Skip to content
 

رشید انصاری : دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں

ان کی شخصیت پر یہ شعر بہت صادق آتا ہے :
دُنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

سنا ہے کہ ہر فقیر کی جھولی میں زندگی میں ایک بار ہیرایک ا ضرور آتا ہے دیدہٴ بینا رکھنے والے کو تاجدار بنا دیتا ہے اور نا بینا اسے پتھر سمجھ کر پھینک دیتا ہے ۔ اس عہدِ نابینا کی جھولی میں بھی ایک ہیرا رشید انصاری کی صورت میں آیا تھا لیکن نا قدرئی زمانہ کے ہاتھوں گمنام و گمشدہ رہ گیا۔

رشید انصاری کا قلمی تعارف میرے لیئے دیرینہ نہیں لیکن ہمارے درمیان ایک ایسی فکرِ دیرینہ مشترک تھی جس نے ہم کو کئی دہے قبل کا دوست ہم نظر اور ہم درد بنا دیا۔ زوالِ حیدرآباد پر ہمارا درد بھی مشترک تھا اور زاویہ ٴ نظر میں بھی ۔ یہاں سے ہماری دوستی آگے بڑھی اور ہماری مشترکہ کوششوں کے نتیجہ میں کئی مضامین اخبارات و رسائل کی زینت بنے ۔ شخصی تعارف سے قبل ان کی تحریریں پڑھ کر ان کی عمر کے بارے میں ہمیشہ دھوکہ ہوا اور آج بھی سعودی عرب ، ہندوستان و پاکستان میں جہاں جہاں لوگ انہیں ان کے شخصی تعارف کے بغیر پڑھتے ہیں وہ بھی یقینا اِن کی عمر کے بارے میں غلط فہمی میں رہتے ہیں ۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جن لوگوں کے وجود کامقصد ساری زندگی مال و جاہ رہا ہو وہ روحانی طور پر تو آغازِ جوانی میں ہی بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں۔ بلکہ ساٹھ ستر سال کی عمر میں داخل ہونے تک ضعیف اور ناقص العقل بھی ہو چکے ہوتے ہیں۔ لیکن جن انسانوں کی فکر ایک صالح مقصد کی حامل ہوتی ہے بلکہ علامہ اقبال (رحمۃ اللہ) کے الفاظ میں :
میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو

ایسی تڑپ اور جستجو رکھنے والے انسان کبھی بوڑھے نہیں ہوتے ۔ رشید انصاری کی طرح تمام عمر متحرک، جوان ، مجاہدانہ عزم سے بھرپور ، خوفِ دار و رسن سے بے نیاز اور شوقِ شہادت سے لبریز رہتے ہیں۔

بے شمار لوگوں کے لیئے رشید انصاری محض ایک رپورٹر یا رائٹر اور وہ بھی ایک Reactionary Writer ہیں لیکن جو لوگ کسی تحریر میں سطور کے ساتھ ساتھ بین السطور پڑھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ رشید انصاری کی تحریروں میں اختلاف الرائے ہونے کے باوجود ایک خلوص ، جرات مندی اور حق گوئی کی مہک پا لیتے ہیں ۔ ہاں ان کے اندازِ بیان پر تنقید ممکن ہے۔ سنا ہے کہ حجاج بن یوسف جو اپنی سخت مزاج حکمرانی کی وجہ سے کافی بدنام تھا ایک بار بہت ہی ڈراؤنا خواب دیکھا اس کی تعبیر جاننے کے لیئے نجومیوں کو بلایا۔ ایک نجومی نے صحیح صحیح تعبیر بتا دی اور کہا کہ عالی جاہ آپ کے اہلِ خاندان آپ کی زندگی میں ہی مر جائنگے ۔ اسے بہت ناگوار گزرا ۔ اس نے اس نجومی کو بے عزت کر کے دربار سے نکال دیا۔ دوسرا نجومی آیا۔ اس نے خواب سنا اور کہا" سرکار مبارک ہو، آپ کے خاندان میں آپ کی عمر سب سے زیادہ ہے" ۔ حجاج اس سے بہت خوش ہوا اور اس نجومی کو انعام و اکرام سے نوازا۔ رشید انصاری کا شمار پہلے نجومی کی قسم کے لوگوں میں ہوتا ہے جس کی حق بیانی جو مکمل سادگی ، بنا کسی لاگ و لپیٹ کے ہوتی ہے جو زمانے کو اکثر گِراں گزرتی ہے ۔ رشید انصاری کی زبان و قلم تلوارِ بے نیام ہیں۔

یہ عہد ایک Academic عہد ہے۔
یونیورسٹی کی ڈگریوں کی اہمیت اور افادیت سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یا د رہے کہ تعلیم کو اکیڈمک کیا جا سکتا ہے دانش کو نہیں۔ شعور و دانش تو وہ عظیم خدا داد نعمتیں ہیں جو ڈگری یا ڈپلوما والوں کے پاس کم ہوتی ہیں۔ اس اکیڈمک عہد میں ہر عہدے یا خدمت کے لیئے متعلقہ ڈگریاں شرط ہوتی ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ چاہے کوئی اخبار ہو کہ تعلیمی ادارہ ، بینک ہوکہ کوئی علمی ، سائنسی ، ادبی، ثقافتی مرکز حتی کہ کوئی اقوامِ متحدہ کا ادارہ ،ہر جگہ ان لوگوں کی بہتات ملے گی جنہیں محض ڈگری نے انہیں وہاں لا بٹھایا ہے ورنہ شعوری اعتبار سے انہیں جانچا جائے تو پتہ چلے کہ اکثریت اس پوزیشن کی لائق نہیں جس پر وہ بٹھادیئے گئے ہیں۔ رشید انصاری بھی ان بے شمار بدقسمت انسانوں میں سے ایک ہیں جنہیں زمانے کی نظر نے ڈگری اور دپلوما کی عینک سے ڈھونڈھا وہ نہیں ملے اور زمانے نے انہیں کھودیا۔ دو کوڑی کے افراد اخبارات و رسائل کی ادارت اور انتظامیہ کنٹرول کرتے رہے اور رشید انصاری منہ دیکھتے رہ گئے۔ ایک رشید انصاری ہی نہیں ایسے کئی ہیں جن کی رگ رگ میں تحریک ہے۔ اگر انہیں صحیح جگہ مل جائے تو یہ قوم کا بہترین سرمایہ بن سکتے تھے ۔ لیکن کوئی بچارا رپورٹر بن کر رہ گیا تو کوئی ریڈر۔
البتہ اس اکیڈمک شرط سے اگر کوئی مثتثنی ہیں تو وہ تین لوگ ہیں اور وہ ہیں سرمایہ دار، سیاست دان اور اداکار۔ ان لوگوں کے لیئے کسی قسم کی ڈگری کی بھی شرط نہیں۔

رشید انصاری کا سرمایہ سلطنتِ حیدرآباد تھا جو زوال کے ساتھ ہی لُٹ چکا۔ سرمایہ داری کے یہ کبھی خواہش مند نہیں رہے اس لیئے سیاست انہیں کرنی نہیں آئی اداکاری ان کے بس کا روگ نہیں تھی اس لیئے ایک ایسی زبان کے قلمکار بن گئے جس کے نصیب میں پچھلی نصف صدی سے صرف خونِ جگر جلانے ، نیندیں برباد کرنے اور خالی ہاتھ اور خالی جیب گھر لوٹنے کے کچھ نہیں آیا۔ بقول دلیپ سنگھ مرحوم کے اردو دفتر یا رسالہ میں کام کرنے والے چپراسی کو کچھ نہ کچھ تو پیسہ مل ہی جاتا ہے لیکن لکھنے والوں کو کوڑی بھی نہیں ملتی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان بے چاروں کو مالکان اور ایڈیٹروں کی سیاست کے مرہونِ منت رہنا پڑتا ہے۔

رشید انصاری جیسے انسانوں کو میں اس دور کا مجاہد سمجھتا ہوں جو ایک ایسی زبان کے لیئے جس کا سفر تاریکیوں کی ہی جانب بڑھ رہا ہے معاوضے اور صلے کی پرواہ کیئے بغیر اپنے خونِ جگر سے اس شمع کو جلائے رکھنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اور مجھے اس ذاتِ قادر و عزیز سے جس نے انسانوں کو رنگوں، قبیلوں میں پیدا کیا اور زبانیں بھی پیدا کیں یہ یقین ہے کہ وہ پُھولوں کی مہک اور شہد کی سی مٹھاس رکھنے والی اردو زبان کو کبھی ختم نہیں ہونے دیگا۔

رشید انصاری اور ان جیسے بے نیاز خدمت گاروں کی قربانیاں رائگاں نہیں جائنگی بھلے ان کا نام کل اخباروں اور کتابوں کی سُرخیوں میں نہ ہو لیکن زبان و تہذیب کی ان بنیادوں میں اینٹ اور پتھر کی طرح چھپا ہوگا جن پر آنے والی نسلیں عمارت تعمیر کریں گی۔ انشاء اللہ۔

ازل سے فطرتِ اصرار ہیں دوش بدوش
قلندری و قبا پوشی و گلہ داری
زمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے
انھیں کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاری

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے