Skip to content
 

ایک ہے بادشاہ

جس وقت یہ آپ بیتی پڑھی جا رہی ہوگی اُس وقت یہ کہانی ایک تھا بادشاہ کے طور پر ہی پڑھی جائیگی۔ شائد اس وقت بادشاہ یا اس کے خاندان پر لکھنے والوں کی کمی نہ ہوگی کونے کونے سے مصنفین ابل پڑیں گے کوئی عروج و زوال کی تاریخ قلمبند کر رہا ہوگا تو کوئی عروج کے مرثیئے اور زوال کے قصیدے ترتیب دے رہا ہوگا تاکہ نئے حکمرانوں کا سفر عروج کی طرف گامزن ہو عروج نہ ہوگا تو زوال بھی نہ ہوگا۔ کچھ نکتہ داں زوال کے اسباب و علل پر اپنی پیش گوئیاں جو زوال تک خوف کے مارے ذہن کے تاریک گوشوں میں چھپی بیٹھی تھیں بڑھ چڑھ کر پیش کر رہے ہوں گے۔ سارے قلم سیاہی کے سمندر بہا کر بہ یک زباں ” یہ تو ہونا ہی تھا “ کہ کر ٹھنڈی ساتس کے ساتھ رک جائیں گے۔ نئے حکمرانوں سے سابق حکمرانوں کی غلطیاں بڑے تپاک سے گلے مل رہی ہوں گی۔ اگر سابق حکمرانوں کی غلطیوں سے سبق لینے کا داعیہ فِطرتِ انسانی میں شامل ہو جائے تو کبھی بھی کسی خاندان کی حکومت خنم ہی نہ ہو قانونِ قدرت چونکہ انصاف پسند ہے اس لیئے ہر خاندان کو کسی نہ کسی درجے میں دربار یا درباری مل ہی جاتی ہے۔ شائد اسی لیئے خاندانی آج تک انہی کو کہا جاتا ہے جن کا سلسلہٴ نسب کسی نہ کسی درباری سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ درباریوں کے درباری بھی اکثر خاندانی اشراف کہلائے جاتے ہیں ۔

کسی نہ کسی کے آگے جھکنا فِطرتِ انسانی میں داخل ہے۔ فرشتوں کا مقدر بھی جھکنا اور جھکے رہنا ہے۔ انسان اور فرشتوں میں فرق اختیار کا ہے۔ اللہ تعالی مکمل با اختیار ہونے کے باوجود انسانوں کے جھکنے کے معاملے میں اپنے اختیار کو انسان کے اختیار کے تابع کر دیتا ہے کہ کس کس کے آگے جھکنا ہے وہ خود فیصلہ کر لے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اختیار با اختیار ہے سر کو تو بہرحال جھکنا ہی ہے۔ اور پانی! پانی کو تو بہرحال بہنا ہی ہے۔ ہوا! ہوا کو بہرحال چلنا ہی ہے۔ بالکل اسی طرح سر کو بھی بہرحال جھکنا ہی ہے۔ وہ اختیار کے خالق کے آگے نہیں جھکے گا تو بہر حال کہیں نہ کہیں جھکے گا ضرور۔ خالقِ اختیار کے آگے بالاختیار جھکنے سے وہ جہاں ایک لمحے چوکتا ہے بے اختیاری اسے آگے بڑھکر چوم لیتی ہے۔ کبھی خوف اور کبھی لالچ کی لوریاں سنا کر اطمینان کی نیند سلا دیتی ہے۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے وہ اختیاری کی نہیں بے اختیاری کی گود میں اس نو زائیدہ معصوم بچے کی طرح بے بس ہے جسے ماں ہاتھ پاوٴں اچھی طرح چادر میں کس کر سلا دیتی ہے تا کہ وہ ننھے ننھے ہاتھ پاوٴں ہوا میں چلاتے ہوئے کھیلنے کی کوشش میں جاگ نہ جائے ۔

یہی کیفیت میں ان شاہوں اور حکمرانوں کی دیکھ رہا ہوں کسی کو تخت نشین ہوئے پندرہ تا بیس سال ہو چکے ہیں اور کسی کو قبضہ جمائے ہوئے پچیس تا تیس سال ہو چکے ہیں ہر سال بے اختیاری کی چادر کی ایک ایک لپیٹ بڑھتی جاتی ہے اور بے چارے اندھیرے میں اپنے اختیار سے تخت چھوڑنے کا بھی اختیار نہیں ۔ شاہ حسین بے چارے پچیس برس یہ سمجھتے رہے کہ با اختیار ہیں جب بسترِ مرگ پر پہنچ گئے تو ہاتھ پاوٴں مفلوج ہوگئے۔ زبان گنگ ہو گئی تو اختیارات بالاختیار بھائی کے سپرد کر ڈالے لیکن اختیارات کی بے اختیاری کے آگے ایک نہ چلی بے اختیاری نے ڈانٹا زبردست طاقتور انجکشن لگائے اور اس قابل بنا دیا کہ انگلیوں کو حرکت دے سکیں اور قلم اٹھا کر نامزد بادشاہ کو بے دخل کر دیں اور اپنے پچیس سالہ امریکی تعلیم یاقتہ صاحب زادے کو بادشاہ نامزد کریں۔ شائد موت کے فرشتے بھی ایک صاحبِ اختیار کو اس کے اختیارات کی بے بسی محسوس کروانے پر بضد تھے ۔ جوں ہی حکم کی تعمیل ہوئی بھائی سے آنکھ چراتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ جسم تو پہلے ہی شل ہو چکا تھا سر جھکنے کے قابل نہ رہا تھا اس لیئے انگلیاں جھکا کر حکمرانِ اعلی حضرت امریکہ مدِظلہ کی فرمانبرداری پر دستخط ثبت کر دیئے۔ بے چارے صدام حسین یہ سمجھتے رہے کہ شط العرب اور کوویت پر حملہ ان کے اختیار میں تھا اور وہاں سے ناکامی و ذلت کے ساتھ واپسی ان کے اختیار میں نہ تھی حالانکہ معاملہ الٹا تھا ۔ دونوں جگہ کی حملہ آوری اور معرکہ آرائی کسی اور کے اختیار میں تھی البتہ واپسی پر ان کا اختیار تھا۔ اسرائیل پر میزائیل اندوزی کروانا بھی اسی صاحبِ اختیار کے ہاتھ میں تھا جس کے ہاتھوں بمباری کروانا تھا جہاں تک اسرائیلی حملوں کا ٹھیک نشانوں پر بی بیٹھنے اور عراقی حملوں کے نشانے خطا کر جانے کا سوال ہے یہ بھی نشانہ بازوں کے نہیں بلکہ خود نشانوں کا تعین کرنے والے با اختیار صاحبِ نشان کا کمال تھا۔ اس کا نشانہ نہ شط ا لعرب تھا نہ کوویت نہ اسرائیل ۔ وہ تیل کے کنویں تھے جس کو امیر عرب اپنے اختیار میں سمجھ بیٹھے تھے اور وہ کئی بلین ڈالر تھے جو انہوں نے بیرونی ممالک میں اپنا اختیار سمجھ کر جمع کر رکھے تھے ۔ ضرورت سے زیادہ ہو تو ہر شئے نقصان دہ ہوتی ہے جس طرح بچہ ضرورت سے زیادہ چاکلیٹ جمع کر لے تو دو تین سے زیادہ کھا نہیں پاتا اور باقی کو تھوڑا تھوڑا چکھ کر تھوکنے لگتا ہے یا پھر اِدھر اُدھر رکھ کر بھول جاتا ہے پھر بالاخر اسکے والد کو آگے بڑھ کر سارے چاکلیٹ چھیننے پڑتے ہیں ۔ بچہ تھوڑی ضد کرتا ہے ابو سے بات نہیں کرنے کی دھمکی دیتا ہے کبھی ایک آدھ ہاتھ بھی چلا دیتا ہے لیکن ہر والد کو ایسے بچوں کو چُپ کرنے کا فن آتا ہے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے