Skip to content
 

ہم کس صدی کے ؟

ابھی خدا خدا کر کے نئی صدی اور نئے ملینیم Millinium کی آمد کا شور و غوغا ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ پلک جھپکتے سال ختم ہوگیا اب اکیسویں صدی کے سالِ آغاز کے جائزے شروع ہو جائنگے ۔ اخبارات و رسائل پھر انہی بوڑھے سیاستدانوں پر تبصرے اور کارکردگی کے جائزے لکھتے رہینگے جو یوں بھی اوور ٹائم میں جی رہے ہیں ۔ کتنا اچھا ہوتا کہ یہ لوگ نئی صدی کے آغاز پر نیک تمناؤں کے اظہار کے ساتھ ہی ایک نیک شگون کے طور پر اپنی سبکدوشی کا اعلان کے نئی صد ی نئی نسل کے حوالے کر دیتے تاکہ ان سب کو ہم پچھلی صدی کی بلکہ ملینئم کی شخصیات میں شامل کر کے تاریخ میں محفوظ کر دیتے ۔

دسمبر 99ء کے اختتام کے ساتھ ہی قسم قسم کے لکھنے والے بارش کے کیڑوں کی طرح نکل آئے اور صدی کی شخصیات کی فہرستیں پیش کرنے لگے۔ جب مقابلہ سخت ہو ہوگیا فہرست کل آبادی سے تجاوز کرنے لگی تو پھر ہر ایک نے اپنی اپنی پسندیدہ شخصیت کو صدی سے ترقی دیے کر ملینیم کی شخصیت قرار دیا۔ ہم نے کئی جھگڑے یوں نپٹائے کہ شخصیات کو پہلے تو محلے کی بنیاد پر تقسیم کر دیا کچھ حسینی علم کی صدی شخصیات ، کچھ فلک نما، ملے پلی اور پرانا پل وغیرہ کی۔ بعض نے ضد کی کہ ان کی فہرست میں محلہ کی سطح سے کہیں زیادہ اونچی شخصیات ہیں اس لیئے بادلِ نا خواستہ کئی ایک شخصیات کو شہر اور ریاست کی بنیاد پر ہم نے صدی شخصیات کے طور پر تسلیم کر لیا ۔ اس کے باوجود لوگ احتجاج پر قائم تھے بلکہ پرانا شہر میں تو معاملہ ہاتھا پائی تک جا پہنچا ایک گروہ کا دعوی تھا کہ امان اللہ خان صدی کی شخصیت ہیں تو دوسرا گروہ اویسی صاحب کو بلا شرکتِ غیرے پوری صدی کی شخصیت قرار دے رہا تھا ۔ اس سے پہلے کہ فساد پھوٹ پڑ تا ہم نے ایک صاحب کو ملینئم کی شخصیت اور ایک صاحب کو صدی کی شخصیت قرار دینے پر کسی طرح لوگوں کو راضی کر لیا۔

اگر چیکہ قوم میں شاعر، مفکر، سیاست دان، ریفارمرس اور فلسفی وغیرہ سبھی موجود ہوتے ہیں لیکن پوری قوم پر اجارہ داری سیاست دانوں کی ہوتی ہے۔ اس لئے صدی اور ملینیم شخصیت کہلانے کا ان کا دعویٰ زیادہ قومی ہوتا ہے ۔ کوئی سڑک کسی آبلہ پا کے نام سے موسوم نہیں ہوتی بلکہ اس لیڈر کے نام سے موسوم ہوتی ہے جو ٹریفک کو درہم برہم کرکے جلوس نکالتا رہا ۔ عوام کی ضرورت کے وقت تو وہ کبھی نہ آیا لیکن جلوس کی قیادت کے لیئے و قت سے پہلے پہنچتا رہا۔ معصوم لوگ سڑکوں پر حادثوں میں جان دیتے رہے اور وہ احتجاج اور بند کے ذریعے پھول پہنتا رہا۔ کھلاڑی اپنے جذبۂ قومی سے دنیا میں ملک کا نام روشن کرتے ہیں اسٹیڈئم کو رونق بخشتے ہیں۔لیکن اسٹیڈیم کو اس لیڈر کے نام موسوم کیا جاتا ہے جس کے باپ نے زندگی بھر بلّے کی شکل ہی نہیں دیکھی شائد اس لئے کہ سیاست کھیلوں میں سب سے بڑا کھیل ہے آپ کہیں گے سیاست میں کیا ہوتا ہے ؟ تو جناب کرکٹ میں رن ہوتے ہیں فٹبال میں گول ہوتے ہیں اور سیاست میں دل بدلی ہوتی ہے ۔اس طرح دواخانے ہوں کہ لائبریری ، یونیورسٹی ہو کہ کوئی ادارہ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں داخلے کیلیئے کرسی سے زیادہ قابلیت کو اہمیت دی جاتی ہے گویا یہ سیاستدانوں سے محفوظ اور پاک و صاف جگہیں ہیں لیکن یہاں بھی سیاست داں اپنے نام کا جھنڈا گاڑ دیتے ہیں ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ سیاست داں پڑھے لکھے نہیں ہوتے ، یہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں لیکن سیاسی مجبوری ہی کچھ ایسی ہوتی ہے کہ پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت نہیں دے سکتے کوئی پڑھا لکھا ہونے کا ثبوت پیش کرے تو اسے فوراً صدر یا گورنر کا عہدہ دے دیا جاتا ہے۔ اصلی سیاست داں کبھی گورنر یا صدر بننا نہیں چاہتا۔
سکھوں نے واجپائی جی کو صدی شخصیت قرار دیا ہے شائد اس لیے کہ وہ ابھی تک واحد ہیں اور شخصیت کا صیغہ بھی واحد ۔ ہم نے ایک سردار جی سے وجہ پوچھی تو انہوں نے یہ بتایا کہ واجپائی جی ایک نڈر لیڈر ہیں کسی سے ڈرتے نہیں اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اب تک شادی نہیں کی۔

اِدھر کے سائنسدانوں نے آئنسٹائن سے لیکر عبد الکلام تک فہرستیں مرتب کیں جس میں عبدالقدیر خاں شامل نہیں تھے اُدھر کی فہرست میں عبدالکلام شامل نہیں تھے ۔ مقالہ نگاروں کی بھی بن آئی غالب اور اقبال کے حوالے سے کوئی موضوع اب نیا نہیں رہا لیکن نئی صدی اور نئے ملینیم کے حوالے سے ایک بار پھر جتنا لکھا جا چکا تھا اس میں تھوڑا بہت رد و بدل کر کے دہرانے کا موقع ہاتھ آگیا۔جہاں تک غالب اور اقبال کا سوال ہے ہمارے اور ان میں بس ذوق اور مزاج کا فرق ہے ہم کو شاعری سے دلچسپی نہیں وہ شاعری کرتے تھے اگر ہم بھی شاعری کرتے تو تب مقابلے کی بات ہوتی اور تب ہی پتہ چلتا کہ وہ بڑے شاعر تھے یا ہم۔ اب اگر کوئی بڑا کام کرنے کا عزم بھی کر لیں اور انجام بھی دے ڈالیں تو اگلی صدی والے ہماری تاریخِ پیدایش کی وجہ سے ہمیں پچھلی صدی کا قرار دینگے اور پچھلی صدی والوں نے یوں بھی ہم کو اگلی صدی کے در پر آواز دینے کیلیئے کہہ دیا ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں ہماری طرح کے وہ تمام لوگ جو پیدا پچھلی صدی میں ہوئے اور انتقال اس صدی میں فر مائنگے ان کا شمار کس صدی میں ہوگا کیونکہ صدی شخصیت تو وہی زیرِ غور ہوتی ہے جو صدی کے آخر میں نام پیدا کرلے جس طرح ایک بیٹسمین آخری گیند پر چھکا لگا کر مین آف دی میچ بن جاتا ہے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے