Skip to content
 

اے میرے لختِ جگر

السلام علیکم ۔
تم جہاں بھی رہو اللہ تعالی تمہیں کامران و شادمان رکھے آمین۔

علیم میاں آئے تھے کہہ رہے تھے کہ تم شاہ رخ خان اور ملّیکا شراوت کی ویڈیو تو پیسے دے کر خریدتے ہو لیکن کسی مقصدی مشاعرے کے بھی کارڈ مفت مانگتے ہو۔

بہت افسوس کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ تم مجھے یاد تو کرتے ہو لیکن غمِ روزگار نے تمہیں اتنا مجبور کردیا ہیکہ تمہارے پاس میرے لیے سوچنے کا وقت نہیں ہے۔
میرے بچے میں تمہاری مجبوری سمجھتی ہوں ۔ اگر میں تمہارے ساتھ ہوتی تو آج تمہیں غیروں کے آگے نہ کبھی جھکنا پڑتا نہ کسی احساسِ کمتری میں مبتلا ہونا پڑتا۔ ماں کا سہارا صرف اولاد ہوتی ہے اگر وہی جوان ہو کر ہاتھ چھڑا کر بھاگ جائے جس طرح کہ ایک جانور رسی تڑا کر بھاگ جاتا ہے تو بوڑھی ماں کر بھی کیا سکتی ہے؟ میرے پاس اب رہا بھی کیا جو میں تمہیں دے سکوں ۔
میرا حُسن دہلی میں اجڑ گیا ،
میرا ایک ایک زیور حیدرآباد کے دائرة المعارف میں چار دن تک جلایا جاتا رہا۔ کوئی بجھانے تک نہیں آیا۔
لکھنؤ والوں نے مجھے مقام تو دیا لیکن صرف شاعری اور مجروں کی حد تک۔

کسی کو میری جوانی کا اندازہ کرنا ہو تو وہ نظام خاندان کی جوانی دیکھے اور کسی کو میری طاقت دیکھنی ہو تو گنگا جمنی تہذیب کا مطالعہ کرے۔ خیر کسی سے کوئی گلہ نہیں جب اپنی اولاد ہی اپنی نہ رہے تو کسی سے کیا گلہ۔ میری جوانی کی کچھ تصویریں آج بھی لکھنؤ کے محلات میں ، کچھ عثمانیہ یونیورسٹی اور لال قلعہ کی دیواروں پر لگی ہیں۔

اگر چیکہ دشمنوں نے میری ایک ایک نشانی پر گیروا رنگ چڑھا کر میری شناخت مٹا دی پھر بھی مجھے ان سے گلہ نہیں کیونکہ خود میری اپنی اولاد نے جسے میں نے گود میں بولنا سکھایا، خاندان ہی نہیں ساری دنیا سے پہچان کروائی ، غیر زبانوں اور غیر تہذیبوں کو سمجھنے کا ذریعہ دیا اسی نے اپنی شخصیت کے گھروندے پر غیر زبان اور غیر تہذیب کے رنگ و روغن چڑھا دیئے۔ آج اگر میرا نام کوئی لیتا ہے تو کہتے ہیں کہ :
” ہم نہیں جانتے“
اگر کچھ جانتے بھی تھے تو دوریوں نے بھلانے پر مجبور کر دیا۔ مگر اتنا یاد رکھو تم مجھ سے لاکھ دور رہو ، لاکھ پہچاننے سے انکار کرو غیر تمہاری صورت دیکھتے ہی کہہ دینگے کہ تم میری اولاد ہو !!
آج تم غیروں کے گلدانوں میں سج تو چکے ہو لیکن دیکھنے والے تو جانتے ہیں کہ جس شاخ پر تم چٹکے تھے اس کو ہوا پانی اور روشنی میں نے دی تھی ۔ پھول جو شاخ پر ہوتا ہے چمن کی زینت ہوتا ہے مرجھاتا بھی ہے تو اس کی خوشبُو نئے گلوں کی خوشبُو میں شامل ہو کر چمن میں ہی رہتی ہے شاخ سے الگ ہو کر وہ صرف بستروں اور قبروں پر سجتا ہے۔

میرے بچے میں تمہیں کیسے سمجھاؤں کہ میرے بغیر تمہاری رُوح گونگی ہے کیونکہ روح تو اسی زبان میں نغمے گاتی ہے جو اسے ممتا کی گود میں لوریاں سنتے ہوئے سب سے پہلے نصیب ہوئی تھی جو توتلا نغمہ بن کر پہلی بار اس کی زبان سے نکلی تھی۔ یہی نہیں بلکہ میرے بغیر تمہارے اندر کا انسان غیرت اور غصے سے بھی محروم ہے کیونکہ انسان کو غیرت اور غصہ اندر سے اسی زبان میں آتا ہے جس زبان میں اس نے پہلی بار گالی دینی سیکھی تھی۔ یاد رکھو جس انسان میں غیرت اور غصہ نہیں ہوتا وہ رفتہ رفتہ بے غیرت و بے حمیت ہوتا چلا جاتا ہے۔کیا تم انکار کر سکتے ہو کہ تم کو کوئی خواب بھی آتا ہے تو صرف میری زبان میں آتا ہے۔ تم دوسری زبان میں اپنا خواب بھی بیان نہیں کر سکتے۔

بیٹا! شعر و ادب کسی زبان کا حسن ہوتا ہے ۔ اس معاملے میں اللہ نے مجھے جتنا حسین بنایا ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی اگر چیکہ ہندوستان میں میں بے گھر ہوں پھر بھی کوئی فلم ہوکہ سیریل گانے ہوں کہ سیاسی تقریریں میرے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ حتّیٰ کہ عرب اور افریقی تک جو مجھے نہیں جانتے لیکن مجھے دیکھ کر گنگنانے لگتے ہیں لیکن تمہارا حال ہے کہ میرا کوئی غریب شاعر یا ادیب اپنا رسالہ ، کلام یا کتاب تمہارے آگے پیش کرتا ہے تو کہہ دیتے ہو کہ دلچسپی نہیں ہے یا وقت نہیں ۔اگر یہ غریب فرزند نہ ہوتے تو شائد میں کبھی کے مر چکی ہوتی۔

تم اپنی اور بیوی بچوں کی تفریح کے لئے تو اُن ویڈیو اور آڈیو پر بے دریغ خرچ کرتے ہو۔ واہیات شاعری اگر موسیقی اور ناچ کے ساتھ سامنے آئے تو جھوم جھوم کر دیکھتے ہو بچوں کو دکھاتے ہو لیکن میرے غریب ادیبوں کے لے تمہارے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ مشاعرے کے کارڈ تک تم مفت مانگتے ہو۔ تم بد قسمت ہو جو سڑک پر چُننے اور کھانے کے ایسے عادی ہو گئے ہو کہ محل کے نان و کباب کا تمہیں مزہ چھو کر نہیں گزرا۔ تم ان فضول بے ہودہ تفریحات پر جتنا خرچ کرتے ہو اور جتنا وقت صرف کرتے ہو اگر اس وقت اور مال کا پاؤ بھی میرے لئے خرچ کر سکو تو آج بھی مجھ میں اتنا دم پیدا ہوسکتاہے کہ میں اپنے مرحوم بیٹے بہادر شاہ ظفر سے چھینا ہوا ہندوستان معہ سلطنتِ آصفیہ کے واپس دلا دوں۔

میں نے تاریخ کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے لیکن مقدمہ جیتنے کے لئے نہ صرف قابل وکلاء کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ باہر سے آواز اٹھانے والے قابل افراد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے ایک سے ایک قابل بیٹے ہوتے ہوئے بھی میں بانجھ کی طرح ہوں ۔ ڈاکٹر ، انجینئر ، سائنٹسٹ، ایم بی اے ، بی ایس ،ایم ایس وغیرہ وغیرہ بہت کچھ ہیں لیکن اتنے خود غرض ہیں کہ جس نے ان کو تر نوالہ دیا اسی کے گُن گانے لگے اسی کی بولی بولنے لگے ۔ کوئی ہندی تلگو مرہٹی کی گود میں جا بیٹھا کوئی عربوں کا غلام ہو گیااور کوئی انگریزی سیج پر سج گیا۔ ایسے ہی لوگ ” ابن الوقت “ کہلاتے ہیں۔ میرے اک چہیتے ڈپٹی نذیر احمد نے ایسے لوگوں کے بارے میں کیا خوب لکھا کہ :
”کوئی شخص دولت یا ہنر یا کسی اور وجہ سے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے جب تک وہ ایک ذلیل قوم کا آدمی ہے اس کی کوئی عزت نہیں ہے
۔ ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ ذلیل قوموں کے لوگ بڑے مالدار ہو جاتے ہیں مگر اپنی ترقی اور مال سے قومی ذلت کے داغ کو نہیں چھڑا سکتے اور غیر سوسائٹی کبھی ان کی ایسی وقعت نہیں کرتی جس کے وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتے ہیں“۔

بیٹا !
دنیا میں ترقی وہی کرتے ہیں جو اپنی ماں کی زبان اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑتے ۔ اس کے ہاتھوں کے سُوکھے نِوالے خوشی سے کھاتے ہیں لیکن غیر ماں کے سونے چاندی کے برتن کو بھی ہاتھ نہیں لگاتے ۔ جرمن ، جاپانی، فرینچ، انگریزی، اِسپینش وغیرہ ان سب کو دیکھ تو آج یہ اگر مہذب اور ترقی یافتہ کہلاتے ہیں تو محض اس لئے کہ انہوں نے غربت میں بھی اپنی ماں کا ساتھ نہ چھوڑا۔ جرمن اور جاپانی ابھی پچاس سال پہلے بھیک مانگنے پر مجبور تھے۔ کوریا بھی جنگ کے بعد ایسی غربت کا شکار ہوا تھا کہ عورتیں سڑکوں پر اس طرح بِکتی تھیں جس طرح کہ مرغیاں بکتی ہیں ۔ ان میں سے ایک بھی ایسی قوم کا نام بتاؤ جس نے غیر زبان یا غیر تہذیب کا سہارا لے کر ترقی کی ہو۔ خود تلگو یا ملیالی کی مثال لے لو کل تک وہی دھیڑ مانگ کہلاتے تھے لیکن اُنہوں نے ہمارے عہدِ حکومت میں ہماری تہذیب اور حکومت سے مرعوب ہو کر اپنی زبان نہیں چھوڑی اور دیکھ لو آج وہی لوگ تمہارے مالک بن چکے ہیں اور تم اُن کے آگے تحفظات کی بھیک مانگ رہے ہو۔ آج ان کے سارے قابل لوگ ملک کے اندر رہ کرجتنی عزت اور دولت کما رہے ہیں اتنی باہر والے کیا خاک کمائینگے ۔

بیٹا !
آنے والا دور آج سے بھی زیادہ عصبیت کا دور ہوگا۔ ہر شخص وطن ، قوم اور زبان سے پہچانا جائےگا ۔ اگر تم اپنی زبان اور تہذیب کو ترقی دینے میں نا کام ہو گئے تو یہ بہت بڑی ناکامی ہوگی۔چاروں سمت سے اٹھنے والی آوازیں سنو۔ دیکھو جس زبان نے تمہیں شناخت دی وہ اپنا حصہ مانگتی ہے جس نے تمہارے ہونٹوں کو چوم چوم کر بچپن، لڑکپن، جوانی اور شعور کی بلندیاں عطا کیں ۔ آج بھی جو بھی سوچ تمہارے دماغ میں آتی ہے وہ پہلے اسی زبان میں آتی ہے اس پر تم نے سکتہ طاری کیوں کر دیا؟

ہر پیدا ہونے والے بچے پر ماں کے صرف دودھ کا ہی قرض نہیں ہوتا بلکہ اس پر ماں کی زبان کا ، اس کی تہذیب کا ، اس کی تاریخ اور اس کے دین کا بھی قرض ہوتا ہے۔ جو اس قرض کو نہ چکائے وہ خود بھی ذلیل ہوتا ہے اور اپنے ساتھ اپنی زبان تہذیب، مذہب اور تاریخ کو بھی ذلیل کر تا ہے جس کا ثبوت آج تم اپنے بھایئوں کے ساتھ جو کچھ ہندوستان اور پاکستان میں ہو رہا ہے دیکھ لو ۔ تم اس اولاد کو کیا کہو گے جو پڑوس کے گھر ترقی ، آرام و آسائش دیکھ دیکھ کر اپنی غریب اور مفلس ماں کو گھر آکر طعنے دیتی ہے اور بجائے اپنی غریب ماں کی عزّت رکھنے کے جوان ہوتے ہی اپنی بیویوں کو لے کر الگ ہو جاتی ہے اور عید بقرعید کو تھوڑی سی خیرات بھیج دیتی ہے ؟ یہی کہوگے نا کہ یہ احسان فراموشی ہے؟
ذرا اپنے آپ پر غور کرلو کہ تم کیا کررہے ہو۔
میں یہ نہیں کہتی کہ تم دوسری زبانیں نہ سیکھو ۔ ضرور سیکھو لیکن یہ نہ بھولو کہ دین کے علمی خزانے جتنے میرے کتب خانوں میں آج بھی ہیں پوری دنیا میں اس کا آدھا بھی نہیں۔

تم یہ بھی نہ سمجھو کہ میں انگریزی سے جلتی ہوں میں تو اس کا احسان مانتی ہوں اس نے میرے بے شمار فرزندوں کو روزگار سے لگایا یہی نہیں بلکہ جو جو بھی امریکہ اور یورپ گئے وہاں کے باشندوں نے تمہیں ٹھکانہ دیا ، حقوقِ انسانی دئیے ترقی کے راستے دئیے عربوں کی طرح تمہیں کبھی حقارت سے نہیں دیکھا بلکہ اپنی بیٹیوں سے شادی کی تک اجازت دے دی۔ مگر بیٹا ! اتنا اچھا موقع تم کو ملا کہ انگریزی کے ذریعہ دنیا کے دروازے تم پر کھل گئے لیکن جسطرح اُنہوں ایسٹ انڈیا کمپنی کا بہانہ بناکر تمہارے ملک میں داخل ہوئے اور تم کو مجھ سے ہی نہیں پوری تہذیب اور دین سے الگ کرڈالا اور تم پر اپنی زبان اور تہذیب کو مسلّط کرکے تہیں غلام بنالیا کاش تم بھی اسی طرح بدلہ لیتے لیکن تم تو احساسِ کمتری کے شکار اپنی نوکری کے طلبگار اپنی سستی و کاہلی کے بیمار زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس سے دوچار۔
تم کو تو اللہ تعالی نے شیر بن کر چھا جانے کا موقع دیا تھا لیکن تم تو انگریزی چوکھٹ پر بیٹھ کر دم ہلانے گے ۔ یہی نہیں بلکہ تم میں تو کئی ایسے نالائق بھی ہیں کہ میرے کسی فرزند نے اگر میری یاد بھی دلادی تو اس پر غُرّانے لگے۔یاد رکھو انگریزی، عربی یا ہندی تم کو بہتر سے بہتر نوکری تو دیں گی لیکن تم نہ کبھی اُن کی تہذیب کا حصہ بن سکو گے نہ وہ کبھی تمہیں اپنا حصہ بنا سکیں گی ۔ تمہارے ذریعہ وہ طاقتور سے طاقتور تو بنتی جائیں گی لیکن انکے ہاں تمہاری حیثیت کسی پالکڑے منہ بولے بیٹے کی طرح ہی رہے گی ۔انگریزی نے کسی کواگر مقام دیا بھی ہے تو سلمان رشدی یا تسلیمہ نسرین بنا کر دیا ہے ۔ ہندی نے اگر کسی اردو کے لال کو اگر کوئی مقام دیا بھی ہے تو مختار عباس نقوی بنا کر دیا ہے ۔
وہ تم کو علامہ اقبال کبھی نہیں بنا سکے گی۔
زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ تم دو چار وقت کی نمازیں پڑھ لو گے اور کبھی کبھار کسی اجتماع میں شرکت کر کے اپنی ضمیر کی ایسے تسلی کر لو گے جیسے کہ تم نے میرا پورا پورا حق ادا کر دیا ہے۔آج تو تم شرماتے ہوے ، کہتے ہو کہ :
”میں اُردو میں کمزور ہوں “

کل تمہاری اولاد بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ کہے گی کہ :
” اُردو تو ہمارے والد کی زبان تھی اِس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہم اردو نہیں جانتے“۔
اس طرح اور زبانیں اور تہذیبیں تو ترقی کرتی رہینگی لیکن تمہاری نسلیں لسانی اور تہذیبی طور پر یتیم رہ جائنگی۔ یہ ہو سکتا ہے کہ بڑے ہو کر وہ تعلیم یافتہ کہلائیں ، خوب کمائیں خوب گھر بنائیں بچے پیدا کریں ان کی شادیاں کریں پھر وہ بھی بچے پیدا کرتے جائیں دولت جمع کر کر کے اُنکی شادیاں کرتے جائیں جانور بھی تو یہی کرتے ہیں چھپکلی بچے پیدا کرتی ہے پھر وہ بچے بھی بچے پیدا کرتے چلے جاتے ہیں یہی کام کُتُے بلی اور گائے بکریاں بھی کررہی ہیں لیکن ان کے وجود اور ترقی سے خود ان کے پڑوسی کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ایک دن وہ تمہاری طرح مر بھی جائنگے تو ان کو سوائے ان کی اولاد کے کوئی یاد بھی نہیں رکھے گا کیونکہ زبان تہذیب اور تاریخ تو ان کو یاد رکھتی ہے جو انہیں یاد رکھتے ہیں ، جو قوم کے لئے جیتے ہیں ، قوم کے لئے مرتے ہیں ۔ تم قوم کے لئے کچھ نہ کر سکے کوئی بات نہیں کم از کم اتنا تو کر دو کہ میری وراثت اپنی اولاد تک پہنچا دواِس کی حفاظت کر نے کی انہیں تاکید کرتے رہو ۔ یہ ایک امانت ہے اور امانت کو نہ پہنچانے والا خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ یہی منافقت ہے۔ منافق کی سزا جہنم کی آگ کا سب سے نچلا حصہ ہے جہاں جلنا پڑیگا۔ مجھے لگتا ہے تم کو یہ سزا دنیا میں ہی ملنی شروع ہوگئی ہے وہ اس طرح سے کہ آج تمہارے بچوں کو اسکولوں میں دوسری زبان کے طور پر کہیں سنسکرت تو کہیں ہندی کہیں فرینچ تو کہیں کچھ زبردستی پڑھایا جا رہا ہے تاکہ یہ اپنی زبان اور تہذیب سے محروم رہ جائیں تم دیکھتے ہوئے خاموش رہنے پر مجبور ہو تمہارے بچے اسکولوں میں کہیں بھجن پڑھ رہے ہیں کہیں وندے ماترم کہیں پرارتھنا کر رہے ہیں تو کہیں prayer یہ دیکھ دیکھ کر تمہارا دل ضرور جل رہا ہوگا لیکن تم بے بس ہو اور یہی بے بسی تمہاری سزا ہے ۔ اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہاری اولاد بھی کل اسی عذاب سے گزرے تو آج ہی اپنی زبان اور اپنی تہذیب کے لئے جتنا تمہاری استطاعت میں ہے کرنے کا عزم کرو ۔ روزانہ کم سے کم آدھا گھنٹہ میرے لئے نکالو میری کتابوں میں چھپے ہوے خزانوں کو پانے کیلئے محنت کرو اپنی بیوی اور بچوں پر محنت کرو وہ تمہیں ہو سکتا ہے دنیا کے نقصان سے ڈرائیں اور تمہارا مذاق اڑائیں لیکن مرد بنو ۔
" اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے "۔

مانگے کی مفت کتابیں یا رسالے پڑھنے کی بجاے خرید کر پڑھنے کے عادی بنو اور گھر والوں کو بھی عادی بناؤ۔ تمہارے گھر کم سے کم ایک دو اخبار اور رسالے ضرور آنے چاہئیں۔
تمہارے کچھ بھائی سنا ہے خدمتِ خلق میں بڑی دلچسپی لیتے ہیں ۔ لوگوں کی غربت دور کرنا ، ان کی تعلیمی ، معاشی، سیاسی و سماجی حالت درست کرنا یقیناً اہم ہے لیکن اس خدمتِ خلق کے ذریعہ چاہے وہ پوری قوم کو سعودی عرب کی طرح امیر بنا دیں یا امریکہ کی طرح پوری قوم کو تعلیم یافتہ بنا دیں اس سے نہ دنیا بدلے گی نہ آخرت۔ جب تک اندر کا انسان نہ بدلے نہ ذہنی سکون پیدا ہوتا ہے نہ معاشرہ بدلتا ہے اور اندر کا انسان صرف مادری زبان اور مادری تہذیب کے ذریعہ بدل سکتا ہے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعہ تم کو دنیا ہی نہیں دین کے خزانے مل سکتے ہیں ۔ اس لئے اپنے بھائیوں سے کہو سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ سوئے ہوئے اندر کے انسانوں کو جگاؤ۔ اسی کام کے لئے سارے پیغمبر آئے تھے۔

آخری گزارش یہ وصیت کرتی ہوں کہ اس خط کو اپنے ان بھائی بہنوں تک پہنچا دو مجھ سے دور ہیں ۔
اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے ۔ آمین۔

فقط تمہاری مادری زبان :
اُردو

  • Share/Bookmark

ایک تبصرہ

  1. آصف :

    بہت اعلی تحریر ہے، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

تبصرہ کیجئے