Skip to content
 

غزل اور پاپ گانے والوں سے التماس

اچھا ہوا ہم کوئی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نہیں ورنہ سارے کلاسیکل گانے والوں کو بند کردیتے اور اُسوقت تک بند رکھتے جب تک کے وہ حلف نامہ داخل نہ کریں کہ آئندہ وہ کبھی غزل کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔
اگر مصرعہ اچھا لگے تو ہم اِدھر دوسرا مصرعہ سننے بے تاب ہوتے رہتے ہیں اور وہ کم بخت پہلے مصرعے کی ٹانگ ہی نہیں چھوڑتے۔اکھاڑے میں جسطرح ایک طاقتور پہلوان اپنی دھاک بٹھانے کمزور پہلوان کو لِڑا لِڑا کر اُس وقت تک مارتا رہتا ہے جب تک وہ کمزور ادھ مرا نہ ہوجائے یہ ظالم بھی اُسی طرح ایک ہی مصرعے سے مسلسل کُشتی کرتے رہتے ہیں اور ہم ادھ مرے ہوتے جاتے ہیں۔جونہی ایک سُر ختم ہوتاہے ہم کو امید بندھ جاتی ہے کہ اب دوسرا مصرعہ سنادیں گے وہ دوسرے سُر میں شروع ہوجاتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ بیچ بیچ میں آآآآآ اور اوں ں ں ں ں ں کی ایسی لمبی لمبی اونچی نیچی پتلی اور موٹی آوازوں میں مصرعے کو نچاتے ہیں کہ مصرعہ بھی اُنکے پاوں پکڑنے لگتاہے۔ کبھی ایسے لگتاہے ان کے گلے میں کچھ اٹک گیاہے اور کبھی لگتاہے سردی کی وجہ سے انکی آواز ٹھٹہر گئی ہے۔ کبھی ناک سے کبھی نیچے کے جبڑے سے کبھی اوپر کے جبڑے سے ایک ہی مصرعے کی مسلسل جگالی کرکے ہمیں آخرکار گالی دینے پر مجبور کرڈالتے ہیں۔

ابھی پچھلے ہفتے ہمیں ایک غزل کی محفل میں بادل ناخواستہ جانا پڑا ۔ ہم حتی الامکان ان محفلوں سے دور رہتے ہیں۔ کیونکہ عام طور پر یہ حضرات برسہابرس پرانی غزلیں جیسے "رنجش ہی سہی " یا "او ستمگر ترا مسکرانا" جنہیں شریف اسلم صاحب کی شادی میں سناچکے تھے وہی اِن کے بیٹے کے ولیمے میں بھی سناتے ہیں۔ دوسروں کی گائی ہوی غزلوں کو گانا ایسا ہی ہے جیسے کسی کے اُتارے ہوئے کپڑے پہن کر شان دکھانا۔
مگر اِس بار ہندوستان سے دو کلاسیکل گانے والے استاد خان برادران آئے ہوے تھے۔ ہم کو برادری کی خاطر جانا پڑا کیونکہ ہم بھی تو آخر خان ہیں۔ وہ اپنے بھانجوں اور بھتیجوں کے ساتھ تشریف لائے تھے ۔ پہلے تو بھانجوں اور بھتیجوں نے محمد رفیع مرحوم کی گائی ہوئی غزلیں پیش کیں اور محمد رفیع نے تال اور سُر کی جتنی غلطیاں کی تھیں ان کی اصلاح کرکے پیش کیا۔ پھر اُستاد صاحبان شروع ہوئے۔ انہوں نے غزل نہیں چھیڑی بلکہ ایک نازک اندام حسین غزل کو سرِعام کئی راگوں کو ساتھ لے کر چھیڑنا شروع کیا۔اور ہماری آنکھوں کے سامنے غزل کا وہی حشر ہوا جو کسی رضیہ کے بارے میں سنا تھا۔ غزل فارسی میں ہرنی کی خوف میں ڈوبی ہوئی اُس کانپتی آواز کو کہتے ہیں جو وہ شکاری جانوروں کے بیچ گِھرجانے پر نکالتی ہے۔ یہاں غزل کے مصرعے بھی خطرناک راگوں کے بیچ گِھر کر لرز رہے تھے اور کبھی گڑگڑا رہے تھے۔ ادھر چھوٹے بھائی دوسرے مصرعے کی طرف بڑھنے لگتے کہ فوری بڑے بھائی آآآآ کی ڈانٹ پلا کر پھر پہلے مصرعے پر کھینچ لاتے۔ دونوں بھائیوں کی اس دھینگامشتی میں ہم کبھی پہلا مصرعہ بھول جاتے اور کبھی دوسرا۔ ادھر بڑے خانصاحب جب شعر مکمل کرتے تو مسکراتے اور فاتحانہ انداز میں آداب بجالاتے جیسے کہ شعر بھی انہی نے لکھاہو۔ ہم جونہی تالیاں بجاکر اب اگلے شعر کیطرف بڑھنے کی خواہش کرتے وہ ہماری داد کو طلبِ مکرر سمجھ کر پھر اُسی مصرعے پر لوٹ جاتے۔ہم غزل کے چاہنے والے ہیں۔ جگجیت سنگھ اور منی بیگم ہمیں اسی لئے پسند ہیں کہ وہ ایک امانت کیطرح غزل کو سامعین تک پہنچاتے ہیں ورنہ جتنے خان ہیں جیسے غلام علی خان، مہدی حسن خان وغیرہ وہ اپنی عادت سے مجبور ہیں۔ مصرعہ تو مصرعہ و ہ لفظوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ بعض اوقات ایک لفظ سے دشمنی پکڑلیتے ہیں۔ جب تک وہ لفظ آکر معافی نہ مانگے اُسے نہیں چھوڑتے۔ کلی کو اتنا کھینچتے ہیں کہ وہ پھول بن جاتا ہے اور پتھر کو اتنے راگوں میں کھینچتے ہیں کہ وہ چٹان بن جاتاہے۔

خان صاحبان نے بھی "یہ نہ تھی ہماری قسمت " چھیڑی ۔
چونکہ غالب بھی خان تھے اور یہ بھی خان ہیں اسلئے ہمیں اعتراض نہیں ہوا ۔برادری والے ایک دوسرے کے مال کو جیسے چاہے استعمال کرنے کا حق تو رکھتے ہیں لیکن جب ان لوگوں نے "یہ نہ تھی۔۔یہ نہ تھی" ، کی رٹ لگانی شروع کی تو ہم نے زِچ ہوکر کاتب تقدیر سے درخواست کرنی چاہی کہ پلیز مان لیں اور انکی قسمت پلٹ دیں ورنہ یہ ساری رات یہ نہ تھی یہ نہ تھی کرتے رہیں گے۔ قسمت پلٹی یا نہیں پتہ نہیں لیکن ہم تنگ آکر گھر کی طرف پلٹے۔

غزل گانے والوں کی سب سے اونچی ذات کلاسیکل گانے والوں کی سمجھی جاتی ہے۔ انہیں غزل سے کوئی مطلب نہیں ہوتا بس سُروں کو پیش کرنے کیلئے صرف ایسے مصرعوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے راگ میں فٹ ہو سکیں ۔ ۔ پتہ نہیں غزل کیسے ان کے ہتھے چڑھ گئی۔ اس نازک جان غزل کو جب یہ راگ ملہار اور راگ پہاڑی پر چڑھاتے ہیں تو سننے والوں کو بھی بے دم کر ڈالتے ہیں ۔ ایک مصرعہ پکڑ لیتے ہیں تو اسی پر ٹوٹی ہوئی گراموفون کی سوئی کی طرح اٹکے رہتے ہیں ۔ اسلئے ہمارا خیال ہیکہ کلاسیکی فنکاروں کو غزل کی نہیں بلکہ اچھے موزوں جملوں کی ضرورت ہوتی ہے جوکسی بھی اخبار یا رسالے سے مل سکتے ہیں ۔ اگر یہ حضرات کالم پڑھ کر گایاکریں تو زیادہ بہتر ہوتا۔ بعض کالم تو شعری شگفتگی سے بھر پور ہوتے ہیں لگتا ہے جیسے نثری نظم پڑھ رہے ہوں ۔ جیسے جمیل الدین عالی کے کالم۔

چونکہ کلاسیکی موسیقی آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ صرف غزل سننے کے شوق میں اسے ہم نے آج تک برداشت کیا ہے اسلئے آوازوں میں چھپے راگ اور سر سے ہمیں بڑی الرجی ہے۔ یہ ہمیں کسی قبض کے شکار بچے کی تکلیف معلوم ہوتی ہے تو کبھی آپریشن کے بعد رفتہ رفتہ ہوش میں آنے والے مریض کی کراہیں ۔ کبھی کمزور بیٹری پر چلنے والے ٹیپ ریکارڈ پر ایل کے سہگل کا گانا لگتا ہے تو کبھی سخت سردی میں کٹکٹاتے ہوئے کسی بغیر چوکڑے کے بزرگ کی مترنم مناجات معلوم ہوتی ہے۔ پتہ نہیں ان حضرات کو غزل سے کیا دشمنی ہے ۔ ۔ اپنے فن کے اظہار کیلئے کچھ شعری نوعیت کے الفاظ یا مصرعے ہی درکار ہوں تو آزاد نظمیں گا لیا کریں۔ یوں بھی آزاد نظموں کا مصرف آج تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ یہ کیوں پیدا ہوئیں اور ان کا طریقِ استعمال کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا ۔ اگر کلاسیکل گانے والے ان کو اپنا لیں تو تمام آزاد نظموں اور آزاد غزلوں کا مقصدِ پیدائش طئے ہوسکتاہے۔ چونکہ اس میں بڑی، منجھلی، چھوٹی ہر سائز کی بحریں ہوتی ہیں۔ اس لیئے یہ کلاسیکل راگوں میں پوری طرح سے فٹ بھی ہو سکتی ہیں۔ جہاں کھینچنا ہوچھوٹے مصرعے کو اٹھا لیا جہاں بڑا راگ آئے بڑی لائین کو گالیا ۔ اس طرح ایسے آزاد شاعروں کو بھی زندگی مل جائیگی اور نثری نظمو ں کے وجود بھی سمجھ میں آجائیگا۔

عہدِ حاضر میں اچھی غز ل ا ور بری غزل کا تعین اس کے اچھے یا برے گائے جانے پر ہے۔ اگر اچھے طبلے اور آرکسٹرا پر گائی جائیں تو ندا فاضلی کی غزلیں بھی چل پڑتی ہیں اور میر و غالب کی غزلیں منہ دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ لوگ شاعر کا نام نہیں جانتے بلکہ نورجہاں یا سلمیٰ آغا والی غزل کے نام سے غزل کو یاد رکھتے ہیں۔ خود گانے والے اپنے سازندوں سے کہتے ہیں "وہ بارہ سو والی غزل کی تیاری کرو" یعنے وہ غزل جس پر پچھلے پروگرام میں سامعین نے بارہ سو روپیے ہارمونیم پر ڈالے تھے۔

اگر آپ پاپ سنگر ہیں تو جان لیجیئے کہ ہم بھی پاپ موسیقی کے شیدائی ہیں۔ اَس کی گھن گرج سے ہم ہی نہیں ہمارے گھر کے ناسمجھ بچے بھی جھومتے ہیں۔ اس میں نہ سُر کی ضرورت ہے نہ تال کی، نہ غزل کی ضرورت ہے نہ شاعری کی۔ صرف کانوں کو پھاڑ دینے والی میوزک کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب سے ہم نے پاکستانی پاپ گروپ "جنون " کا گایا ہوا علامہ اقبال کا نغمہ " مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ " سنا ہے ہم کومحلّے کی مسجد کی اذان بھی بالکل پھیکی لگنے لگی ہے اگر پاپ گانے والے، بجائے غزل کے ، اپوزیشن لیڈروں کے بیانات گایا کریں تو قومی شعور بیدار ہو سکتا ہے۔
پاپ گانوں میں ایک صدائے فریاد، احتجاج اور ایک انقلاب زند ہ باد والے جلوس کی کیفیت ہوتی ہے۔ ایسا جلوس جس میں کئی نعرے مل کر خود بخود ایک سرُ بن جاتے ہیں۔ اس میں کوئی بینڈ بجا رہا ہے تو کوئی تالی اور کسی کو بجانے کیلئے کچھ نہ ملے تو سڑک کے کنارے پڑا خالی ٹین کا ڈبہ لے کر بجا رہا ہے۔ ایک عجیب عالمِ کیف و مستی میں ہر کوئی جھومتا نظر آتا ہے۔ اسلئے پاپ گانے والوں سے ہماری درخواست ہے کہ وہ قاضی حسین احمد یا لالو پرساد یادو کے بیانات گایا کریں۔
غزل پاپ گانوں میں بالکل نہیں سجتی ۔
غزل محبوب سے سرگوشی کرنے کا نام ہے نہ کہ اسکو دروازے پیٹ کر نیند سے بیدار کر نے کا۔ اس طرح سے تو نازک مزاج غزل کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ غزل میں نہاں محبوب کا تصور تو اتنا حسین و پاکیزہ ہے جیسے چودھویں شب میں تاج محل کا دریا کی لہروں پر پڑنے والا دلنشیں عکس۔ آپ لوگ اس حسین و با حیا تصور کو ایم ٹی وی کے پردے پر نیم برہنہ کر کے غزل کی آبرو برباد کر ڈاتے ہیں۔اگر اپوزیشن کے بیانات نہیں تو گیت یا دوہے ہی گا لیا کریں۔ مشاعروں کو گیت آلود کرنے والے شعراء کی بھی بن آئیگی۔

اگر آپ کو یہ بھی پسند نہیں تو پھر اشتہارات گا یا کریں ۔ آمدنی بھی دگنی ہوگی ملکی صنعت بھی ترقی کرے گی ا ور آپ کو نئی نئی غزلوں پر ہفتوں محنت سے نجات بھی مل جائے گی۔ مردانہ علاج کے اشتہارات پاپ میوزک کے لئے سب سے زیادہ مناسب ہیں۔ " علاج سے پہلے " والی کیفیت لوگ دیکھ بھی سکیں گے اور سن بھی سکیں گے۔ جو " ہم مرض " ہیں وہ ساتھ ساتھ تالیاں بجاتے ہوئے گا بھی سکیں گے۔

غزل گانے والوں سے یہ بھی درخواست ہے کہ ایک تو آپ فیس تو وصول کرتے ہی ہیں پھر سامعین کی طرف سے لٹائے گئے روپیوں کو بھی آپس میں پولیس والوں کی طرح تقسیم بھی کر لیتے ہیں اس کمائی سے شاعر کا بھی حصہ نکالا کریں۔ بے چارے خستہ حال شاعر کیسی کیسی عظیم غزلیں چھوڑگئے ۔ تنگدستی کے عالم میں خونِ جگر جلاتے رہے۔ راتوں کو جاگ جاگ کر دنیا کو غزلوں کا عظیم ورثہ دیا اور گھر والوں کیلئے بغیر کوئی ورثہ چھوڑے دنیا سے گزر گئے ان کے پسماندگان اپنے باپ کے ورثے پر غیروں کی کمائی کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ اگلی نسل تک اردو ا ور غزل باقی رہے تو اپنی کمائی سے ان کا حصہ نکالیئے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے