Skip to content
 

فیض کا فیضِ عام

Faiz Ahmed Kidwai

فیض احمد قدوائی


(زیرِنظر خاکہ خاکِ طیبہ ٹرسٹ جدہ کی جانب سے دیئے گئے الوداعی عشایئے کے موقع پر پیش کیا گیا۔ )

جب سی جی صاحب نئے نئے آئے تھے اُس وقت کسی نے کہا تھا کہ نئے سی جی انہتائی شریف النفس، خلیق، منکسر المزاج اور بردبار انسان ہیں تو ہمیں حیرت ہوئی تھی کہ چار پانچ سی جی بیک وقت کیسے مقرر ہوسکتے ہیں؛ چونکہ ہم قونصلیٹ اور ایمبسی کی سیاست سے بہت دور رہتے ہیں اس لئے ہمیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ قونصلیٹ میں کتنے سی جی اور کتنے کونسل ہوتے ہیں۔ لیکن جب ان سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ سی جی ایک ہی ہوتے ہیں اور وہ یہی جناب فیض احمد قدوائی صاحب ہیں۔ اور شرافت، اخلاق، ملنساری اور بردباری ان کی شخصیت کے ہی کئی رخ ہیں ۔ ہمیں ان سے مل کر خوشی ہوئی کہ یہ ہمارے قبیلے کے نہیں ہیں تو کیا ہوا ہماری قبیل کے تو ہیں۔ البتہ اس قبیل کا آدمی اتنا بڑا سرکاری افسر بن جائے اس پر ہمیں حیرت ضرور ہوئی۔ کیونکہ کسی بھی سرکار کیلئے کسی دہشت گرد کے پاس سے ہتیار کا برآمد ہونا اتنے بڑے خطرے کے بات نہیں جتنا کہ کسی افسر کے پاس سے ایمانداری، شرافت اور انسانیت کا برآمد ہونا ہے۔ یہ وہ پبلک سرونٹ ہیں جو پبلک کو سرونٹ نہیں سمجھتے۔ بلکہ کسی گھر کا سرونٹ بھی آجائے تو اسے ایک مہذب ملک کا با عزت شہری ہونے کا احساس دلاکر بھیجتے ہیں۔
ایسے عہدوں پر فائز سرکاری افسر اکثر مسکرانے کے بھی پیسے وصول کرتے ہیں لیکن ایک فیض صاحب ہیں کہ یہ اکرام ہر ایک کو مفت بانٹتے ہیں۔ قیصرالجعفری کا یہ مشورہ فیض صاحب کی نذر ہے کہ
بات کرتے ہوئے یوں پھول نہ برسا ورنہ
بات بے بات بھی سب بات کرینگے تجھ سے

یوں بھی لوگوں سے ملنے میں یہ بہت احتیاط برتتے ہیں۔ کیونکہ لوگ اتنے بھی اچھے نہیں ہوتے جتنے کہ فیس بک پر نظرآتے ہیں۔ یہاں اکثر لوگ گھر کو آگ لگ جائے تو پہلے تصویر لے کر اخبار کے دفتر کو بھیجتے ہیں پھر فائز بریگیڈ کو فون کرتے ہیں۔اسلئے یہ پبلیسٹی سے دور بھاگتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ سیاسی آدمی بالکل نہیں جبکہ یہاں آنے والوں میں ہر دوسرا شخص لیڈر اور تیسرا سیاسی مفکر، مدبر اور مبصر ہوتا ہے۔ یہ قونصلیٹ آنے والوں کو اچھی طرح جانتے ہیں پھر بھی سب کی عزت کرتے ہیں۔
لیکن جب کسی کو دوست بناتے ہیں تو نبھاتے بھی خوب ہیں۔ کرتے یوں ہیں کہ جگری یار یا کزنس مل جائیں تو گھر سے غائب ہوجاتے ہیں اور دن بھر کیلئے موبائیل آف کردیتے ہیں۔ ماضی کی یادوں میں حال کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن رات گئے گھر لوٹ کر جب حال کا سامنا ہوتا تو پتہ نہیں کتنے بے حال ہوتے ہیں یہ تو اللہ ہی جانے اور کبھی یوں بھی کیا کہ کسی پر غصہ ہوئے تو اس کی سائیکل اٹھا کر تالاب میں پھینک دی ۔ پھر سائیکل اسی وقت نکلی جب گرمیوں میں تالاب سوکھ گیا۔
خاموش اور کم گو انسان ہیں۔ ایسے انسانوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دشمن بہت کم ہوتے ہیں اسلئے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اب ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنی ہو تو انہیں اسمبلی یا پارلیمنٹ کے الکشن میں کھڑا کرنا پڑے گا۔ اگر حیدرآباد کی کسی Constituency سے کھڑا کردیں تو یہ کام اور بھی آسان ہوجائیگا۔

بچپن سے امیری دیکھی، بلکہ امیری ہی امیری دیکھی۔ وہ اسطرح سے کہ جیسے کہ ایک بہت ہی امیر ترین آدمی کا بیٹا کچھ دن کیلئے شہر سے دور ایک ہرے بھرے لہلہاتے کھیتوں اور باغوں سے بھرے گاوں چلا گیا۔ واپسی پر باپ نے پوچھا کہ وہاں تو بہت غریب لوگ رہتے ہونگے۔ لڑکے نے کہا ‘‘نہیں ڈیڈی، وہاں کے لوگ تو دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں۔ وہاں کے لوگوں نے گھروں میں ہی نہیں بلکہ سڑکوں پر بھی اتنے طاقتور ایر کنڈیشنڈ لگا رکھے ہیں کہ ہر وقت تازہ اور ٹھنڈی ہوا آتی رہتی ہے۔ ہر گھر میں تازہ دودھ ، گھی اور مکھن کی فیکٹری ہوتی ہے۔ ملاوٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ سوئمنگ پول تو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ گاوں کے سارے لڑکے مل کر نہاتے ہیں’’۔ اسطرح یہ ایک امیر قصبے ‘‘مسولی ’’ میں پیدا ہوئے اور بنیادی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ یہ قصبہ لکھنو سے آگے بارہ بنکی ہوتے ہوئے ساٹھ کلو میٹر دور واقع ہوا ہے۔ یہ دراصل ایک بزرگ ‘‘مست ولی رحمہ اللہ علیہ’’ کے نام سے منسوب ہے۔
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کسی زمانے میں ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنانے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جن میں کوئی ایران سے آئے تھے تو کوئی افغانستان سے، کوئی عرب سے تو کوئی ترکی سے۔ سونے کی چڑیا کے انہی تخلیق کاروں میں ‘‘قِدوا’’ نامی ایک بزرگ ایران سے تشریف لائے اور یہیں بس گئے تھے۔انہی سے خاندانِ قدوائی کا سلسلہ چلا جو ساری دنیا میں پھیل گیا۔ قیادت، رعب اور دبدبہ وراثت میں ملے جس کا نتیجہ ہے کہ فیض صاحب کے والد سیول انجینئر اور علاقے کے پردھان تھے۔ ان کے انتقال کے بعد فیض صاحب کی والدہ نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ فیض صاحب آفس آف پریسیڈنٹ آف انڈیا کے پردھان بنے، پھر جدہ قونصلیٹ کے۔ اتنی ساری کمیونٹیز کے ساتھ اس قدر گھل مل کر رہے کہ جس کے ساتھ رہے اسی کے لگے۔ کُٹی صاحبان کی سادگی، دکن کے نوابوں کا تہذیبی رکھ رکھاو اور زندہ دلانِ لکھنو کی مہذب گفتگو، بمبئی والوں کی دوٹوک معاملہ داری، تو دہلی والوں کا تکلف۔ قدرت نے یہ سبھی کچھ فیض صاحب کی شخصیت میں سمو دیئے تھے۔ ہر کمیونٹی آپ کی قیادت میں کام کرنے کو اعزاز سمجھتی تھی۔
ویسے تو کئی دوسرے کمائی کے مواقع بھی تھے۔ لیکن ان کی قناعت پسندی نے انہیں ایک سرکاری افسر ہی بنائے رکھا۔ تھوڑی سی جھوٹ بولنا سیکھ لیتے تو آج ایک قومی لیڈر ہوتے۔ تھوڑی سی مبالغہ آرائی سیکھ لیتے تو کوئی بڑے صحافی ہوتے۔ حلال و حرام کی بحث میں نہ پڑتے تو آج ایک بڑے بزنس مین ہوتے۔ اور بجائے نصابی کتابوں میں سر کھپانے کے حسین چہرے پڑھتے تو آج ہم سے بہتر شاعر ہوتے۔
سعودی عرب آکر انہوں نے جو کچھ دیکھا ظاہر اس کے بارے میں وہ تو ہندوستان جاکر ہی بیان کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اقامہ ختم ہونے میں ابھی کچھ دن اور باقی ہیں۔ لیکن کفیلوں کے جبر اور اقاموں کے مجبور بے شمار پریشان حالوں کی فیض صاحب نے جسطرح ذاتی دلچسپی لے کر مدد کی اور کئی خاندانوں کو بیروزگاری سے بچا لیا یہ انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے۔
وہ بیوی بڑی خوش نصیب ہوتی ہے جس کا شوہر جو بھی کھانا سامنے آجائے اُسے خوشی سے کھالے۔ اس معاملے میں مسز فیض قدوائی بڑی خوش نصیب ہیں۔ البتہ فیض صاحب کسی اور معاملے میں ہوں نہ ہوں کھانے کے معاملے میں پکے مسلمان ہیں۔ بقول مشتاق احمد یوسفی کے ‘‘جس دن کھانے میں گوشت نہ ہو اس دن ایمان کمزور سا محسوس ہوتا ہے ’’۔ موسیقی اور غزل کے شوقین ہیں لیکن کھانے کی طرح جو سننے مل جائے وہی سن لیتے ہیں۔ مشاعروں کا بھی شوق رکھتے ہیں لیکن اکثر یہ ہوا ہے کہ ہماری باری آنے سے پہلے معذرت طلب کرکے رخصت ہوگئے۔
اردو جو دکن میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی، دہلی نے اسے شعور بخشا اور لکھنو نے اسے دلہن بنایا، آج وہی اردو اسی لکھنو میں ایک مفلس بیوا کی طرح رہتی ہے۔ نہ صرف مدرسوں کی زبان اور شاعروں کی پرچیاں ہندی میں ہوگئے ہیں بلکہ قبر کے کتبے بھی ہندی میں ہونے لگے ہیں جنہیں دیکھ کر یکبارگی خیال آتا ہے کہ ہم کہیں کسی اور قوم کے قبرستان میں تو نہیں آگئے؛ ایسے عہد میں لکھنو اور علیگڑھ کے فیض یافتہ فیض قدوائی سے ہم جب ملتے ہیں تو ان کی زبان، اسلوب اور فکر کے ساتھ ساتھ ان کا حسنِ بیان اور فراست دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ لکھنو کے فرزندانِ اردو اپنی تہذیب کے ساتھ آج بھی زندہ و تابندہ ہیں۔ مطالعہ کرتے ہیں تو ڈوب کر کرتے ہیں۔ بچپن سے پڑھائی کی بیماری میں مبتلا رہے۔ جس عمر میں پیسے چرا کر فلمیں دیکھنی چاہئے اس عمر میں پیسے جمع کرکے کتابیں خریدتے تھے۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی کو امتحان میں اول درجہ آنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔
سنا ہے کہ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ لیکن فیض صاحب نے جتنی کامیابیاں زندگی میں حاصل کیں ان کیلئے ایک کا نہیں کئی عورتوں کے ہاتھ درکار ہیں۔ حیرت ہے کہ سوائے مسز قدوائی کے فیض صاحب کے پیچھے کسی کا ہاتھ نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک عورت جو بظاہر صنفِ نازک کہلاتی ہے لیکن اگر وہ سمجھدار ہو تو اس کا ایک ہی دستِ طاقتور بڑے بڑے مردوں کیلئے کافی ہوتا ہے۔ جو بھی ہو ، نتیجہ بے حد قابلِ رشک ہے۔ اس کامیاب اور خوشحال شادی شدہ زندگی پر یہ قابلِ مبارکباد ہیں۔ دونوں میںUnderstanding بلا کی ہے۔ اس بات پر دونوں میں بھر پور اتفاق ہے کہ بڑے بڑے فیصلے فیض صاحب کرینگے اور چھوٹے چھوٹے فیصلے بیگم کرینگی۔ بڑے بڑے فیصلوں سے مراد قونصلیٹ کے فیصلے ہیں اور چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے مراد گھر کے اندر کے فیصلے مثلاً تنخواہ کہاں خرچ ہوگی، کس کو کتنا چندہ دیا جائیگا وغیرہ۔ اسی لئے علیگڑھ کے وائس چانسلر صاحب کے ساتھ Fund raising کے سلسلے کی ایک میٹنگ میں جب ان کے Contribution کی بات آئی تو انہوں نے یہ کہہ کر تمام شوہروں کو اپنی اپنی اوقات یاد دلادی کہ ‘‘یہ تو میں اپنی بیوی سے پوچھ کر ہی بتا سکتا ہوں ’’۔
دنیا میں کون ایسا شخص ہے جسے کسی نہ کسی آزمائش سے گزرنا نہیں پڑتا۔ یہیں ایک مومن اور کافر کی پہچان ہوجاتی ہے۔ مومن کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ وہ بڑے سے بڑے غم اور آزمائش میں صبر، شکر اور توکل پر قائم رہتا ہے۔ جیسے کہ ایک شاعر نے کہا
غم سب کے مشترک ہیں مگر حوصلے جدا
کوئی بکھر گیا تو کوئی مسکرا دیا

فیض صاحب اپنی بچی کی صحت کی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ دل میں کرب کا طوفان رکھتے ہوئے بھی سرِ محفل مسکرانا یہ ان کی اعلیٰ ہمتی، اعلیٰ ظرفی اور مومنانہ وصف کی نشانی ہے۔ ان کے ساتھ کئی اُن مجبور انسانوں کی دعائیں ہیں جنہیں انہوں نے سعودی جیلوں سے رہائی دلائی۔ ان ہزاروں حاجیوں کی دعائیں ہیں جن کی خدمت کیلئے فیض صاحب قونصلیٹ کے پورے عملے کے ساتھ کئی کئی ہفتے دن رات لگے رہتے تھے۔ ہم سب کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی صاحبزادی کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ یہ دوبارہ سعودی عرب آئیں تو سفیرِ ہند بن کر تشریف لائیں، آمین۔

  • Share/Bookmark

تبصرہ کیجئے