Skip to content
 

نسیم سحر - اُسے فرد ساز کہوں کہ انجمن ساز کہ عہد ساز ؟

نسیم سحر سے ہماری مانوسیت یا لگاؤ کا ایک راز ہے۔
چلئے آج ہم وہ راز فاش کردیتے ہیں۔ وہ ہے اسمِ "نسیم"۔
ہمارے بچپن کا زمانہ تھا۔ عزیز میاں کے درد بھری آواز میں گائی ہوئی ایک غزل "نسیمِ صبح گلشن میں گُلوں سے کھیلتی ہوگی "جو قوالی کے پیرہن میں تھی محلّے کے ریسٹورنٹ مالک کو اسقدر پسند تھی کہ ہوٹل میں صبح سے شام تک وہ یہی ریکارڈ چلاتے رہتا۔ اسطرح یہ محلّے کے بچّے بچّے کو یاد ہو گئی تھی۔ اس وقت ہمیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ نسیم کے معنی کیا ہوتے ہیں۔ ہم اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو گلستاں یا بوستاں یا مسدّسِ حالی پڑھ کر نہیں بلکہ میرے محبوب اور پاکیزہ دیکھ کر جوان ہوئی تھی۔ یہا ں ایسے بزرگ بھی موجود ہیں جو فلم مغلِ اعظم دیکھ دیکھ کر جوان ہوئے تھے ۔ آجکل کی نسل تو خیر جوانی اور پاپ میوزک لے کر رقصاں پیدا ہورہی ہے۔ بہرحال نسیم کے معنی ہم یہی سمجھتے رہے کہ سادھنا یا مینا کماری ہی کی طرح کوئی معصوم شرمیلی اندازِ دلبرانہ لیے گلشنِ اقبال کے سارے گلوں کو گدگدانے والی کوئی حسینہ ہوگی اور ہم جب بھی یہ دُھن سنتے اپنے گلشنِ تصوّر میں ہر آنے والی حسینہ کو نسیم سے تعبیر کر کے رومانیت کے سرور میں کھو جاتے۔ ہمارے والدین کی خواہش تھی کہ ہم ڈاکٹری اور انجینیرنگ پڑھیں لیکن نسیم نے ہم کو شاعری اور افسانے لکھنے کے کام پر لگا دیا۔ پھر جب پہلے پہل نسیم سحر کی غزلیں نظر سے گزریں تو یہی گمان ہوا کہ شائد نسیم نے ہم سے ملے بغیر شادی کر لی ہوگی اور سحر یقیناً اسکے شوہر کا نام ہوگا ۔ شادی سے پہلے ضرور گلوں کو چھیڑتی تھی ہوگی لیکن شادی کے بعد شوق تو بدلنا ہی تھا بدل گیا ہوگا اور بجائے گلوں کے ع
"نسیمِ شعر محفل میں غزل کو چھیڑتی ہوگی"

جب نسیم سحر سے تعارف ہوا تو ہم ان سے بھی شرمندہ ہوئے گلشنِ تصوّر کی نسیم بھی ہم سے شرمندہ ہوئی اور ہم بھی نسیم سے ۔ لیکن خوشی اس بات کی ہیکہ نامِ نسیم کے بے معنی اور لاحاصل تصوّر سے کہیں زیادہ قیمتی ایک باغ و بہار شخصیت نسیم سحر کی صورت میں ہم کو مل گئی جنکی مرصع غزلیں نسیمِ سحر بن کر ہمارے گلشنِ خیال میں آئیں اور ہمیں بھی شعر کہنے پر ابھارنے لگیں۔ لیکن آج بھی ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ نسیم سحر کا نام جب بھی سامنے آتا ہے وہ نسیم ضرور یاد آتی ہے جسے نہ کبھی دیکھا نہ کبھی اس سے بات کی۔ اسطرح ہماری یادوں کے دریچے میں ایک نہیں اب دو دو نسیم ہونگے۔

نسیم سحر سے ایک ایسے مقام پر ایک ایسے عہد میں ہم ملے جہاں ہرایک کی شناخت ہندوستانیت یا پاکستانیت سے ہوتی ۔ لفظ پنجابی یا حیدرآبادی ہر ایک کی پہچان کا حوالہ تھا۔ لیکن نسیم سحر سے تعارف کے بعد یہ محسوس ہوا کہ پہچان یا شناخت کے یہ ملکی، شہری یا صوبائی حوالے نسیم سحر کے صحیح تعارف کیلئے بہت چھوٹے ہیں۔ نسیم سحر ہمارے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارا دین ایک ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ، اور وہ زبان جسمیں ہمارے دینی ، تہذیبی، تاریخی اور ادبی خزانے ہیں وہ بھی ایک یعنے "اردو" ہے۔
لاکھ ہمارے لہجے مختلف ہوں ہماری سوچ ہماری فکر اور ہماری زبان ایک ہے۔ کسی قوم کی تہذیب و ثقافت اور فکروفن کی بلندی کو ناپنے کا اولین پیمانہ شعر و ادب ہوتا ہے۔ اسلئے میں نسیم سحر کو اپنا ہمزادسمجھتا ہوں ۔ ہمارا رشتہ تب تک قائم رہیگا جب تک غزل قائم رہیگی اور غزل اسوقت تک قائم رہے گی جب تک اردو زبان زندہ رہے گی اور انشاء اللہ اردو کبھی مٹ نہیں سکتی۔ ہمارے لفظ الگ لیکن تعبیر ایک ہے۔ معنی مختلف سہی لیکن تاثیر ایک ہے۔ ہمارے اندازِبیاں مختلف لیکن تکبیر ایک ہے۔

ہمارے ذہنوں میں نقشہ تعمیر مختلف ضرور ہیں لیکن مقصدِ تعمیر ایک ہی ہے۔ ہم نے اپنے اپنے قلم کو علم بنا کر اپنا خونِ جگر دے کر راتوں کو نیندیں لٹا کر دل و دماغ کو عمر بھر جلا کراُسی زبان کے فکر و فن کے میراث کی حفاظت کی ہے جس زبان کو دکن میں محمد قلی قطب شاہ اور ولی دکنی نے پروان چڑھایا۔ لکھنؤ اور دہلی سے میر و غالب نے جسے جوان کیا۔ حالی ، آزاد اور علامہ اقبال نے پنجاب سے اسے معراج تک پہنچایا۔ ایسی زبان اور ایسی تہذیب کے علمبردار شاعر یا ادیب کو کسی صوبے یا کسی علاقے کے حوالے سے پہچاننا تنگ ذہنی اور کوتاہ نظری کی علامت ہے۔ لیکن میں ایسے تنگ ذہنوں پر ملامت نہیں کرونگا کیونکہ جن کو شعر وادب کا ذوق نہ ہو، تہذیب و ثقافت کا علم نہ ہو، تاریخ پر جنکی نظر نہ ہو، جنہیں اپنی قوم اور اپنی زبان کی عظمت اور اسکی حفاظت کا ذرّہ برابر احساس نہ ہو ایسے بے حس افراد اگر ایک دوسرے کو پنجابی حیدرآبادی یا مہاجر یا شمالی ہندی میں تقسیم کرتے ہیں تو اسمیں حیرت کیا ہے؟
لیکن بدقسمتی سے ایسے ہی افراد کی آج امّت میں اکثریت ہے۔

نسیم سحر کے نام کی معنویت خود اس بات کی دلیل ہیکہ نسیم سحر آفاقیت کی علامت ہیں۔
جدہ کی ادبی محفلوں میں جنکے منتظمین چاہے ہندوستانی رہے ہوں کہ پاکستانی نسیم سحر کی بھر پورخلوص اور انکساری کے ساتھ شرکت نے اردو زبان اور شعر و ادب کی آفاقیت کو اعتبار بخشا۔ نسیم سحر نے اس روش کو پوری ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جسکی بنیادیں ڈالنے والوں میں مصلح الدین سعدی، وحیدالدین فریدی، اعتماد صدیقی، طارق غازی، رؤف خلش، رسول احمد کلیمی، سجّاد بابر، ظفر مہدی، ناظر قدوائی وغیرہ شامل تھے۔ اور مجھے یقین ہیکہ جب تک نعیم بازیدپوری، مجاہد سیداور مہتاب قدر جیسے شعراء موجود ہیں یہ روش باقی رہے گی ۔

میرا جی تو چاہتا ہیکہ نسیم سحرکی شخصیت پر بہت کچھ کہوں لیکن مجھے خاکہ لکھنے کیلئے کہا گیا ہے مضمون نہیں ۔اسلئے میں اپنی اور نسیم سحر کی اوقات پر آتے ہوئے اتنا عرض کرونگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نسیم سحر بہت بڑے شاعر ہیں میں نسیم سحر کو ہرگز بڑا شاعر نہ مانتا اگر انہوں نے خود بڑے شاعر ہونے کا دعوٰی کیا ہوتا۔ لوگ دوسروں کی غزلوں کو اپنے نام کا سہارا دے کر زندہ رکھتے ہیں لیکن یہ اپنی غزلوں کو کئی شاگردوں کے نام کا سہارا دے کر زندہ رکھتے ہیں۔
غزل سنانے کا انداز قتیل اور فیض جیسا یعنے اپنی غزل بھی اس طرح سنائیں گے جیسے کسی شاگرد کی بے وزن غزل سنا رہے ہوں۔ ان کی غزلیں ہری ہرن جیسے گائکوں نے سنا کر لاکھوں کمائے اب تو جی چاہتا ہے ان سے فرمائش کریں ذرا ہری ہرن کے ترنّم میں غزل سنا دیں۔

زندگی کے تیس سال اسلامک ڈیولپمنٹ بنک کو نذر کردیئے۔ وہاں شعر و ادب کا بھی کھاتہ کھول دیا۔ اس دوران بینک نے دن دونی رات چوگنی بلکہ چودہ گنی ترقی کی ۔ یعنے دنیائے ادب میں کُل 14 مجموعوں کا اضافہ ہوا جن میں 9 غزلوں کے ، ایک نظموں کا، ایک حمدیہ و نعتیہ اور دو ہائیکو اور ایک مزاحیہ پر مشتمل ہیں۔
ان کے علاوہ سہ ماہی "سحاب" کا بھی اجراء عمل میں آیا جسکے اب تک 12شمارے منظرِعام پر آ چکے ہیں۔ اسکے معیار کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ اسمیں ناچیز کی بھی تحریریں شامل ہیں۔
جب صدارت کر رہے ہوتے ہیں تو لگتا ہے Statement of accounts کو Approve کر رہے ہیں۔ اور جب سامعین میں ہوتے ہیں تو تمام شعراء کی غزلوں کے اوزان کی Audit کررہے ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے شعراء کی Balance sheet ان کے پاس موجود ہے۔
ایک مرتبہ احمد فراز کی بھی بیلنس شیٹ تیار کردی۔ ان کا اِنہوں نے انٹرویو لیا اور ایک جملہ معترضہ بغیر کسی تبصرے کے جوں کا توں شائع کردیا۔
میں اُس وقت ان کی ذہانت کا قائل ہوگیا۔کیونکہ یہ جانتے تھے کہ قاری خود ہی بہترین تبصرے سے نواز دینگے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب کلنٹن مونیکا اسکینڈل اخبارات پر چھایا ہواتھا۔
احمد فراز نے کہا تھا کہ "مونیکا کلنٹن واقعے کے ادب پر بھی گہرے اثرات پڑیں گے۔"
اردو ادب اپنے چٹان جیسے اخلاقی اصولوں پر کھڑا ہے نہ کہ ہوسناکیوں یا ہیجان انگیزیوں کے غبار پر۔ ناچیز نے جب اس لغو جملے پر اردو نیوز میں تبصرہ کیا تو اطہر ہاشمی نے باقی تبصرے کرنے والوں کو بھی راستہ دیا۔ اس کا سارا کریڈٹ نسیم سحر کو ہی جاتا ہے۔ اتنے سالوں میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ کتنے انجمنوں اور ہنگاموں سے وابستہ رہے۔ لیکن یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہیکہ
"سلسلہ ٹوٹا نہیں درد کی زنجیر کا"۔

ہند و پاک کی انجمنوں کی عمر یوں بھی زیادہ نہیں ہوتی۔ دو تین سال میں وہ عام طور پر اللہ کو پیاری ہو جاتی ہیں۔ لیکن نسیم سحر جیسی مضطرب شخصیتیں جہاں جتنی بھی مہلت ملے غنیمت جان کر ملک، قوم ، زبان اور کمیونٹی کے لیئے کچھ نہ کچھ کرتے رہنے پر ڈٹے رہتی ہیں۔
شائد اسی لئے یہ جس محفل میں بھی جاتے ہیں کوئی ان کو بیٹھنے کیلئے ان کے شایانِ شان جگہ پیش نہیں کرتا سوائے صدارت یا مہمانِ خصوصی کی مسند کے۔ اور یہ سجتے بھی اِسی جگہ ہیں۔ کئی مرتبہ یہ بھی ہوا کہ یہ اتفاقاً کسی محفل میں پہنچ گئے اور انہیں دیکھتے ہی پہلے سے طئے شدہ صدر یا مہمانِ خصوصی نے ان کے حق میں دستبردار ہوجانے میں اپنی عزت سمجھی ۔اب یہ جگہ خالی کرکے جارہے ہیں جو کچھ لوگوں کیلئے بہرحال خوشخبری ہی ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ محض نشستاً و برخاستاً کی رسمی جگہ نہیں۔ اسکی ذمہ داری اٹھانے کیلئے نسیم سحر جیسا عزم، مستقل مزاجی، مطالعہ، سب کو ساتھ لے کر چلنے کی خو کے ساتھ ساتھ اپنے وقت اور جیب کو مسلسل لٹاتے رہنے کی ہمت بھی چاہیئے اسکے بعد ہی یہ جگہ کسی کے شایانِ شان بنتی ہے ۔

نسیم سحر کو اس عہد کی ایک فرد ساز شخصیت کہوں تو غلط نہ ہوگا۔
جو شاعر یا ادیب نہیں ہوتا وہ ان کی صحبت میں بن جاتا ہے۔ اور جو نہیں بن پاتا وہ ادب میں سیاست کرنے لگتا ہے۔ یہ ہر ایک سے اسقدر پر تپاک ملتے ہیں جیسے شعراء یونین کے الکشن لڑنے والے ہوں۔ جس سے ووٹ ملنے کی توقع نہ ہو اُس سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرتے اسکو اپنے شاگردوں کے حوالے کر ڈالتے ہیں۔ جس سے ناراض ہوتے ہیں اُسے بہت دیر میں پتہ چلتاہے کہ یہ اس سے ناراض ہیں۔ اسقدر بردباری کہ اگر کوئی ان کا راستہ روک کر کہے کہ میں بے وقوفوں کو راستہ نہیں دیتا تو یہ فوری ایک طرف ہٹ جائینگے اور مسکراتے ہوئے کہیں گے "لیکن میں دیتا ہوں " ۔

ہماری طرح تیس سال پہلے دو چار لاکھ کما کر واپس ہوجانے کے ارادے سے سعودی عرب آئے تھے ۔
ارادے کے پکے نکلے فوری واپس جارہے ہیں دعا کیجیئے کہ ہمارے بھی دو چار لاکھ جلد جمع ہوجائیں۔ لیکن میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ تیس سال ہم نے منبر و محراب سے خطیبوں کو اُس قوم پر لعنت و ملامت کرتے سنا ہے جس میں اتنی انسانیت تو ہے کہ ایک غلام ، کالے افریقی ویٹر کا بیٹا ملک کا صدر بھی بن سکتا ہے۔ نسیم سحر جیسی بے شمار شخصیتیں ہیں جن کے دل و دماغ اِس سوچ میں مسلسل جلتے رہتے ہیں کہ اس قوم کے دینی، ادبی، فکری اور سماجی و سیاسی چراغوں کو کسطرح روشن رکھیں۔
میں سوچتا ہوں اگر ہم وہیں چلے جاتے تو صدارت نہ سہی کچھ اور تو کر ہی جاتے۔ لیکن چھوڑئیے ہم نے ایسی سوچوں پر تقدیر کے تالے لگا کر مزید سوچنے کے دروازوں کو یوں بھی بند کررکھا ہے۔ دل کی تسلی کو یہی کیا کم ہے کہ یہاں رہ کر حرمین کی قربت کی سعادت تو نصیب ہوئی ۔

بعض چہرے جوانی میں ایسے لگتے ہیں جیسے اللہ میاں نے انہیں خاص اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے لیکن یہی جب بوڑھے ہوتے ہیں تو لگتا ہے ان کے اپنے کرتوتوں نے بنایا ہے۔ لیکن نسیم سحر کا رعب دار چہرہ 64 سال کی عمر میں بھی رعب اور دبدبے کی جوانی لیئے انہی کی مرصع غزلوں کی طرح ہے جو سدا جوان رہینگی۔
اتنے سال نوکری اور خاندان کی تمام ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اپنے ذہن و قویٰ کو نثر، شاعری، مزاح، خاکوں، انٹرویوز اور اسکے ساتھ ساتھ بے شمار تنظیموں سے وابستہ رکھنا یہ نسیم سحر کا ہی کمال ہے !

اسلئے میں حیران ہوں کہ انہیں فرد کہوں کہ فرد ساز، انجمن کہوں کہ انجمن ساز، ایک عہد کہوں کہ عہد ساز۔
ایک پبلشنگ ہاؤز کے قیام اور اسکے ذریعے صحتمند ادب کی ترویج کا اب جو مشن لے کر پاکستان جارہے ہیں یہ ایک چیلینج ہے جو پوری جوانی چاہتا ہے اور نسیم سحر اسکے لیئے تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہیکہ انہیں زبان و ادب کی خدمت کیلئے ہمیشہ جوان رکھے۔
یہ بار بارآتے رہیں اور ہماری محفلیں جوان رہیں ۔۔۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے