Skip to content
 

بارے مشتاق احمد یوسفی کے

برادرم اعجاز شاہین کے حکم پر ہم نے مشتاق احمد یوسفی پرمضمون لکھنے کی حامی تو بھر لی لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ اِن کی شخصیت پر لکھا جائے یا اِن کے فن پر۔ فن پر تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن کسی کی شخصیت پر لکھنا اور وہ بھی جبکہ ابھی وہ بقیدِ حیات ہو ذہانت سے زیادہ دلیری کا کام ہے۔
اِسکے لئے ویسی ہی واہیات شرطیں ہیں جیسے کالج میں داخلے کیلئے میٹرک پاس کرنے کی نامعقول شرط ہے۔ زندہ شخصیتوں پر لکھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی ایرپورٹ سیکوریٹی سے جیب میں پستول رکھ کر گزرنا۔ بڑے بڑے گواہوں کو بھی عدالت میں جھٹلایا جا سکتا ہے لیکن جس مقدمے میں جج خود عینی شاہد ہو اُسکو جھٹلانا اپنی آبرو گنوانا ہے۔ ہاں اگر آپ جج کی تائید میں بیان دے رہے ہوں تو بڑے سے بڑا جھوٹ بھی جائز ہے۔
کسی کے جیتے جی اُس کی شخصیت پر لکھنے کیلئے پہلی شرط یہ ہیکہ ممدوح سے کم سے کم سلام علیک کی حد تک ہی سہی آپ کچھ نہ کچھ مراسم رکھتے ہوں۔ دوسری شرط یہ ہیکہ آپ نے ممدوح کی کم سے کم دو چار تحریریں پڑھی بھی ہوں۔ اِسی لئے ہم نے آج تک جتنی شخصیات پر لکھا ہے وہ ساری کی ساری مرحومین کی شخصیات ہیں۔ اور کئی شخصیات پر ہماری زنبیل میں ایسے کئی معرکة الآرا مضا مین تیار پڑے ہیں جو ممدوح محترم کے آنجہانی ہوتے ہی منظرِعام پر آنے کی منتظر ہیں۔ جنہیں پڑھ کر کئی مدّاحینِ غالب و اقبال دنگ رہ جائیں۔
یہی ناقدین کا بھی اصول ہے کہ جب تک کوئی ادیب یا شاعر زندہ ہے اُسے مرحوم ہونے سے پہلے وہ درجہ نہیں دیتے جو مرحوم ہونے کے بعد عطا کرتے ہیں۔ وہ بے چارا لاکھ منّت سماجت کرے ۔ تخلیقات کا ڈھیر لگادے۔ پوری انعامی رقم ذمّہ داروں کو نذرانہ دے کر بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرلے لیکن لوگ اُسے مرنے سے پہلے بڑا ہونے نہیں دیتے۔

مشتاق احمد یوسفی کو پطرس اور رشید احمد صدیقی کے بعد پیدا ہونے کی سزا یہی ملی۔ کل تک فراز زندہ تھے تو فیض اور ندیم احمد قاسمی سے چھوٹے تھے ۔ جونہی فراز مرحوم ہوئے ہم نے کئی جلسوں میں مقالے اور تعزیتی مضامین سنے جنمیں فراز اُن سے بڑے ہو گئے ۔ اور کئی کے نزدیک تو اتنے بڑے ہوگئے کہ فیض کی شخصیت پر لکھنے والے فیض سے ناراض ہوگئے کہ فیض کیوں فراز سے پہلے گزر گئے۔

مرحومین پر لکھنے سے ادب کو یہ فائدہ یہ ہوتا ہیکہ غالب کے خطوط کی طرح ایسے کئی خطوط منظرِعام پر آتے ہیں جو مصنّف اور مرحوم کے درمیان لکھے گئے۔
اور ایسے کئی سفرنامے، تذکرے اور رپورتاژ سامنے آتے ہیں جو مرحوم سے منسوب تو ہوتے ہیں لیکن ان میں مرحوم صرف ایکسٹرا کے رول میں نظر آتے ہیں (کیونکہ ہیرو تو خود مصنّف ہوتا ہے)۔ ہم نے حال ہی میں قرة العین حیدر پر ایک معروف قلم کار کا تعزیتی مضمون پڑھاجو مرحومہ کو پیار سے باجی کہا کرتے تھے۔ پورے مضمون میں بھائی صاحب اپنے ادبی کارنامے گِناتے رہے اور باجی انکے لئے چائے بناتی رہیں۔

ہم نے مرحوم ضمیر جعفری پر بھی ہندوستان کے ایک معروف ادیب جو ایک مشہور رسالے کے ایڈیٹر و مالک بھی ہیں ، کا تعزیتی مضمون پڑھا ۔ پانچ چھ صفحے پر مشتمل اس مضمون میں ایک صفحہ تو مرحوم کے اس خط پر مشتمل تھا جو مرحوم نے موصوف کے رسالے کی شان میں لکھا تھا ۔ باقی تمام صفحات پر موصوف کے دورۂ پاکستان کے دوران مرحوم ان کے استقبال میں مختلف نشستوں، انٹرویوز اور ملاقاتوں کے انتظامات میں مصروف رہے۔ البتہ آخری پیراگراف میں مرحوم پر احسان کرتے ہوئے ان کے فن اور شخصیت پراتنا تبصرہ کیا کہ مرحوم کے گزر جانے کے بعد پاکستان سے مزاحیہ ادب کا خاتمہ ہوگیا :
انّا للہ و انّا الیہ راجعون۔

ہم نے کئی کتابوں پر ایسی شخصیات کے بھی مقدمے دیکھے جو اُن کے مرحوم ہونے کے بعد لکھے گئے۔ جسطرح حالی نے اپنے ہمدمِ دیرینہ، محسنِ ملت، رہنما و مرشد سر سید احمد خان پر ”حیاتِ جاوید “ لکھ کر نہ صرف سر سید کو زندہ جاوید بنا دیا بلکہ خود بھی جاوید ہوگئے اُسی طرح اس دور میں بھی ایسے ایسے حالی پیدا ہوتے رہتے ہیں جو کسی نہ کسی کو سر سید بنانے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ اسکے دنیا سے گزرتے ہی ایک حیاتِ جاوید اور لکھ ڈالیں ۔ لیکن سر سید خود بن جاتے ہیں اور مرحوم کو حالی کی حد تک محدود رکھتے ہیں۔

اعجاز شاہین صاحب نے یہ کارنامہ اچھا کیا کہ مشتاق احمد یوسفی کے جیتے جی ان پر مضامین لکھواکر لکھنے والوں کو اپنا اعمال نامہ خراب کرنے سے بچالیا۔ ورنہ کئی بونوں کا بعد میں قد مشتاق احمد یوسفی سے بڑا ہوجاتا پھر یوسفی صاحب کیا کرلیتے؟ خود ہم نے اُن کی حیاتِ جاوید لکھنی شروع کردی تھی جسکواب مکمل کرنا مشکل ہے لیکن جہاں تک تکمیل پاچکی ہے عبرت کیلئے پیش کر دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ عبرت لکھنے والوں کیلئے بھی اور جن جن پر لکھا جاسکتا ہے ان کیلئے بھی۔
ہم مدیرِ شگوفہ ڈاکٹر مصطفٰے کمال صاحب اور نعیم جاوید سے مشتاق احمدیوسفی کی تعریف میں اتنا کچھ سن چکے تھے کہ ایک عدد حیاتِ یوسفی لکھنے کا ہم نے پختہ ارادہ کر لیا تھا۔ سعودی عرب آکر بھی کبھی ہم اپنے ارادے سے باز نہیں آئے اور جب جب مہلت ملی کچھ نہ کچھ قلمبند کرتے رہے ۔ کچھ حصّے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

باب 1 : ہمارا پاکستان جانا
اگر مشتی بھائی (ہم پیار سے اُنہیں مشتی بھائی کہتے ہیں)نے اپنی صحت کا واسطہ دے کر پاکستان آنے کیلئے اصرار نہ کیا ہوتا تو شائد پاکستان جانے کی سعادت ہمیں کبھی حاصل نہ ہوتی۔ مشتی بھائی نے لکھا تھا کہ :
”علیم میاں۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔ شگوفہ کا تم پر خصوصی گوشہ نظرنواز ہوا دل باغ باغ ہوگیا۔ سرحد کے اِس پار والوں کا تو یہ خیال تھا کہ ہندوستان میں تخلیق کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ میری دانست میں بھی یہی تھاکہ مجتبٰی حسین اور یوسف ناظم کے بعد مزاح کا میدان خالی ہوجائیگا لیکن تمہارا خصوصی گوشہ دیکھ کر میری بدگمانی دور ہوگئی۔ مجتبٰی میرے دوست ہیں اسلئے تمہاری تحریروں پر صحیح تبصرہ کر کے میں اُنہیں ناراض کرنا نہیں چاہتا۔ اب ہماری صحت اِس قابل کہاں کہ تمہیں آ کر مبارکباد دیں۔ تم ہی چلے آو“ ۔
یہ پڑھ کر ہمارا دل بھر آیا اور ہم نے فوری پاکستان کا قصد کیا۔

باب 2 : پاکستان میں ہماری پذیرائی
اِس باب میں ہماری ان تمام تقاریر، مضامین، ملاقاتوں اور انٹرویوز کا ذکر ہے جو مشتی بھائی نے ہمارے استقبال میں کروائے تھے اس باب کے آخری پیراگراف میں ہم نے مشتی بھائی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔جو عظیم الشان پذیرائی انہوں نے کی اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ اس عہد کے بلا شبہ ایک عظیم مزاح نگار ہیں۔

باب ۳ : بارے آلو کے
ایک بار مشتی بھائی لندن میں اچانک مل گئے (جائے ملاقات، لندن آکر اُنہیں اطلاع نہ دینے کی شکایت اور دریافتِ احوال پر دو تین صفحات پر پھیلی تفصیل کے بعد) ہم نے انہیں بہ اصرار کھانے پر بلایا۔ اس دن لندن میں قصّابوں کی ہڑتال کیوجہ سے ہمیں مجبوراً vegetarian دعوت کرنی پڑی۔ اُس دن ہم نے ایک نیا تجربہ کیاجو ادبی دنیا میں مشتی بھائی کی ایک نئی تخلیق کا ذریعہ بن گیا۔ ہم نے اُس دن آلو بھاجی، آلو اچار، آلو شوربہ حتّٰی کہ میٹھے میں بھی ہم نے آلو پُڈنگ بنوائی۔ مشتی بھائی نے خوب ڈٹ کر کھایا وہیں ان کو یہ خیال آیا کہ آلو پر جب اتنے تجربے کئے جاسکتے ہیں تو اس پر ایک مضمون لکھنے کا تجربہ کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ بس وہیں سے انہیں اپنے شہرہ آفاق مضمون ”بارے آلو کے“ لکھنے کا داعیہ ملا۔

باب 4 : پڑیئے گر بیمار
میں نہیں سمجھتا کہ مشتی بھائی کے اِس مضمون سے زیادہ کسی اور مضمون کو شہرت ملی۔ جو بھی مشتاق احمد یوسفی کا نام جانتا ہے انہیں اس مضمون کے حوالے سے جانتا ہے۔ لیکن اس موضوع کے اسبابِ نزول کو کوئی نہیں جانتا۔ مشتی بھائی اکثر کہاکرتے تھے کہ :
”علیم میاں اگر تم پاکستان نہ آتے تو شائد میں یہ مضمون کبھی نہ لکھتا۔ قصّہ دراصل یہ ہیکہ ان کی عیادت کیلئے جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ بستر پر لیٹے تھے۔چلنے پھرنے پر پابندی تھی (فوجی حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ ڈاکٹروں کی طرف سے)۔ لیٹے لیٹے وہ اپنے مضامین پر نظرِثانی کا کام کرتے رہتے لیکن وقت بے وقت عیادت کیلئے آنے والوں کیوجہ سے مسلسل ڈسٹرب رہتے۔ انہوں نے جب ان مزاج پرسی کے بہانے نازل ہونے والے عذاب کے فرشتوں کا ذکر کیا تو میں نے اصرار کیا کہ مشتی بھائی اگر آپ اس پر ایک عدد مضمون لکھ ڈالیں تو نہ صرف یہ کہ آپ کو ان کربناک ہمدردوں سے نجات مل جائیگی بلکہ مزاحیہ ادب میں ایک شاندار تخلیق کا اضافہ ہوجائیگا۔ پہلے تو وہ اسے بے مروّتی اور احسان فراموشی قرار دیتے رہے۔ کہنے لگے :
”میاں ہوسکتاہے اللہ تعالٰی اِسی صبر و مروّت کو میری طرف سے سکرات کے طور پر قبول کرلے۔ لیکن میرے اصرار پر مان گئے۔ اللہ تعالٰی کو انہیں صحت عطا کر کے دراصل یہ مضمون ان سے لکھوانا مقصود تھا اسلیئے وہ الحمدللہ صحت یاب ہوگئے اور یہ یادگار مضمون لکھ ڈالا۔

باب 5 تا 8 :
ان ابواب میں مرزا صاحب، مرزا عبدالودود بیگ، زرگزشت اور آب گم کے اسبابِ پیدائش ہیں۔ جنمیں ہمارے وہ تمام مشورے شامل ہیں جو ان کی تخلیق کے عمل میں مددگار ہوئے۔

ایسے کئی اہم تاریخی انکشافات کی ہم تکمیل میں لگے ہی تھے کہ اچانک ایک دن اعجاز شاہین صاحب کا میل ملا کہ مشتاق احمد یوسفی پر مجلّہ شائع ہورہاہے۔ نہ صرف وہ زندہ سلامت ہیں بلکہ بہ نفسِ نفیس اپنے مجلّے کے رسمِ اجراء کی تقریب میں دوبئی تشریف لارہے ہیں۔ہمارے لئے حیاتِ یوسفی پر کام روک کر دوسرا کوئی مضمون لکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ اندازہ لگایئے اگر یہ مضامین ہم مجلے میں شائع کروادیں تو ہمارا کیاحشر ہوگا یہ تو بعد کا سوال ہے پہلے یہ کہ خود مشتاق احمد یوسفی صاحب کا کیا حال ہوگا ۔
اسلئے ہم اپنی اصلی اوقات پر آتے ہوئے پوری شرافت اور ایمانداری سے یوسفی صاحب کے فن کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی اور ان کی خوش نصیبی سے ہماری آج تک نہ ان سے ملاقات ہے نہ کوئی خط و کتابت۔ اگر زندگی میں کبھی یہ شرف حاصل ہوجائے تو پھر ہم حیاتِ یوسفی کی اور شاندار طریقے سے تکمیل کرینگے۔

اور مزاح نگاروں نے کئی خاکے لکھے اور خوب لکھے۔ لیکن جتنے خاکے لکھے وہ خواص پر لکھے۔ ہم جیسے عام آدمی کو کبھی گھاس نہیں ڈالی۔ مشتاق احمد یوسفی کا ہر مضمون ہم جیسے ایک عام آدمی کاایسا خاکہ ہے جسمیں کروڑوں انسانوں ہی کی نہیں بلکہ پوری تہذیب اور ثقافت کی تصویر ملتی ہے۔ یوسفی صاحب کو نفسیاتِ انسانی اور جذباتِ انسانی کا مکمل شعور ہے اسلئے جب وہ کسی کیریکٹر کو پیش کرتے ہیں تو ہرشخص کو اس کیریکٹر میں اپنا عکس ضرور دکھائی دیتاہے۔ یاد رہے مزاح نہ لطیفہ گوئی ہے نہ تضحیک نہ طنز۔ مزاح وہی مزاح ہے جو بظاہر تو ہلکی پھلکی لطافت اور ظرافت میں ڈوبی تحریر لگے لیکن قاری کو لطیفہ پر قہقہہ لگا کر بھول جانے کے بجائے یکلخت اس تحریر کی گہرائی میں جاکر سنجیدگی سے اپنے آپ کا جائزہ لینے پر مجبور کردے۔
ردِّ عمل بجلی کی چمک کیطرح ذہن میں اسطرح کوندے کہ اسے لگے کہ کسی نے اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ مزاح کے اس معیار پر جب ہم مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں تواندازہ ہوتا ہیکہ مشتاق احمد یوسفی مزاح کی معراج پر ہیں۔ جو تحریریں مزاح کے اس معیار پر پوری نہیں اترتیں وہ پھکڑپن، لطیفوں، پھبکیوں اور فقرہ بازیوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔ انمیں طنز، تحقیر، تضحیک، رکیک وغیرہ تو ہوتا ہے مزاح پیدا نہیں ہوسکتا۔
یوسفی صاحب کے فن کا کمال یہ ہیکہ وہ طنز یا تحقیر نہیں برتتے۔یوں بھی جہاں مزاح بھرپور ہو وہاں طنز کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ پختہ مزاح بذاتِ خود بہت بڑا طنز ہے جو معاشرے کی ہر بے راہ روی کو بے نقاب کر دیتا ہے۔لیکن عہدِ حاضر میں اس حقیقی فن کا فقدان ہے۔
جیسا کہ یوسفی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں :
”اصل بات یہ ہیکہ ہمارے ہاں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہنسنا اور کھانا آتا ہے اسی وجہ سے پچھلے سو برس سے یہ فن ترقی نہ کر سکا۔“

حفیظ میرٹھی کہتے ہیں کہ :
نہ ہوں حیران میرے قہقہوں پر مہرباں میرے
فقط فریاد کا معیار اونچا کرلیا میں نے

مزاح وہی ہے جو قہقہوں یا مسکراہٹ کے پس پردہ ہو۔ یوسفی صاحب طنز کو شامل کرکے مضمون کو خشکی اور کڑواہٹ سے دور رکھتے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ : اگر طعن و تشنیع سے مسئلے حل ہوجاتے تو بارود ایجاد نہ ہوتی۔
چونکہ مزاح کے میدان میں اکثریت ان ادیبوں کی ہے جو طنز کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں اسلیئے مزاح کی اہمیت و افادیت سے قارئین کی اکثریت اب بھی ناواقف ہے۔
آیئے یوسفی صاحب کے ایک عام آدمی پر جس خاکے کا ہم نے ذکر کیاہے انہی کی مختلف تحریروں میں اسے تلاش کرتے ہیں جسمیں ہر قاری کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔

یہ سرگزشت ایک عام آدمی کی کہانی ہے جس پر بحمد اللہ کسی بڑے آدمی کی پرچھائی تک نہیں پڑی۔
ایک ایسے آدمی کے شب و روز کے احوال جو ہیرو تو کجا Anti Hero ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا ۔ عام آدمی تو بیچارہ اتنی سکت اور استطاعت نہیں رکھتا کہ اپنی زندگی کو مردم آزادی کے تین مسلمہ ادوار میں تقسیم کر سکے۔ یعنی :
”جوانی میں فضیحت ، ڈھلتی عمر میں نصیحت اور بڑھاپے میں وصیت۔“
لیکن مزاح نگار کے لئے نصیحت ، فضیحت اور فہماش حرام ہیں۔ وہ اپنے تلخ حقائق کے درمیان ایک قد آدم دیوارِ قہقہہ کھڑا کر لیتا ہے۔ میں نے کبھی کسی پختہ کار مولوی یا مزاح نگار کو محض تقریر یا تحریر کی پاداش میں جیل جاتے نہیں دیکھا۔ مزاح کی میٹھی مار بھی شوخ آنکھ ، پر کا عورت اور دلیر کی وار کی طرح کبھی خالی نہیں جاتی۔۔
ہم نے آج تک کسی مولوی ۔۔۔کسی فرقے کے مولوی کی طبیعت خراب نہیں دیکھی ۔ نہ کسی مولوی کا ہارٹ فیل ہوتے سنا۔جانتے ہو کیا وجہ ہے ؟ پہلی وجہ تو یہ کہ مولوی کبھی ورزش نہیں کرتے ۔ دوسری وجہ یہ کہ سادہ غذا اور سبزی سے پرہیز کرتے ہیں مرغی کے غسلِ میت کے پانی سے جسے وہ ”چکن سوپ “کہہ کر نوش جان فرماتے ہیں ان کی زبان اس قینچی کی طرح ہے جو چلتی زیادہ ہے اور کاٹتی کم۔ ڈانٹنے کا انداز ایسا ہے جیسے کوئی لڑکا زور زور سے پہاڑے یاد کر رہا ہو۔ زبان ان کے گھر کی لونڈی ہے اور وہ ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتے ہیں۔۔
” برا مانو یا بھلا لیکن جو ان مولوی اور بوڑھے شاعر پر اپنا دل تو نہیں ٹھکتا ۔ کیا سمجھے ؟“

وہ وصل کی اس طرح فرمائش کرتا ہے گویا کوئ بچہ ٹافی مانگ رہا ہے۔ اور ان کے ہونٹوں پر ہر وقت وہ دھلی منجھی مسکراہٹ کھیلتی ہے جو آْج کل صرف ٹوتھ پیسٹ کے اشتہاروں میں نظر آتی ہے۔ہمارے ہاں ایسے بزرگوں کمی نہیں جو آخر میں دعا مانگنے کی لالچ میں نہ صرف یہ کہ پوری نماز پڑھ لیتے ہیں بلکہ عبادت میں خشوع و خضوع اور گلے میں رُندھی رُندھی کیفئت پیدا کرنے کے لئے اپنی مالی مشکلات کو حاضر و ناظر جانتے ہیں۔ دماغی صحت کے لئے یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ انسان کو بابندی سے صحیح غذا اور غلط مشورہ ملتا رہے۔اور ان میں بھاری اکثرئت ان سترے بہترے بزرگوں کی ہے جو گھگیا گھگیا کر اپنی درازئ عمر کی دعا مانگتے ہیں اور اسی کو عین عبادت سمجھتے ہیں۔ مجھے اس پر قطعی تعجب نہیں ہوتا کہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے لوگ خونی پیچش کا علاج گنڈے تعویزوں سے کرتے ہیں۔ غصہ اس بات پر آتا ہے کہ وہ واقعی اچھے ہو جاتے ہیں۔
بیسویں صدی میں جیت انہی کی ہے جن کے ایک ہاتھ میں دین ہے اور دوسرے میں دنیا۔
اور دائیں ہاتھ کو خبر نہیں کہ بائیں میں کیا ہے !
شرع اور شاعری میں کاہے کی شرم! جنت واحد ایسی جگہ ہے جس کا حال اور مستقبل اس کے ماضی سے بہتر نہیں ہو سکتا!
یاد رکھئے آپ تجارت اور عبادت تو کسی کے ساتھ بھی کر سکتے ہیں لیکن تاش صرف اشرفوں کے ساتھ کھیلنا چاہیئے۔ یہی نہیں یورپ میں بھی اس فرق کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ وہاں بڑے سے بڑے اسٹاک اکسیینج اور گرجا میں ہر کس و ناکس کو بے روک ٹوک جانے کی اجازت ہے مگر کلب اور کیسینوز خمار خانے میں فقط خاندانی شرفاء بار پاتے ہیں“۔

یقین مانئے ترقی یافتہ ممالک میں جاہل آدمی ٹھیک سے جرم کر بھی نہیں سکتا۔جن ترقی یافتہ ملکوں میں تندرستی کی وبا عام ہے وہاں جنسی جرائم کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ہالی ووڈ میں آج بہت سی ایکٹریس ایسی ہیں جو کپڑے پہن لیں تو ذرا بھی اچھی نہ لگیں۔ہمارے ہاں ان پڑھ سے ان پڑ ھ آدمی بھی اپنے کتے کا نام انگریزی رکھتا ہے اور انگریزی میں ہی اس سے بات چیت اور ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے۔ چنانچہ بچوں کو انگریزی بولنی آجاتی ہے ۔ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ کتا بقولِ مرزا اردو میں بھونکتا ہے یعنی بھونکتا ہی چلا جاتا ہے۔

امریکہ کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں۔ اپنے ماضی سے شیفتگی رکھنے والوں کی مثال ایک ایسی مخلوق کی سی ہے جس کی آنکھیں گدٌی کے پیچھے لگی ہوئی ہوں۔ بد صورت انگریز عورت rarity ( نایاب ) ہے ۔ بڑی مشکل سے نظر آتی ہے۔ یعنی ہزار میں ایک۔
پاکستانی اور ہندوستانی اسی عورت سے شادی کرتا ہے ان کی مثال اس قصاب کی سی ہے جسے بکروں سے عشق ہو جائے۔ ، لیکن انگریز عورت کو حبالۂ نکاح میں لانے سے نہ تو انگلستان فتح ہوتا ہے ، نہ سمجھ میں آتا ہے بلکہ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے ، خود عورت بھی سمجھ میں نہیں آتی۔
بعض عورتیں شاعر کی نصیحت کے مطابق وقت کو پیمانہ امروز و فردا سے نہیں ناپتیں بلکہ تاریخ و سن اور واقعات کی ترتیب کا حساب اپنی زچگیوں سے لگاتی ہیں۔اس کا کیا علاج کہ انسان کو موت ہمیشہ قبل از وقت اور شادی بعد از وقت معلوم ہوتی ہے۔پہلی نظر میں جو محبت ہو جاتی ہے وہ اس میں بالعموم نیت کا فتور کار فرما ہوتا ہے۔

بیمار کو مشورہ دینا ہر تندرست آدمی اپنا خوشگوار فرض سمجھتا ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ننانوے فیصدی لوگ ایک دوسرے کو مشورے کے علاوہ اور دے بھی کیا سکتے ہیں۔لیکن اسی روحانی اذیّت کا کوئی علاج نہیں جو عیادت کرنے والوں سے مسلسل پہنچتی رہتی ہے۔ مارفیا کی انجکشن مریض کے بجائے مزاج پرسی کرنے والوں کے لگائے جائیں تو مرض کو بہت جلد سکون آئے۔ میں تو ان لوگوں میں سے ہوں جو محض عیادت کے خوف سے تندرست رہنا چاہتے ہیں۔
ایک حساس دائم المرض کے لئے ” مزاج اچھا ہے“؟ ایک رسمی یا دعائہ جملہ نہیں بلکہ ذاتی حملہ ہے۔
میں تو آئے دن کی پرسشِ حال سے اس قدر بیزار ہوں کہ احباب کو آگاہ کر دیا ہے کہ جب تک میں بقلمِ خود یہ اطلاع نہ دوں کہ آج اچھا ہوں ، مجھے حسبِ معمول بیمار ہی سمجھیں اور مزاج پرسی کر کے شرمندہ ہونے کا موقع نہ دیں۔ یقین نہ آئے تو جھوٹ موٹ کسی سے کہہ دیجئے کہ مجھے زکام ہو گیا ہے۔ پھر دیکھئے کیسے کیسے مجرب نسخے خاندانی چٹکلے اور فقیری ٹونکے آپ کو بتائےجاتے ہیں۔ آج تک یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ اس کی وجہ طبی معلومات کی زیادتی ہے یا مذاقِ سلیم کی کمی۔

بہرحال بیمار کو مشورہ دینا ہر تندرست آدمی اپنا خوشگوار فرض سمجھتا ہیاور انصاف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ننانوے فیصد لوگ ایک دوسرے کو مشورے کے علاوہ اور دے بھی کیا سکتے ہیں؟ سرِ فہرست ان مزاج پرسی کرنے والوں کے نام ہیں جو مرض تشخیص کرتے ہیں نہ دوا تجویز کرتے ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ منکسر المزاج ہیں۔ دراصل ان کا تعلق اس مدرسۂ فکر سے ہے جس کے نزدیک پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ جس طرح بعض خوش اعتقاد لوگوں کا ابھی تک یہ خیال ہے کہ ہر بد صورت عورت نیک چلن ہوتی ہے ، اسی طرح طبی چلن میں ہر کڑوی چیز کو مصفی خون تصور کیا جاتا ہے۔ میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ یہ حضرات مزاج پرسی کرنے آتے ہیں یا پرسہ دینے ۔

کچھ ایسے عیادت کرنے والے بھی ہیں جن کے اندازِ پرسش سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری ایک سنگین جرم ہے اور وہ کسی آسمانی ہدایت کے بموجب اس کی تفتیش پر مامور کئے گئے ہیں۔ ایک ہی سانس میں خدا نخواستہ سے انا للہ تک کی تمام منزلیں طئے کر لیتے ہیں۔اس ظالم کے تقاضائے وصل کے یہ تیور ہیں گویا کوئی کابلی پٹھان ڈانٹ ڈانٹ کر ڈوبی ہوئی رقم وصول کر رہا ہے۔ اور یہ حال کر ڈالتے ہیں کہ سانس لیتے ہوئے دھڑکا لگا رہتا ہے کہ روایتی ہچکی نہ آجائے ۔
ذرا گرمی لگتی ہے تو خیال ہوتا ہے کہ شائد آخری پسینہ ہے اور طبیعت تھوڑی بحال ہوتی ہے تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہوں کہ کہیں سنبھالا نہ ہو۔اور حالت یہ ہوتی ہے کہ پرچھائیں بھوت اور ہر سفید چیز فرشتہ دکھائی دیتی۔ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں مر جائنگے گھر میں بھی چین نہ پایا تو کدھر جائنگے۔
میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ یہ حضرات مزاج پرسی کرنے آتے ہیں یا پرسہ دینے ۔ایک وہ غذا رسیدہ بزرگ جو کھانے سے علاج کرتے ہیں۔ ایسا حلیہ بنا کر آتے ہیں کہ خود ان کی عیادت فرض ہو جاتی ہے ۔صورت سے سزا یافتہ معلوم ہوتے تھے۔ اور اگر واقعی سزا یافتہ نہیں تھے تو یہ پولیس کی عین بھلمنساہٹ تھی۔ انہوں نے تمام عمر تکلیفیں ہی اٹھائں شائد اسی وجہ سے انہیں یقین ہو چلا تھا کہ وہ حق پر ہیں۔

مزاح نگار کو جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ ہنسی ہنسی میں اس طرح کہہ جاتا ہے کہ سننے والے کو بھی بہت بعد میں خبر ہوتی ہے۔طعن و تشنیع سے اگر دوسروں کی اصلاح ہوجاتی تو بارود ایجاد کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہنسنا اور کھانا آتا ہے۔ اسی وجہ سے پچھلے سو برس سے یہ فن ترقی نہ کر سکا اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔وہ اس عقیدے پر سختی سے قائم رہا کہ علم الحساب در حقیقت کسی متعصب کافر نے مسلمانوں کو آزار پہنچانے کے لئے ایجاد کیا تھا۔
جوانی میں خدا کے قائل رہے مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ایمان پختہ ہوتا گیا یہاں تک کہ وہ اپنی تمام نا لائقیوں کو سچے دل سے منجانب اللہ سمجھنے لگے ۔ اپنی ذات ہی کو انجمن خیال کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مستقل اپنی ہی صحبت نے ان کو خراب کر دیا۔انسان کو حیوانِ ظریف کہا گیا ہے۔ لیکن یہ حیوانوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔اس لئے کہ دیکھا جائے تو انسان واحد حیوان ہے۔
سبھی انسان احمق ہوتے ہیں۔ اگر تم واقعی کسی احمق کی صورت نہیں دیکھنا چاہتے تو خود کو اپنے کمرے میں مقفل کر لواور آئنہ توڑ کر پھینک دو۔ جھوٹے الزام کو سمجھدار آدمی نہایت اعتماد سے ہنس کر ٹال دیتا ہے مگر سچے الزام سے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔

آج کل لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ادب ایک ” کیپ سول “ میں بند کر کے ان کے حوالے کر دیا جائے ، جسے وہ کو کا کولا کے گھونٹ کے ساتھ غٹک سے حلق سے اتار لیں۔ ہزاروں سال نرگس جن کی بے نوری پہ روتی ہے۔ ہمارے ہاں اب تک یہ کیفیت ہے کہ نوجوان اس وقت تک اردو کی کوئی کتاب پڑھنے کی حاجت محسوس نہیں کرتے جب تک پولیس اسے فحش قرار نہ دے دے ۔ پولیس اگر دل سے چاہے تو تمام اچھی اچھی کتابوں کو فحش قرار دیکر نو جوانوں میں اردو ادب سے گہری دلچسپی پیدا کر سکتی ہے۔ فحش کتاب میں دیمک نہیں لگ سکتی کیونکہ دیمک ایسا کاغذ کھا کر افزائشِ نسل کے قابل نہیں رہتی۔
ہمارے بچپن میں کتابیں اتنی آسان ہوتی تھیں کہ بچے تو بچے ، ان کے والدین بھی سمجھ سکتے تھے۔ بیشتر صفحات کے کونے کتے کے کانوں کی طرح مڑے ہوے ہوتے تھے۔ اگر کوئ باپ اپنے بیٹے سے سو فیصد مطمئن ہے تو سمجھ لیجئے کہ یہ گھر انہ رُو بہ زوال ہے ۔ بر خلاف اس کے اگر کوئی بیٹا ، اپنے باپ کو دوستوں سے ملانے سے شرمانے لگے تو یہ علامت ہے اس بات کی کہ خاندا ن آگے بڑھ رہا ہے۔
جتنا وقت اور روپیہ بچوں کو ” مسلمانوں کے سائنس پر احسانات “ رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے ، اس کا دسواں حصہ بھی بچوں کو سائنس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہوگا۔
جو شخص روپئے کے لالچ کے علاوہ کسی اور جذبے سے کتاب لکھتا ہے ، اس سے بڑا احمق رُوئے زمین پر کوئی نہیں۔خود دیباچہ لکھنے میں وہی سہولتیں اور فائدے مضمر ہیں ، جو خودکشی میں ہوتے ہیں۔ یعنی تاریخِ وفات ، آلۂ قتل اور موقعۂ واردات کا انتخاب صاحبِ معاملہ خود کرتا ہے۔ اور تعزیرات ِ پاکستان میں یہ واحد جرم ہے ، جس کی سزا صرف اس صورت میں ملتی ہے کہ ملزم ارتکابِ جرم میں کامیاب نہ ہو۔

جینا ہے تو پھسلتے سرسراتے لمحوں کو دانتوں سے پکڑو۔ گزرتے لمحے کو بے جھپک چھاتی سے لگاؤ کہ اس کی نس نس میں ماضی کا نیم گرم خون دوڑرہا ہے۔ اسی جیتی جیتی کوکھ سے مستقبل جنم لے گا اور اپنی چھل بل دکھا کر آخر اسی کی طرف لوٹے گا۔ بال سفید کرنے کے لئے اگر چہ کسی تیاگ اور تپسیا کی ضرورت نہیں ۔ تاہم ایک رچی بسی باوقار سپردگی کے ساتھ بوڑھے ہونے کا فن اور ایک آن کے ساتھ پسپا ہونے کے پینترے بڑی مشکل سے آتے ہیں۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے