Skip to content
 

شانِ زندہ دِلان ۔۔۔ نوجوان شریف اسلم

اگر عمر کا اندازہ بجائے سالوں یا مہینوں کے، آدمی کے مزاج سے لگایا جائے تو شریف اسلم جوان ہی نہیں بلکہ ایک سدا بہار نوجوان ہیں۔
بلکہ یوں لگتا ہیکہ ان کی جوانی نے آبِ حیات پی رکھی ہے۔ ماشاء اللہ اللہ انہیں نظرِبد سے بچائے۔ جوانی حقیقت میں وہی ہے جس میں زندہ دلی ہو ورنہ یہاں کتنے ایسے ہیں جو کنوارے ہیں لیکن صورتوں سے شادی شدہ لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کیلئے ڈاکٹر شمس بابر صاحب صبح دو گولی اور شام شریف اسلم لکھتے تھے۔
جو لوگ ان کو پسند ہوتے ہیں وہ ان کے دل میں رہتے ہیں۔ اور جو پسند نہیں وہ ان کے لطیفوں میں۔ یہ ناپسندیدہ لوگوں کی برائی نہیں کرتے لیکن ایک لطیفہ ضرور سنا دیتے ہیں جس سے موصوف کا صحیح تعارف ہو جاتا ہے۔ جیسے ایک بار ایک صاحب نے انڈیا جاتے ہی اپنی آ مد ، قیام اور واپسی کی تفصیل اخبار میں شائع کروا دی۔
اس پر شریف اسلم صاحب نے کہا :
"ایک بار ایک چوہا جنگل میں بے تحاشا بھاگ رہا تھا۔ وجہ پوچھنے پر کہنے لگا کہ شیرنی کا اغوا ہوگیا ہے اور شیر مجھ پر شک کر سکتا ہے۔ "

محفلوں میں یہ گفتگو کی وجہ سے پسند کیے جاتے ہیں۔ یہ بات کرتے ہوئے اتنے ہی اچھے لگتے ہیں جتنے بعض لوگ جب تک منہ نہ کھولیں تو اچھے لگتے ہیں۔ لہجے میں سادگی اور متانت ایسی کہ کسی سے ٹیلیفون نمبر بھی مانگتے ہیں تو لگتا ہے رشتہ مانگ رہے ہوں۔ لفظوں کو بھی اس نزاکت سے ادا کرتے ہیں گویا لفظ بھی صنفِ نازک ہوں۔ عورتوں کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ سب سے زیادہ عورتیں کہاں رہتی ہیں تو ہم کہیں گے شریف اسلم صاحب کے دل میں یا لطیفوں میں۔ پہلے نظر میں بھی رہتی تھیں لیکن اب بقول حضرت خوامخواہ کے
کبھی سورج نکل آئے مغرب سے یہ ممکن ہے
مگر شادی شدہ پھر سے کنوارا ہو نہیں سکتا
ضعیفی میں تو اپنا خوامخوہ اب یہ عالم ہے
نظارہ کر تو سکتا ہوں اشارہ ہو نہیں سکتا

عمر واجپائی کی پائی لیکن یوں گزاری کہ واجپائی ان کی عمر نہ پا سکا۔ وہ فیل گُڈ سوچتا رہ گیا یہ گُڈ فیل حاصل کر گئے۔ کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور ایک ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتوں کا۔ اس لحاظ سے مسز شریف اسلم قابلِ تعریف ہیں کہ شریف اسلم صاحب ناکام ہونے کی ہمّت نہ کر سکے۔ ورنہ ایسے آدمی کو فیض یا جوش بن جانے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔
بہرحال شریف اسلم ایک مکمل انسان ہیں ان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ان کو ایک فرشتہ بننے سے روکی ہوئی ہیں۔کہتے ہیں کہ جس بیوی کی شوہر تعریف کرے وہ خوبصورت ہوتی ہے۔ اور جو بیوی شوہر کی تعریف کرے وہ خوب سیرت ہوتی ہے۔ ایسی بیویوں کاعہدِحاضر میں قحط ہے۔ لیکن مسز شریف اسلم خوش نصیب ہیں کہ وہ خوبصورت بھی ہیں اور خوب سیرت بھی۔

ان کی اعتراف خدمات کا کوئی جشن رکھنے کی جب بھی بات ہوئی کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ شریف اسلم سے کمیونٹی کو کیا فائدہ پہنچا؟ ہم نے کہا کہ شریف اسلم نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ۔ بھلا اس سے بڑا فائدہ بھی کوئی ہو سکتا ہے؟
یہ مذہبی ، مسلکی اور سیاسی بحثوں سے بہت دور رہتے ہیں اسلئے عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہ ترقی پسندوں اور جدیدیوں کے بھی ساتھ رہے لیکن ادب کو برائے ادب نہیں بلکہ برائے زندگی اور زندگی برائے مقصد اپنا شعار کیا۔ تہذیبی و اخلاقی اقدار کو ادب میں پائمال ہونے نہ دیا۔ کسی ادبی یا سیاسی گروہ سے وابستہ نہیں ہوئے البتہ سب کو اپنے سے وابستہ ضرور کیا ۔

سنا ہے جوان رہنے کی پہچان لطیفے ہیں۔ بڑھاپے کی پہچان نصیحت اور ضعیفی کی پہچان وصیّت ہے۔
اس لحاظ سے بڑھاپا شریف اسلم صاحب سے کوسوں دور ہے۔ جس عمر کے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں اُنہی کی عمر کے لگتے ہیں۔ یوں بھی صحافی یا ادیب بوڑھا اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی سوانح عمری لکھنا شروع کرے۔ اردو ادب پر شریف اسلم صاحب کا یہ احسان ہمیشہ یاد رہے گا کہ انہوں نے کبھی کوئی کتا ب نہیں لکھی اور کبھی کسی پر اپنے ذاتی شعروں سے حملہ آور نہیں ہوئے۔ چاہے کوئی جلسہ ہو، جب تک شریف اسلم صاحب پانچ منٹ کیلئے مائیک ہاتھ میں نہ لے لیں بے چین بے چین رہتے ہیں۔ اگر یہ بے چین نہ ہوئے تو سامعین بے چین ہونے لگتے ہیں۔ تقریر کا ایسا ہنر پایا ہے کہ مختصر وقت میں وہ تاثّر چھوڑ جاتے ہیں جو طویل تقریروں پر بھاری ہوتا ہے۔ تقریر ایک ہنر ہے بلکہ شادی کی طرح کا ایک امتحان ہے جسے ہر بے وقوف شروع تو کر دیتا ہے لیکن خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام تک پہنچانا ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتا۔
لیکن شریف اسلم صاحب کا معاملہ کچھ اور ہے۔ ان کی تقریر کے آغاز میں انتہائی انکسار ، درمیان میں ایک بھرپور پیغام اور اختتام میں حاصلِ محفل کوئی لطیفہ یا شعر۔ اختتام اتنا دلچسپ اور لطیف ہوتا ہیکہ سامع یہی سوچتا ہے کہ کاش اختتام آغاز سے پہلے ہو جاتا۔ وہ محفل میں چپ بھی ہوں تو لگتا ہے بول رہے ہوں یا بس بولنے ہی والے ہوں ۔ جب بولتے ہیں تو لگتا ہے یہ تو کئی بار بول چکے ہیں پھر بھی نیا پن ہے۔ یوں بھی بقول مشتاق احمد یوسفی کے آدمی چالیس سال کے بعد اپنے آپ کو دوہراتا رہتا ہے۔

جہاں تک ان کے اشعار یا لطیفوں کا تعلق ہے اب لوگوں کو سارے زبانی یا د ہو چکے ہیں۔ اسلئے کبھی یہ جلسے میں موجود نہ ہو ں تو ہم سامعین سے کہتے ہیں کہ شریف اسلم صاحب کا لطیفہ نمبر پانچ یا شعر نمبر سات سنائیے تو کئی سامعین ایک ساتھ سنانے لگتے ہیں۔ ان کے لطیفے دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو ان کے نام کے پہلے لفظ کی طرح ہوتے ہیں دوسرے لطیفے بچوں کو صرف اسلئے نہیں سنائے جاسکتے کہ آجکل کے بچے بڑوں سے زیادہ جلد سمجھ لیتے ہیں۔ اسلئے لوگ ہنستے ہوئے دائیں بائیں دیکھ لیتے ہیں کہ کہیں ان کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں یہ معیاری لطیفے نہیں سناتے۔ لیکن حقیقت یہ ہیکہ یہ گاہک دیکھ کر پُڑیا باندھتے ہیں۔ ایک ایسی قوم کو جس کا ہر شخص دانشور، لیڈر اور خود ساختہ امام ہو، نہ کسی کی سننا چاہتا ہو نہ کسی کی امامت قبول کرنا چاہتا ہو۔ دو جملے بھی پورے نہیں سنتا قطع کلامی کر ڈالتا ہو ایسی قوم کے ذہنی معیار کو سامنے رکھتے ہوئے شریف اسلم صاحب جس قسم کے لطیفے بعض وقت سناتے ہیں بالکل صحیح کرتے ہیں۔ تاکہ لوگوں کو لطیفوں کے معیار پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے احتساب کا شعور پیدا ہو، وہ اپنے معیار کابھی جا ئزہ لیں کہ خود وہ سمجھداری اور دانشوری کی کس سطح پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ ایک سیاسی لیڈر جو جدہ میں تڑی پار کی سزا بھگت رہے تھے ایک ملاقات میں اُن کو وہ لطیفہ سنایا کہ بچے نے ماں سے پوچھا امّی امّی کیا آج عید ہے۔ ماں نے پوچھا کیوں؟ تو بچے نے کہا ابّا جی آج پڑوسن آنٹی سے گلے مل رہے تھے۔ لوگوں نے سخت تنقید کی کہ اتنا بھونڈا لطیفہ نہیں سنانا چاہیے تھا لیکن میں نے ان کی ذہانت کی داد دی۔ جو لوگ خود قوم کے حق میں سب سے بڑا بھونڈا لطیفہ ہوں ان کو ایسے ہی لطیفے سنانا چاہئے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تارکینِ وطن کو رہنماے دکن، سیاست ، منصف اور انقلاب وغیرہ سے جوڑے رکھنے کا سہرا شریف اسلم صاحب ہی کے سر جاتا ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی بعد میں کئی لوگ صحافی بن بیٹھے جو دوسروں سے لکھوا کر اپنی تصویر کے ساتھ خبریں شائع کروانے لگے۔ کئی نے اخباری شہرت کی خواہش میں ان سے دوستی کی۔ البتہ بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی شہرت کیلئے ان سے دشمنی کی۔ اور شریف اسلم صاحب نے بھی دشمنی اسطرح نباہی کہ ان کی پہلے سے زیادہ عزت کرنے لگے۔ تاکہ انہیں یہ پتہ نہ چلے کہ اُن کی دشمنی سے شریف اسلم کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ اِن کی دوستی عربوں کی دشمنی کی طرح ہے یعنے ایک بار شروع ہوجائے تو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یوں بھی ان کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا حتیٰ کہ خود حجام بھی۔ اسی لئے وہ ان کے سر کے بال ڈھونڈھنے کی دُگنی اجرت لیتا ہے۔ کبھی پان نہیں کھاتے لیکن اپنا پتہ پان کی دوکان بتاتے ہیں۔

اگر آپ پوچھیں کہ شریف اسلم کیا ہیں؟
ایک شاعر، ادیب ، صحافی یا ناظم جلسہ تو میں کہوں گا وہ کچھ بھی ہوں پہلے شریف ہیں اور اسلم بھی ۔ اسمِ بامسمّیٰ یعنے ایک شریف دوست، مہذب انسان اور اسلم یعنے خدا کے آگے سرِتسلیم خم کردینے والے اچھے مسلمان۔ اس عہد میں ہوش سنبھالا جس نے کئی صدیاں بغیر ہوش کے گزاردیں۔ سپہ گِری، منشی گِری اور وظیفہ یابی کے ٹھاٹ، خطابات ، القابات، نوابی یا نوابوں کی جی حضوری، مشاعروں، مجروں اور قوّالیوں میں ڈوبی قوم کو جب پولیس ایکشن کی مار پڑی تو ہوش آیا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہندوستانی فوج سب کچھ نیست و نابود کرچکی تھی۔ اس نے صرف شاہی یا نوابی ہی نہیں چھینی بلکہ قوم کو سیاسی، سماجی ، دینی ، لسانی اور تہذیبی خزانوں سے محروم کر دیا۔
ایسے وقت میں شریف اسلم نے ہوش سنبھالا اور اپنے وقت کا سب سے اہم پیشہ یعنے صحافت اختیار کیا اور اخبار ملاپ سے اپنے کیرئر کا آغاز کیا ۔ ملاپ تو اسکے بعد زیادہ نہ چل سکا لیکن یہ چل گئے۔ اور ایسے چلے کہ پچاس سال سے دوڑ رہے ہیں۔

واقعی اتنے شریف کہ کسی بھی نشست میں شرکت کرتے ہیں تو پہلے اپنا تعاونِ زر یعنے کنٹری بیوشن پیش کرتے ہیں ورنہ آجکل لوگ راکھی ساونت کی سی ڈی کیلئے تو خرچ کرتے ہیں لیکن علمی اور ادبی محفلوں میں اپنی شرکت کو ہی علم و ادب پر بہت بڑا احسان سمجھتے ہیں اور دامادوں کی طرح چلے جاتے ہیں۔ بہرحال شریف اسلم صاحب کے ساتھ بیٹھ کر دنیا کے بڑے بڑے مسائل کچھ دیر کیلئے چھوٹے لگتے ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ شریف اسلم سے مل کر زندگی میں کچھ لمحوں کا اضافہ ہو جاتا ہے لیکن یہ کہہ سکتا ہوں کہ کچھ لمحوں میں زندگی کا ضرور اضافہ ہو جاتا ہے۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے