Skip to content
 

ہائے وہ دہی بڑے

وطن میں رہنے والو ں کو کیا خبر کہ ہم غریب الوطنوں کیلئے دہی بڑوں کی یاد کسی من و سلویٰ سے کم نہیں ۔دہی بڑے رمضان کے چاند کی نوید ہوا کرتے تھے ، جوں ہی چاند نظر آیا اگلے دن سے دہی بڑوں کی خوشبو گلی گلی مہکنے لگی۔ لوگ کہتے ہیں وطن کی مٹی کی خوشبو آتی ہے ، پتہ نہیں کیسے آتی ہے البتہ جب کبھی کہیں دہی کا بگھار ہو اور اس میںبھجیئے انڈیلنے کے ساتھ ہی ایک چٹپٹی خوشبو فضاؤں میں بکھرے ، ہمیں وطن کی یاد آجاتی ہے شائد دہی بڑوں کی خوشبو ہی وطن کی مٹی کی خوشبو ہے ۔
مسجدوں کے باہر جگہ جگہ ہوٹلوں اور چلتی پھرتی گاڑیوں پر سوندھی مٹی کے سینکوں (طشتریوں ) میں سجے دہی بڑے سر پر پوری وضعداری کے ساتھ تلی ہوئی کالی مرچ کا تاج پہنے رمضان کا استقبال کرتے تھے جس کے چکھنے کے ساتھ ہی ہم اگلے دن کے روزے کے لیے تازہ دم ہوجاتے ۔

دیس بدیس کی خاک چھان لی۔ پزاہٹ Pizza Hut ، کنٹکی KFC ، میک ڈونالڈMcDonald اور بروسٹAlbaik وغیرہ پتہ نہیں کتنے ملکوں کے پسندیدہ چٹخارے کھا کر پیٹ بھرتے رہے لیکن ہر بار مہنگے بل ادا کرتے ہوئے وہ ایک روپیے میں دو دہی بڑوں کی پلیٹ ضرور یاد آئی جیسے کہہ رہی ہو:
شاخِ چمن کو آگ لگا کر اڑا تھا کیوں
اب یہ عذابِ دربدری عمر بھر اٹھا

ِمسجد میں اجتماعی افطار ہوتا پھر نماز کے بعد جونہی امام صاحب سلام پھیرتے لوگ باہر نکل کر بلا امتیاز مسلک و مذہب ایک ایک کر کے دہی بڑوں سے بیعت ہونے لگتے ۔ دنیا ومافیہا کی ساری فکروں سے دور ہر شخص ترنگ میں آ جاتا اور دو دو تین تین کی ٹولیوں میں نئے نئے موضوعات پر بحث مباحثے ، مناظرے اور تبصرے شروع ہو جاتے ۔ آج بڑے بڑے قیمتی ہال کرائے پر لے کر لوگ سیمینار اور کانفرنسیں کرتے ہیں ، طویل مقالے اور تقاریر کے ذریعے دماغ پاشی ہوتی ہے ۔مسائل تو حل نہیں ہوتے بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ الجھ جاتے ہیں۔ جبکہ دہی بڑوں کی ایک یا دو پلٹیوں پر ہم لوگ کھڑے کھڑے بڑے بڑے آفاقی مسائل حل کرلیتے تھے ۔ مسجد کی انتطامی کمیٹی کے اختلافات سے لے کر شہری ، قومی حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے مسائل بھی چِھڑ جاتے ۔ بے شمار سیاسی، ادبی ، فقہی اور سماجی مسائل تو ہم نے ایک ہی دہی بڑے پر حل کیے ہیں ۔
عقیدوں پر بحث حجت وتکرار اور فتوے بازی کا صحیح مزہ تو یقین مانیئے صرف دہی بڑوں کی نشست میں ہی آتا تھا۔ ہم ڈاکٹر تو نہیں جو دہی بڑوں کی طبّی افادیت پر روشنی ڈالیں ، صرف تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ دہی بڑے زبردست مقوی الذہن غذا ہیں جو پیٹ میں اترنے کے ساتھ ہی ذہن کے ساتوں طبق روشن کر دیتے تھے ۔

دہی بڑوں کی دکان کسی میخانے سے کم نہیں ہوتی جہاں پیرِ مغاں کو نہ کسی کے سیاسی نظرئیے سے سروکار ہوتا نہ مذہبی عقیدوں سے ۔ وہ تو بس کسی بریلوی کی جھوٹی پلیٹ دھو کر دیو بندی کے لیے تیار کر رہا ہوتا تو کبھی کسی دیوبندی کا جھوٹا گلاس کھنگال کر بریلوی کو پانی بھر کر پیش کر رہا ہوتا۔ ایک ہی ہانڈے سے شرابِ دہی نکال کر شیعہ و سنّی دونوں کے لیے شراب طہور مہیا کر رہا ہوتا۔

رمضان کے چاند اور دہی بڑوں میں وہی تعلق تھا جو چاند اور چاندنی میں۔ شب قدر میں دہی بڑوں کی جوانی عروج پر پہنچ جاتی ۔ دکان والا سر پر میلی سی پھٹی ٹوپی پہنے اگربتی کے دھویں سے ماحول کو معطر کرتے ہوئے رمضان کے نور اور برکتوں کا جیتا جاگتا نمونہ نظر آنے لگتا اور جوں ہی عید کا چاند نظر آ جاتا ، دہی بڑوں کی دکانیں "مفلس کا عشق اور جوانی غریب کی" کی طرح جاڑے کی چاندنی ہو جاتیں جس کی طرف کوئی نظر اٹھا کر نہ دیکھتا ۔
جب سے سیاسی پارٹیوں نے افطار ڈپلومیسی شروع کی ہے دہی بڑوں کو بھی دیگر لوازماتِ افطار پر ایک سیاسی مقام حاصل ہوگیا ہے ۔ گائے کو خدا ماننے والے ، ہم گوشت خور مسلمانوں کی ہر ڈش کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن دہی بڑوں نے گوشت خوروں اور سبزی خوروں کے درمیان ایک اتحاد پیدا کر دیا۔ اب منموہن سنگھ ہوں کہ اڈوانی سبھی دہی بڑوں کی بنیاد پر قومی یکجہتی اور سیکولرزم کو فروغ دینے کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ افطار پارٹیاں سیاسی عبرت کا بہترین مرکز ہوتی ہیں۔ سروں پر دستیاں اٹکائے ہوئے لیڈر اسلام یا رمضان پر چاہے ایمان لائیں یا نہ لائیں لیکن دہی بڑوں کے ذریعے ضرو ر مشرف بہ رمضان ہوتے ہیں۔ ان لیڈروں کے اطراف اقلیتی فرقے کے بڑے چھوٹے اور منجھلے درجے کے کئی منی لیڈرس میں بڑے لیڈر کو دہی بڑے کی پلیٹ پیش کرنے کا اچھا خاصا مقابلہ رہتا ہے ۔ لیڈر نے جس کا دہی بڑہ قبول کر لیا، سمجھ لیجیے کہ اس کی کونسلر یا ایم ایل اے یا کم از کم سرپنچ کے لیے سیٹ پکّی ۔
سنا ہے امریکہ میں بھی صدر کلنٹن نے ایک بار افطار کا اہتمام کیا، وہاں بھی چنچل گوڑہ برادری نے اسے دہی بڑے پیش کیے اس نے "واٹ اے نائس کٹ لِٹ" ، کہہ کر چھری اور کانٹے سے طبع آزمائی کی، پھر کسی بزرگ نے آگے بڑھ کر اسے چمچہ پیش کیا ۔
اس طرح دہی بڑے قومی اور عالمی شہرت کے حامل ہو گئے ۔ عجب نہیں کہ یہ بھی نیو ورلڈ آڈر کا حصہ بن جائیں کیونکہ جب سے خلیج میں ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی بہتات ہوتی ہے ، عربوں میں بھی دہی بڑے کافی مقبول ہونے لگے ہیں۔
اگرچیکہ حلیم نے پچھلے دو تین دہوں میں دہی بڑوں پر سبقت حاصل کر لی ہے ، لیکن حلیم کے پیچھے سرمایہ داروں کا ہاتھ ہے جنھوں نے حلیم کو میڈیا میں اشتہاری طاقت دے کر دہی بڑوں کو اردو کی طرح غریبوں کے لیے چھوڑ دیا ۔لیکن دہی بڑوں کی چاشنی ، اپنی جگہ قائم ہے ۔ آج بھی دہی بڑے کھا کر اور بھی چیزیں کھانے کی گنجائش نکل آتی ہے جبکہ حلیم کھانے کے بعد پیٹ اتنا بھر جاتا ہے کہ دماغ بھاری ہو جاتا ہے اور وہیں پاؤں پھیلا کر لیٹ جانے کو جی چاہتا ہے جبکہ دہی بڑے آدمی کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کی دھینگا مشتی کے لیے ہر وقت مستعد رکھتے ہیں۔
دہی بڑوں کے بعد اگر کچھ چلر بچ جاتا تو اس میں آدھی آدھی چائے ، سگریٹ اور ایک ایک پان بھی خرید لیا جاتا اور اسی دوران بحث کے آخری مراحل طئے ہوتے۔ عشاء کا وقت قریب ہوجاتا۔ اتنے اہم مسائل پر گفتگو کے بعد اب مزید نمازوں کی ہمت تو ہم میں نہ ہوتی اسلئے ہم عشا کیلئے آتے ہوئے مصلّیوں کو دیکھ کر بزمِ دہی بڑے سے اگلے دن تک کیلئے رخصت لیتے۔

آج جب ہم چھٹی پر جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مسجد وہی ، امام و موذن وہی اور دہی بڑے کی دکانوں پر جمگٹھے وہی لیکن وہ یار جانے کدھر بکھر گئے جن کے ساتھ دہی بڑوں کا اصل لطف ہوا کرتا ، جب ہم پیدل یا سیکل سوار ہوا کرتے تھے لیکن آج بفضل خدا ہم نے ترقی کرلی اور کار لے لی ہے ، اس ترقی سے ہم خوش تو بہت ہیں لیکن افسوس صرف اس بات کا ہے کہ اس ترقی نے ہم سے ایک روپیے کے دو دہی بڑے اور پچیس پیسے کی چائے جسے آدھی آدھی شیئر کر کے ہم سارے زمانے کے غم بھول جایا کرتے تھے وہ ہم سے چھین لی اور دہی بڑوں کے ساتھ ساتھ وہ یار بھی ہم سے جدا ہو گئے جن کے ہوتے نہ گزرتے تھے زمانے اپنے ۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے