Skip to content
 

جوتوں کی شان

۔۔۔۔ بش کی شرافت ہیکہ اس نے جاتے جاتے یہ تو بتا دیا کہ اسکو دس نمبر کا نہیں کوئی اور نمبر کا جوتا چاہئے تھا جو مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ خیر زیدی کو بش کے مخالفین نے ہی نے نہیں بلکہ اسکے حمایتیوں نے بھی بھرپور دادِ شجاعت دی۔ ایک مصری نے بیٹی، ایک کویتی نے مرسیڈس کار اور ایک سعودی نے دو ملین ریال۔
جاپانیوں نے بش کے جوتے کھانے کے ایک گھنٹے کے اندر ہی کمپیوٹر گیم بنا کر زیدی کا ادھورا خواب پورا کردیا اور لاکھوں زیدی کمپیوٹر پر بش کو جوتے مار مار کر اپنے بھی ارمان پورے کرنے لگے۔ ۔۔۔۔احتجاج کی یہ تاریخ نئی نہیں ہے۔
فردوسی کے ایک شعر نے خاندانِ محمود غزنوی کی شان کو ملیامیٹ کردیاتھا۔
حیدرآباد کے نوجوانوں نے بھی مسلم پرسنل لاء کی مخالفت میں اٹھنے والے چند مسلمان لیڈروں کو بھی جب جوتوں کا ہار پہنایا تھا اسکے بعد سے آج تک کسی نے مسلم پرسنل لاء کی مخالفت یا یونیفارم سیول کوڈ کی حمایت میں بولنے کی ہمت نہیں کی۔
لیکن یہ یاد رہے کہ ایک جوتا دشمن کی ساکھ کو دھکّہ ضرور لگا سکتا ہے لیکن قوموں کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔ وقتی طور پر ایسے زیدی تو پیدا ہوتے رہیں گے اور اپنی حمیّتِ قومی کا ثبوت دیتے رہیں گے لیکن نہ ہر شخص زیدی بن سکتا ہے نہ ہر ایک کے سامنے بش آسکتاہے۔
اگر زیدی جیسی ہمت ، حوصلہ اور ارمان اپنے دلوں میں پاتے ہو تو اپنے اس حوصلے کواستعمال کرنے کے امکانات پر غور کریں۔ جوتے سے کہیں زیادہ طاقتور ہتھیار اللہ تعالیٰ نے ہرایک کو عطا کیاہے۔ اپنا قیمتی وقت، جوانی کی صلاحیتیں اور مال اگر صحیح استعمال کرنے کا ہر نوجوان عزم کرلے تو آج قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ورنہ ایک زیدی تو تاریخ میں یاد رہ جائیگا لیکن وقت وہ جوتے ہم پر برسائے گا کہ ہم جوتوں میں دفن ہوجائیں گے۔

زیدی کے جوتے پر خوش ہونے والوں سے یہ سوال ہیکہ جہاں آپ کے پاس اپنی ذات اور اپنے خاندان کیلئے اور شادی بیاہ اور نفل حج اور عمروں کیلئے لاکھوں کی رقم ہے لیکن قوم کیلئے سو یا دو سو روپیئے کے سوا کچھ نہیں تو ایسی قوم کی تعمیر و ترقی کی باتیں کرنے کا آپ کو کیا حق حاصل ہے۔ جو لوگ اپنی جیبوں سے کچھ نکالے بغیر قوم کی ہمدردی میں گھنٹوں تقریریں اور تبصرے کرتے ہیں وہ منافقت کرتے ہیں۔
آج مسائل کی شکل میں ہزاروں بش آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔جوڑا جہیز مانگنے والے بش، سیاست اور معیشت میں ترقی کے خواب دکھانے والے بش، عملیات کے ذریعے آپ کے مسائل حل کرنے والے بش، آپ کے قیمتی وقت اور صلاحیتوں کو لغو کاموں میں مصروف کروانے والے بش اور سب سے زیادہ اہم یہ کہ آپ میں مظلوم اقلیت ہونے کا احساس دلاکر مایوسی پیدا کرنے والے بش ۔ آپ اٹھیئے اور جوتے ہاتھ میں لینے کے عزم پیدا کیجیئے۔ جماعتیں اپنا کام تو کرتی رہیں گی لیکن جب تک ہر فرد خود اپنا فرض پہچان کر نہ اُٹھے وہ بش سے بڑا ظالم ہے۔
بقول علامہ اقبال

آشنا اپنی حقیقت سے ہو ائے دہقاں ذرا
دانا بھی تو کھیتی بھی تو باراں بھی تو حاصل بھی تو
آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
ناخدا تو بحر تو کشتی بھی تو ساحل بھی تو
بے خبر ، تو جوہرِ آئینہ ایّام ہے
تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے