Skip to content
 

خامہ بگوش - آزاد شاعری اور جدیدیت پسندوں کے تعاقب میں

اگر چیکہ آزاد شاعری کا وجود ترقی پسند تحریک سے قبل بھی تھا جسے خامہ بگوش نے ثابت کیا لیکن ترقی پسندوں کے دور میں یہ خوب پروان چڑھی کیونکہ اس میں سطح پسندی اور سہل پسندی کی آسانیاں تھیں۔ خامہ بگوش نے آزاد جدید شاعری اور نثری نظموں کو ” اسقاطِ سخن “ یعنے Abortion of Adab کا نام دیا۔
اور یہ بڑی حد تک صحیح اس لیئے بھی ہے کہ ادبی تخلیق جو گہرائی فکر ،مطالعہ اور محنت چاہتی ہے وہ ہر ایک کو میسر نہیں ہوتے ۔ لیکن کیا کریں فطرتِ انسانی کا کہ آدمی عورت کے حسن کی طرح اپنے خیال کا بھی اظہار اور داد چاہتا ہے۔ اس لیئے کوئی نہ کوئی ذرئعہ ڈھونڈھ لیتا ہے ۔ آزاد شاعری اور ترقی پسندوں کی رد میں وجود میں آنے والی جدیدئت پسندی نے ہر شاعر و نا شاعر، ادیب و غیر ادیب کو اظہار کا جواز ہی نہیں داد حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کر دیا۔
لیجیئے ملاحظہ فرمایئے خامہ بگوش ہی کے الفاظ میں آزاد غزلوں اور نثری نظموں نے اردو ادب میں کیا مقام حاصل کیا ہے؟

”صنفِ نازک کی طرح آزاد غزل میں بھی لچک پائی جاتی ہے۔ اس کے ہر شعر کا پہلا مصرعہ دوسرے مصرعے سے لمبائی میں کم یا زیادہ ہوتا ہوتا دونوں مصرعے برابر اس لیئے ہوتے ہیں کہ کہیں شعر با معنی نہ ہوجائے“۔
نثری نظموں کے بارے میں مجروح صاحب نے بڑی سنسنی خیز گفتگو کی ہے۔ ( انٹر ویو اخبار جنگ)
فرماتے ہیں :
” نثری شاعری آج کل جس چیز کا نام ہے وہ صرف شاعر نہ ہو سکنے کی وجہ سے اپنی ہوس مٹانے کا نام ہے کہ مجھے شاعر کہا جائے ۔۔۔۔ یہ ایک شکست خوردگی کی علامت ہے آپ شاعر تو ہیں نہیں مگر زبردستی شاعر بننا چاہتے ہیں۔ یہ نثری شاعری کیا ہوتی ہے؟ یا شاعری ہوگی یا نثر ہوگی؟ “
اس کے آگے خامہ بگوش کچھ اس طرح تبصرہ طراز ہوتے ہیں کہ :
” ہمارے نزدیک اس میں کوئی برائی نہیں ہے کہ کوئی شخص شاعر نہ ہو اور شاعروں کی فہرست میں اپنا نام دیکھنا پسند کر ے۔ بُری بات تو یہ ہے کہ شاعروں کی فہرست میں جن لوگوں کے نام شامل ہیں ان میں بیشتر ایسے ہیں جن کی وجہ سے شاعری بدنام ہوتی ہے۔ استاد لاغر مرادآبادی کا قول ہے کہ برے شعر کہنے سے بہتر ہے کہ آدمی نثری نظم لکھے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح کوئی شریف آدمی شریفانہ زندگی بسر نہ کر سکے تو اسے خودکشی کر لینی چاہیئے ۔
( اسقاطِ سخن تبصرہ بر مجروح سلطان پوری )

سلطان جمیل کا تعلق ایک موقّر ادبی گھرانے سے ہے جس کا ہر دوسرا شخص شاعر ہوتا ہے اور جو پہلا شخص شاعر نہیں ہوتا وہ بھی آخر آخر میں نثری نظم ضرور لکھنے لگتا ہے۔
( ادب کا جعلی شناختی کارڈ تبصرہ بر ”کھویا ہوا آدمی“ از سلطان جمیل)

قمر جمیل پاکستان کے ایک معروف ادیب و شاعر ہیں جنہوں نے روزنامہ جنگ میں انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہی نثری نظموں کے بانی ہیں کہتے ہیں :
” محمد حسین آزاد ، عبدالحلیم شرر سے ہوتا ہوا نظم کی صورت میں شاعری کا سفر راشد میرا جی اور فیض تک آیا نظم کے اس سفر میں خدا کے فضل سے ایک نیا سفر میری ذات سے بھی شروع ہوا یہ نیا سفر نثری نظم کا تھا۔ نثری نظم کم پڑھے لکھے لوگوں کا کام نہیں ہے“۔

خامہ بگوش اس سفر اور مسافر دونوں کی کچھ اس طرح خبر لیتے ہیں کہ جیسے بلا ٹکٹ سفر کرنے والا پکڑے جانے پر بغلیں جھانکنے لگتا ہے ملاحظہ ہو :
” ہمیں اس دعوے سے اتفاق ہے کہ نثری نظم کیلئے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے ۔ ہم اختلاف کر کے اس اعزاز سے محروم ہونا نہیں چاہتے کہ ہمارا شمار بھی پڑھے لکھے لوگوں میں ہو۔ لیکن استاد لاغر مرادآبادی کو اس سے اتفاق نہیں ہے وہ فرماتے ہیں ” اگر ایسا ہوتا تو نثری نظموں سے اس کا اظہار بھی ہوتا۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ میر و غالب سے لیکر اقبال و فیض تک وہ تمام شعراء جنہوں نے نثری نظمیں نہیں لکھیں ان کا پڑھا لکھا ہونا مشکوک ٹھہرتا ہے۔
استاد گرامی کی خدمت میں عرض ہے کہ جب میر و غالب اور اقبال و فیض نے نثری نظم نہ لکھ کر اپنے پڑھے لکھے ہونے کا کوئی ثبوت نہیں چھوڑا تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ان کا پڑھا لکھا ہونا ثابت کیا جائے۔

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نثری نظموں کے ترجمے دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں ہو رہے ہیں ہماری گزارش ہے کہ ان زبانوں میں اردو کو بھی شامل کر لیا جائے ہمیں یقین ہے کہ پھر اردو کا شمار بھی دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں ہونے لگے گا۔

ان حضرات نے نثری نظموں کے لیئے خصوصی نشست کی تجویز رکھی ہے یہ نہایت معقول تجویز ہے مگر رکاوٹ یہ ہوگی کہ سامعین دستیاب نہیں ہوں گے اگر یہ شاعر حضرات خود نثری نظموں کے مشاعروں میں بطورِ سامعین شرکت کی ذمہ داری قبول کرلیں تو اس نیک کام کا آغاز ہو سکتا ہے اسکا ضمنی فائدہ تو یہ ہوگا کہ کلام سنانے کا وسیع تجربہ رکھنے والے ان شاعروں کو کلام سننے کا بھی تجربہ ہو جائے گا اور انہیں یہ معلوم ہو جائے گا کہ کلام سننا کلام سنانے سے زیادہ ٹیڑھا کام ہے ۔
ہماری ایک اور تجویز ہے کہ نثری نظمیں ترنم سے پڑھی جائیں ترنم شعری عیبوں کی پردہ پوشی ہی نہیں کرتا بلکہ خوبیوں کو بھی چمکا دیتا ہے بشرطیکہ وہ موجود ہوں ۔ مشاعروں کی طرح ایسی محافلِ موسیقی بھی منعقد کی جا سکتی ہیں جن میں صرف نثری نظمیں گائی جائیں گی ان میں ان ہی گلوکاروں کو زحمتِ نغمہ دی جائے جو موزوں کلام کو بھی نا موزوں کر کے سناتے ہیں ۔ اس تجویز پر کچھ عرصے عمل ہوگا تو امید ہے کہ نثری نظموں کو فلمی گانوں جیسی مقبولیت حاصل ہو جائے گی۔ اس مقبولیت کو دیکھ کر فلم ساز گیتوں کی بجائے نثری نظموں کو استعمال کرنے لگیں گے۔ ٹی وی کی وجہ سے ہمارے ملک میں فلمی صنعت رُو بہ زوال ہے نثری نظموں کی وجہ سے امید ہے کہ زوال کی رفتار تیز ہو جائے گی اس طرح کم از کم ایک شعبۂ زندگی میں ہم دم توڑتی ہوئی بیسویں صدی کی تیز رفتاری کا ساتھ دے سکیں گے۔
( نئی شاعری یا فرسودہ شاعری ۔ تبصرہ بر قمر جمیل )

نثری مزاحمتی اور جدید شاعری پر امجد اسلام امجد جو کہ نئی نسل کی شاعری کے نمائیندہ شاعر مانے جاتے ہیں کھل کر تنقید کی ہے وہ اس طرح کی شاعری کو ناموزوںِ طبع کی وجہ سے وجود میں آنے والی قرار دیتے ہیں۔ اس پر خامہ بگوش یوں تبصرہ نواز ہوتے ہیں کہ :
” امجد کی رائے خاصی انتہا پسندانہ ہے۔ فرماتے ہیں کچھ لوگ بنیادی طور پر شاعر نہیں ہوتے لیکن شاعر بننا چاہتے ہیں چونکہ ان کے اندر شاعر بننے کی بنیادی صلاحیت نہیں ہوتی تو وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شاعرانہ خیال ہی شاعری ہے۔ اس معاملے میں ہمیں امجد سے اتفاق نہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی ادبی اصطلاح کا مفہوم ہر زمانے میں یکساں رہے آزادی سے پہلے مزاحمتی شاعری جابر حکمرانوں کے خلاف ہوتی تھی اب خود شاعری کے خلاف ہوتی ہے یعنی مزاحمتی شاعری وہ ہے جس میں کوئی شاعرانہ خوبی نہ ہو اور اس کے باوجود اسے شاعری کا نام دیا جائے۔

نثری نظموں کی معاملے میں بھی ہمیں امجد کی رائے سے اتفاق نہیں۔ جن لوگوں میں شاعری کی صلاحیت نہیں ہوتی انہیں بھی تو بہر حال کچھ نہ کچھ کرنا ہوتا ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے بہتر ہے نثری شاعری کر لیں ۔ نثری شاعری کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو پڑھنے کی عادت نہیں وہ اپنی اس عادت کے جواز میں نثری شاعری کو پیش کر کے نہایت خوش اسلوبی سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ پڑھنے سے نہ پڑھنا بدرجہا بہتر ہے۔
( شگفتہ بیانی یا آشفتہ بیانی ۔ تبصرہ بر امجد اسلام امجد )

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے