Skip to content
 

سیاست کے قلندر صحافت کے سکندر : نعیم اللہ شریف

جدہ میں عام طور پر دو قسم کے جلسے زیادہ ہوتے ہیں ایک تعزیتی اور دوسرے وداعی۔
میں ذاتی طور پر اپنے لئے تعزیتی پسند کرونگا کیونکہ اسمیں جانے والے مرحوم کو نہ ہوم ورک دیا جا سکتا ہے اور نہ مرحوم کومروّت میں سر جھکا کر بھانت بھانت کے مقرّرین کے مشورے سننے پڑتے ہیں۔وداعی جلسوں میں وداع ہونے والے کو ہر ہر شخص اتنی ہدایات سے نوازتا ہے کہ جانے والا گھبرا کر اکثر جانے کا ارادہ ملتوی کردیتا ہے لیکن مجھے یقین ہیکہ مہتاب قدر صاحب، عبدالروْف صاحب اور انجینیر عبدالقدیر خالد صاحب نے ان کے وداعی جلسوں پر جتنا خرچ کیا ہے اسکا لحاظ کرتے ہوئے نعیم اللہ شریف صاحب جانے کا ارادہ ہرگز ملتوی نہیں کرینگے۔ میں نعیم اللہ شریف صاحب کے حوصلے کی داد دونگا کہ اگرچہ کہ خود ان کے ذہن میں بے شمار منصوبے ہیں جن کو روبہ عمل لانے کیلئے خود انکی باقی عمر بھی ناکافی ہے لیکن اسکے باوجود وہ ہر شخص کے مشورے کو اس انکساری کے ساتھ نوٹ کررہے ہیں گویا وہ اسی کے مشوروں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جارہے ہیں۔

نعیم اللہ شریف صاحب سے پچھلے دو تین سالوں میں جتنی گفتگو رہی ایسا لگا کہ دو ہی مسئلے ایسے ہیں جن پر ہندوستان کی تاریخ کا کانٹا جاکر اٹک گیا ہے۔ ایک کشمیر کا مسئلہ اور دوسرا ان کی واپسی کا۔
اللہ کا شکر ہے کہ ایک مسئلہ تو حل ہوگیا دعا کیجیئے کہ ان کے قدم سے دوسرا مسئلہ بھی حل ہوجائے۔ آمین۔
میں نعیم اللہ شریف صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اُنہوں نے بہت صحیح وقت پر جانے کا فیصلہ کیا اور چونکہ جانے کے بعد اوروں کی طرح انکے پاس کوئی کاروباری منصوبے نہیں بلکہ اپنے آپ کو قوم کی فلاح کیلئے وقف کرنے کے منصوبے ہیں اسلئے مجھے یقین ہیکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت انکے ساتھ ہوگی کیونکہ جو بندہ اوروں کیلئے جیتا ہے اسکی محنت کا ایک ایک لمحہ اللہ کے نزدیک کئی سال کی عبادت کی طرح ہوتا ہے۔

میں یہ تو نہیں جانتا کہ انکے نام کے ساتھ شریف کیوں مسمّی ہوا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ساری عمر اپنے نام کا بھرم رکھنے کیلئے ان کو کتنی غیر شریفانہ لذّتوں سے محروم ہونا پڑا۔ محنت سے انجیئنیرنگ کی ۔ گھر سے سیدھے کالج اور کالج سے سیدھے گھر آتے رہے۔ گھر سے کالج کے راستے میں عام نوجوان اُس عمر میں جتنے کورسس کرتے ہیں اور بزرگوں سے "لاحول ولا قوة" کی سند حاصل کرتے ہیں نعیم اللہ شریف صاحب اُن کورسس میں نہ فُل ٹائم داخلہ لے سکے نہ پارٹ ٹائم۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس محترمہ سے انکی شادی کردی گئی وہ بھی بے حد شریف نکلیں اور بچے دونوں میاں بیوی سے بھی زیادہ شریف ۔ بقول انہی کے کہ یہ بچّے ہی تھے جنہوں نے اِنہیں ایک سعادت مند باپ ہونے کی سعادت بخشی۔ ماشاء اللہ صحت اور عمر بھی ایسی چور پائی ہیکہ بچوں کے ساتھ کھڑے ہوں تو انکے بڑے بھائی لگتے ہیں۔ محبوب نگر سے حیدرآباد اور وہاں سے جدہ تک انکی زندگی شریف ہونے کی قیمت چکاتے چکاتے گزرگئی۔ ایمبیسی کے دربار سے وابستہ رہے لیکن سلیقے سے کبھی درباری نہ کرسکے نتیجہ یہ نکلا بقول رئیس انصاری کے
جب سے ہوئے ہیں ظلِّ الٰہی مرے خلاف
منصف مرے خلاف گواہی مرے خلاف

اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے وابستہ رہے اسکول کی جائداد پر لوگوں نے کروڑوں کا ہاتھ صاف کردیا ، ان کو خبر بھی نہ ہوئی۔کاش یہ حیدرآباد کے شریف ہونے کے بجائے پاکستانی شریف ہوتے۔ کئی تنظیموں سے وابستہ رہے لیکن کسی تنطیم کی ٹوپی ان کے سر پر فٹ نہیں آئی آخر میں A.P.NRIs Forum کی تشکیل کی اب واپس جاکر ایک نئی NRI یعنی New Returned Indians تشکیل دینگے۔جس تنطیم میں رہے سرگرم رہے جب نکلے تو پیچھے کے دروازے سے ایسے نکل گئے کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلنے دیا کہ ان کے نہیں رہنے سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ ورنہ کئی لوگ تنظیموں میں داخل ہی اِس لئے ہوتے ہیں کہ ثابت کریں کہ اِن کے رہنے سے کوئی فرق پڑے نہ پڑے لیکن نکلنے سے بہت فرق پڑ سکتا ہے۔

تقریراتنے انہماک سے کرتے ہیں کہ مختصر تقریر کرنے کا انکے پاس وقت نہیں ہوتا۔ آدھی تقریر زبان سے کرتے ہیں اور آدھی ہاتھوں سے۔ جب جوش میں آتے ہیں تو میز یا پوڈیم پر مکّا نہیں مارتے بلکہ مائیک کے اطراف کلائیاں مروڑتے ہیں۔ جب خاموش ہوتے ہیں تو لگتا ہے تب بھی تقریر کررہے ہوں۔ دوسروں کی تقریر بھی اتنی دلچسپی سے سنتے ہیں جیسے اُسکے بعد انہی کی تقریر ہے۔ نام پکارے جانے پر اسٹیج پر مسکراتے ہوئے ایسی چال چلتے ہوئے آتے ہیں جیسے کوئی چال چلنے والے ہوں۔ تقریر ٹھہر ٹھہر کر اتنے دھیمے لہجے میں کرتے ہیں جیسے آتش فشانی مسائل پر کھڑے ہوکر سردیوں کی آگ سکھا رہے ہوں۔ تقریر کے دوران شعر نہیں پڑھتے بلکہ شعر کی جگہ ایک معنی خیز مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں تاکہ سامعین تقریر ختم ہوگئی سمجھ کر پھر سے تازہ دم ہوجائیں حالانکہ ابھی تو اِن کی تمہید ختم ہوتی ہے۔ ان کی تقریر ان لوگوں کے لئے بارِگراں ہوتی ہے جنکی بیویاں اُنہیں جلد گھر لوٹنے کا حکم دے کر چھوڑتی ہیں۔ ان کی تقریر کے دوران وہ بار بار گھڑی دیکھتے ہوئے شائد یہ سوچتے رہتے ہیں کہ
زندگی میں دو ہی لمحے مجھ پہ گزرے ہیں کٹھن
اک ترے جانے سے پہلے اک ترے آنے کے بعد

حالانکہ ان کی تقریر میں مواد بھرپور ہوتاہے۔ اِنہیں اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ یہ کہنا کیا چاہتے ہیں ورنہ بے شمار مقرّر ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس جب تک چٹّھی نہ بھیجی جائے اُنہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں نعیم اللہ شریف صاحب نہ اندازے پر گفتگو کرتے نہ سند اور حوالے کے بغیر بات کرتے ہیں۔ Documented proof ہمیشہ پاس رکھتے ہیں۔ اختلاف الرائے کو مسکراتے ہوئے سنتے ہیں بلکہ اِسکا پورا حق دیتے ہیں بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میں اِس وصف کی بے حد کمی ہے ہر آدمی چاہے وہ چائے خانوں کے پاس کھڑے رہنا وال مبصّر ہو کہ کوئی عالم یا دانشور۔ بقول خمار بارہ بنکوی کے
ہر شخص چاہتا ہے کہ ہو اُسکی بندگی
ہر بُت یہاں خدا ہے میاں ہم سے پوچھیئے

لوگ اپنی رائے کو حتمی اور اختلاف الرائے رکھنے والے کو ناقص العقل سمجھتے ہیں۔ گفتگو میں بحث و تکرار پر اُتر آتے ہیں۔Volumne بڑھ جاتا ہے منہ سے تھوک اُڑنے لگتا ہے۔ قطع کلامی کے پتھر مار مار کر سامنے والے کولہو لہان کرڈالتے ہیں۔لیکن نعیم اللہ شریف صاحب کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کی بحث میں حل کیطرف پیش قدمی ہوتی ہے نہ کہ اپنی رائے منوانے کی ضد۔ جب نعیم اللہ شریف صاحب کے جانے کی اطلاع نعیم جاوید صاحب کو ملی تو اُنہوں نے ایک جملے کا یوں تبصرہ کیا کہ :
"سلیقے سے اختلاف کرنے والے بہت تیزی سے ختم ہورہے ہیں"۔

میں نے اُن کی تصحیح کی کہ نعیم اللہ شریف صاحب زندہ ہیں اور صرف جدہ سے انتقال کررہے ہیں دنیا سے نہیں۔ نعیم اللہ شریف صاحب ایک مضطرب روح، سلگتے ذہن اور تڑپتے دل کے مالک ہیں۔ لوگ پیسہ انوسٹ کرنے پر محنت کرتے ہیں یہ اپنا وقت قوم کیلئے انوسٹ کرنے کے لئے محنت کرتے ہیں۔ اگر اِس فکر میں قوم کو دوزخ کی آگ سے نجات دلانے والی فکر بھی شامل ہوجائے تو ان کے وقت کا انوسٹمنٹ ایک ایسا فکسڈ ڈپازٹ ہوگا جو انشاء اللہ پوری قوم کی دنیا اور آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ ہوگا۔ لوگ عادتاً ٹی وی یا اخبار دیکھتے ہیں۔ اور حیرت ہوتی ہے کہ کشمیر اور گجرات جیسے مناظر بھی دیکھ کر اُن کو گہری نیند آجاتی ہے اور ایک نعیم اللہ شریف صاحب ہیں کہ ان کی باقی رات کی نیند اڑ جاتی ہے۔ حال یہ ہوجاتا ہے کہ بقول امیر مینائی کے
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

یہ فوری قلم اُٹھاتے ہیں اور زندہ ضمیروں اور روشن ذہنوں کو اپنی تحریروں سے جھنجھوڑ دیتے ہیں ۔ ماضی میں نہیں الجھتے مرے ہوئے مردے نہیں اکھاڑتے۔ بیواوں کی طرح ظلم کا رونا نہیں روتے بلکہ بدترین حالات میں بھی ہمت ا کے ساتھ آگے بڑھنے کے مشورے دیتے ہیں۔ اگر کبھی ماضی میں جاتے ہیں تو صرف اُس وقت جب اپنے Acheivments سنا رہے ہوں۔جب اپنے کارنامے سنا رہے ہوتے ہیں تو آنکھوں میں ایک عارفانہ چمک ، چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ اور لہجے میں عاجزانہ فخر جھلکنے لگتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ پارلیمنٹ یا اسمبلی کے جتنے بِل ہیں یا جتنے جی اوز ہیں وہ ساری انہی کی دی ہوئی ہدایات یا کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ مخالفین سے نہیں ڈرتے اور مخالفین تو ان سے بالکل نہیں ڈرتے کیونکہ نہ اِنہیں غصہ آتا ہے نہ کسی سے دشمنی رکھنے کا فن۔ یہ کئی مخالفین کے منصوبوں پر پانی پھیر کر جارہے ہیں۔

سعودی عرب نے ان کے اندر چھپے ہوئے ایک سیاستدان، مفکّر، مصلح، دانشور اور ایک صحافی کو 28سال قید میں بند رکھا کیونکہ یہاں وقتِ واحد میں ایک آدمی کو ایک ہی اقامہ ملتاہے۔چاہے وہ نواز شریف ہوں کہ نعیم اللہ شریف ۔ ہماری خواہش ہیکہ نعیم اللہ شریف صاحب جاکر سیاست میں قدم رکھیں اور ہم بھی فخر کے ساتھ دنیا کو دکھا سکیں کہ شریف ہندوستان میں بھی پیدا ہوتے ہیں لیکن ویسے نہیں بلکہ نعیم اللہ شریف جیسے۔
لیکن ہندوستان جاکر سیاست یا کاروبار کرنا آسان نہیں ہے۔ سعودی عرب میں رہ کر بندہ کبھی مجبوری سے جھوٹ بول بھی دیتا ہے تو اُسکا ضمیر ضرور اُسکو ملامت کرتا ہے لیکن ہندوستان میں اگر غلطی سے زبان سے سچ نکل جائے تو ساری دنیا اُسے ملامت کرنے لگتی ہے بلکہ اُسکا پرویز مشرّف جیسا حال بنادیتی ہے۔ سچ کے معاملے میں نعیم اللہ شریف صاحب ناقابلِ اعتبار ہیں یہ کسی بھی وقت سچ بول سکتے ہیں۔ان کو کچھ تربیتی کورسس کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستان میں ایک بہترین ملازمت دلانے والے کئی پروفیشنل کورسس تو پڑھائے جاتے ہیں لیکن ایک بڑا لیڈر بنانے والے خوشامد، چمچہ گری ، دھاندلی ، فریب کاری، لوٹ ، فساد اور اوقاف کی زمینوں پر قبضے سکھانے والے کورسس نہیں پڑھائے جاتے ورنہ میں نعیم اللہ شریف صاحب کو مشورہ دیتا کہ جاکر فوری کسی ایسے کالج میں داخلہ لے لیں ورنہ وہ ہندوستان کے کسی اور شہر جاکر تو شائد کامیاب ہوجائیں لیکن حیدرآباد کی سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔حیدرآباد کی قیادت کا مقابلہ کرنے کیلئے اُنہیں بہت محنت کی ضرورت ہے ورنہ آپ جس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کرینگے وہ آپ کو کندھا دینے کی کوشش کرے گا۔

یہ یوں تو کئی اہم کام ذہن میں لے کر جارہے ہیں ان تمام کاموں میں سب سے اہم ترین کام یہ ہیکہ ا ردو کو امیروں کی بھی زبان بنانا اور ان اسکولوں میں اسے بطور لازمی مضمون نافذ کروانا جہاں لاکھوں روپیہ دے کر انگریزی اسکولوں میں آپ کے اورہمارے بچے پڑھ رہے ہیں۔ جہاں سے نکلنے والے بچے کل آپ کی اور ہماری جگہ لیں گے۔ یہ کام مکمل یکسوئی ، عزم اور استقلال چاہتا ہے اور جوبھی یہ کام کرے گا وہ ہندوستان کا قائداعظم ہوگا۔
اگر اردو عصری تعلیم یافتہ طبقے میں زندہ رہے گی تو ہماری تاریخ، تہذیب، دین، علم و ادب باقی رہیں گے ورنہ یہ پوری قوم سوائے چند پرانے شہر وں کے یا مدرسوں کے افراد کے، ہندی اور سنسکرت تہذیب کے حوالے ہوجائیگی۔ میں نعیم اللہ شریف کے صاحب کے اِس نظریے سے متفق ہوں کہ اپنی دیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانے کے بجائے مسلمانوں کو حکومت اور مختلف پارٹیوں اور مذاہب سے افہام و تفہیم کا راستہ اپنانا چاہیے اور لوگوں میں سرکاری مراعات اور مواقع کو فائدہ اُٹھانے کا شعور بیدار کرنا چاہئے۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور نعیم اللہ شریف صاحب ایک عرصہ دراز سے اِس کام میں بحسن و خوبی لگے ہوئے ہیں۔

میں آخر میں اتنا ہی عرض کرونگا کہ نعیم اللہ شریف مثبت اقدار کے حلیف، ناانصافیوں کے حریف، جنکا عقیدہ اور عمل بہ دینِ حنیف رہا ہے آپ سے ہمیں بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اور ہم تمام دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایمان کی سلامتی کے ساتھ رکھے اور استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے