Skip to content
 

خدا کسی کو ایڈیٹر نہ بنائے

ہماری دعا ہے کہ " خدا کسی کو ایڈیٹر نہ بنائے " ۔
ایڈیٹروں کے حق میں ہمارے موقف میں اچانک یہ رحمدلانہ تبدیلی پر ہمارے احباب کو اسی طرح حیرانی ہو گی جس طرح کسی مولانا کے بی جے پی یا پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملا لینے پر ہوگی ورنہ وہی ہم تھے جو اپنا مضمون شائع ہونے کے انتظارکے کرب میں انہیں کیا کیا الزامات سے نہیں نوازتے۔ انہیں " حق پسندوں کے دشمن ، سفارش پسند ، اقربا ء نواز، اپنے مضامین خود ہی فرضی ناموں سے چھاپ لینے والے ، مالکوں کے اشارے پر ناچنے والے " وغیرہ قرار دیتے ۔

سچ فرمایا رسولِ خد ا (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہ جب کوئی بند ہ بِلا تحقیق کسی پر تہمت لگائے گا تو اللہ تعالی اس بندے سے وہی عمل کروا کر ذلیل کرے گا۔ لہذا ہماری شامتِ اعمال رنگ لائی ۔ ہوا یوں کہ احباب نے یومِِ آزادی کے موقع پر ایک عدد مشاعرہ اور اس موقعہ پر ایک عدد سووینیر کے اجراء کا فیصلہ کیا۔ مقصد وہی گِھسا پِٹا ۔۔۔۔ جِسے بڑے بڑے حرفوں میں شائع ہونا تھا کہ اردو کی ترقی ، ادب کی خدمت و فروغِ ذوقِ مطالعہ وغیرہ۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد احباب نے سووینر کی ایڈیٹری کا قرعۂ فال ہمارے نام نکال دیا۔ ہم نے لاکھ سمجھایا کہ ہمیں صدر یا سرپرست وغیرہ منتخب کرلیں۔ لیکن پتہ چلا کہ صدرارت کیلئے دس ہزار روپیئے اور باقی عہدوں کیلئے دو دوہزار روپیوں کا چندہ دینا لازمی ہے ۔ ہمارا جذبۂ تعاون تو اس سخاوت کیلئے تیار ہو گیا۔ لیکن ہمارے ذوقِ شہرت نے ویٹو کر دیا ۔ سووینر میں ایک سوٹ والی تصویر چھپوانے کی اتنی زیادہ قیمت ایک احمقانہ سودا تھی وہ بھی ایسے میگزین میں جسے صرف شاعر یا مضمون نگار یا پھر وہی اصحاب پڑھیں گے جن کی تصاویر شائع ہونگی ۔ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ کسی اخبار میں اپنی تصویر کے ساتھ اشتہار شائع کروا کر سووینر کی اشاعت پر مبارکباد کا پیغام دیا جائے ۔ ہزاروں دیکھ لینگے، سینکڑوں اتفاقاً پڑھ بھی لینگے۔ سووینر نکلے نہ نکلے کم ازکم اپنے سرمائے کا فائدہ تو نکل آئے گا۔ اسی لئے تو لوگ گروپ فوٹوز میں شریک ہونے کیلئے ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے کسی تدفین کے وقت قُل کے ڈھیلے ڈالنے کا ثواب حاصل کرنے کیلئے ٹوٹ پڑتے ہیں ۔

خیر صاحب تو ہم ایڈیٹر بن گئے ۔ اگلے دن سے ہی غزلوں اور مضا مین کی آمد کا سلسلہ شر وع ہو گیا ۔ ایک ہی ہفتہ میں پچاس ساٹھ غزلیں جمع ہو گئں جو تمام اُن شعرا کی تھیں جن سے بچنے کیلئے ہم مشاعروں میں خاص طور پر ایسے وقت داخل ہونے کا اہتمام کرتے ہیں جب وہ سب سنا چکے ہوں۔ جس کا ظالموں نے ہم سے خوب انتقام لیا۔ ہر ایک نے اپنی تین تین چار چار غزلیں جن میں سے ہر غزل کم سے کم پندرہ اشعار پر مشتمل تھی نواز دیں اور انتخاب کی ذمہ داری ہمارے سر تھوپ دی۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ اچھے شعرا کئی کئی شعر لکھتے اور اُن میں سے پانچ چھ منتخب کرکے باقی کو ردّی کے حوالے کرڈالتے ۔ لیکن آج یہ حال ہے کہ شاعر اپنا فکری اُبال پورا کا پورا سامعین یا قارئین پر اُلٹ دیتے ہیں اِس امید پر کہ وہ کچہرے کے ڈھیر سے ہیرا ڈھونڈھ کر اُن کو اطلاع دینگے ۔ ظاہر ہے ہر شاعرکو اپنی ہر غزل اولاد کی طرح پیاری ہوتی ہے اسی لئے اکثر شعراء مشاعرے میں پورے کُنبے کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ
بعض تو بشیر بدر اور ندا فاضلی کی طرح شعر پیش کرنے سے پہلے ہاتھ جوڑ جوڑ کر داد کی اپیل اس طرح کرتے ہیں جیسے بیوہ ماں یتیم بچوں کی دہائی دے رہی ہو۔

ہم ایڈیٹر کی ذمہ داری بس اتنی ہی سمجھتے تھے کہ وہ مواد جمع کرے اور اپنی پسند کے شاعر یا ادیب کی تخلیق کاتب کے حوالے کر دے لیکن اب پتہ چلا کہ غزلوں اور مضامین کے ڈھیر سے انتخاب کرنا کسی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے کوئی کھوئی ہوئی چابی تلاش کرنے کے مماثل ہے۔ ایک دوسرا راستہ یہ بھی تھا کہ تمام تخلیقات کو ہمعصر تخلیق کا روں میں بانٹ دیا جائے اور ان سے "ایمان داری " کی شرط کے ساتھ تنقیدی جائزہ لینے کی قسم لے لی جائے تو ہمیں یقین ہے نہ کوئی غزل لائقِ اشاعت ہوگی اور نہ کوئی مضمون !
سچ کہا خامہ بگوش نے کہ اللہ تعالی ان تخلیق کاروں کو یہ سزا دے گا کہ ان کی تخلیقات ان ہی سے پڑھوائیگا۔ نہ تو ہم ڈاکٹر مصطفٰے کمال صاحب کی طرح اتنے صبر والے ہیں کہ سارے مضامین پڑھتے بیٹھیں اور نہ ہم اطہر ہاشمی کی طرح اتنے بے مروت ہو سکتے ہیں کہ مضامین کے پیراگراف ہی نہیں بعض اوقات تو پورا کا پورا مضمون حذف کر ڈالتے ہیں اور سینہ زوری کا یہ عالم کہ ملتے ہیں تو نہ مسکراہٹ میں کوئی کمی آنے دیتے ہیں نہ تعلقات میں ۔

خیر۔۔۔ غزلوں کے بعد مضامین کا سلسلہ شروع ہوا ۔ کسی مفکر کا قول ہے کہ کوئی دو مضامین پڑھ کر تیسرا مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ بلکہ دلیپ سنگھ آنجہانی نے کہا تھا کہ پرانی ایک دو ساڑیوں کو پھاڑکر ان سے جو نئے شرٹ شلوار بنائے جاتے ہیں وہ پرانی ساڑیوں سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں اور مفت بھی تیار ہو جاتے ہیں ۔ ایک ہمارے استادِ محترم جناب مصلح الدین سعدی صاحب تھے کہ ایک مضمون کیلئے کئی کئی کتابیں پڑھوا دیتے ۔ لیکن آج کی " ادب خواری "کے لئے ان سب بکھیڑوں کی ضرورت نہیں ۔ دو چار مضامین کی کترن سے ایک دو مضمون نکل ہی آتے ہیں۔

ایک صاحب نے جدید فلمی شاعری پر " کان ریزی "کی ۔ کیوں کہ اس شاعری پر تحقیق کے لئے عرق ریزی کی نہیں کان ریزی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور یہ ثابت کیا کہ فلمی شاعری نہ ہوتی تو اردو شاعری ختم ہو چکی ہوتی۔ ہمارا خیال تھاکہ فلمی شاعری کو پیدا کر نے اردو شاعری کا خاتمہ ناگزیر تھا۔ جیسے :
ہم نے دیکھی ہے اُن آنکھوں کی مہکتی خوشبو
ہاتھ سے چُھو کے اسے رشتوں کا الزام نہ دو

ہمیں ہندوستان چھوڑے ہوئے تیس سال ہو چکے ہیں۔ اسلئے شعری دنیا میں استعاروں، علامتوں ، تشبیہات وغیرہ کے استعمال میں جو انقلابات آ چکے ہیں ہم اُن سے قطعی ناواقف ہیں۔ آنکھوں سے چمک کے بجائے مہک پھوٹنے لگی۔ مہک بھی ایسی کہ اسے سونگھنے یا محسوس کرنے کی بجائے دیکھا جانے لگا۔ ستم بالائے ستم "اس مہک کو چھوا بھی جانے لگا "۔ اور طرفہ تماشہ یہ کہ اس مہک کو چھونے سے رشتوں کا ا لزام بھی آ سکتا ہے ا ور افسوسناک پہلو یہ کہ بین السطور میں نا جائز رشتوں کا الزام ۔۔۔
اگر ہمیں علم ہوتا کہ اِس قسم کی بے معنی شاعری کی بھی اِسقدر مقبولیت ہوگی تو ہم ہندوستان کبھی نہ چھوڑتے اور فُل ٹائم شاعری کرتے ۔ خیر مضمون اِسی طرح کی لغو شاعری سے بھرپور تھا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مضمون نگار کے بڑے بھائی فلمی اور ٹی وی کے حلقوں میں کافی اثر رکھتے تھے ۔ اس مضمون کو قبول کرکے ان سے تعلقات بڑھانے کا ایک موقع ہم کھونا نہیں چاہتے تھے اسلئے اردو کے مستقبل کی خاطرہم اپنا مستقبل تو داؤ پر لگانے سے رہے اس لئے ہم نے خوشی خوشی ان کا مضمون قبول کر لیا۔

ایک صاحب نے ایک مضمون " ادب میں ترقی پسندوں کا حصہ " اس خصوصی ہدایت کے ساتھ تھمایا کہ " خیال رہے ترقی پسند ادب کو خصوصی جگہ ملنی چاہیئے "۔
ترقی پسند ہونے کیلئے لکھنا اتنی ضروری نہیں ہوتا۔ اسکے لئے صرف قدروں سے باغی ہونا اور فرار حاصل کرنا کافی ہے۔ مثلاً کیفی اعظمی صاحب اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ اُنکے والدین نے انہیں عالمِ دین بنانے کیلئے مدرسے میں ڈال دیا لیکن وہاں کسی مولوی کی ایک بچے کے ساتھ ناشائستہ حرکت کو دیکھ کر انہوں نے مدرسے ہی نہیں دین سے بھی بغاوت کر دی۔ اور بمبئی بھاگ آئے لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ بچہ تھا کون؟ ترقی پسندوں پر ہمارے کئی اعتراضات ہیں۔ لیکن ہم نے مضمون قبول کر لیا کیونکہ مصنف نے ہمارے لڑکے کو نوکری دلانے کا وعدہ کیا ہوا تھا۔

ایک اور صاحب ہیں ناقد لکھنوی۔ سنا ہے کہ ایک عرصے سے تنقید لکھ رہے ہیں۔ لیکن ادبی حلقوں نے انہیں تنقید نگار ماننے سے انکار کر دیا تو مجبوراً انہوں نے اپنا نام ناقد رکھ لیا۔ سووینر کے لئے انہوں نے جو مضمون عنایت فرمایا وہ سب سے شاندار مضمون تھا ۔ عنوان تھا " شعر ِ جدید کا خالق ۔۔۔ فلکی " ۔
ہم عنوان دیکھتے ہی اچھل پڑے۔ خدا گواہ ہے کہ ہم کو آج تک شعرِ جدید و قدیم کا فرق بھی نہیں معلوم۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ شعرِ قدیم عروض ، بحر، ردیف و قافیہ اور پتہ نہیں کیا کیا کا پابند ہوتا ہے اور شعر جدید نہ صرف اِن تمام پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے بلکہ معنی و مقاصد سے بھی آزاد ہوتا ہے۔ پتہ نہیں ہمارے کس شعر نے ان کی بارگاہِ سخن میں سعادتِ قبولیت حاصل فرمائی کہ ہم کو شعرِ جدید کے خالق ہونے کا اعزاز نصیب ہوگیا ۔ ناقد صاحب ہمارے جلسوں اور مشاعروں کیلئے خاطرخواہ تعداد میں حاضرین فراہم کرنے کے کام آتے ہیں اس لیئے ان کا مضمون ازراہِ مروّت شامل کرنا ضروری تھا لیکن اگلے ہی ہفتے انکی شریکِ حیات نے ایک مضمون عنایت فرمایا : " تنقیدِ جدید کا خالق ۔۔۔ ناقد"
جب ناقد صاحب کے کہنے پر ہم نے اپنے آپکو شعرِ جدید کا خالق تسلیم کر لیا ان کی بیگم نے برا نہ مانا تو ان کی بیگم کے کہنے پر ان کے شوہر کو تنقیدِ جدید کا خالق کہنے پر ہم کو بُرا ماننے کا حق نہیں رہا ۔ خواتین کو جہاں پارلیمنٹ میں 33% حصہ دینے کی بات ہو رہی ہے وہیں سووینر میں ایک آدھ مضمون کی جگہ تو خواتین کو ملنی ہی چاہیئے اس لئے یہ مضمون بھی طوعاً و کرہاً قبول کرنا پڑا۔

مضامین کی کثرت کی وجہ سے جب منتظمین کی تصاویر والے صفحات کو خارج کر دینے کی نوبت آئی تو مجبوراً منتظمین نے یہ اعلان کروا دیا کہ بغیر اشتہار کے کو ئی تخلیق شائع نہیں کی جائیگی۔ صرف اور صرف اشتہارات کو شائع کر کے اردو کی خدمت تو کی جا سکتی ہے لیکن مضامین یا شاعری شائع کر کے نہیں کی جا سکتی ۔ ہم نے بڑے بڑے مشاعرے جلسے اور سیمینار بھی دیکھے مسندِ صدارت یا مسندِ مہمانِ خصوصی پر اکثر اُن بے ادبوں کا جلوہ ہوتا ہے جو قلم سے نہیں بلکہ جیب سے ادب میں اپنا مقام بناتے ہیں۔ اسلیے اشتہارات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔

اشتہار پالیسی کامیاب رہی۔ ایک حکیم صاحب نے اپنے ایجاد کر دہ نسخۂ مردانہ کا اشتہار اسی عنوان سے متعلق ایک عدد مضمون کے ساتھ عنایت فرمایا۔ پھر " ضرورت رشتہ " کے دفاتر ، " روحانی علاج " کے ماہرین وغیرہ سبھی جوش میں آ گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم کو پھرکسی مضمون کو ایڈٹ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ بعض قابلِ اعتراض چیزوں پر منتظمین نے ضرور اعتراض کیا لیکن مشتہرین کی جانب سے جب اشتہار واپس لے لینے کی دھمکی ملی تو وہ بھی خاموش ہو گئے۔ اب ہمارا کام اتنا رہ گیا کہ جو بھی مضمون اشتہار کی رقم کے ساتھ آتا ہم اُسے کسی مفت کے مضمون کی جگہ لگا دیتے۔ ایک صاحب نے کسی بڑی کمپنی سے اشتہار پکڑا اورپانچ ہزار روپیئے کے ساتھ اپنا مضمون "دلیپ کمار سے شاہ رُخ خان تک" پیش کیا۔ ہم نے اُسے طارق غازی کے مضمون "نشاةِ ثانیہ کے روشن امکانات" کی جگہ لگا دیا۔ اسی طرح ہم نے صدر کمیٹی جنہوں نے یوں بھی دس ہزار کا عطیہ دیا تھا انکی صاحبزادی کا مضمون "فیشن ڈیزائن کیا ہے " لیا اور نعیم جاوید کے مضمون "اسلام کا تصوّرِلباس " کی جگہ فِٹ کر دیا۔ کچھ آزاد غزلیں اور نثری نظمیں شاعر کی تصویر اور رقم کے ساتھ موصول ہوئیں لیکن جگہ کہ قلت تھی سکریٹری صاحب نے کہا کہ یہ علامہ اقبال اور غالب والے صفحے نکال دیجیئے کیونکہ تقریباً ہر رسالے میں غالب و اقبال تو یوں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں ہمارا فرض ہیکہ ہم نئی نسل کی ہمت افزائی کریں۔

ہم ایڈیٹر کیا بنے ہماری شخصیت میں ایک انقلاب آگیا۔ سرمایہ داروں کی اہمیت سمجھ میں آئی کہ ہم بھی سرمایہ دارذہن کے مالک ہوگئے۔ لوگ سمجھتے ہیں سرمایہ دار آزاد ہوتے ہیں دراصل لوگ سرمایہ دارانہ مجبوریاں نہیں سمجھتے ۔ ہم بھی کل تک نہیں سمجھتے تھے اِسی لئے آج تک ترقی نہیں کرسکے۔ خونِ جگر جلا کر ، راتوں کی نیندیں برباد کر کے شعلہ بیان تقریریں اور مضامین لکھ کر ہم یہ سمجھتے تھے کہ اِس حق کی آواز کو پڑھتے ہی دنیا کے سارے مظلوم ایک جگہ جمع ہو جائنگے۔
محلوں اور ایوانوں کی دیواریں کانپنے لگیں گی۔
منصف فیصلہ لکھتے وقت قلم تھام لیں گے۔
ایڈیٹر حضرات ہمارے مشکور ہونگے اور مزید مضامین کی فرمائش کرینگے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن اب سمجھ میں آیا کہ حق کی آواز بلند کرنے کیلئے بھی سرمائے ہی کی ضرورت ہوتی ہے !
اِسکے بغیر نہ جلسہ ہو سکتا ہے نہ کوئی رسالہ یا اخبار نکل سکتا ہے۔ شائد اسی لئے ہمارے ترقی پسند بھائی جب ساری دنیا کے مظلوموں کو جمع کرنے نکلے اتنی دور نکل گئے کہ اُنہیں پتہ ہی نہ چلا کہ وہ خود کب سرمایہ داروں کے ساتھ ہو گئے اور خود بھی سرمایہ دار ہوگئے۔

خیر ہم اُن تمام شعراء اور ادباء سے معذرت خواہ ہیں جن کے ساتھ ہم کل تک تھے اور ایڈیٹروں کو برا بھلا کہتے تھے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے