۔ جنکو آپ کے نام سے ووٹ مل جاتے ہیں۔
معصوم نوجوانوں کے پاس سے فرضی ہِٹ لسٹ برآمد کرواتے ہیں اور اسمیں اپنا نام خود ہی شامل کرکے پبلسٹی حاصل کرتے ہیں۔
بے چارے اُس چوہے کی طرح ہیں جو ایک بار جنگل میں بے تحاشا بھاگے جارہا تھا۔ دوسرے جانوروں نے پوچھا بھائی کیا بات ہے کیوں بے حال ہورہا ہے؟ کہنے لگا کہ شیرنی کا اغوا ہوگیا ہے۔ دوسروں نے بڑی حیرانی سے پوچھا کہ اِس میں تجھے اِتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ کہنے لگا کہ شیر مجھ پر بھی شک کر سکتا ہے۔
ہمارے اکثر دیش بھگت لیڈروں پر اسی طرح کا ڈر سوار ہے۔ ڈرا ہوا آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے اِسی لیئے ہم ایسے ڈرے ہوئے لوگوں سے بہت ڈرتے ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اگر کبھی تشریف لائیں تو پلیز اپنے پلان سے نہیں بلکہ اُسی پلان کے مطابق تشریف لائیں جس کو ہمارے ذہین پولیس اور سیکوریٹی والوں نے بڑی محنت سے ترتیب دیا ہے۔ اور ہمارا چلنا پھرنا عذاب کر رکھا ہے۔عمارتوں کے آگے سمنٹ کے بلاکس رکھ کر آپ کے آنے کا راستہ فرض کرلیا اور ہمارے لیئے صرف ایک کار کے گزرنے کے راستہ چھوڑدیا جسمیں ہم گھنٹوں ٹرافک میں پھنس کر پٹرول کا دھنواں پیتے رہتے ہیں۔ کہیں مصروف ترین سڑک کے بیچوں بیچ آپ کے استقبال کیلیئے انہوں نے چیک پوائیٹ بنائے رکھے ہیں۔ اِس رینگتی ہوئی قطار میں بہت سارا وقت برباد کرنے کے بعد جب ہماری گاڑی انکے روبرو ہوتی ہے تو یہ دیکھ کر خون کھول جاتا ہے کہ ایک پولیس والا ہماری طرف پیٹھ کیئے دوسرے پولیس والے سے ہنسی مذاق میں مصروف ہے۔

داڑھی نیکی اور شرافت کی علامت ہے۔
شائد اسی لیئے اس پر نہ صرف doubt at first sight کیا جاتا ہے بلکہ shoot at first sight بھی کر دیا جاتا ہے۔ ہم بھی آج کے مسلمانوں کیطرح اپنی داڑھی کو دل میں بڑھانے کے قائل ہوگئے ہیں ۔ بلکہ مصلحت اور دفعِ ضرر کے اصولوں کے تحت فتویٰ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ کاش آپ کلین شیو ہوتے آپ خود دیکھتے کہ دنیا کی آدھی آبادی باریش ہوجاتی۔ آدھی اسلئے کہ باقی آبادی عورتوں کی بھی تو ہے۔

آپ کے دوستوں سے پتہ چلا کہ 10 مارچ کو آپ کی سالگرہ تھی۔ آپ کو تو یاد بھی نہیں ہوگا لیکن آپ کے دوستوں نے نہ صرف یاد رکھا بلکہ اپنے چشمِ تصوّر سے یہ بھی دیکھ لیا کہ بہت معمولی پیمانے پر سالگرہ منائی گئی ہوگی۔ کیک کاٹنے کی جگہ آپ نے نماز پڑھی ہوگی "ہاپی برتھ ڈے ٹو یو" کی جگہ آپ کی بیوی بچوں نے دعا کی ہوگی۔
معلوم ہوا کہ آپ 1957ء میں پیدا ہوئے ۔ 57 کا ہندسہ ہم دونوں کے درمیان مشترک ہے۔ شائد اسی لیئے ہمارے دوست اور دشمن دونوں بھی مشترک ہیں۔ دونوں کو ایک ہی رنگ اور نسل کے دشمنوں نے لوٹا اور بے اقتدار کیا۔ فرق یہ ہیکہ آپ 1957میں پیدا ہوئے اور ہم 1857 ء کی پیداوار ہیں۔

بھائی ایمن کو سلام کہیے گا۔ اور یہ بھی کہیے کہ چھوٹے چھوٹے ویڈیو پیغامات سے دل نہیں بھرتا۔ بقول کسی کہ
خط سے جی بھرتا ہی نہیں اب نین ملیں تو چین ملے

کسی دن تشریف لائیں ورنہ جسطرح بچوں کو سلانے کے لیئے شیر سے ڈراتے ہیں لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بچے سیانے ہوجاتے ہیں اور شیر کی حقیقت سمجھ جاتے ہیں اسی طرح ہم کو بھی معلوم ہے کہ آپ کی حقیقت کیا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں یہ حکمران بچے نہیں سمجھتے۔
آپ کے وجودِ غائبانہ پر ان کا اتنا ایمانِ کامل ہے کہ اپنے خزانے صرف آپ کی خاطر تباہ کررہے ہیں سیدھے سیدھے ففٹی ففٹی کیجیئے اور ہم کو بھی سکون سے جینے دیجئیے۔

امید کرتا ہوں کہ ضرور جواب سے نوازیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلی دنیا میں۔

فقط

آپ کے جواب کا منتظر

علیم خان فلکی ۔ جدہ

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے