Skip to content
 

ناظر قدوائی والد : نہ بولے مرغ پھر بھی وقت پر اپنے سحر ہوگی

ناظر قدوائی صاحب نے تیس برس کے عرصے میں جتنے مشاعرے پڑھے اور پڑھائے ہیں اتنے تو میں نے شعر بھی نہیں پڑھے ہوں گے اِس کے باوجود مجھے ان کی شخصیت پر مضمون لکھنے کا حکم ملا ہے۔ پتہ نہیں یہ میری قدردانی ہے کہ ناظر قدوائی کی رسوائی۔
جب میں نے یہی سوال ان سے کیا تو انہوں نے انتہائی اعلی ظرفی سے میری ہمت بڑھائی گویا کہہ رہے ہوں بھائی کوئی سمجھدار ہوگا تو رسوا کرے گا آپ ہی غنیمت ہیں۔ یہ کام میرے لیئے اس لیئے بٓھی آسان ہو گیا کہ ناظر قدوائی انتہائی سادہ مزاج ، عجز و انکساری کے پیکر، صاف گو اور غیر معمولی بذلہ سنج واقع ہوئے ہیں ۔ نہ ان کے اشعار سمجھنے کے لیئے سامنے لغت رکھنی پڑتی ہے نہ ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچنے کے لیئے فلسفہ پڑھنا پڑتا ہے اور ان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ابھی زندہ ہیں ورنہ کسی مرحوم کی شخصیت پر مضمون لکھنے کے لیئے جتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہ تحقیق کرنے والے جانتے ہیں ۔ یہی وہ خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے میں یہ معروضات پیش کرنے کے قابل ہوا۔

جدہ کی ادبی کہکشاں کو نہ جانے کس شاعر کی بیوی کی بد دعا لگ گئی کہ پچھلے تین چار برسوں میں کئی نا مور شعراء انجمن چھوڑ گئے جیسے رؤف خلش، سلیم مقصود، سجاد بابر، ناظم الدین مقبول ، ارشد غازی وغیرہ ۔
اب ناظر قدوائی ہم سے جدا ہو رہے ہیں ۔ حالانکہ کئی ایک شعراء ایسے ہیں جن پر ہم نے تو الوداعی نظمیں تک لکھ رکھی ہیں لیکن وہ نہیں جاتے البتہ اُن لوگوں کے جانے کی خبر ملتی ہے جن سے جدا ہونے کو جی نہیں چاہتا ۔ ناظر قدوائی ان ہی میں سے ایک ہیں۔ آج کا یہ جشن اسی ہمدمِ دیرینہ سے لوگوں کی بے پناہ محبت کا ایک شان دار ثبوت ہے۔ یہ بھی نصیبوں کی بات ہے ورنہ ہم کسی اور کا نام کیوں لیں ہماری ہی مثال لیجیئے ہم نے بھی کئی بار وطن لوٹ جانے کا فیصلہ کیا حتیٰ کہ تاریخ کا اعلان بھی کر دیا لیکن آخر وقت تک کہیں سے نہ کسی جشن کا بلاوا آیا نہ تقریب کا ۔ مجبوراً ہم نے جانا ملتوی کر دیا اور ان کی ہر دل عزیزی دیکھیے کہ انہوں نے ایک بار وطن واپسی کا تذکرہ کیا اور لوگ الوداعی جشن کے لیئے سرگرم ہوگئے گویا خیر مقدم کر رہے ہوں میرے نزدیک یہ طریقہ لوٹنے والے کو بڑی مشکل میں ڈال دیتا ہے فرطِ جذبات کے ساتھ رخصت کرنے والوں کی گرم جوشی دیکھ کرجانے والا دوبارہ آنے میں شرمندگی محسوس کرتا ہے اور اسی مجبوری کی وجہ سے وہ کسی دوسرے ملک کی طرف نکل پڑتا ہے۔

ناظر قدوائی 1939ء میں پیدا ہوئے ۔ عمر انسٹھ سال ہے ۔ سٹھیانے میں ابھی ایک سال باقی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے جب بھی ان کو مشاعروں میں دیکھا پچھلے مشاعرے سے کم عمر ہی پایا ۔ بڑی چور عمر پائی ہے۔ کہیں سے اتنی عمر والے نہیں لگتے اور اشعار سے تو بالکل نہیں۔ انتہائی خوددار آدمی ہیں ۔ جب آئے تھے وزن 48 کلو تھا اب جا رہے ہیں اب بھی 48 کلو ہی ہے۔ انہوں نے زندگی میں سمجھداری کا کام یہ کیا کہ شاعری شادی کے بعد شروع کی۔ باپ اور والد ساتھ ساتھ بنے اگر چیکہ نانا بھی بن چکے ہیں لیکن تخلص وہی برقرار ہے۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔ اللہ تعالی نے اس بلا کا حافظہ دیا ہے کہ ہزار ہا اشعار یاد ہیں ۔ لیکن اسی شاعر کا شعر یاد رکھتے ہیں جو ان کا پسندیدہ ہو۔ ہم نے انہیں ہمارا یا طارق غازی صاحب کا کوئی شعر سنانے کو کہا یہ نہیں سنا سکے۔ انہوں نے شوق بہرائچی اور ظریف لکھنوی کو دلچسپی سے پڑھا بھی ہے اور سنا بھی ہے لیکن ریاض حیدرآبادی کے انداز لب و لہجہ اور رنگ نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔

دوسرا سمجھداری کا کام یہ کیا کہ جدہ آکر نظامت پر توجہ کی ۔ آج سے تیس برس قبل جدہ کی ادبی فضا اگر چیکہ استاد شعراء سے خالی نہیں تھی لیکن نظامت کا حال دور درشن کے اردو اناؤنسمنٹ جیسا ہی تھا ۔
" مشاعرے کا آغاز شروع " ہوتا تھا اور اختتام ختم کیا جاتا تھا ۔
حقیقت یہ ہے کہ نظامت انھوں نے شروع نہیں کی بلکہ ان کے سر آگئی۔ ایک مرتبہ کلیم عاجز ، معین احسن جذبی ، شمیم جئےپوری ، بیکل اتساہی جیسے استاد شعراء کی آمد پر ایمبیسی نے ایک مشاعرہ منعقد کیا۔ نظامت کیلئے صحیح آدمی کی تلاش شروع ہوئی اس وقت کے سفیرِ ہند عبدالقادر حافظ ( مرحوم ) کی نظرِ انتخاب ناظر قدوائی پر پڑی۔ اور ان کے بے حد اصرار پر میدان میں اتر گئے۔ اور اس کے بعد سے آج تک یہ حال ہے کہ مسندِ نظامت ان کے بغیر بے رونق لگتی ہے۔ اگر یہ کبھی مسندِ نظامت کی بجائے سامعین اور شعراء کے درمیان بیٹھے نظر آئیں تو سامعین الجھن کا شکار ہونے لگتے ہیں گویا دولہا کی بجائے کسی اور کو مسند پر بٹھایا دیا گیا ہو۔ جدہ ،دوبئی، ہندوستان ہر جگہ ان کا بڑا شہرہ ہے۔

ابھی حال ہی میں بارہ بنکی کے ایک مشاعرے میں یہ سامعین میں دبے بیٹھے تھے کہ ملک زادہ منظور کی نظر ان پر پڑگئی انہوں نے فورا ان کا نام نظامت کے لیئے پکار لیا ۔ ان کی دلچسپ چھیڑ چھاڑ ، نوک جھونک ، لطیفے اور تبصرے مشاعرے کی فضا بنائے رکھتے ہیں ۔ ان کے فی البدیہ اشعار سے شعر نہ سمجھنے والے سامعین جن کی اکثریت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہ بھی لطف اندوز ہو تے ہیں ۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں مشاعرے کے درمیان تاخیر و تقدیم کے مسئلے کی وہی اہمیت ہے جو کٹّر وہابیوں اور سنّیوں کے مجمع میں امامت کی ہے ہم نے یہی دیکھا کہ اسی مسئلے پر مشاعرے کے اختتام پر کچھ شاعر حضرات طیش میں آگئے ان سے دو دو ہاتھ کرنے آگے بڑھ گئے مگر سبحان اللہ ! ان کی دلنواز مسکراہٹ اور پُر جوش مصافحے کے آگے ٹھنڈے پڑ گئے اور جس نمبر پر بھی پڑھائے گئے اسی کو اگلے مشاعرے کیلئے غنیمت جان لیا۔ اللہ تعالی نے انہیں ظرافت کا ایسا ہنر بخشا ہے کہ اگر یہ نہ ہوتا تو مسندِ نظامت دنگل بن جاتی ۔ پھر پتہ نہیں اس منحنی صحت کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ؟
شاعری میں شمشیرِ عریاں ہیں تو نظامت میں تیغِ محرف ۔ لیکن شاخِ گُل سے لکھتے ہیں اور بادِ نسیم سا بولتے ہیں۔ ناظمِ مشاعرہ کسی جہاز کے pilot کی طرح ہوتا ہے جس کی ذرا سی غلطی پلین کو crash کر ڈالتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے جہاز چلانا تو اور بات ہے بات توتب ہے جب کوئی 747 چلائے اور ناظر قدوائی کو یہ افتخار حاصل ہے کہ انہوں نے ایک نہیں کئی بار چلایا ہے اور ہر بار کامیابی کے ساتھ لینڈ کیا ہے ۔
ورنہ شاعروں کی فہرست میں کوئی تنک مزاج ہوتے ہیں تو کوئی صاحب جھٹ خفا ، کوئی خود ساختہ بزرگ ہوتے ہیں تو کوئی واقعتاً ایسے بزرگ ہوتے ہیں جن کی شاعری پر بچپن کا گمان ہوتا ہے۔ کوئی صاحب ، صاحبِ دیوان ہوتے ہیں لیکن شاعر معلوم نہیں ہوتے حتیٰ کہ شاعری سے بھی نہیں۔ کوئی صاحب دیر سے آکر مزید دیر سے پڑھوانے کا زعم دکھاتے ہیں بہرحال اتنے متنوع مزاج کے شعراء کو ساتھ لے کر چلنا ، یہی ناظر قدوائی کا کمال تھا ۔

ان تیس برسوں میں جدہ کی ادبی فضا کئی طرح کے پیچ و خم سے گزری ہر دور میں گروپ بندیاں ، انجمن سازیاں ، صف آرئیاں اور علاقہ واریت برابر موجود رہی ۔ ناظر قدوائی نے اپنے آپ کو کبھی کسی سے وابستہ نہیں کیا۔ ظاہر ہے جس شخص کو نہ صدر بننے کا شوق ہو نہ سیکریٹری بننے کی آرزو وہ کسی کے دامِ ِ سیاست میں کیسے گرفتار ہوتا؟ ہاں ایک بار صدر بنے اور وہ بھی انڈین ایمبیسی اسکول کی کمیٹی کے۔ آج سے پچیس چھبیس سال قبل جب نامزدگی نہیں انتخابات ہوتے تھے ایک عام شکوہ یہ تھا کہ اسکول پر حیدرآبادی کمیونٹی کا قبضہ ہے ا نہوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور 113 کے منجملہ 110 ووٹ لاکر یہ ثابت کیا کہ انسان با صلاحیت اور با وصف ہو تو لوگ نہ اس کا شہر دیکھتے ہیں نہ علاقہ ۔

ناظر قدوائی نے شہرت کے لئے کبھی محنت نہیں کی ۔ مقبولیت کی چاہت نہیں کی بھر بھی دونوں ساتھ چلیں۔ بے نیازی کا یہ عالم کہ کلام تو درکنار بیاض بھی نہیں رکھتے پرچیوں پر گزارا کرتے ہیں۔ اس عادت میں غالباً زمانۂ عاشقی سے مبتلا ہیں۔ اگر ساری پرچیاں جمع کر دی جائیں تو تین چار دیوان ضرور شائع ہو سکتے ہیں ۔ ناظر قدوائی اگر چیکہ روایتی مذہب سے بیزار ہیں جس کا اظہار عام گفتگو میں ہی نہیں بلکہ اشعار میں بھی شیخ و ناصح ، واعظ و محتسب پر تنقید کے ذریعہ کرتے ہیں لیکن پکّے موحد ہیں ۔

جدہ کی محفلوں سے یہ رونق چھین کر کہیں اور بانٹنے جا رہے ہیں جہاں اگر چہ نہ ریالوں کی ریل پیل ہے نہ بنگلوں اور کاروں کا عیش ، لیکن ان تمام سے بڑی ایک نعمت حاصل ہے اور وہ ہے آزادی کی نعمت۔
آخر میں ناظر قدوائی والد کا ہی یہ قطعہ ان کی طرف سے آپ تمام کی نذر کرتا ہوں :

دعائیں دیجیئے اب تو دعاؤں پر گزر ہوگی
خدا معلوم باقی عمر اب کیسے بسر ہوگی
مرے جانے سے کوئی فرق آئے گا نہ محفل میں
نہ بولے مرغ پھر بھی وقت پر اپنے سحر ہوگی

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے